منگل, فروری 10, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی

    عدالت (مراد آباد) میں حضرت شیخ الاسلام کا بیان

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    شعبان

    شودروں کے زمرے میں، مسلمانوں کو ڈالنے کی مہم

    باب اول در بیان انجام مداہنت

    جامعۃ الہدیٰ جہاز قطعہ کی تاریخ

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    توہین رسالت کے مجرمین کے  خلاف کرنے کےضروری کام

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    زمانہ بدل گیا

    نشہ کی حقیقت اور اس کا علاج اسلامی تعلیمات کی روشنی میں

    لمحہ مسرت میں افسردگی

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    رحم مادرمیں بیٹی کے نام ماں کا خط

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    قیام اسرائیل اور قرآن (ایک شرعی تجزیہ)

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    قصہ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہم

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    آؤ نسل کو سنواریں، مستقبل بنائیں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا کردار: سیمینار اختتام پذیر

    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    بہار کا فیصلہ — کانگریس کیلئے سخت پیغام

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے 34ویں فقہی سمینار کی روداد

    مولانا محمود مدنی کو ملا صدارت کا چارج۔ٹرم  2024-2027 کا ہوا آج سے آغاز، 29 اکتوبر 2027ء تک کے لیے صدر منتخب

    مولانا محمود مدنی کو ملا صدارت کا چارج۔ٹرم 2024-2027 کا ہوا آج سے آغاز، 29 اکتوبر 2027ء تک کے لیے صدر منتخب

    وقف ایکٹ کے خلاف جدو جہد جاری رہے گی

    وقف ایکٹ کے خلاف جدو جہد جاری رہے گی

    16 نومبر 2025 کو مسلم پرسنل لاء بورڈ کا عظیم الشان اجلاس ہوگا

    16 نومبر 2025 کو مسلم پرسنل لاء بورڈ کا عظیم الشان اجلاس ہوگا

    جنگل کا قانون

    جنگل کا قانون

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی

    عدالت (مراد آباد) میں حضرت شیخ الاسلام کا بیان

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    شعبان

    شودروں کے زمرے میں، مسلمانوں کو ڈالنے کی مہم

    باب اول در بیان انجام مداہنت

    جامعۃ الہدیٰ جہاز قطعہ کی تاریخ

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    توہین رسالت کے مجرمین کے  خلاف کرنے کےضروری کام

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    زمانہ بدل گیا

    نشہ کی حقیقت اور اس کا علاج اسلامی تعلیمات کی روشنی میں

    لمحہ مسرت میں افسردگی

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    رحم مادرمیں بیٹی کے نام ماں کا خط

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    قیام اسرائیل اور قرآن (ایک شرعی تجزیہ)

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    قصہ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہم

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    آؤ نسل کو سنواریں، مستقبل بنائیں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا کردار: سیمینار اختتام پذیر

    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    بہار کا فیصلہ — کانگریس کیلئے سخت پیغام

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے 34ویں فقہی سمینار کی روداد

    مولانا محمود مدنی کو ملا صدارت کا چارج۔ٹرم  2024-2027 کا ہوا آج سے آغاز، 29 اکتوبر 2027ء تک کے لیے صدر منتخب

    مولانا محمود مدنی کو ملا صدارت کا چارج۔ٹرم 2024-2027 کا ہوا آج سے آغاز، 29 اکتوبر 2027ء تک کے لیے صدر منتخب

    وقف ایکٹ کے خلاف جدو جہد جاری رہے گی

    وقف ایکٹ کے خلاف جدو جہد جاری رہے گی

    16 نومبر 2025 کو مسلم پرسنل لاء بورڈ کا عظیم الشان اجلاس ہوگا

    16 نومبر 2025 کو مسلم پرسنل لاء بورڈ کا عظیم الشان اجلاس ہوگا

    جنگل کا قانون

    جنگل کا قانون

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
No Result
View All Result
Home اسلامیات

کیا چندہ لینے دینے کے لیے رمضان ہی ضروری ہے؟

by Md Yasin Jahazi
فروری 10, 2026
in اسلامیات
0
تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

محمد یاسین جہازی

حضرت عبد اللہ ابن مسعود ؓ سے ایک شخص نے پوچھا کہ آپ حضرات رمضان کا استقبال کیسیکرتے تھے؟ انھوں نے جواب دیا کہ صحابہ کو جب چاند نظر آجاتا تھا، تو کسی بھی مسلم بھائی کے لیے دل میں کینہ نہیں رکھتے تھے۔ یعنی اپنا دل بالکل صاف کرلیا کرتے تھے۔ حضرت عمر ؓ رمضان میں مسجدوں کو چراغوں سے منور کیا کرتے تھے۔ مسجدوں میں قمقمے لگانے اور تراویح کی نماز باجماعت ادا کرنے کا سلسلہ حضرت عمرؓ نے ہی شروع کیا ہے۔ ابن اسحاق الہمدانی فرماتے ہیں کہ رمضان کی ایک رات میں حضرت علی ؓ گھر سے باہر نکلے تو کیا دیکھتے ہیں کہ چراغوں سے مسجد جگمگا رہی ہے اور تراویح میں قرآن کی تلاوت سے فضاوں میں نورانیت چھائی ہوئی ہے۔ یہ منظر دیکھ کر بے ساختہ حضرت علی کی زبان سے حضرت عمر کے لیے یہ دعا نکلی کہ نور اللہ لک یابن الخطاب فی قبرک، کما نورت مساجد اللہ بالقرآن۔ائے ابن اخطاب! اللہ تیری قبر کو ایسے ہی نور سے بھردے، جس طرح آپ نے مساجد کو قرآن کی تلاوت سے منور کردیا ہے۔ صحابہ کرام اپنی زکاۃ شعبان میں نکال دیاکرتے تھے اور رمضان کو عبادت کے لیے فارغ رکھتے تھے۔ ماہ شعبان رمضان کے لیے خود کو تیار کرنے کا مہینہ ہے، اس لیے اس میں بالخصوص رمضان میں کیے جانے والے اعمال یعنی روزہ اور تلاوت پر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔علامہ ابن رجب حنبلی رحمۃ اللہ علیہ ’لطائف المعارف میں لکھتے ہیں کہ:”ماہ شعبان میں روزوں اور تلاوتِ قرآن حکیم کی کثرت اِس لیے کی جاتی ہے تاکہ ماہ رمضان کی برکات حاصل کرنے کے لیے مکمل تیاری ہو جائے اور نفس، رحمن کی اِطاعت پر خوش دلی اور خوب اطمینان سے راضی ہو جائے۔“(ص: 258)۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے معمول سے اِس حکمت کی تائید بھی ہو جاتی ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ شعبان میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے معمول پر روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں:کان المسلمون إِذَا دَخَلَ شَعْبَانُ أکبُّوا علی المصاحِفِ فقرؤوہا، وأَخْرَجُوْا زَکَاۃَ أموالہم تقوِیَۃً للضَّعیفِ والمسکینِ علی صیامِ و رمضانَ.(ابن رجب حنبلی، لطائف المعارف: 258)”شعبان کے شروع ہوتے ہی مسلمان قرآن کی طرف جھک پڑتے، اپنے اَموال کی زکوۃ نکالتے تاکہ غریب، مسکین لوگ روزے اور ماہ رمضان بہتر طور پر گزار سکیں۔“ہندستان میں علمائے کرام نے رمضان میں خود کو رمضان کے لیے فارغ کرنے کے بجائے چندہ اور سفر پر نکلنے کا جو معمول بنایا ہوا ہے،اس میں درج ذیل دس اعتبار سے رمضان کی حرمت کی پامالی ہوتی ہے: (۱) بالعموم زمینی مدارس، اور بالخصوص تجارتی مدارس اقامتی و بیرونی طلبہ کی تعداد میں غلط بیانی سے کام لیتے ہیں۔ اور یہ جھوٹ ثواب سمجھ کر بولا جاتا ہے۔ مدارس کے ذمہ داران حقائق سے دور رپورٹ بناکر اپنے ملازمین و اسٹاف کو دیتے ہیں۔ اور یہ حضرات حقیقت کو جاننے کے باوجود اسی غلط رپورٹ کو عوام کے سامنے پیش کرکے چندہ کی اپیل کرتے ہیں۔ بہ الفاظ مختصر رمضان میں دروغ گوئی پر مجبور ہونا پڑتا ہے، جس سے روزہ پھٹ جاتا ہے اوررمضان کے روحانی اثرات مرتب نہیں ہوتے۔(۲) سفر میں ہونے اور موسم کی شدت کی وجہ سے سفرائے کرام روزہ نہیں رکھ پاتے۔ جب موسم رمضان میں روزہ نہیں رکھ پاتے ہیں، تو بعد رمضان شاید ہی کسی کو توفیق مل پاتی ہے۔ اور سفر میں ہونے کی وجہ سے جس کو جہاں موقع ملتا ہے، وہیں کھاتے پیتے رہتے ہیں۔ عوام چوں کہ سفرائے عظام کو علما کے بھینس میں دیکھتی ہے، اس لیے عوام میں یہ بدگمانی عام ہوتی جارہی ہے کہ علما روزہ نہیں رکھتے اور کھلے عام کھاتے پیتے رہتے ہیں۔ پھر یہ مقولہ بولا جاتا ہے کہ ”مولوی جو کہے، وہ سنو، جو وہ کرے، وہ نہ کرو۔“ جس سے علمائے کرام کے متعلق شریعت پر عمل کے حوالے سے دوہرے نظریے فروغ پاتے ہیں اور پھر عوام علما کی باتوں پر عمل کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہوتی۔ (۳) بعض بعض مہتمم اپنے سفرا کو ٹارگیٹ دیے ہوتے ہوتے ہیں، جو اس شرط کے ساتھ مشروط ہوتے ہیں کہ اگر اسے پورا نہیں کیا، تو ملازمت سے نکال دیا جائے گا، یا پچھلے کئی مہینے کی بقیہ تنخواہ رمضانی چندہ سے خود حاصل کرنے کی ذمہ داری دے دی جاتی ہے، جس کے باعث انھیں سخت محنت کرنی پڑتی ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ تھکاوٹ کی وجہ سے تراویح، تلاوت وغیرہ عبادات کے لیے موقع نہیں نکال پاتے۔ اگر زمینی رپورٹ کی بات کریں، تو بہت سے سفرائے کرام فرض نماز تک کے لیے حاضر نہیں ہوپاتے ہیں۔ان تمام خرابیوں کی وجہ ایک ہی ہے اور وہ ہے رمضان میں چندہ کرانا۔(۴) مچندین میں جو حافظ قرآن ہوتے ہیں، وہ بالعموم قرآن بھول جاتے ہیں، اس کی بنیادی وجہ یہی ہوتی ہے کہ چندہ کی وجہ سے کسی ایک جگہ ٹھہرنانہیں ہوپاتا اور نہ ہی قرآن سنانے کے لیے جو یکسوئی اور محنت درکار ہوتی ہے، وہ میسر ہو پاتی ہے۔ (۵) رمضان المبارک تزکیہ و تصفیہ قلب کا بھی مہینہ ہے۔ اسی مہینہ میں اکابرین امت اور اہل سلوک و معرفت اپنا حلقہ تصوف لگاتے ہیں، تاکہ لوگوں کے دلوں کے زنگ دور ہوجائے۔ لیکن چندہ کی وجہ سے خانقاہ کا رخ کرنا دشوار ہوجاتا ہے اور پورا مہینہ شہر در شہر گھومنے میں گذارنا پڑتا ہے۔ (۶) سفر کی وجہ سے سحرو افطار کا مستقل نطم نہیں ہوپاتا۔ جس سے جو سفرا عزیمت کے ساتھ روزہ رکھتے ہیں، وہ امور حفظان صحت کا خیال نہیں رکھ پاتے، نتیجۃ صحت بگڑنے لگتی ہے اور بعد میں وہ روزہ رکھنے کے قابل نہیں رہ پاتا۔ (۷) خود نبی اکرم ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں یہ کہیں نہیں ملتا کہ وہ رمضان شروع ہوتے ہی چندہ کے لیے نکل پڑتے تھے۔ بلکہ نبی اکرم ﷺ کے بارے میں یہ آتا ہے کہ آپ ﷺ رمضان میں حد سے زیادہ سخی ہوجاتے تھے اور حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ قرآن کا دور فرمایا کرتے تھے۔ اسی طرح صحابہ کا معمول یہ تھا کہ وہ تجارت، زکات اور دیگر ضروری کاموں سے شعبان میں ہی فارغ ہوجایا کرتے تھے، تاکہ رمضان کو یکسو ہوکر گذار سکیں۔ اسی طرح علما اپنے خطاب میں عوام کو نصیحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اپنے روزہ مرہ کے شیڈول کو رمضان میں تبدیل کرکے زیادہ سے زیادہ وقت رمضانی اعمال میں لگائیں، لیکن خود علمائے کرام کا ایک بڑا طبقہ چندہ میں لگ کر رمضانی اعمال سے محروم ہوجاتے ہیں۔ (۸) آخری عشرہ میں اعتکاف کا مسئلہ بھی ہوتا ہے۔ لیکن چندہ کی وجہ سے سفرائے کرام اس عمل سے محروم رہ جاتے ہیں۔ (۹) بھارت میں وصولیابی کا اجتماعی نظم نہ ہونے کی وجہ سے کروڑوں کا سرمایہ غیر مستحقین کے ہاتھوں میں چلا جاتا ہے۔ بلکہ شہادات کے مطابق مچندین کے بھیس میں غیر قوموں کے لوگ بھی زکات اور صدقات کے پیسے لے اڑتے ہیں۔ اور یہ بالعموم رمضان جیسے مقدس مہینے میں ہوتا ہے۔ اس لیے بعض اہل فتاویٰ کے مطابق اس طرح مشکوک آدمی کو زکاۃ دینے سے ادا نہیں ہوپاتی، اس لیے بجائے اس کے کہ ہم رمضانی سفیروں کا انتظار کریں، ہمیں خود ہی مستحق افراد و مدارس کو ڈھونڈھ کر پہنچانا چاہیے۔(۰۱) دن بھر روزہ، رات میں تراویح اور علیٰ الصباح سحری کے نظام کی وجہ سے غیر رمضان کی بنسبت رمضان میں سبھی لوگوں کا لائف شیڈول بہت ٹائٹ ہوجاتا ہے۔ ایسے میں لمحہ بہ لمحہ اہل ثروت کے پاس کوئی نہ کوئی سفیر پہنچتے رہتے ہیں، جس سے وہ بہت زیادہ ڈسٹرب ہوتے ہیں، جب کہ غیر رمضان میں ملنے ملانے کا کافی وقت ملتا ہے۔ درج بالا دس وجوہات کے پیش نظرراقم کی رائے یہ ہے کہ چندہ کامہینہ تبدیل کردینا چاہیے۔ بالیقین مدارس اسلامیہ اور دیگر ملی ادارے چلانے کے لیے چندہ ضروری ہے، اس کے بغیر ملت کے کام نہیں ہوسکتے۔ لیکن کیا ضروری ہے کہ یہ کام رمضان میں ہی کیا اور کرایا جائے۔ کیا ایسا نہیں ہوسکتا ہے کہ شعبان کے پہلے عشرے میں چھٹی کراکر بقیہ دو عشرے چندے کے لیے مخصوص کردیے جائیں اور رمضان شروع ہوتے ہی اپنی اپنی جگہوں پر لوٹ کر اطمینان سے رمضان گذاریں۔ اور رمضان کی مناسبت سے لگنے والے حلقہ تصوف و سلوک سے بھی فائدہ اٹھاکر اپنے ایمان کو تازہ اور صیقل کریں۔ اور علمائے کرام اپنے خطابات کے ذریعہ لو گوں کا ذہن بنائیں کہ وہ رمضان کے بجائے شعبان میں ہی صدقات وغیرہ مستحقین کو دے کر اپنی ذمہ داری سے فارغ ہوجائیں۔ ہمیں اہل بصیرت اور زمینی سچائیوں سے واقف حضرات سے قوی امید ہے کہ ان کے ہاتھ ضرور اس فکر کی تائید میں اٹھیں گے اور ایک دن ایسا انقلاب ضرور آئے گا کہ لوگ رمضان کے مقدس لمحات کو رمضانی اعمال کے لیے فارغ رکھیں گے اور چندہ اور اس جیسے دیگر کاموں سے شعبان میں ہی فارغ ہوجائیں گے، کیوں کہ یہی ہمارے صحابہ کا طریقہ تھا اور کامیابی ہمیشہ اسی طریقہ میں ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صحابہ کے طریقہ پر چلنے کی توفیق دے، آمین۔

Md Yasin Jahazi

Md Yasin Jahazi

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

اچھے برے حالات پر ہمارا طرز عمل

اچھے برے حالات پر ہمارا طرز عمل

4 مہینے ago
جمعیت علمائے ہند کے 106سال مکمل، تاسیس کی مستند کہانی

جمعیت علمائے ہند کے 106سال مکمل، تاسیس کی مستند کہانی

3 مہینے ago

مقبول

  • تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    کیا چندہ لینے دینے کے لیے رمضان ہی ضروری ہے؟

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  •  جمعیت علما کی ضرورت اور شرعی حیثیت 

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • عدالت (مراد آباد) میں حضرت شیخ الاسلام کا بیان

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • مولانا سجادصاحبؒ اور جمعیت علمائے ہند

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • آسان انگریز قواعد

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیۃ علماء ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.