پیر, مارچ 16, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    بھارت کی فرقہ وارانہ تقسیم کی مہم

    بجٹ، بیانیہ اور حقیقت کرناٹک میں اقلیتوں کے نام پر سیاست یا حقائق کی تحریف؟

    بجٹ، بیانیہ اور حقیقت کرناٹک میں اقلیتوں کے نام پر سیاست یا حقائق کی تحریف؟

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    ہندوتو کی سمت اور رفتار

    نتیش کمار کا راجیہ سبھا کا رخ: اقتدار سے فاصلہ یا نئی حکمت عملی!

    نتیش کمار کا راجیہ سبھا کا رخ: اقتدار سے فاصلہ یا نئی حکمت عملی!

    فلسطین کی غلامی سے اسرائیل کے ناپاک وجود تک ہندستانی مسلمانوں کی جدوجہد

    فلسطین کی غلامی سے اسرائیل کے ناپاک وجود تک ہندستانی مسلمانوں کی جدوجہد

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    اولیاء اللہ کے مشن: حاجی نور الحسن مرحوم کی یاد میں

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    ڈیجیٹل محبت، آن لائن کھیل اور کم سن ذہنایک خاموش سماجی بحران کی دستک

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی اور ترک موالات کا آغاز کیسے ہوا؟

    طرزِ داستان بدلے

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    دارالعلوم دیوبند کی "مسجدِ قدیم”

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا  سے جہازی مکالمات

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    آؤ نسل کو سنواریں، مستقبل بنائیں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا کردار: سیمینار اختتام پذیر

    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    بہار کا فیصلہ — کانگریس کیلئے سخت پیغام

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے 34ویں فقہی سمینار کی روداد

    مولانا محمود مدنی کو ملا صدارت کا چارج۔ٹرم  2024-2027 کا ہوا آج سے آغاز، 29 اکتوبر 2027ء تک کے لیے صدر منتخب

    مولانا محمود مدنی کو ملا صدارت کا چارج۔ٹرم 2024-2027 کا ہوا آج سے آغاز، 29 اکتوبر 2027ء تک کے لیے صدر منتخب

    وقف ایکٹ کے خلاف جدو جہد جاری رہے گی

    وقف ایکٹ کے خلاف جدو جہد جاری رہے گی

    16 نومبر 2025 کو مسلم پرسنل لاء بورڈ کا عظیم الشان اجلاس ہوگا

    16 نومبر 2025 کو مسلم پرسنل لاء بورڈ کا عظیم الشان اجلاس ہوگا

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    بھارت کی فرقہ وارانہ تقسیم کی مہم

    بجٹ، بیانیہ اور حقیقت کرناٹک میں اقلیتوں کے نام پر سیاست یا حقائق کی تحریف؟

    بجٹ، بیانیہ اور حقیقت کرناٹک میں اقلیتوں کے نام پر سیاست یا حقائق کی تحریف؟

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    ہندوتو کی سمت اور رفتار

    نتیش کمار کا راجیہ سبھا کا رخ: اقتدار سے فاصلہ یا نئی حکمت عملی!

    نتیش کمار کا راجیہ سبھا کا رخ: اقتدار سے فاصلہ یا نئی حکمت عملی!

    فلسطین کی غلامی سے اسرائیل کے ناپاک وجود تک ہندستانی مسلمانوں کی جدوجہد

    فلسطین کی غلامی سے اسرائیل کے ناپاک وجود تک ہندستانی مسلمانوں کی جدوجہد

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    اولیاء اللہ کے مشن: حاجی نور الحسن مرحوم کی یاد میں

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    ڈیجیٹل محبت، آن لائن کھیل اور کم سن ذہنایک خاموش سماجی بحران کی دستک

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی اور ترک موالات کا آغاز کیسے ہوا؟

    طرزِ داستان بدلے

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    دارالعلوم دیوبند کی "مسجدِ قدیم”

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا  سے جہازی مکالمات

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    آؤ نسل کو سنواریں، مستقبل بنائیں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا کردار: سیمینار اختتام پذیر

    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    بہار کا فیصلہ — کانگریس کیلئے سخت پیغام

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے 34ویں فقہی سمینار کی روداد

    مولانا محمود مدنی کو ملا صدارت کا چارج۔ٹرم  2024-2027 کا ہوا آج سے آغاز، 29 اکتوبر 2027ء تک کے لیے صدر منتخب

    مولانا محمود مدنی کو ملا صدارت کا چارج۔ٹرم 2024-2027 کا ہوا آج سے آغاز، 29 اکتوبر 2027ء تک کے لیے صدر منتخب

    وقف ایکٹ کے خلاف جدو جہد جاری رہے گی

    وقف ایکٹ کے خلاف جدو جہد جاری رہے گی

    16 نومبر 2025 کو مسلم پرسنل لاء بورڈ کا عظیم الشان اجلاس ہوگا

    16 نومبر 2025 کو مسلم پرسنل لاء بورڈ کا عظیم الشان اجلاس ہوگا

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
No Result
View All Result
Home مضامین

بھارت کی فرقہ وارانہ تقسیم کی مہم

by Md Yasin Jahazi
مارچ 16, 2026
in مضامین
0
وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

ملاحظات

مولانا عبدالحمید نعمانی

فرقہ پرستوں اور فرقہ پرستی کا بد اثر یہ ہوتا ہے کہ انسانی سماج، غلط سوچ اور نفرت و عداوت کی بنیاد پر تقسیم ہو کر اسے تصادم و تخریب کی طرف لے کر چلا جاتا ہے، اور ملک میں رہنے والوں کے باہمی بہتر تعلقات ختم کر کے، بد امنی و فساد اور قتل و غارت گری کے حالات پیدا کر کے امن، یکسوئی اور سکون کو ختم کر کے رکھ دیتا ہے، یہ حالت، فرقہ پرست عناصر کی زندگی اور تمام تر سرگرمیوں کا حصہ بن جاتی ہے، اس سے بڑے چھوٹے سارے ہی متاثر ہو کر، سماج کو تقسیم و تفریق اور خود کے وجود کی بقا۶ و نفع تک، تمام تر سرگرمیاں محدود ہو کر رہ جاتی ہیں اور ہر معاملہ کو فرقہ پرستی اور منفی و جارحانہ زاویے سے دیکھنے کی بد عادت پڑ جاتی ہے، آج کی تاریخ میں مشرق وسطی، امریکہ، اسرائیل کی جارحیت و بربریت اور ظالمانہ ذہنیت و اقدامات کی وجہ سے میدان جنگ بنا ہوا ہے، ایران پر حملے اور اس کے دیگر بڑے لیڈروں سمیت، سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے مارے جانے کے بعد، ایران کی مزاحمت و جوابی کارروائیوں کی وجہ سے حالات بہت دھماکہ خیز ہو گئے ہیں، اس کے اثرات دیگر ممالک کے ساتھ یقینی طور پر بھارت پر بھی مرتب ہو رہے ہیں اس میں کہیں نہ کہیں مودی سرکار کی امریکہ، اسرائیل کے ساتھ بھارت کی سابقہ جاری خارجہ پالیسی و روایت کے برخلاف رویہ و روش کا بھی دخل ہے، آغاز جنگ سے چند روز پہلے وزیر اعظم مودی کا دورہ اسرائیل نے ایک الگ ہی طرح کی حالت پیدا کر دی، فلسطین کی حمایت کے باوجود یک طرفہ سے جارح و ظالم اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہونا، بھارت کی پالیسی کبھی نہیں رہی ہے، یہ آر ایس ایس اور بی جے پی کی نئی بدلتی پالیسی کا حصہ ہے، ورنہ اٹل بہاری واجپائی تک کا موقف بھی ملک کی عام پالیسی کے مطابق تھا، گزشتہ دنوں کی بدلی پالیسی کو بھارت کی روایت و پالیسی قرار نہیں دیا جا سکتا ہے، یہ بالکل صاف ہے کہ دیس اور سرکار لازما ایک نہیں ہوتے ہیں، اس لیے سرکار کی کچھ پالیسیوں و اقدامات سے اختلاف کو ملک مخالف بات کے زمرے میں رکھ کر کچھ بھی کہنا، کرنا سراسر غلط ہے، 2014 کے بعد سے تسلسل کے ساتھ بی جے پی اقتدار والی مرکزی و ریاستی سرکاروں کے بیانات و اقدامات کو پوری طرح ملک اور ریاست کا مترادف باور کرانے و بتانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اس کے تحت دیگر خصوصا مسلمانوں کے خلاف، منفی و جارحانہ اقدامات کو وطنی و ریاستی مفاد ،راشٹر واد اور ہندوتو و سناتن کی حفاظت سے جوڑ کر دکھایا، بتایا جاتا رہا ہے، اس کا بد اثر یہ ہو رہا ہے کہ فاشسٹ عناصر اور مبینہ دھرم گرو حتی کہ شنکر آچاریہ بھی، مسلمانوں اور اسلام کے متعلق الگ الگ اسلوب میں تقریبا یکساں زبان و رویہ کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں، وہ کھلے عام کہتے ہیں کہ بھارت کی دھرتی سے مسلمانوں کا کوئی تعلق نہیں ہے، ان کی وطن سے وابستگی و وفاداری، مشکوک ہے ،سوامی اویمکتیشورنند کا کہنا ہے کہ مسلمان تو مکہ، کعبہ کی طرف منھ کر کے نماز ادا کرتے ہیں، یہ بھارت کی مٹی سے الگ کرتا ہے، بھارت صرف ہندوؤں کا ہے، وہ صرف مہمان کی طرح ،دیس میں رہ سکتے ہیں بہ صورت دیگر وہ اپنے دارالاسلام جا سکتے ہیں، ان کی شریعت کی رو سے ان کے لیے دارالحرب میں رہنا جائز نہیں ہے، یہ تمام تر ہندوتو وادیوں کی مشترک و یکساں ذہنیت کا اظہار ہے، یہ افسوس ناک ہے کہ دیگر دھرم گروؤں سمیت سوامی اویمکتیشورنند بھی اونچے مذہبی منصب پر ہونے کے باوجود، اسلام اور مسلمانوں کے متعلق صحیح جانکاری اور ذمہ داری کا ثبوت دینے میں ناکام ہیں، ایک بار ہم نے یہ اویمکتیشورنند کے گرو سوامی سروپا نند مہاراج سے کہا تھا ،کئی مسائل پر بات چیت کے بعد انہوں نے اتم شرما سے کہا تھا کہ مذہبی معاملات میں ان کے ماہرین سے جانکاری لینا چاہیے، وہ سوامی اویمکتیشورنند کی طرح اسلام اور مسلمانوں کے متعلق جارحانہ و منفی سوچ نہیں رکھتے تھے اور کہتے تھے کہ آر ایس ایس والے ہندو دھرم اور سماج کی نمائندگی نہیں کرتے ہیں، لیکن اویمکتیشورنند کا نظریہ تو ساورکر و گرو گولولکر کے فرقہ وارانہ خیالات سے ہم آہنگ نظر آتا ہے، ان کا کئی ساری ہندوتو وادی تنظیموں کے برہنہ گفتار، غنڈہ موالی کی زبان استعمال کرنے والے فاشسٹ ایلیمنٹ کی فرقہ پرستی کی ذہنیت کی سطح پر آ جانا، انتہائی تشویشناک اور مایوسی پیدا کرنے والا ہے، کسی بھی جمہوری ملک میں کسی مسئلے کو لے کر احتجاج ایک عام سی بات ہے، فلسطین اور مختلف جنگوں کو لے کر مغربی و یورپی ممالک، امریکہ، برطانیہ میں بھی امریکی حکومت اور اسرائیل کے خلاف چھوٹے بڑے احتجاجات ہوتے رہے ہیں، حالیہ جارحانہ امریکی جنگ کے خلاف بھی احتجاج اور تنقید و مذمت ہو رہی ہے لیکن بھارت میں ایران کے سپریم لیڈر کے قتل پر احتجاج کو ایک الگ ہی فرقہ وارانہ رنگ میں دیکھا اور پیش کیا جا رہا ہے، اس کے بہانے یہ بھی پرچار کیا جا رہا ہے کہ بھارت سے محبت، ہندو مسلم بھائی چارہ اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی و اتحاد کی باتوں میں مسلمان "تقیہ ” سے کام لیتے ہیں، دل میں کچھ اور زبان پر کچھ ہے، ان کا دل بھارت سے باہر لگا رہتا ہے، مبینہ دھرم گرو، شنکر آچاریہ کے علاوہ دیگر ہندوتو وادیوں کو نہ تو دارالاسلام و دارالحرب کے مسائل و حدود کی صحیح جانکاری ہے اور نہ وہ تقیہ معنی و مقصد اور اس کے متعلق در پیش حالات سے واقفیت رکھتے ہیں، موجودہ وطنی و عالمی حالات میں قائم مختلف ممالک کے باہمی تعلقات اور سفارتی رشتوں کے مد نظر دارالاسلام و دارالحرب کے تصورات کے اطلاق کی سرے سے کوئی گنجائش نہیں ہے اور نہ تقیہ کا کوئی معنی ہے، مسلم سماج کے شیعہ سنی، سارے اپنے احتجاجات درج کراتے ہوئے اپنی باتیں کھلے عام کہہ رہے ہیں تو تقیہ کا مطلب کیا رہ جاتا ہے، گزشتہ کئی دہائیوں سے سفارتی تعلقات کے تحت مختلف قسم کے معاہدے ہوتے ہیں تو دارالاسلام و دارالحرب کے نام پر فرقہ وارانہ نفرت و تفریق پھیلانے کی کوشش، سراسر فساد ذہن کی علامت ہے، جب ایک آئین کے تحت پورے ملک کے تمام باشندے، یکساں حیثیت کے شہری ہیں اور مساوی حقوق و اختیارات رکھتے ہیں تو بھارت کو ایک کمیونٹی، ہندوؤں کا ملک قرار دینا، پوری طرح غیر آئینی، ملک مخالف اور بھارت کی متنوع روایات کے خلاف ہے، مذہبی و تہذیبی تاریخی لحاظ سے بھی بھارت کبھی ہندوؤں کا ملک نہیں رہا ہے، اسے ہندو ملک کے طور پر پیش کرنے کا عمل، ہندوتو اور برہمن واد کو لے کر پیدا شدہ عملی و تہذیبی بحران و خلا۶ سے توجہ ہٹانے کی سعی کے سوا کچھ اور نہیں ہے، یہ اپنے پیروکاروں اور ہندو نوجوانوں کے ذہن میں ڈالنے کی کوشش، متحدہ بھارت کو توڑنے کا قابل مذمت مکروہ عمل ہے، جو برٹش سامراج کی کارستانی اور اس کی کورانہ تقلید کی پیداوار ہے، اس طرف عظیم مجاہد آزادی مولانا عبیداللہ سندھی رح اور مولانا حسین احمد مدنی رح نے توجہ مبذول کرائی تھی، ایسا کر کے ہندوتو وادی سوچ کے عناصر ہندستان کو غلط سمت میں لے جانے کی غلطی و نادانی کر رہے ہیں، اس کی تفصیلات مولانا سندھی رح کے مقالات و خطبات اور مولانا مدنی رح کی منفرد خود نوشت سوانح، نقش حیات میں موجود ہیں، حضرت مدنی رح کی یہ کتاب، تحریک آزادی اور بھارت کی تاریخ و روایات کو سمجھنے کے لیے بے مثال ہے، اس میں مولانا مدنی رح نے مولانا سندھی رح کی فکر و حیات پر روشنی ڈالتے ہوئے، ہندو مسلم اتحاد کے تناظر میں اس پر جو تبصرہ و تجزیہ پیش کیا ہے، اس سے موجودہ بھارت اور پہلے سے چلی آ رہی ذہنیت کو سمجھنے میں بڑی مدد ملتی ہے، مولانا سندھی رح ہندو سماج سے ہی اسلام کے سایہ رحمت میں آئے تھے،اس حوالے سے ان کا تبصرہ و تجزیہ بہت باوزن ہے، وہ "ہندوؤں کی ایک غلط فہمی ” کے عنوان کے تحت کہتے ہیں "تاریخ پڑھ کر ہندو نوجوان یہ نظریہ قائم کر لیتے ہیں کہ ہندو، اصلی ہندستانی ہے اور مسلمان انگریزوں کی طرح ایک بیرونی فاتح ہے، اس لیے جب وہ ہند کو بیرونی لوگوں سے متعارف کرنے کا خیال کرتے ہیں تو اس میں مسلمانوں کو بیرونی فرض کر لیتے ہیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلمان شرفا کی ایک بڑی جماعت، عرب و عجم کے بزرگوں کی اولاد ہے، میں ایک ہندو گھر میں پیدا ہوا، میں علمی تحقیقات سے اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ہندستانی مسلمانوں کی عام آبادی، ہندو بزرگوں کی اولاد ہے، جو اسلام قبول کر چکی ہے اور جو بزرگ فاتحانہ ہند میں داخل ہوئے اور یہیں کے ہو کے رہ گئے اور جو خاندان اس نئے مذہب اور تمدن کو ہند میں قائم کرنے کی کوشش کرتے رہے، ان کی اولاد اول درجہ کی ہندستانی ہے، ہندو قوموں کا نومسلم اور اسلامی فاتحین کی اولاد میں فرق کرنا، ایک نہایت حماقت آمیز جہالت ہے، ہمارے بھائیوں کو بہت جلد اس غلط فہمی سے پاک ہو جانا چاہیے ” (نقش حیات جلد دوم صفحہ 156/57،مطبوعہ مکتبہ دینیہ دیوبند، 1953) گزشتہ کئی دہائیوں سے برہمن وادی ہندوتو عناصر خود غیر ملکی ہونے کے الزام کی زد میں ہیں، محنت کشوں کے کئی طبقات پوری طاقت سے یہ کہتے ہوئے بجا طور پر یہ الزام لگا رہے ہیں کہ انہوں نے ہمارے وسائل حیات پر نا جائز قبضہ کر کے ہمیں حاشیے پر ڈالنے کا کام کیا ہے، ہمارے حساب سے آج کی تاریخ میں کسی بھی جات، برادری، طبقہ، قوم کو کسی دور میں ملک کا شہری قرار پانے کے بعد غیر ملکی بتانے کی بات قطعی بے معنی اور کار عبث ہے، شنکر آچاریہ اور دیگر ہندوتو وادی عناصر کو مسلمانوں اور اسلام کے متعلق اتنا تو معلوم ہونا چاہیے کہ سجدہ اور تیمم کے لیے زمین و مٹی کا پاک ہونا ضروری ہے، مسلمان یقینا کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرتے ہیں لیکن سجدہ تو خدا کی مقدس زمین اور وطن کی مٹی پر کرتے ہیں، ضرورت ہے کہ ملک کے تمام باشندوں کو ہندستانی اور وطنی حیثیت سے ایک قوم جانتے مانتے ہوئے مستحکم متحدہ بھارت اور متحدہ سماج بنانے کی کوشش کی جائے نہ کہ پست تر مقاصد و مفادات کے لیے سماج کو نفرت و فرقہ وارانہ خانوں میں تقسیم کا کام کیا جائے، ،ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ اسلام اور مسلمان مکت بھارت میں عام و خاص ہندوتو وادیوں کی حیثیت و قیمت دو کوڑی کی بھی نہیں رہ جائے گی اور وہ بالکل ناقابل توجہ ہو جائیں گے،

Md Yasin Jahazi

Md Yasin Jahazi

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

اف ؛ مسلمانوں میں بڑھتا ہوا اختلاف!! ( اللہ رحم کرے)

5 مہینے ago

شودروں کے زمرے میں، مسلمانوں کو ڈالنے کی مہم

1 مہینہ ago

مقبول

  • فلسطین کی غلامی سے اسرائیل کے ناپاک وجود تک ہندستانی مسلمانوں کی جدوجہد

    فلسطین کی غلامی سے اسرائیل کے ناپاک وجود تک ہندستانی مسلمانوں کی جدوجہد

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • بھارت کی فرقہ وارانہ تقسیم کی مہم

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • بجٹ، بیانیہ اور حقیقت کرناٹک میں اقلیتوں کے نام پر سیاست یا حقائق کی تحریف؟

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • روزہ کے آداب

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • ہندوتو کی سمت اور رفتار

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیۃ علماء ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.