تعلیم بالمقاصد
بہت ہی اہم اور بنیادی اصول ہے، جو ہمیشہ پیش ِ نظر رہنا چاہیے، یعنی جس طرح جماعت بندی اور ہر جماعت کا کورس اور نصاب مقرر کرنے کے وقت یہ بات سامنے رہتی ہے کہ اس پورے سال کے اندر فلاں فلاں مضمون میں بچوں کی استعداد یہاں تک پہنچ جانی چاہیے، مثلاً درجہ دوم میں جب آپ نے حساب کا کورس ضرب اور تقسیم مقرر کیا ، تو گویا یہ طے کرلیا کہ تعلیم کی رفتار ایسی ہونی چاہیے کہ آخر سال تک بچہ ضرب تقسیم کے اصول سے واقف ہوکر ان کا ایسا ماہر ہوجائے کہ جو سوالات بھی ضرب یا تقسیم سے متعلق اس کے سامنے آئیں، ان کو وہ حل کرسکے۔
اسی طرح آپ مثلاً دینیات کے نصاب میں اگر ایک درجہ کا نصاب :’’نماز پڑھنے کا طریقہ ،،مقرر کرتے ہیں، تو آپ نے ایک مقصد معین کرلیا کہ تعلیم کی رفتار ایسی ہو کہ اتنے عرصہ میں بچوں کو نماز پڑھنی آجائے۔
ان دو مثالوں کو سامنے رکھ کر آپ یہ بھی طے کرلیجیے کہ دینی تربیت کا بھی ایک کورس مقرر ہو۔ مثلاً عقائد کے سلسلہ میں اگر مسئلۂ توحید نصاب میں داخل ہے، تو صرف یہ نہ ہونا چاہیے کہ چند الفاظ بچوں کو یاد کرادیے جائیں؛ بلکہ کوشش یہ ہو کہ اس مسئلہ کو اس طرح پیش کیا جائے اور پھر بچوں سے اس کی اس طرح مشق کرائی جائے کہ یہ مسئلہ ان کے دماغوں میں رچ جائے۔
تہذیب کے سلسلہ میں اگر ’’آداب ِ ملاقات‘‘ کورس کا مضمون ہے، تو صرف سمجھا دینا اور یاد کرادینا کافی نہ سمجھا جائے، بلکہ یہ بھی ضروری سمجھا جائے کہ ان آداب پر بچہ عمل کرنے لگے اور رفتہ رفتہ وہ ان کا عادی بن جائے۔ اس طرح ہر جماعت میں ہر مضمون کے لیے یاد کرانے کے ساتھ اس پر عمل کرانا، بچوں کے ذہن اور فکر کو اس رنگ میں رنگ دینا بھی نصاب کا جز سمجھا جائے۔
یہ مقصد کس طرح حاصل ہوسکتا ہے، اس کی تفصیل آئندہ صفحات میں ملاحظہ فرمایئے۔ دینیات کا پانچ سالہ نصاب آئندہ صفحات میں پیش کرتے ہوئے ہر سال کی تعلیم کے مقاصد مقرر کیے گئے ہیں اور یہ بتایا گیا ہے کہ یہ مقاصد کس طرح حاصل ہوسکتے ہیں۔





















