حضرت مولانا رحمت اللہ میر کشمیری رکن شوری دارالعلوم دیوبند کا خطاب، جو انھوں نے مسجد عبدالنبی نئی دہلی میں تفسیر قرآن کی مجلس میں 12اپریل 2025 کو کیا۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ
صدق اللہ مولانا العظیم۔
قرآن پاک اللہ کی کتاب ہے اور یہ اللہ کی کتاب آئی ہے تمام انسانوں کے لیے۔ یہ بتانے کے لیے کہ اس دنیا میں کیسے زندگی گزاریں؟ اس لیے کہ اس دنیا میں ہم میں سے جو کوئی بھی آیا ہم سے کسی نے پوچھا ہی نہیں کہ بھائی تم جاؤ گے دنیا میں یا نہیں؟ ہم سے کسی نے نہیں پوچھا ان کی مرضی آئی تو بھیج دیا اب جتنے دن ہم اس دنیا میں رہیں گے اب پھر نہیں پوچھنے والے بھائی کب جاؤ گے واپس؟ ہم سے کوئی پوچھے گا نہیں تو بھیجا اپنی مرضی سے اور لے جائیں گے تو اپنی مرضی سے ہم سے نہ تب پوچھا نہ اب پوچھیں گے۔ تو اردو کا کوئی شاعر ہے اس نے کہا:
لائی حیات آئے، قضا لے چلی چلے
اپنی خوشی نہ آئے، نہ اپنی خوشی چلے
جب یہ بات ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے بھئی بھیجا کیوں؟ اور لے کہاں جا رہے ہیں؟ بات کو سمجھنے کے لیے اللہ نے اسی بات کلام کو بھیجا ہے۔ بہت اہم بات ہے کہ بھئی ایسے بھیج دیا ہم سے پوچھا نہیں اور لے بھی ایسے جا رہے ہو ہم سے کوئی مطلب نہیں پوچھتے نہیں کیا بات ہے؟ تو آخر بھیجا تو کس لیے؟ تو اس بات کو سمجھانے کے لیے اللہ نے جو بات بتائی وہ کلامِ الٰہی ہے اللہ کا کلام اور اسی کا نام ہے قرآنِ پاک۔
تو ظاہر سی بات ہے اب اس قرآنِ پاک کو پڑھنا بھی پڑتا ہے، اس کے بعد اس کو سمجھنا بھی پڑتا ہے۔ جب سمجھیں گے تبھی پھر کچھ عمل کریں گے بھئی اس لیے آئے ہیں تو کیا کرنا چاہیے؟ اس لیے یہ جمعیت علماء ہند کا بہت پہلے سے یہ نظام ہے یہ آج کا نہیں ہے یہ سو سال پہلے سے نظام ہے کہ امت کو یہ پتہ چلے کہ ہم اس دنیا میں آئے کیوں؟ اس کے لیے اس کلامِ الٰہی کا سبق عام لوگوں کو بھی بتائیں، عام آسان زبان میں اور اس کو ہمارے سب سے بڑے حضرت، حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی رحمتہ اللہ علیہ جب مالٹا سے واپس تشریف لائے تو یہ بتایا تھا: "بہت اہم ضرورت ہے، بہت ضروری ہے ان کا، قربانی کا معاملہ چھوٹا نہیں تھا، بہت بڑا تھا” اس کے بعد اس ترجمے کے بعد فرمایا کہ "امت قرآن کے قریب ہو جائے اور قرآن امت سے کیا کہتا ہے اس کو امت سمجھے تبھی اس پر چلیں گے تو اس کے لیے اس وقت جمعیت علماء نے سارے— اس وقت تو بہت بڑا مجمع تھا، الگ الگ ٹکڑے نہیں تھے— یہ طے کیا کہ تمام مسلمانوں تک یہ قرآن کا پیغام پہنچنا چاہیے”۔ جیسے چھوٹے بچوں کے لیے پڑھنے کے لیے مکاتب، ایسی ہی یہ مجلسیں جو آج یہاں ہوتی ہیں، تو یہ بہت اہم ہیں اور ہمارے لیے ضروری ہے اس کے لیے اور یہ بتا رہے ہیں دس منٹ، دس منٹ میں تو کوئی دوڑ ہی نہیں سکتے، دس منٹ تو سیڑھی چڑھتے ہوئے یہاں پہنچنے میں اور یہاں سے نیچے پہنچنے میں چلے جائیں گے، لیکن اس وقت ایسی قیمت چیز ہم کو معلوم ہوتی کہ ہمارا اللہ ہم سے کیا چاہتا ہے؟ ہمارے اللہ نے ہم کو دنیا میں کیوں بھیجا؟ اور ہمارا اللہ جب بلائے گا، لے جا رہا ہے تو پھر کیا ہوگا؟ یہ اس سبق سے معلوم ہوتا ہے۔
اور اس میں آدمی یہ بھی سوچتا ہے میں گھر میں بیٹھ کر بھی دیکھ سکتا ہوں، ایسا نہیں ہوتا۔ قرآنِ پاک کو کیسے سمجھایا جائے گا تو اس کو علماء کہتے ہیں: «يُفَسِّرُ بَعْضُهُ بَعْضًا»، قرآنِ پاک کی ایک آیت دوسری آیت کی تشریح کرتی ہے۔ آدمی خود ہی دیکھنے لگے گا تو اُلٹ-سُلٹ ہو جائے گا۔ مثلاً قرآنِ پاک میں ایک جگہ ہے: «يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ» اللہ کے رسول آپ سے پوچھتے ہیں یہ لوگ جوئے اور شراب کے بارے میں؟ تو وہاں جواب دیا: «قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ» اس میں گناہ بہت ہے لیکن تھوڑا فائدہ بھی ہے۔ تو عام آدمی سوچے گا اگر یہی بات ہے تو بھئی میں احتیاط کے ساتھ شراب بھی پی لوں گا، جوا بھی کھیلوں گا، لیکن جب دوسری جگہ پانچویں پارے میں جائے گا، وہاں ہے: «لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَىٰ» جب نشے کی حالت میں ہو تو نماز کے قریب بھی مت جاؤ۔ تو جو صرف اتنا پڑھے گا وہ کہے گا بھئی نماز کے وقت مت جاؤ، باقی ٹائم تو شاید گنجائش ہے۔ تیسری جگہ جا کے ساتویں پارے میں ہے: «رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ» یہ تو شیطان کے کاموں میں سے پلید ترین، اتنا پاک ترین کام ہے «فَاجْتَنِبُوهُ» اس سے بہت دور ہو جاؤ، بچو!
لیکن یہ عام آدمی اس سے نکالے نہیں کر سکتا۔ یہ تو ماہر ہی بتائے گا، وہ ایکدم بتائے گا بھئی یہ آیت آئی اس کے بعد دوسری وہ ہے اس کے بعد تیسری وہ ہے۔ ورنہ تو ہم یہ کہتے ہیں ہم امت کو بھئی خود ہی دیکھتے رہو، سب پڑھے لکھے ہو، قرآنِ پاک انگلش میں بھی ترجمہ ہے، ہندی میں بھی ترجمہ ہے، اردو میں بھی ہے۔ لیکن ایسا کیوں ہے کہ اس کو یہ ساری چیزیں سمجھنے کے لیے ضروری ہے کوئی سمجھانے والا ہو۔ اس لیے اس کو علماء کے ذریعے چلاتے ہیں۔
اس کے بعد دوسری بات یہ ہے کہ بہت سی چیزیں ان عربوں نے جن کی زبان میں یہ نازل ہوا، ان کی مادری زبان عربی تھی، وہ بھی نہیں سمجھ پائے، اس میں بھی ان کو پوچھنا پڑا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ حضرت اس کا مطلب کیا ہے؟ وہ حاتم طائی تو بہت سختی ہے نا، حاتم سب مشہور ہیں، ان کے بیٹے تھے حضرت عدی رضی اللہ عنہ، تو وہ جب آیت نازل ہوئی اس میں یہ کہا: «خَيْطَ الْأَبْيَضِ خَيْطَ الْأَسْوَدِ» قرآن میں ہے، «خيط» کا ترجمہ ہے دھاگا، «أبيض» کے معنی سفید، اور «أسود» کے معنی کالا۔ تو قرآن کی آیت کا ترجمہ ہے کہ کھاتے پیتے رہو سحری میں تب تک، جب تک کالا دھاگا، سفید دھاگا ظاہر ہو جائے۔ تو وہ تو عربی ہی تھے، عرب کے پیداوار تھے، عرب میں پیدا ہوئے تھے، مادری زبان تھی، تو انہوں نے دو تاگے رکھے تکیے کے سرہانے کے نیچے، تو صبح کو جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ کی عادت تھی اپنی بات حضور کو سناتے تھے، اسی طرح ہم کو بھی اپنی بات علماء کو سنانی ہوتی ہے: "جی میں یہ سمجھا، میں سمجھا”، وہ کہے گا "جی ٹھیک ہے یا غلط ہے”، وہ کریکشن کرے گا۔ تو انہوں نے جب کہا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا کر فرمایا: "عدی! تمہارا تکیہ اتنا لمبا ہے، اس کے نیچے «خيط أسود»، «خيط أبيض» سنبھل گیا؟” انہوں نے کہا "حضرت کیوں؟” کہا: "وہ یہ دھاگا مراد نہیں ہے، یہ تو جو جدھر سے سورج پورب سے نکلتا ہے، ادھر جو پہلے کالی دھاری آتی ہے آسمان پر، وہ ہے «خيط أسود» اور بعد میں جب سورج اٹھنے لگتا ہے تو آتی ہے سفید دھاری، وہ ہے «خيط أبيض»”۔
تو کیا معلوم ہوا؟ زبان جاننے کے باوجود، مادری زبان ہونے کے باوجود آدمی صرف ڈکشنری سے، لغت سے قرآن نہیں سمجھ سکتا، بلکہ اس میں پوچھنا پڑے گا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ تو یہ ایک علماء کے پاس ہوتا ہے حدیثوں کا ذخیرہ، حضور نے کیا فرمایا، کیا تشریح کی، کیا عمل کیا، اس لیے یہ جو قرآنِ پاک کو سمجھانے سکھانے کی چیز ہے، یہ بہت مبارک ہے۔ اور پھر جوان ہو کر زندگی گزاری، کالج میں، اسکول میں جاب کر رہا ہے، کوئی جاب کر رہا ہے، مزدوری کر رہا ہے، جب قرآن کی نیت سے مسجد میں آئے گا، تو یہ طالبِ علم بن گیا۔ یہ تو قرآن کا طالبِ علم بن گیا اور اب اس کو اتنا اعزاز مل گیا، طالبِ علم کے قدموں کے نیچے فرشتے کیا بچھا دیں؟ تو یہ تو ان میں شامل ہو گیا۔ حفظ کرتا بڑا ہو گیا، نہیں کر سکتا ہے۔ عالم بنتا، بڑی عمر ہو گئی، نہیں کر پاتا بچوں کا بوجھ، یہ اللہ نے ایسا دروازہ کھول دیا، اس لیے بس مجھے قرآن کا سبق نہیں بتانا، وہ تو بتا رہے ہیں مولانا عزیز صاحب، بلکہ مجھے یاد دلانا ہے جمعیت علماء کا، یہ پورا مشن پوری دنیا کا ہے، انگریزی علاقوں میں بھی ہے یہ جمعیت علماء کا نظام، افریقہ میں، انگلینڈ میں، کہاں کہاں؟ صرف یہاں دہلی کی مسجدوں میں، نبی میں، آپ لوگوں کو پکڑ کے نہیں جکڑ رکھا، پوری دنیا کا نظام ہے، تو اس میں، اس سبق میں شامل ہونا، یہ اتنا اہم اور ضروری ہے، تو ارادہ کر لو، ہر روز یہ دس منٹ نکالا کریں گے نا انشاءاللہ؟ بس یہ تبلیغ والی تشکیل جیسی ہے، خیر ہم نے تو چالیس دن نہیں مانگے، نہ تین دن مانگے، نہ گشت کے لیے مانگا، صرف دس منٹ اس نیت سے میرے مالک کی کتاب ہے، میرا مالک مجھ سے کیا کہتا ہے، وہ کسی طرح میری سمجھ میں آئے اور پھر وہ اللہ مجھے توفیق دے، میں عمل کر کے جنت میں پہنچوں۔ اور اگر یہ بات پھر گھر میں سنائی، بیوی، بچوں میں، دوستوں میں تو علم کے پھیلانے کا ثواب مل گیا۔
بات سمجھ میں آئی؟ اللہ ہم سب کو توفیقِ عنایت فرمائے۔ وما علينا إلا البلاغ المبین




















