جمعرات, ستمبر 24, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    بھارت میں ہندو تہذیب وثقافت کی بالادستی کی جنگ

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد(8) راشٹرواد کا ہندو ورژن

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    جبری نظام اور فاشسٹ ملک میں بدل چکا بھارت

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد (5) جمعیت علمائے ہند کے قیام کا پس منظر اور اس کا متحدہ راشٹرواد کا نظریہ

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (3) (3) ہندستان کو آزاد کرانے کے لیے متحدہ قومیت کی راہ اختیار کرنا

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد(02) ہندستانی مسلمانوں کا راشٹرواد

    یمن: ایک صدی سے ہندی مسلمانوں کا تاریخی رشتہ

    یمن: ایک صدی سے ہندی مسلمانوں کا تاریخی رشتہ

    بھارت، انسانیت و روحانیت کی تلاش میں

    زبان سکھانے والی نصابی کتاب کیسے لکھیں

    درس گاہوں کے ماحول کی نفسیاتی ترتیب

    درس گاہوں کے ماحول کی نفسیاتی ترتیب

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (6) ہندستانیوں کی قومیت کی مختلف تشریحات

    عورت کا وقار، قانون کی تعبیر اور انصاف کا امتحان

    اردو کے لیے دروازہ کب کھلے گا؟

    جمعیت علماء بلاک بسنت رائے کی گاؤں گاؤں مثالی مسجد مہم کی تیسری کڑی سہوڑہ میں

    جمعیت علماء بلاک بسنت رائے کی گاؤں گاؤں مثالی مسجد مہم کی تیسری کڑی سہوڑہ میں

    دھپرا کی مسجد میں فجر کے بعد اصلاحی نشست، آئندہ بدھ سے مستقل درس قرآن شروع کرنے کا عزم

    دارالمصنفین کی مطبوعات کے بارے میں ایک سوال

    آپ کی پوری زندگی عورتوں کے ساتھ رحمت ،شفقت، حسن سلوک اور نگہداشت کا روشن نمونہ ہے:مولانا سہیل ندوی

    بھارت چھوڑو تحریک” کا سبق – صرف ماضی کی یاد نہیں، حال کی رہنمائی بھی ہےایم. ڈبلیو. انصاری (آئی.پی. ایس) ریٹائرڈ، ڈی. جی

    قانون کو ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں، قصورواروں کو فوری گرفتار کیا جائے: جمعیۃ علماء جھارکھنڈ

    قانون کو ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں، قصورواروں کو فوری گرفتار کیا جائے: جمعیۃ علماء جھارکھنڈ

    وندے ماترم کو قانونی لزوم دینا مذہبی و آئینی آزادی پر حملہ ہےآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    بھارت میں ہندو تہذیب وثقافت کی بالادستی کی جنگ

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد(8) راشٹرواد کا ہندو ورژن

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    جبری نظام اور فاشسٹ ملک میں بدل چکا بھارت

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد (5) جمعیت علمائے ہند کے قیام کا پس منظر اور اس کا متحدہ راشٹرواد کا نظریہ

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (3) (3) ہندستان کو آزاد کرانے کے لیے متحدہ قومیت کی راہ اختیار کرنا

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد(02) ہندستانی مسلمانوں کا راشٹرواد

    یمن: ایک صدی سے ہندی مسلمانوں کا تاریخی رشتہ

    یمن: ایک صدی سے ہندی مسلمانوں کا تاریخی رشتہ

    بھارت، انسانیت و روحانیت کی تلاش میں

    زبان سکھانے والی نصابی کتاب کیسے لکھیں

    درس گاہوں کے ماحول کی نفسیاتی ترتیب

    درس گاہوں کے ماحول کی نفسیاتی ترتیب

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (6) ہندستانیوں کی قومیت کی مختلف تشریحات

    عورت کا وقار، قانون کی تعبیر اور انصاف کا امتحان

    اردو کے لیے دروازہ کب کھلے گا؟

    جمعیت علماء بلاک بسنت رائے کی گاؤں گاؤں مثالی مسجد مہم کی تیسری کڑی سہوڑہ میں

    جمعیت علماء بلاک بسنت رائے کی گاؤں گاؤں مثالی مسجد مہم کی تیسری کڑی سہوڑہ میں

    دھپرا کی مسجد میں فجر کے بعد اصلاحی نشست، آئندہ بدھ سے مستقل درس قرآن شروع کرنے کا عزم

    دارالمصنفین کی مطبوعات کے بارے میں ایک سوال

    آپ کی پوری زندگی عورتوں کے ساتھ رحمت ،شفقت، حسن سلوک اور نگہداشت کا روشن نمونہ ہے:مولانا سہیل ندوی

    بھارت چھوڑو تحریک” کا سبق – صرف ماضی کی یاد نہیں، حال کی رہنمائی بھی ہےایم. ڈبلیو. انصاری (آئی.پی. ایس) ریٹائرڈ، ڈی. جی

    قانون کو ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں، قصورواروں کو فوری گرفتار کیا جائے: جمعیۃ علماء جھارکھنڈ

    قانون کو ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں، قصورواروں کو فوری گرفتار کیا جائے: جمعیۃ علماء جھارکھنڈ

    وندے ماترم کو قانونی لزوم دینا مذہبی و آئینی آزادی پر حملہ ہےآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
No Result
View All Result
Home قومی و بین الاقوامی

بھارت میں ہندو تہذیب وثقافت کی بالادستی کی جنگ

by Admin
ستمبر 24, 2026
in قومی و بین الاقوامی, متفرق مضامین
0
اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 
0
SHARES
2
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

سرفرازاحمدقاسمی حیدرآباد
رابطہ: 8099695186

کہاجاتا ہے کہ بھارت ایک آزاد اورسیکولرملک ہے،یہاں ہرمقام پر دستور وآئین کی پاسداری کی جاتی ہے،لوگوں کو اپنے حقوق،انصاف اورمساوات کا حق فراہم کیاجاتاہےلیکن یہاں کی موجودہ حقیقت یہ ہے کہ اس ملک میں آئین اور دستور کی کھلے عام دھجیاں اڑائی جارہی ہیں،ملک میں ان دنوں تہذیب وثقافت اور ہندو تہذیب کی بالادستی کی جنگ اپنے عروج پر ہے،اس جنگ میں آزاد بھارت اورسیکولر ملک کہاں کھڑا ہے؟یہ کسی کو معلوم نہیں،ہندوستان جو گنگا جمنی تہذیب کے لئے دنیا بھر میں اپنی شہرت رکھتا تھا،وہ بھی ان دنوں گم ہوتاگیا،اورملک ایک ایسے موڑ پر آکر کھڑا ہوگیا جہاں صرف ایک ہی آواز اب سنائی دیتی ہے کہ ملک میں بہرحال ہندو تہذیب وثقافت کی بالادستی ہونی چاہئے چاہے اسکے لئے جوکرناپڑے۔
ہندی کے ایک معروف صحافی آشوتوش ورشنے اپنے ایک حالیہ کالم میں لکھتے ہیں کہ’یہ درست ہے کہ ہندوقوم پرست تنظیموں کے کئی کارکنوں،حتی کہ درمیانی سطح کے کچھ رہنماؤں نے ایسے الفاظ،نعرے اورخیالات استعمال کیے ہیں جن میں تشدد کا تصور اورمسلمانوں کو ملک سے نکالنے کی خواہش پوری طرح نظر آتی ہے،اس ضمن میں اپنے بچپن اورنوجوانی کے زمانے کی کچھ مثالیں یاد آتی ہیں،میرے والد اتر پردیش حکومت کے ایک افسر تھے اسلئے ہمارا خاندان تقریبا ہرتین سال بعد ایک نئی جگہ منتقل ہوتاتھا، کچھ شہروں میں شدید مسلم مخالف نعرے سننے کوملتے تھے،مجھے علی گڑھ کا ایک نعرہ خاص طور پر یاد ہے، یعنی مسلمانوں کو انتہائی بے ایمان قرار دے کر ان کے کان کاٹنے اور انہیں پاکستان بھیجنے کی بات کی جاتی تھی،لکھنؤ یا الہ آباد جیسے دوسرے شہروں میں ایسے نعرے بہت کم یا شاید کبھی بھی سننے کو نہیں ملے،کچھ رہنماؤں نے بھی ایسے خیالات کا اظہار کرنے سے گریز نہیں کیا،اپنی کتاب ‘انڈین مسلم اینڈ ہندوز لائف’ پرتحقیق کے دوران ہم نے گجرات میں وشو ہندو پریشد(بی ایچ پی) کے ایک اہم عہدے دار سے ملاقات کی،رازداری کی یقین دہانی حاصل کرنے کے بعداس عہدے دار نے بلاجھجک ہم سے کہا کہ اگرمسلمانوں کی تعداد یہاں کم ہوتی توعرب مہاساگر میں پھیک دینا ہندوستان کے لیے ایک مثالی حل ہوتا۔اسی طرح دیش کے غداروں کو گولی مارو سالوں کو یعنی ملک کے غداروں کو گولی ماردو 2020 کے دہلی فسادات کے دوران بلند آواز سے سناجانے والا ایک نعرہ ہے جس میں اسی نوعیت کے پرتشددتصور کو سیاسی سوچ میں شامل کیا گیا تھا اور اس نعرے کا تعلق بھی ہندو تہذیب و ثقافت کی بالادستی کی جنگ ہی سے ہے۔
اگر ہم ہندو قوم پرستی کے نظریاتی بانی وی ڈی ساورکر کی تحریروں اور انکے نظریات کا جائزہ لیں تو ہمیں ہندو تہذیب کی بالادستی کا تصور اورمسلمانوں کے ساتھ متعصبانہ رویے کا پتہ چلتاہے اور اس امتیاز کی سب سے منظم وضاحت حال ہی میں لونا سباستیان کی کتاب "Hindutv and Caste Race:indin Fascism(ہارورڈ یونیورسٹی پریس 2025) میں سامنے آئی ہے،یہ کتاب تین اہم دعوے پیش کرتی ہے اول ہندوستان میں مسلمانوں کی صدیوں پر محیط حکمرانی کا پس منظر سا ورکر کو شدید طور پر پریشان کرتا تھا حالانکہ برطانوی حکومت کو ہندوستان پرحکمرانی کرتے ہوئے ایک صدی سے زیادہ کا عرصہ گزرچکا تھا۔1910 اور 1920 کی دہائی میں بھی انہیں یقین تھا کہ برطانوی اقتدار کے خاتمے کے بعدمسلم حکمرانی دوبارہ واپس آسکتی ہے،ساورکر کے لیے اصل مسئلہ یہ تھا کہ مسلمانوں کو خود مختاری کے ممکنہ دعویدار کے طور پر ختم کردیا جائے،دوسرے الفاظ میں اسکا مقصدمسلمانوں کا جسمانی خاتمہ نہیں بلکہ مسلم اقتدار کی دوبارہ واپسی کے امکان کو ختم کرنا تھا،دوسرا دعوی جویہ کتاب کرتی ہے کہ ساورکر نے تجویز پیش کی کہ ہندو ایک اختلاط پذیر نسلی اختلاط کو قبول کرنے والی قوم بنے ان کے مطابق ہندو قوم پرستی پر نازی نسل پرستی کا نمونہ لاگو کرنا بہت سے دانشوروں کو پرکشش دکھائی دیتا ہے لیکن یہ گمراہ کن ہے،نازیوں کا مقصد جرمن نسل پاکیزگی اور یہودیوں کا اخراج یا خاتمہ تھا۔ساورکر کا استدلال تھا کہ جس طرح ماضی میں مسلمان مردوں نے ہندو عورتوں سے شادیاں کیں اور نئےلوگوں کو اسلام قبول کروایا،اسی طرح ہندو مردوں کو بھی مسلمان عورتوں سے شادیاں کرنی چاہیے اورشدھی کرن(تطہیر) کے ذریعے انہیں ہندو مذہب میں شامل کرنا چاہیے،یہ تولیدی فتح اسلام کی ہندوستان پر تاریخی فتح کا عکس اس کی الٹ اور اس کا انتقام تھی،تیسرا دعوی جو اس کتاب میں ہے وہ یہ کہ اس منصوبے کے ساتھ سنگٹھن اور سنگٹھنا تنظیم سازی کے ذریعے طاقت حاصل کرنا بھی ضروری تھا کیونکہ مسلمان مرد خود مختاری کی صلاحیت رکھتے تھے اس لیے انہیں کچلنا ضروری تھا،انہیں شکست دینا اور اپنے میں ملانا تھا۔لیکن مسلمان خواتین کی حیثیت،اس سے بالکل مختلف تھی ساورکر کے نزدیک عورتیں،مردوں سے اس لیے مختلف تھیں کہ ان میں دوبارہ نقش کیے جانے کی بے حدصلاحیت موجود تھی وہ مردانہ نقش (باپ کی طرف سے حمل کے وقت) اور دوبارہ نقش(شوہر کی طرف سے)قبول کرنے کے لیے آزاد تھیں اور یہ عمل تبدیلی مذہب اور شادی کے ذریعے ہوتا تھا،چنانچہ شدھی اور سنگھٹنا کو یکجا کرنے سے ہندو اقتدار کی بحالی کی راہیں ہموار ہوتی ہیں،سباستیان کے ساورکر کا بھاگوت کے ہندوؤں اور مسلمانوں سے متعلق دعوے سے کیا تعلق ہے؟ موہن بھاگوت شاید یہ تجویز نہیں کرتے کہ ماضی میں جو کچھ ہوا اس کا بدلہ لینے کے لیے ہندو مردوں کو مسلمان خواتین سے شادیاں کرنی چاہیے لیکن ان کی قیادت میں ہندو قوم پرستی کا بنیادی مقصد اب بھی دو رخی ہے،ہندو بالادستی اورمسلمانوں کی محکومیت،قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ تصور ہندو مسلم مساوات پر مبنی نہیں ہے،جبکہ ہندو مسلم مساوات ہندوستان کے آئین کی ایک بنیادی اساس ہے۔”
ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا بھاگوت کے دور میں ہندوتوا اعتدال پسند ہو گیا ہے؟ خاص طور پر کیا آج یہ مسلمانوں کو ہندوستانی شہریوں کے طور پر قبول کرتا ہے؟بجائے اس کے کہ انہیں ملک سے نکالنے یا ختم کرنے کی کوشش کرے،اگر کوئی ہندو یہ سمجھتا ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے تو وہ ہندو نہیں رہے گا،آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے 29 اگست کو نیویارک کے میڈیسن اسکوائر گارڈن میں خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی تھی،اس بیان کے بعد دو طرح کے رد عمل سامنے آئے،ایک رد عمل یہ تھا کہ ہندوتوا بنیادی طور پر مسلم مخالف نہیں تھا یا بھاگوت کی قیادت میں یہ نظریاتی طور پر واضح طور پر اعتدال کی طرف بڑھ چکا ہے،پہلی رائے کا مطلب یہ ہوگا کہ جو لوگ ہندوتوا کو مسلم مخالف کہتے ہیں وہ یا تو نظریاتی طور پر غلط فہمی کا شکار تھے یا اس سے بھی بڑھ کر جان بوجھ کرسیاسی شرارت کررہے تھے،دوسری رائے یہ ہے کہ آر ایس ایس کی مسلم مخالف جڑوں سے انکار نہیں کرتی بلکہ بھاگوت کی قیادت میں موجودہ دور میں اعتدال کی طرف پیش رفت پر زور دیتی ہے،دوسری جانب آنے والے رد عمل میں سخت تنقید کی گئی،بھاگوت پر الزام لگایا گیا کہ وہ گھر میں ایک چہرہ اور بیرون ملک دوسرا چہرہ رکھتے ہیں،یعنی ہندوستان میں آر ایس ایس مسلمانوں کو نشانہ بناتی ہے،جبکہ بیرون ملک وہ فراخ دلی اور مذہبی ہم أہنگی کو فروغ دینے کا تاثردیتی ہے،اسی دوغلے پن یا دو رخی رویے کے الزام کے نتیجے میں تقریبا 90 امریکی سیاسی رہنماؤں جن میں قانون ساز روکھنہ اور پرمیلا جےپال بھی شامل ہیں،نے یہ عہد کیا کہ وہ آر ایس ایس سے منسلک تنظیموں یا افراد سے مالی عطیات قبول نہیں کریں گے۔اس سے پہلے نیویارک کے انتہائی مقبول میئر زہران ممدانی نے کہا تھا کہ وہ میڈیسن اسکوائر گارڈن میں بھاگوت کی تقریب پر پابندی عائد کردیتے لیکن ان کے پاس ایسا کرنے کا قانونی اختیار نہیں تھا چونکہ سیاستداں اور سیاسی جماعت ہمیشہ چندہ جمع کرنے کی کوشش میں رہتی ہے،اس لیے کسی تنظیم یا گروہ سے مالی عطیات لینے سے انکار کرنے والے موقف کو امریکی سیاست میں ایک خاص فائدہ حاصل ہوجاتا ہے،تاریک وطن برادریاں اپنے آبائی ممالک کے معاملات میں کافی دلچسپی رکھتی ہیں، بھارتی نزاد امریکی لوگ مالی طور پر بھی بہت مضبوط ہیں اور وہ سیاست پر اثر انداز ہونے کے لیے مالی عطیات دیتے ہیں،واضح طور پر سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آیا بھاگوت کی قیادت میں ہندوتوا معتدل ہو گیا ہے یا نہیں؟ زیادہ واضح طور پر سوال یہ ہے کہ کیا ہندوتوا آج مسلمانوں کو اپنے ہم وطن ہندوستانیوں کے طور پر قبول کرتا ہے؟بجائے اس کے کہ انہیں ملک سے نکالنے یا ختم کرنے کی کوشش کرے،آئیے دو مختلف تصورات میں فرق کرتے ہیں ایک یہ کہ مسلمانوں کو ملک سے نکال کر یا ختم کر کے ہندو قوم بنائی جائے اور دوسرا یہ کہ مسلمانوں کو ماتحت حیثیت میں رکھ کر ہندو قوم بنائی جائے،میری دلیل یہ ہے کہ ہندو قوم پرستی بطور نظریہ مسلمانوں کو ملک سے نکالنے یا ختم کرنے کے بجائے مسلمانوں کی ماتحتی کے ذریعے ہندو بالا دستی قائم کرنا چاہتی ہے،مسلمانوں کو ختم کرنے کا طریقہ وہ ہے جو ہٹلر کے دور میں جرمنی میں یہودیوں کے ساتھ اختیار کیا گیا تھا۔
یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ مسلمانوں سے نفرت کا کھیل بھارت کی آزادی سے پہلے ہی شروع کیا گیاتھا،اس سلسلے میں ایک اقتباس یہاں نقل کرنا ضروری ہے۔
"چونکہ اس وقت تمام لیڈر جیلوں میں بند تھے،آزادی کی تحریک اپنے عروج پر تھی اورعوام بغیر چرواہے کے ریوڑ کے مانند تھے،اس لیے انگریزوں کو موقع مل گیا کیونکہ اب میدان انگریزوں،ان کے غداران وطن حامیوں اور حمایتیوں کے لیے خالی تھا کہ وہ اپنا کھیل شروع کر سکیں اور متحدہ عوام میں اختلاف و انتشار کا زہر پھیلا سکیں،چنانچہ انگریزوں کو اپنے مقاصد میں پوری کامیابی حاصل ہوئی،جب یہ لیڈران جیلوں سے باہر آئے تو انہوں نے دیکھا کہ ان کی وہ مضبوط عمارت زمیں بوس اورمنہدم ہوچکی ہے،جسے انہوں نے بڑی جانفشانی سے انگریزوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تعمیر کیا تھا،انہوں نے دیکھا کہ ایک تیزو تندآندھی نے اسے تہس نہس کر کے برباد کرڈالا ہے،بھڑکتی ہوئی آگ نے لوگوں کے اندر کی ہر پاکیزہ حقیقت کو بھسم کرڈالا ہے اورعوام آپ سے جھگڑوں اورمخالفتوں کے سمندروں میں غرق ہیں،یہاں تک کہ وہ یہ بھی بھول چکے ہیں کہ ان سبھوں کا ایک مشترک دشمن ہے جوتمام لوگوں کی جانوں کے یکساں در پے ہے۔” ہندو تہذیب و ثقافت کی بالادستی کی جنگ آزاد بھارت سے پہلے کیسے شروع ہوئی اس کو جاننے کے لیے یہ اقتباس بھی ملاحظہ فرمائیں۔
"فریب اور ریاکاری کا یہ سوانگ ہندوستان کے وائسرائے لارڈ ریڈنگ نے رچایا یہی وجہ ہے کہ جب وہ اس کے بعد انگلستان واپس گئے تو وہاں حکومت، پارلیمنٹ اور صحافی دنیا نے بڑی گرم جوشی اور تپاک سے ان کا استقبال کیا۔وائسرائے کا اس طرح استقبال کیوں کیا گیا؟جب ہندوستان میں آزادی کی تحریک چل رہی تھی تو اس وائسرائے نے ہندوؤں کے ایک متعصب لیڈر شردھا نند کی خدمات سے فائدہ اٹھایا جو آریہ سماج کے لیڈرتھے اور مسلمانوں کے خلاف شدید تعصب رکھتے تھے اور جن کا بنیادی نقطہ نظر یہ تھا کہ مسلمان ہندوستان میں غیر ملکی حملہ آور ہیں،انہیں ختم کرنا ضروری ہے اور یہ بھی فرض ہے کہ ملک میں پھر قدیم ہندو تہذیب و تمدن اور ثقافت کا احیاء کیا جائے،سوامی جی ان دونوں جیل میں تھے لیکن وائسرائے نے ان کی سزا کی میعاد ختم ہونے سے پہلے انہیں رہا کردیا اور زر کثیر سے ان کی مدد کی تاکہ وہ حکومت کا آلہ کار بن جائیں اوربڑے پیمانے پر ہندوؤں اورمسلمانوں کے درمیان اختلاف و تفریق کا فتنہ پیدا کرسکے،حقیقت یہ ہے کہ نہ اس شخص کو نہ اس کے متاثر جماعت کو اور نہ ہی طبعی طور پر انگریزوں کو ذرا بھی یہ بات بھاتی تھی کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان اتحاد یکجہتی قائم ہو،انہوں نے اپنی اس ناپاک مہم کے آغاز کے لیے ایک ایسے علاقے کو منتخب کیا،جہاں کے مسلم باشندے علم کی کمی اور برسہا برس سے غالب ہندوانہ ماحول میں رہنے کے سبب بس نام کے ہی مسلمان رہ گئے تھے اورعرصہ دراز سے ہندوانہ ماحول میں رہتے چلے آنے کی بنا پربہت زیادہ ہندوانہ رسم و رواج اورتہذیب وثقافت سے متاثر ہوچکے تھے،اگرچہ وہاں بعض اسلامی جماعتیں بھی تھیں لیکن ان لوگوں کو اپنی تہذیب و معاشرت سے روشناس کرانے اور اسلامی ماحول و معاشرے میں واپس لانے کے سلسلے میں ان کی کوششیں کچھ مؤثر نہیں ہورہی تھیں،سوامی جی وہاں پہنچے،ہندو دھرم اور تہذیب میں واپس آجانے کے لیے انہیں دعوت دینے لگے مسلمانوں کو اس کا علم ہوا تو وہ فطری طور پر بھڑک اٹھے اور ان کے مبلغین بھی دوسری جگہوں سے اس علاقے میں گئے تاکہ اپنے مسلمان بھائیوں کو ہندو دھرم کی جانب لوٹنے سے بچا سکیں،نتیجہ یہ ہوا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے دو دھڑے بن گئے اور ان میں سے ایک دوسرے کا مقابل اور در پے آزار ہو گیا،اس فتنے میں کم و بیش پورا ملک مبتلا ہو گیا اور ان دونوں فرقوں کے درمیان ایک زبردست تناؤ کی کیفیت پیدا ہو گئی،اس متعصب شخص کی طرح مذہبی تعصب میں ڈوبے ان کے ایک اور ساتھی بھی میدان میں آگئے جنہیں پنڈت مدن موہن مالویہ کہتے ہیں یہ صاحب ہندو تنظیم و اتحاد کی تبلیغ کرتے تھے،ان کی کوشش تھی کہ ہندو نوجوانوں کو متحد کر کے انہیں فوجی تربیت دی جائے تاکہ ملک سے مسلمانوں کا نام و نشان مٹایا جاسکے۔مخلص ہندو لیڈر اورمسلم زعماء جب جیلوں سے باہر آئے تو ان بدلے ہوئے حالات کو دیکھ کربہت گھبرائے اور اس منظر نے ان کا دل خون کردیا،چنانچہ انہوں نے پوری تندہی سے اس کی کوشش کی کہ ان فتنوں کو دبا دیا جائے اور دونوں فریقوں کے درمیان پھر سے اتحاد قائم ہوجائے لیکن فرقہ وارانہ تعصب کی آندھی کی رفتار اورشدت ان کی جملہ خواہشوں اور کوششوں پرغالب رہی اور ان کی ساری تگ و دو رائیگاں اور بیکار چلی گئی۔”
(آزادیٔ ہند کی جدوجہد میں مسلمانوں کا حصہ)
بھارت میں اس وقت جو سیاسی و سماجی کشمکش دکھائی دے رہی ہے،اسے محض حکومت اور اپوزیشن کی روایتی سیاسی لڑائی سمجھنا شاید کافی نہیں۔اس کے پس منظر میں ہندوستان کی قومی شناخت،تہذیبی ورثے،مذہب اور ریاست کے باہمی تعلق کے بارے میں ایک گہری نظریاتی بحث بھی جاری ہے۔
ہندوستانی مسلمان کے لیے بھی اس بحث کو جذباتی نعروں سے نکال کر سنجیدہ فکری سطح پردیکھنے کی ضرورت ہے۔ محض شکایت،احتجاج اور ردعمل کافی نہیں۔ اگر ملک کی شناخت کے بارے میں ایک مخصوص فکری بیانیہ منظم انداز میں پیش کیا جارہا ہے تو اس کے مقابلے میں مسلمانوں کو بھی اپنا مثبت،آئینی،علمی،تاریخی اورقومی بیانیہ مضبوط کرنا ہوگا،اس بیانیے کی بنیاد یہ ہونی چاہیے کہ مسلمان ہندوستان کی تاریخ کے محض تماشائی نہیں بلکہ اس ملک کی تعمیر و ترقی کے شریک شہری ہیں۔ ہندوستانی مسلمان اپنی مذہبی شناخت کے ساتھ ساتھ ہندوستانی آئین، جمہوریت اور قانون کی پاسداری پر بھی یقین رکھتا ہے۔اسے اپنے حقوق کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کا بھی شعور ہونا چاہیے۔
(مضمون نگارمعروف صحافی اورکل ہندمعاشرہ بچاؤ تحریک کے جنرل سکریٹری ہیں)
sarfarazahmedqasmi@gmail.com

Admin

Admin

Next Post
عقیدهٔ توحید اور توهم پرستی

سود كی لعنت اور اس كا علاج

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

ماں جی آخر سوکھی روٹی کون کھاتا ہے

5 مہینے ago
آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

7 مہینے ago

مقبول

  • عقیدهٔ توحید اور توهم پرستی

    سود كی لعنت اور اس كا علاج

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • بھارت میں ہندو تہذیب وثقافت کی بالادستی کی جنگ

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • کیا پاکستان ہندستانی مسلمانوں کے راشٹرواد پر ایک سوالیہ نشان ہے

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • قرآن کتاب تلاوت بھی ہے اور کتاب ہدایت بھی:مفتی سلمان منصور پوری صاحب

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • راشٹرواد(8) راشٹرواد کا ہندو ورژن

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیت علمائے ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • متفرق مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.