اکیسویں صدی سے دیار حبیب صلی اللہ علیہ وسلم (سعودی عرب) سے ہندستانی مسلمانوں کے روابط
مرکزی خلافت کمیٹی اور جمعیت علمائے ہند کی احیائے خلافت کی آخری کوشش
ساتویں قسط
محمد یاسین جہازی
سلطان عبدالعزیز ابن عبدالرحمن آل سعود نے 25/اکتوبر 1925 کو حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہؒ صدر جمعیت علمائے ہند کے نام اپنے مکتوب میں حجاز کے مستقبل کا فیصلہ عالمِ اسلام کے سپرد کرنے اور ایک بین الاقوامی موتمرِ اسلامی منعقد کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ اسی بنیاد پر جمعیت علمائے ہند نے اس امید کو زندہ رکھا کہ حجاز کی آئندہ حکومت امتِ مسلمہ کی اجتماعی رائے کے مطابق تشکیل پائے گی۔
چنانچہ جمعیت علمائے ہند کے ساتویں اجلاس عام (11 تا 14/مارچ 1926) میں صدرِ اجلاس حضرت علامہ سید سلیمان ندویؒ نے اپنے خطبہ صدارت میں ایک عالم گیر موتمرِ اسلامی کی بھرپور تائید کرتے ہوئے فرمایا کہ اس تصور کی ابتدائی دعوت غالباً 1906 میں کریمیا کے مسلمان مصلح غصیر نسکی نے مصر میں دی تھی، بعد میں ہندستانی مسلمانوں، جنیوا میں مسلم نوجوانوں اور جمعیت علمائے ہند و خلافت کمیٹی نے اس تحریک کو آگے بڑھایا۔ انہوں نے کہا کہ اگر سلطان ابن سعود اپنے وعدے کے مطابق آئندہ موسمِ حج میں موتمر منعقد کرتے ہیں تو یہ عالمِ اسلام کے اتحاد کی اہم پیش رفت ہوگی۔ البتہ انہوں نے ہندستان کے لیے فرقہ وارانہ نمائندگی کے بجائے متحدہ نمائندگی کو زیادہ مناسب قرار دیا۔
اسی اجلاس کی تجویز نمبر (8) میں مطالبہ کیا گیا کہ حکومتِ حجاز خلافتِ راشدہ کے نمونے پر قائم ہو، اس میں ملوکیت، وراثت اور خاندانی اجارہ داری نہ ہو، غیر مسلم اثرات سے پاک ہو، اور حجاز کی آئندہ سیاسی ہیئت کا آخری فیصلہ عالمِ اسلام کے نمائندہ موتمر کے ذریعے کیا جائے۔ جمعیت نے اعلان کیا کہ وہ ایسے موتمر میں اپنے نمائندے بھیجنے کے لیے تیار ہے۔
بعد ازاں 28/مارچ 1926 کو سلطان عبدالعزیز نے مکہ مکرمہ میں موتمرِ اسلامی منعقد کرنے کی دعوت جمعیت علمائے ہند سمیت مختلف اسلامی ممالک اور جماعتوں کو ارسال کی۔ اس کے جواب میں جمعیت نے شرکت پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے واضح کیا کہ موتمر میں حکومتِ حجاز کی آئندہ تشکیل کا مسئلہ بنیادی طور پر زیرِ بحث آنا چاہیے تاکہ حجاز کو ہمیشہ کے لیے غیر مسلم مداخلت سے محفوظ رکھا جاسکے۔ سلطان نے اپنے جوابی تار میں جمعیت کی دینی غیرت اور حسنِ رائے کی تعریف کی اور یقین دلایا کہ جب تک حکومت قرآن و سنت کے مطابق چلے گی، حرمین محفوظ رہیں گے، تاہم حکومتِ حجاز کی آئندہ آئینی تشکیل کے بارے میں کوئی واضح یقین دہانی نہ کرائی، جس پر سہ روزہ الجمعیۃ (6/اپریل 1926) نے افسوس کا اظہار کیا۔
جمعیت علمائے ہند کی مرکزی مجلس کا اجلاس 20 و 21/اپریل 1926 کو منعقد ہوا، جس میں موتمرِ حجاز کے لیے حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہؒ کو رئیسِ وفد، مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ، مولانا شبیر احمد عثمانیؒ اور مولانا مفتی نثار احمد کانپوریؒ کو ارکان منتخب کیا گیا، جبکہ ضرورت پڑنے پر مولانا محمد عرفانؒ یا مولانا عبدالحلیم صدیقیؒ کو سیکرٹری مقرر کرنے کا اختیار دیا گیا۔ اسی اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ جمعیت علمائے ہند اور خلافت کمیٹی کے وفود مشترکہ مشاورت کے ذریعے متحدہ لائحہ عمل مرتب کریں۔
اسی روز 20/اپریل 1926 کو مرکزی خلافت کمیٹی کے اجلاس میں سید سلیمان ندوی، مولانا شوکت علی، مولانا محمد علی اور مسٹر شعیب قریشی کو وفد کے ارکان منتخب کیا گیا اور سید سلیمان ندویؒ کو امیرِ وفد بنایا گیا۔ اجلاس میں مولانا محمد علی اور مولانا شوکت علی نے اعلان کیا کہ وہ اپنے اخراجات خود برداشت کریں گے۔
وفد کے اخراجات کے لیے 29/اپریل 1926 کو تقریباً پانچ ہزار روپے کی اپیل شائع کی گئی۔ بعد میں 2 تا 6/مئی 1926 کی رپورٹ کے مطابق سیٹھ حاجی عبداللہ ہارون نے 200 روپے، ایم اے بھائی باوا نے 1500 روپے اور محمد عثمان صاحب نے 50 روپے عطیہ دیے۔ 8/مئی 1926 کو مجلسِ عاملہ نے مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ کی معذوری کے باعث ان کی جگہ مولانا احمد سعیدؒ ناظمِ جمعیت کو وفد میں شامل کیا، جنہوں نے بھی اپنے اخراجات خود برداشت کیے۔ اسی اجلاس میں ناکافی سرمایہ کے باعث وفد کی روانگی کے لیے ڈھائی ہزار روپے قرض لینے کی منظوری بھی دی گئی۔
صدر جمعیت مولانا مفتی محمد کفایت اللہؒ نے اعلان کیا کہ وفد 9/مئی 1926 کو دہلی سے روانہ ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ مولانا نثار احمد پہلے ہی روانہ ہوچکے ہیں، جبکہ مالی مشکلات کے باوجود سلطان ابن سعود کی دعوت اور جمعیت کی نمائندگی کے پیشِ نظر قرض لے کر وفد بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا۔
قاضی محمد عدیل عباسی کے مطابق، اگرچہ 10/جنوری 1926 کو ابن سعود کے ’’ملکِ نجد و حجاز‘‘ ہونے کے اعلان کی خبر پہنچی، تاہم انہوں نے مختلف اسلامی ممالک اور ہندستان کی تین جماعتوں—جمعیت علمائے ہند، جمعیت خلافت اور اہلِ حدیث—کو موتمر میں مدعو کیا۔ مئی 1926 میں دونوں وفود جدہ اور پھر مدینہ منورہ پہنچے۔ 27/مئی 1926 کو سلطان سے پہلی ملاقات ہوئی، جبکہ 30/مئی 1926 کو سید سلیمان ندویؒ، مفتی محمد کفایت اللہؒ، مولانا محمد علی اور مولانا شوکت علی نے جنت البقیع کے مقابر کی مسماری پر احتجاج کیا۔ سلطان نے جواب دیا کہ قبائل کے شدید دباواور داخلی فتنہ کے اندیشے کے باعث یہ اقدام ناگزیر ہوگیا تھا۔ 31/مئی 1926 کو مجلس العلماء کے اجلاس میں علامہ سید سلیمان ندویؒ نے آثارِ نبویہ کی حفاظت پر علمی گفتگو کی، لیکن اس پر کوئی موثر بحث نہ ہوسکی۔ بالآخر موتمر بعض مفید تجاویز کے باوجود احیائے خلافت کا بنیادی مقصد حاصل نہ کرسکا اور وفود جولائی 1926 میں واپس آگئے۔
بعد ازاں مجلسِ عاملہ کے 21 و 22/ستمبر 1926ئ کے اجلاس میں وفد کے مصارف کی منظوری دیتے ہوئے اس کی کفایت شعاری اور ایثار پر شکریہ ادا کیا گیا، جبکہ 3 و 4/جولائی 1927 کے اجلاس میں وفد کی خدمات کو سراہتے ہوئے اس کی رپورٹ کی اشاعت کا اختیار صدرِ جمعیت کو دے دیا گیا۔ پھر جمعیت علمائے ہند کے آٹھویں اجلاس عام (2 تا 5/دسمبر 1927) میں حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ نے اپنے صدارتی خطاب میں اس بات کو جمعیت کی اہم خدمت قرار دیا کہ اس نے جزیرہ عرب کو غیر مسلم تسلط سے محفوظ رکھنے کے لیے مسلسل علمی اور عملی جدوجہد کی۔
(جاری۔۔۔۔)
@all





















