جمعرات, ستمبر 24, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    بھارت میں ہندو تہذیب وثقافت کی بالادستی کی جنگ

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد(8) راشٹرواد کا ہندو ورژن

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    جبری نظام اور فاشسٹ ملک میں بدل چکا بھارت

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد (5) جمعیت علمائے ہند کے قیام کا پس منظر اور اس کا متحدہ راشٹرواد کا نظریہ

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (3) (3) ہندستان کو آزاد کرانے کے لیے متحدہ قومیت کی راہ اختیار کرنا

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد(02) ہندستانی مسلمانوں کا راشٹرواد

    یمن: ایک صدی سے ہندی مسلمانوں کا تاریخی رشتہ

    یمن: ایک صدی سے ہندی مسلمانوں کا تاریخی رشتہ

    بھارت، انسانیت و روحانیت کی تلاش میں

    زبان سکھانے والی نصابی کتاب کیسے لکھیں

    درس گاہوں کے ماحول کی نفسیاتی ترتیب

    درس گاہوں کے ماحول کی نفسیاتی ترتیب

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (6) ہندستانیوں کی قومیت کی مختلف تشریحات

    عورت کا وقار، قانون کی تعبیر اور انصاف کا امتحان

    اردو کے لیے دروازہ کب کھلے گا؟

    جمعیت علماء بلاک بسنت رائے کی گاؤں گاؤں مثالی مسجد مہم کی تیسری کڑی سہوڑہ میں

    جمعیت علماء بلاک بسنت رائے کی گاؤں گاؤں مثالی مسجد مہم کی تیسری کڑی سہوڑہ میں

    دھپرا کی مسجد میں فجر کے بعد اصلاحی نشست، آئندہ بدھ سے مستقل درس قرآن شروع کرنے کا عزم

    دارالمصنفین کی مطبوعات کے بارے میں ایک سوال

    آپ کی پوری زندگی عورتوں کے ساتھ رحمت ،شفقت، حسن سلوک اور نگہداشت کا روشن نمونہ ہے:مولانا سہیل ندوی

    بھارت چھوڑو تحریک” کا سبق – صرف ماضی کی یاد نہیں، حال کی رہنمائی بھی ہےایم. ڈبلیو. انصاری (آئی.پی. ایس) ریٹائرڈ، ڈی. جی

    قانون کو ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں، قصورواروں کو فوری گرفتار کیا جائے: جمعیۃ علماء جھارکھنڈ

    قانون کو ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں، قصورواروں کو فوری گرفتار کیا جائے: جمعیۃ علماء جھارکھنڈ

    وندے ماترم کو قانونی لزوم دینا مذہبی و آئینی آزادی پر حملہ ہےآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    بھارت میں ہندو تہذیب وثقافت کی بالادستی کی جنگ

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد(8) راشٹرواد کا ہندو ورژن

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    جبری نظام اور فاشسٹ ملک میں بدل چکا بھارت

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد (5) جمعیت علمائے ہند کے قیام کا پس منظر اور اس کا متحدہ راشٹرواد کا نظریہ

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (3) (3) ہندستان کو آزاد کرانے کے لیے متحدہ قومیت کی راہ اختیار کرنا

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد(02) ہندستانی مسلمانوں کا راشٹرواد

    یمن: ایک صدی سے ہندی مسلمانوں کا تاریخی رشتہ

    یمن: ایک صدی سے ہندی مسلمانوں کا تاریخی رشتہ

    بھارت، انسانیت و روحانیت کی تلاش میں

    زبان سکھانے والی نصابی کتاب کیسے لکھیں

    درس گاہوں کے ماحول کی نفسیاتی ترتیب

    درس گاہوں کے ماحول کی نفسیاتی ترتیب

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (6) ہندستانیوں کی قومیت کی مختلف تشریحات

    عورت کا وقار، قانون کی تعبیر اور انصاف کا امتحان

    اردو کے لیے دروازہ کب کھلے گا؟

    جمعیت علماء بلاک بسنت رائے کی گاؤں گاؤں مثالی مسجد مہم کی تیسری کڑی سہوڑہ میں

    جمعیت علماء بلاک بسنت رائے کی گاؤں گاؤں مثالی مسجد مہم کی تیسری کڑی سہوڑہ میں

    دھپرا کی مسجد میں فجر کے بعد اصلاحی نشست، آئندہ بدھ سے مستقل درس قرآن شروع کرنے کا عزم

    دارالمصنفین کی مطبوعات کے بارے میں ایک سوال

    آپ کی پوری زندگی عورتوں کے ساتھ رحمت ،شفقت، حسن سلوک اور نگہداشت کا روشن نمونہ ہے:مولانا سہیل ندوی

    بھارت چھوڑو تحریک” کا سبق – صرف ماضی کی یاد نہیں، حال کی رہنمائی بھی ہےایم. ڈبلیو. انصاری (آئی.پی. ایس) ریٹائرڈ، ڈی. جی

    قانون کو ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں، قصورواروں کو فوری گرفتار کیا جائے: جمعیۃ علماء جھارکھنڈ

    قانون کو ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں، قصورواروں کو فوری گرفتار کیا جائے: جمعیۃ علماء جھارکھنڈ

    وندے ماترم کو قانونی لزوم دینا مذہبی و آئینی آزادی پر حملہ ہےآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
No Result
View All Result
Home اسلامیات

سود كی لعنت اور اس كا علاج

by Admin
ستمبر 24, 2026
in اسلامیات
0
عقیدهٔ توحید اور توهم پرستی
0
SHARES
1
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

بسم الله الرحمٰن الرحیم

سود كی لعنت اور اس كا علاج

(۲)

شمع فروزاں

2026.09.25 مولانا خالد سیف الله رحمانی

سود خوار فائنانسروں کی طرف سے جو زیادتیاں ہوتی ہیں ، ان کا ایک بنیادی سبب یہ ہے کہ ہمارے سماج میں غیر سودی قرض دینے والے ادارے مفقود ہیں اور متمول افراد بھی اپنے بھائی کو قرض دینا نہیں چاہتے ، اس صورت حال کو بدلنا ہوگا ، حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رزق کی تقسیم میں اپنے بندوں کے درمیان فرق کیا ہے ، اور یکسانیت نہیںبرتی ہے ، یہی نابرابری ہے جس سے کائنات کا نظام جاری و ساری ہے ، اگر یہ نابرابری نہ ہوتی تو نہ کوئی شخص دوسرے کے یہاں ملازمت کامحتاج ہوتا ، اور نہ کسی سرمایہ دار کو کوئی مزدور اور کارکن ہاتھ آتا ، یہی احتیاج اور ضرورت بعض اوقات انسان کو قرض کے لین دین پر مجبور کرتی ہے ، اگر جائز طریقہ پر اہلِ ثروت اپنے غریب بھائیوں کو قرض دے دیں تو خود بخود سود کا راستہ بند ہو جائے ، افسوس کہ ایک تو مسلمانوں میں یہ برادرانہ اسپرٹ باقی نہیں رہی کہ وہ اپنے زائد از ضرورت مال میں دوسرے غریب بھائیوں کا حق محسوس کریں اور ان کو غیر سودی قرضے فراہم کریں ، اورنہ لوگ قرض کے احکام و مسائل اور فضائل و اجر ہی سے واقف ہیں ۔ 

قرض کے لین دین کا ثبوت قرآن سے بھی ہے ،حدیث سے بھی ، اور اس پر اجماع واتفاق ہے اور مصلحت کا تقاضا بھی ہے ، قرآن نے اللہ کے راستہ میں انفاق کو ’’ قرض حسن ‘‘ قرار دیا ہے ، (البقرۃ : ۲۴۵ ) اس میں قرض کے جائز ؛ بلکہ مستحب اور مطلوب ہونے کی طرف واضح اشارہ ہے ، ایک جگہ ’’ دَین ‘‘ کے ساتھ مدت لکھنے کی تاکید فرمائی گئی ہے ، (البقرۃ: ۲۲۸ ) دَین کا لفظ عام ہے اورقرض بھی اس کے دائرہ میں آتا ہے ، حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ ارشادِ نبوی نقل کرتے ہیں کہ کسی مسلمان کو دوبار قرض دینا ایک بار صدقہ کر نے کے برابر ہے ، (سنن بیہقی : ۵؍ ۳۵۳ ، ابن ماجہ : ۲؍ ۶۰ مع تحقیق : الاعظمی ، و فیہ سلیمان وہو متروک) اور بھی متعدد روایتیں ہیں جن میں قرض دینے کی فضیلت وارد ہے ؛ اسی لئے اس کے جائز ہونے پر اُمت کا اجماع ہے ، (المغنی : ۴ ؍ ۲۰۷ ) پھر قرض ایک ایسی مصلحت ہے کہ بہت سے مواقع پر اس سے مفر نہیں ہوتا ؛ اس لئے اگر اس کی گنجائش نہ رکھی جائے تو تنگی اور دشواری کاباعث ہوگا ، اور ناقابلِ برداشت حرج و تنگی کو دُور کرنا شریعت کا ایک اہم ترین مقصد ہے ، ارشاد ربانی ہے : مَایُرِیْدُ اللّٰهُ لِیَجْعَلَ عَلَیْکُمْ مِنْ حَرَجٍ  (المائدہ : ۶ ) نیز فرمایا گیا کہ اللہ تم پر آسانی چاہتے ہیں نہ کہ دشواری : یُرِیْدُ اللّٰهُ بِکُمُ الْیُسْرَ وَلاَ یُرِیْدُ بِکُمُ الْعُسْرَ   (البقرۃ : ۱۸۵ )

قرض لینا گو مباح ہے ؛ لیکن قرض دینا مستحب ہے ؛ کیوں کہ یہ نیکی اور بھلائی میں تعاون ہے ، (الشرح الصغیر : ۳ ؍ ۲۹۲ )حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے قرض دینے کی فضیلت اوپر مذکور ہو چکی ہے ، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

میں نے جنت کے دروازہ پر شب اسراء میں لکھا ہوا دیکھا کہ صدقہ کا ثواب دس گنا ہے اور قرض کا اٹھارہ گنا ، میں نے حضرت جبریل علیہ السلام سے استفسار کیا کہ قرض صدقہ سے افضل کیوں ہے ؟

حضرت جبریل علیہ السلام  نے کہا کہ وسائل رہنے کے باوجود دست سوال دراز کرتا ہے ( اور اس پر صدقہ کیا جاتا ہے)  اور قرض کا خواستگار ضرورت ہی پر طلب گار قرض ہوتا ہے ۔ ( ابن ماجہ : ۲؍ ۵۶ ، حدیث نمبر : ۱۲۴۳۳ ) 

نیز حضرت ابو درداء ؓ سے مروی ہے کہ  :

یہ بات کہ میں دو دینار قرض دوں پھر وہ واپس آجائیں اور میں ان کو کسی اور کو قرض دے دوں ، مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں ان کو صدقہ کردوں ۔ (المغنی : ۴؍ ۲۰۷ )

حضرت انس ؓ کی ایک روایت میں آپ ﷺ سے منقول ہے کہ کسی چیز کو قرض دینا اس کے صدقہ کرنے سے بہتر ہے :قرض الشییٔ خیر من صدقتہ (سنن بیہقی : ۵ ؍ ۳۵۴ ) 

ان روایات سے نہ صرف قرض کی فضیلت اور اس کا استحباب ظاہر ہوتا ہے ؛ بلکہ مواقع و احوال کے لحاظ سے قرض کا بعض اوقات صدقہ سے بھی زیادہ باعث ِثواب ہونا معلوم ہوتا ہے ، اگر محتاج کی حاجت مندی کا یقین کر کے اسے دیا جائے تو ظاہر ہے کہ صدقہ افضل ہے ؛ لیکن اگر یقینی طور پر اس کا علم نہیں تو قرض کی فضیلت زیادہ ہے ؛ اس لئے کہ جو لوگ خود دار طبیعت کے مالک ہوں ، وہ مجبوراً ہی قرض کے طالب ہوتے ہیں ، قرض کے مستحب ہونے کا حکم ظاہر ہے اس وقت ہے، جب قرض دہندہ کے علم یا اندازہ کے مطابق قرض کسی جائز ضرورت کے لئے لیا جارہا ہو ، اگر کسی مکروہ یا حرام و معصیت کے ارتکاب کے لئے قرض لے تو دانستہ اس مقصد کے لئے قرض دینا درست نہیں ، مکروہ میں تعاون بھی مکروہ اور حرام کا تعاون بھی حرام ہے؛ کیوں کہ جو حکم مقصد کا ہوتا ہے ، وہی حکم ’’ ذریعہ ‘‘ کا بھی ہوتا ہے ۔ 

قرض لینا مباح ہے ، (المغنی : ۴ ؍ ۲۰۷ ) خود آپ ﷺ سے قرض لینا ثابت ہے ؛ البتہ یہ ضروری ہے کہ جائز مقصد کے لئے قرض لیاجائے ، ابن ماجہ میں روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ قرض لینے والے کے ساتھ ہوتا ہے ، جب تک وہ ادا نہ کر لے ، سوائے اس کے کہ کسی ایسے مقصد کے لئے دین حاصل کرے ، جو اللہ کو ناپسند ہو ، (ابن ماجہ : ۲؍ ۵۶ ، حدیث نمبر : ۲۴۳۳ )یا اس ارادہ سے قرض کرلے کہ ادا نہیں کرنا ہے ، یہ بھی گناہ کی بات ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا کہ ایسا شخص اللہ تعالیٰ کے یہاں چور شمار کیا جائے گا ، (حوالۂ سابق ، حدیث نمبر : ۲۴۳۴ ) ایک اور روایت میں ہے کہ محض دوسروں کا پیسہ ڈوبانے کے لئے قرض کر لے تو اللہ تعالیٰ اسے ہلاک کردیں گے ، (حوالہ سابق ، حدیث نمبر : ۲۴۳۶ ) حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا راوی ہیں کہ جو شخص اس ارادہ سے دَین لے کہ اسے ادا کرے گا ، اللہ تعالیٰ اس کا دین ادا کرادیں گے ، ( حوالہ سابق ،حدیث نمبر : ۲۴۳۲ ) — غرض شدید ضرورت کے بغیر اور غیر شرعی ضرورت کے لئے ، نیز عدم ادائیگی کی نیت سے قرض لینا گناہ ہے ، جائز مقصد کے لئے ، ضرورت کی وجہ سے اور حسب ِوعدہ ادا کرنے کی نیت سے قرض لینا مباح اور جائز ہے ۔ 

اگر مقروض تنگدستی میں مبتلا ہو ، تو اس کو مزید مہلت دینی چاہیے اور ممکن ہو تو کچھ معاف بھی کردینا چاہیے ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا  : 

جو اللہ کے سایہ میں رہنا چاہتا ہے ، اسے چاہیے کہ تنگدست شخص کو مہلت دے ، یا اس کا کچھ حصہ معاف کردے ۔ (حوالۂ سابق ، حدیث نمبر : ۲۴۴۴ ) 

پھر آپ ﷺ نے یہ بھی ہدایت فرمائی کہ قرض کی ادائیگی کامطالبہ مناسب طریقے پر کرنا چاہئے ۔ (حوالہ سابق ، باب حسن المطالبۃ) جہاں ایک طرف آپ ﷺ نے قرض دینے والے کو حسنِ سلوک کی ہدایت دی ہے ، وہیں مقروض کو بھی تلقین فرمائی کہ وہ قرض خواہ کے ساتھ زیادتی نہ کرے اور بہتر معاملہ رکھے ، باوجود استطاعت کے قرض کی ادائیگی میں کوتاہی اور ٹال مٹول کو آپ ﷺ نے بہت ناپسند فرمایا ہے ،اورفرمایا کہ یہ چیز اس کی بے عزتی اور سزا کا جواز پیدا کردیتی ہے ،  لي الواجد یحل عرضہ و عقوبتہ  (ابن ماجہ : ۲ ؍ ۶۰ ، حدیث نمبر : ۲۴۵۲ ) یہاں تک کہ آپ ﷺ نے متوفی کے مال میں سے پہلے اس کادَین ادا کرنے کا حکم فرمایا ، ( ابن ماجہ : ۲ ؍ ۶۰ ، حدیث نمبر : ۲۴۵۸ ) یہ بھی ارشاد فرمایا کہ تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو دَین کی ادائیگی میں بہتر ہے ، (ابن ماجہ : ۲ ؍ ۶۰ ، حدیث نمبر : ۲۴۴۸ ) ایک حدیث میں وارد ہے کہ مومن کی روح اس کے دَین کے ساتھ معلق رہتی ہے ؛ تاآں کہ اس کی طرف سے ادا کردیا جائے ، (ابن ماجہ : ۲ ؍ ۶۰ ، حدیث نمبر : ۲۴۳۷)حضرت عبد اللہ بن عمر ؓسے آپ ﷺ کا ارشاد منقول ہے کہ جس کا انتقال ہو ، اس پر ایک دینار یادرہم بھی باقی ہو تو اسے اس کی نیکیوں میں سے وصول کیا جائے گا ۔ (ابن ماجہ : ۲ ؍ ۶۰، حدیث نمبر : ۲۴۳۹ )

قرض دینے والے کے لئے  قرض پر نفع حاصل کرنا اور شرط لگانا کہ مقروض اسے اضافہ کے ساتھ واپس کرے ، حرام ہے اور سود میں داخل ہے ؛ کیوں کہ آپ ﷺ نے قرض پر نفع حاصل کرنے سے منع فرمایا اور بعض روایتوں میں اسے سود قرار دیا گیا : ’’ کل قرض جر منفعۃ فہو ربا ‘‘ (دیکھئے : تلخیص الحبیر : ۳ ؍ ۳۴ ) اس پر تمام فقہاء کا اتفاق ہے ، مقدار میں اضافہ تو حرام ہے ہی ، کیفیت میں عمدگی کی شرط لگانا بھی جائز نہیں ، مثلاً معمولی چیز دی اور شرط لگائی کہ اس کے بدلے بہتر چیز واپس کرے ، یہ بھی درست نہیں ، (ہندیہ : ۳ ؍ ۲۰۲ ) اگر قرض دہندہ نے شرط تو نہ لگائی ؛ لیکن مقروض نے بہ طور خود عمدہ چیز واپس کی یا زیادہ مقدار کے ساتھ واپس کی تو ایسا کرناجائز ہے ، آج کل بعض ادارے قرض جاری کرتے ہیں اور قرض کے تناسب سے مقروض سے ماہانہ فیس رکنیت وصول کرتے ہیں ، یہ صورت بھی جائز نہیں اور یہ بھی سود کے دائرہ میں آتا ہے ، ایسے قرض کو غیر سودی قرض کہنا محض دھوکہ ہے ۔ 

فقہاء نے نہ صرف یہ کہ قرض پر اضافہ کو ناجائز قرار دیا اور اس کو نفع اُٹھانے کا ذریعہ بنانے سے منع فرمایا ہے ؛ بلکہ بالواسطہ طریقہ پر قرض سے نفع حاصل کرنے کا راستہ بھی بند کردیا ، مثلاً مقروض قرض دہندہ سے کوئی معمولی چیز گراں قیمت میں خریدے ، یہ بھی مکروہ ہے ، (الدر المختار علی ہامش الرد : ۴ ؍ ۱۹۵ ) اسی طرح یہ صورت بھی مکروہ ہے کہ مثلاً کوئی شخص قرض لینے کے لئے آئے تو قرض دہندہ ساٹھ روپیہ تو اسے قرض کے دیدے اور بیس روپیہ کی چیز اسے چالیس روپیہ میں فروخت کر دے ؛ تاکہ مقروض کے یہاںاس کے سو روپے ہو جائیں ؛ حالاںکہ مقروض کو اس سے اسّی روپیہ ہی حاصل ہوگا ۔ (رد المحتار : ۴ ؍ ۱۹۵ )

سود خوار کی نفسیات کو ملحوظ رکھتے ہوئے اور سود کے چور دروازوں کو بند کرنے کی غرض سے آپ ﷺ نے مقروض کی طرف سے تحائف کے قبول کرنے میں بھی احتیاط برتنے کا حکم دیا ہے ، حضرت انس ؓ سے آپ ﷺ کا ارشاد مروی ہے کہ  :

جب کوئی قرض دے اور مقروض کوئی تحفہ دے ، یا اپنی سواری پر بیٹھائے تو اسے قبول نہ کرنا چاہیے ، سوائے اس کے کہ پہلے سے ان کے درمیان باہم تحائف کا لین دین رہا ہو ۔ (ابن ماجہ : ۲؍ ۸۱۳ )

حضرت ابی بن کعب ؓ جہاد کی غرض سے عراق کی طرف سے جارہے تھے تو زربن حبیش نے حضرت ابی بن کعب ؓ سے کہا کہ آپ ایسی جگہ جارہے ہیں ، جہاں سود کا عام رواج ہے ؛ اس لئے آپ کسی کو قرض دیں اور آپ کو قرض کے ساتھ کچھ تحفہ بھی دے تو اس کا تحفہ قبول نہ کریں ۔ 

اسی بناء پر فقہاء نے بھی مقروض کے ہدایا و تحائف اور دعوتوں میں احتیاط کا حکم دیا ہے ، حنفیہ کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ جو لوگ پہلے سے دعوت نہ دیتے رہے ہوں ، یا ہدایا و تحائف کا معمول نہ رہا ہو تو ایسی دعوت و تحفوں کا قبول کرنا جائز نہیں ، ہاں ، معاملہ قرض سے پہلے سے اس طرح کا معمول رہا ہو تو اب جائز ہے ، (ہندیہ : ۳ ؍ ۲۰۳ ) قریب قریب یہی رائے دوسرے فقہاء کی بھی ہے ۔ (دیکھئے : مواہب الجلیل : ۴ ؍ ۵۴۶ ، کشف القناع : ۳ ؍ ۳۰۵ ) 

موجودہ حالات میں پس ماندہ مسلمانوں کو اونچا اُٹھانے ، سودی قرض کی لعنت سے انھیں بچانے اور روز گار کے اعتبار سے خود مکتفی بنانے کے لئے ضروری ہے کہ غیر سودی قرض فراہم کرنے والی انجمنیں قائم ہوں ، یہ ہر محلہ اور گاؤں کی سطح پر ہو ںاور چھوٹے قرضے کمزور طبقہ کو فراہم کریں اور چھوٹی چھوٹی قسطوں میں اسے وصول کریں ، یہ اپنے انتظامی اخراجات کے لئے ان ہی مقروضوں سے سروس چارج لے سکتی ہیں ، نیز مسلمان سرمایہ دار اپنے محفوظ اورفاضل سرمایہ کا ایک حصہ ایک مقررہ مدت کے لئے ایسے اداروں کو حوالہ کردیں ، جائز مقاصد اور ضروری کاموں ہی کے لئے قرضے جاری کئے جائیں ، جب تک ہم اس طرح کے ادارے قائم کرنے میں کامیاب نہ ہوں گے ، سماج سے ایسے مظالم کا سد باب نہ ہوسکے گا ، مسلمان مذہبی تنظیموں اور اداروں کو ترجیحی طور پر اس کام کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے ، اس کے بغیر محض اخباری بیانات ، تقریروں اور فتوں سے ظالم سود خواروں کی ستم انگیزیوں کا سد باب نہیں ہوسکے گا ۔

= = = 

_________

Khalid Saifullah Rahmani

Gen.Secretary : Islamic Fiqh Academy,India 

Director : Al Mahadul A’ali Al Islami Hyderabad.

E-mail :ksrahmani@yahoo.com

Website: www.khalidrahmani.in

Admin

Admin

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

سرور کائنات ﷺ کی عید

سرور کائنات ﷺ کی عید

6 مہینے ago
تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا کردار: سیمینار اختتام پذیر

10 مہینے ago

مقبول

  • عقیدهٔ توحید اور توهم پرستی

    سود كی لعنت اور اس كا علاج

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • بھارت میں ہندو تہذیب وثقافت کی بالادستی کی جنگ

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • کیا پاکستان ہندستانی مسلمانوں کے راشٹرواد پر ایک سوالیہ نشان ہے

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • قرآن کتاب تلاوت بھی ہے اور کتاب ہدایت بھی:مفتی سلمان منصور پوری صاحب

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • راشٹرواد(8) راشٹرواد کا ہندو ورژن

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیت علمائے ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • متفرق مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.