خلاصَہ
تمام اصول ایک نظر میں
تفصیلات آپ پہلے ملاحظہ فرما چکے ہیں۔ اب مجمل طورپر یہ اصول سامنے رکھیے۔ ان پر خود عمل کیجیے اور ماتحت استادوں سے عمل کرائیے۔
(۱) کوشش کیجیے کہ بچہ پڑھنے کی طرف پوری طرح متوجہ رہے، لہٰذا سب سے پہلے آپ:
(الف) بچہ کو اپنے سے مانوس کیجیے۔ مکتب کے ماحول سے مانوس کیجیے۔
(ب) مکتب کو صاف ستھرا رکھیے۔ بچوں کی تکلیف کا پورا خیال رکھیے۔ دینی تعلیم کے خوب صورت چارٹ اور نقشوں سے مکتب کو سجایئے۔ اس کو حسین اور خوب صورت بنایئے۔
(ج) بات چیت میں ہی کم سے کم بسم اللہ یاد کرادیجیے اور اسم ذات ’اللہ‘ ذہن میں اس طرح جمادیجیے کہ اس کا تصو ّر تصویر کا کام دے سکے۔
(۲) بچہ کی صلاحیتوں کو سمجھیے اور ان سے کام لیجیے۔
(۳) بچوں میں یہ اعتماد پیدا کیجیے کہ انھیں پڑھنا آگیا، تاکہ ان کا حوصلہ بلند ہو اور وہ زیادہ کام کرسکیں۔
(۴) حرفوں کی صرف آوازیں بتائیے اور کم سے کم حروف بتا کر پڑھنا سکھا دیجیے۔
(۵) سب سے پہلے اللہ پڑھنا سکھا دیجیے۔
(۶) دل چسپ تمہید سے بچوں میں سبق کا شوق پیدا کیجیے۔
(۷) رٹنے سے پہلے بار بار مشق کر اکر پختہ کرائیے۔
(۸) بچے خالی بیٹھنا نہیں جانتے، ان کو تعلیمی کاموں میں لگائے رکھیے۔
(۹) دماغی سکون و تفریح کا اصول سمجھیے اور مصروفیتوں کی تبدیلی سے دماغی فرحت پیدا کیجیے۔ پروگرام ایسا بنایئے کہ کام بھی ہوتا رہے اور دماغ کو آرام بھی ملتا رہے۔
(۱۰) حروف روشن اور جلی لکھیے۔
(۱۱) پہلے حروف شناس بنا دیجیے ،پھر رفتہ رفتہ حرفوں کی ترتیب ان کے نام اور زبر، زیر وغیرہ کی حرکتیں اور سکون و تشدید وغیرہ بتایئے۔
(۱۲) پڑھانے کے لیے جماعتی طرز اختیار کیجیے۔ پوری جماعت کا ،ورنہ زیادہ سے زیادہ جتنے بچوں کا سبق ایک ہوسکے ان کا سبق ایک رکھیے۔
(۱۳) تختۂ سیاہ، ورنہ سلیٹ یا تختی پر سبق لکھتے رہیے۔ بچوں سے حرفوں کی شناخت کراکر پورے لفظ، پھر پورے جملے کہلواتے رہیے اور جب پوری طرح سمجھ جائیں، تب کتابوں میں بچوں سے پڑھوائیے اور چند مرتبہ کہلادیجیے۔
(۱۴) جہاں ضرورت ہو، سلیقہ مند بچوں کو خلیفہ بنانے کا پرانا طریقہ پھر رائج کیجیے۔
(۱۵) ہر جماعت کے لحاظ سے مقاصد ِ تعلیم معین کیجیے اور پھر ان کے پیش ِ نظر تعلیم و تربیت کا سلسلہ قائم کیجیے۔
(۱۶) پہلے اور دوسرے درجہ کے لیے ہفتہ میں دو روز اور باقی درجات کے لیے ہفتہ میں ایک روز ضرور ایسا ہونا چاہیے کہ پڑھے ہوئے اسباق کا مذاکرہ ہو، یعنی استاد کی نگرانی میں خود بچے پڑھے ہوئے سبقوں کی باتیں ایک دوسرے سے پوچھیں اور استاذ صاحبان بھی نئے نئے سوالات قائم کرکے اس بات کا اندازہ کریں کہ بچوں نے پڑھے ہوئے سبق کو کہاں تک سمجھا ہے۔ الجمعیۃ بک ڈپو کے شائع کردہ ’طریقۂ تقریر‘ کے(۱) دو حصے اس بارے میں استاذ صاحبان کے لیے بہت مددگار ثابت ہوں گے، (ان شاء اللہ) ان کو ضرور ملاحظہ فرمایا جائے۔
٭٭٭




















