اٹھویں قسط
محمد یاسین جہازی
حرمین شریفین، حکومتِ آل سعود اور ہندستانی مسلمانوں کے خوشگوار روابط
22/مارچ 1935 کو یمن کے وزیرِ خارجہ نے اعلان کیا کہ سلطان عبدالعزیز اور ان کے صاحبزادے پر قاتلانہ حملہ یمن کے بعض زیدی عناصر نے کیا، مگر وہ محفوظ رہے۔ اس پر جمعیت علمائے ہند نے 24/مارچ 1935 کو تہنیتی اور دعائیہ تار بھیجا، جس کے جواب میں سلطان نے 28/مارچ 1935 کو مختصر الفاظ میں شکریہ ادا کیا۔ بعد ازاں مجلسِ عاملہ کی 3/فروری 1936ئ کی تجویز نمبر (5) میں تمام مسلمان حکومتوں، خصوصاً حکومتِ مصر، سے اپیل کی گئی کہ حرمین شریفین کے لیے وقف شدہ اوقاف کی آمدنی اہلِ حرمین اور بیت اللہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے حجاز بھیجی جائے، تاکہ حرمین کے مذہبی اور معاشی مفادات کو تقویت حاصل ہو۔
پہلی جنگِ عظیم کے بعد برطانیہ نے عرب دنیا میں اپنے سیاسی و معاشی اثرات کو مستحکم کرنے کی کوششیں تیز کر دیں۔ انہی حالات میں 23/دسمبر 1934 کو جدہ میں حکومتِ سعودیہ کے وزیرِ مال اور لندن میں قائم ایک برطانوی معدنیاتی کمپنی کے نمائندے کے درمیان حجاز میں معدنیات کی تلاش اور کان کنی کا معاہدہ طے پایا، جس کی شاہ عبدالعزیز نے 4/فروری 1935 کو توثیق کی۔ اس معاہدے اور شاہی فرمان کا متن یکم اگست 1935 کو ہندستانی اخبارات، خصوصاً روزنامہ انقلاب لاہور میں شائع ہوا۔ اس کے تحت کمپنی کو حجاز کے وسیع علاقے میں معدنیات کی تلاش، کھدائی اور استخراج کے لیے طویل مدت تک خصوصی حقوق دیے گئے، البتہ مکہ مکرمہ کے حدودِ حرم اور مدینہ منورہ کے گرد تیس کلومیٹر کا علاقہ مستثنیٰ رکھا گیا۔
جمعیت علمائے ہند نے اس معاہدے کو حجاز کے تقدس اور جزیرہ عرب میں غیر مسلم اثر و رسوخ کے لیے خطرناک قرار دیا۔ چنانچہ مجلسِ عاملہ نے 3/فروری 1936 کی تجویز نمبر (2) میں اس کی شدید مخالفت کرتے ہوئے حکومتِ سعودیہ سے اپیل کی کہ وقتی مالی فوائد کے بجائے حجاز کے اسلامی تشخص اور آزادی کو ترجیح دی جائے۔
اسی سلسلے میں 27، 28، 29/مارچ 1936 کو جمعیت علمائے دہلی کے سالانہ اجلاس میں عقبہ اور معان میں برطانوی فوجی استحکامات کو عالمِ اسلام اور جزیرہ عرب کی آزادی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا گیا۔ بعد ازاں 3/ستمبر 1937 کو آل انڈیا فلسطین کانفرنس کی مجلسِ عمل میں شیخ حسام الدین نے کہا کہ برطانیہ فلسطین کو یہودیوں کے سپرد کرنے کی سازش کر رہا ہے، جب کہ ابن سعود کی جانب سے حجاز کے معدنی علاقوں کا طویل مدت کے لیے ٹھیکہ دینا بھی عالمِ اسلام کے لیے ایک نئے خطرے کی بنیاد ہے۔
فلسطین کے مسئلے پر 24/اگست 1938 کو حضرت مولانا احمد سعیدؒ نے مسلمانوں سے بائیکاٹ اور سول نافرمانی کی اپیل کرتے ہوئے واضح کیا کہ فلسطین کی آزادی، جزیرہ عرب کی آزادی سے وابستہ ہے۔ اس کے بعد جمعیت علمائے ہند کے گیارھویں اجلاسِ عام 3، 4، 5، 6/مارچ 1939 میں حکومتِ سعودیہ کی جانب سے مکہ مکرمہ کے مہاجرین پر عائد ٹیکس کو ناجائز قرار دیتے ہوئے اس کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا۔ پھر مجلسِ مرکزیہ 27، 28، 29/مئی 1939 میں جمعیت کے دستور میں ترمیم کر کے "اسلام، مرکزِ اسلام (حجاز)، جزیرہ عرب اور شعائرِ اسلام کی حفاظت” کو باقاعدہ اس کے بنیادی اغراض و مقاصد میں شامل کر دیا گیا۔
(جاری)
@all





















