29/اگست 2025 کو دارالعلوم دیوبند کے استاذ مولانا اشرف عباس صاحب کا مسجد عبدالنبی نئی دہلی میں خطاب
ہم سب سب ماننے، ایک اللہ کو ماننے والے اور ہم تک یہ دین پہنچا اور ہم کو سب سے بڑا رہنماء اور واسطہ بنے سرور کائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کہ سب ماننے والے اور سب کی تائید کرنے والے۔اس لیے ہمارے یہاں دین کا عقیدہ، جیسے توحید کا عقیدہ دنیا کی آخری حد ہے، اسی طرح رسالت کا عقیدہ بھی انتہائی پر کشش اور انسان کے لیے بہت اہم ہے۔ ایک ہے توحید اور ایک ہے رسالت، اور ایک ہے معاد (یعنی مرنے کے بعد دوبارہ سب کو زندہ ہونا)۔تو رسالت کا یا عقیدے کا مطلب یہ ہے کہ ہم سب کو دل سے اس بات کا یقین رکھنا ہے کہ اپنے اپنے وقت میں جو انبیاء کرام علیہم السلام اللہ تعالی کا پیغام اس کے بندوں کے نام لے کر آئے، وہ سب برحق تھے, سچے تھے اور آخر میں سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم یہ پیغام لے کر آئے، آپ اللہ کے آخری رسول اور آخری پیغمبر بنے۔اس لیے آپ کے بعد نہ کوئی نبوت کا دعویٰ کر سکتا ہے، نہ کوئی رسالت کا دعویٰ کر سکتا ہے، یہ ہمارے عقیدے کا حصہ ہے، اس لیے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جو رسالت اور آپ کا جو پیغام ہے، یہ پوری دنیا کے لیے ہے، تمام خطوں میں بسنے والے سارے انسانوں کے لیے ہے، اور رہتی دنیا تلک ہے۔اور انبیاء کرام علیہم السلام آتے تھے، وہ کسی خاص خطے کی طرف مبعوث کیے جاتے تھے، خاص لوگوں کی طرف، لیکن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس سب لوگوں کے لیے بھیجے گئے اور ہمیشہ کے لیے، اب آپ کے بعد کسی نئے پیغام کی ضرورت نہیں ہے، نہ کسی نئے پیغمبر کی ضرورت ہے، نہ کسی چیز کی ضرورت ہے۔دنیا میں اور بھی انبیاء کرام علیہم السلام کو ماننے والے غلط یا صحیح جس طریقے پر بھی ہو دین کے نام لیتے ہیں، لیکن آج تک دنیا میں کسی نبی نے یہ دعویٰ نہیں کیا ہے کہ میں پوری انسانیت کے لیے، پوری کائنات کے لیے ہوں۔ نہ تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یہ بات کہی، ظاہر ہے کہ آج بھی اگر کوئی یہودی بننا چاہے تو نہیں بن سکتا، اس لیے کہ موسیٰ علیہ السلام کے ماننے والے خود ہی کہتے ہیں کہ ہمارا جو دین ہے، وہ نسلی مذہب ہے، کسی اور نسل سے تعلق رکھنے والے کے لیے یہ دین نہیں ہے۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام بائبل کا جو ایڈیشن ہے، آپ اس کے ٹائٹل پر دیکھ سکتے ہیں، فوٹو بنا رکھا ہے کہ ایک بزرگ شخصیت ہیں، وہ ادھر ادھر جو بکریاں بھاگ رہی ہیں، ان کو راہِ راست پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بائبل میں ایک چیپٹر ہے، اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ میں تو صرف بنی اسرائیل کی جو گڈی ہوئی بکریاں ہیں, جو ریوڑ سے بھاگ رہی ہیں، انہیں راہِ راست پر لانے کے لیے آیا ہوں۔تو یہ انبیاء کرام علیہم السلام جن کے جو فالوورز ہیں اور جو یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا مذہب عالمی ہے، خود یہ انبیاء کرام علیہم السلام کی تصریح موجود ہے کہ نہیں، ہم کسی خاص نسل کے لیے ہیں، خاص وقت کے لیے ہیں، خاص خطے کے لوگوں کے لیے ہیں۔ لیکن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واحد پیغمبر ہیں، آخری پیغمبر ہیں، پہلے اور آخری پیغمبر ہیں، جنہوں نے کہا: "یا ایہا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا” (لوگو! میں تم سب کے لیے پیغمبر بنا کر بھیجا گیا ہوں) اس لیے آپ کا جو پیغام ہے وہ سب کے لیے ہے، صرف عربوں کے لیے نہیں، صرف عجم کے لیے نہیں، ہر خطے میں رہنے والوں کے لیے ہے اور ہمیشہ کے لیے آپ کا پیغام ہے۔اس لیے آج بھی اگر کسی کو نجات چاہیے اور اس کو صحیح راستہ چاہیے تو صرف اور صرف رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا پیغام۔ ربیع الاول کے مہینے میں جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تذکرے کی سعادت حاصل کی جاتی ہے، تو اس لیے ہمیں یہ پیغام دوسروں تک بھی پہنچانا چاہیے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جو رحمت ہے اور آپ کی جو بعثت ہے وہ سب کے لیے ہے۔اس لیے قران کریم نے صاف کہا: "وما ارسلنک الا رحمت للعالمین” (کہ دیکھو ہم نے آپ کو پوری دنیا کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے) اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی کو دیکھ لیجیے، آپ سماج کے ہر طبقے کے کام آئے اور ہر طبقے کے لوگوں کی آپ نے رہنمائی کی ہے۔اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا نہیں ہے کہ صرف مسلمانوں کے لیے رحمت بن کر آئے، کہ مسلمان آپ کی برکت سے وہ راہِ راست پر گامزن ہوئے، آپ کی برکت سے وہ جہنم کے عذاب سے بچیں گے اور جنت کی نعمتیں ان کو حاصل ہوں گی اور اللہ تک ان کی رسائی ہو رہی ہے۔ آپ صرف مسلمانوں کے لیے نہیں، بلکہ آپ جو غیر مسلم ہیں، ان کے لیے بھی رحمت ہیں۔ قران کریم نے کہا: "وما کان اللہ لیعذبہم وانت فیہم” (کہ میرے پیارے پیغمبر دیکھیے! ان کا تو جرم اتنا بڑا ہے اور جس طریقے سے یہ اللہ اور اس کے رسول کی ریٹ کو چیلنج کر رہے ہیں، یہ تو اس لائق ہے کہ انہیں زمین میں دھنسا دیا جائے اور انہیں بالکل نیست و نابود کر دیا جائے، لیکن اس کے باوجود یہ بچے ہوئے ہیں، صرف اس وجہ سے کہ آپ ان کے اندر موجود ہیں۔آپ کی صفت رحمت کی وجہ سے اللہ نے انہیں بھی بچا رکھا ہے اور اللہ نے انہیں بھی موقع دے رکھا ہے تو آپ غیر مسلموں کے لیے رحمت بن کر آئے، آپ سماج کے ہر ہر طبقے کے لیے رحمت بن کر آئے، آپ عورتوں کے لیے رحمت بن کر آئے، کہاں تو عورتوں کو یہ سمجھا جاتا تھا کہ یہ جہنم کا ایک نمونہ ہے اور لوگوں کے لیے یہ اور آج کی بات ہوا کرتی تھی کہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہمارے گھر میں بچی کی پیدائش ہوئی ہے، اس طرح کی صورتحال تھی، لیکن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے نتیجے میں عورتوں کو اللہ تبارک و تعالی نے سماج میں جو مقام تھا اس مقام کو لوگوں نے سمجھا جو اللہ نے دے رکھا ہے اور ایک ایک بچی کی پرورش پر لوگوں کو جنت کی بشارتیں دی گئی ہیں، اور اگر وہ عورت ماں کے روپ میں ہے تو کہا گیا کہ ان کے قدموں کے نیچے جنت ہے، اگر وہ بہن ہے تو اس کی عزت اور آبرو کی حفاظت کا حکم دیا گیا ہے اور اس طریقے سے عورتوں کو سماج میں کوئی حق نہیں تھا۔عورتوں کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے پہلے صرف اور صرف ان کی ذمہ داری تھی کہ انہیں گھر کے کام کرنے ہیں، انہیں مردوں کی حکمرانی کے نیچے زندہ رہنا ہے، یہ پہلی آواز تھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آواز اونچی کی آپ نے اپنے زوجہ کالیہ کا حق تھا۔ آپ نے فرمایا: "لوگو! یاد رکھو، تمہاری بیوی کی صرف ڈیوٹی نہیں ہے، بلکہ ان کے رائٹس بھی ہیں، ان کے حقوق بھی ہیں۔ اگر تم نے ان کے حقوق کو ادا نہیں کیا تو اللہ کے یہاں جوابدہی کے لیے تیار ہو جاؤ۔””خیرکم خیرکم لأہلی” آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، وہ آدمی بہت اچھا نہیں ہے جو باہر تو لوگوں سے بڑے اخلاق سے پیش آتا ہو، لیکن گھر والوں کے ساتھ بالکل روٹھے ہوئے مزاج سے ملتا ہو، گھر والوں کے ساتھ اس کا بیوھار اچھا نہیں ہے، بیوی بچوں کے ساتھ اس کا معاملہ اچھا نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا: ایسے لوگ اچھے نہیں ہوتے۔تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے لیے رحمت بن کر آئے، آپ بچوں کے لیے رحمت بن کر آئے، آپ نے ان سے شفقت کا حکم دیا، ورنہ اس وقت کی تہذیب یہ تھی کہ وہ کہتے تھے کہ بچوں کو پالا پیار کرنا، یہ تو مردانگی کے خلاف ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو رحمت کا سبب اور رحمت کا ذریعہ قرار دیا۔آپ مزدوروں کے لیے رحمت بن کر آئے۔ مزدور کے بارے میں آپ نے فرمایا: لوگ مزدوروں سے کام لے لیا کرتے تھے، انہیں ان کی مزدوری نہیں دیا کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا: "دیکھو! مزدور کی پیشانی کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے پہلے اس کی مزدوری ادا کرو۔”یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف انسانوں کے لیے نہیں، بلکہ آپ جو دوسری مخلوقات ہیں، ان کے لیے بھی رحمت بن کر آئے۔ آپ جنات کے لیے رحمت بن کر آئے۔ آپ نے فرمایا کہ دیکھو! یہ جو تم کھاتے ہو، یہ مٹن کھاتے ہو، گوشت کھاتے ہو، تو کھا کر ادھر ادھر ہڈیاں مت پھینک دیا کرو یا جو ہڈیاں ہیں، ان ہڈیوں میں گندگی مت ڈالو۔ کیوں؟ "فانہا زاد لکم من الجن” یاد رکھو! ان ہڈیوں میں اللہ پاک نے ایک نظام قائم کر دیا ہے کہ یہ ہڈیاں جنات کی خوراک کے طور پر استعمال ہوتی ہیں۔یہ تمہارے بھائی جنات کی خوراک ہیں، اس لیے تم ان ہڈیوں کو اس طرح ضائع مت کرو، ان پر گندگی مت لگاؤ، اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان جنات کے لیے رحمت بن کر آئے۔ آپ فرشتوں کے لیے رحمت بن کر آئے۔ آپ نے فرمایا کہ دیکھو! جب مسجد میں جاؤ تو اس کا خیال رکھا کرو، تمہارے منہ سے بدبو نہ آئے، تم جو ایسے گریٹ پی کر، اور اس طرح کی نشہ کی چیز کرکے (یعنی جس سے منہ سے بدبو آتی ہو)، پیاز کھاکر، لہسن کھاکر مسجد میں مت جاؤ۔ کیوں؟ اس لیے کہ وہاں رحمت کے فرشتے ہوتے ہیں، تمہاری بدبو کی وجہ سے ان فرشتوں کو اذیت ہوتی ہے۔تو آپ فرشتوں کے لیے رحمت بن کر آئے۔ آپ پرندوں کے لیے رحمت بن کر آئے۔ آپ نے دیکھا صبح کا وقت ہے اور چڑیا پریشان ہو رہی ہے، آپ نے فورا پوچھا: "من فجع الطیر؟” کس نے اس پرندوں کو پریشان کر رکھا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ فلاں صاحب نے ان کے چوزے اٹھا لیے ہیں، انڈے اٹھا لیے ہیں، اس لیے یہ پرندہ پریشان ہو رہا ہے۔آپ نے فورا فرمایا: "ردوا الی وکرہا” چلو ایسا کرو کہ ان کے جو چوزے ہیں، ان کے گھونسلے میں واپس کر دو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پرندوں کے لیے رحمت بن کر آئے۔ آپ فرشتوں کے لیے رحمت بن کر آئے۔ آپ جنات کے لیے رحمت بن کر آئے۔ سماج کے ہر طبقے کے لیے رحمت بن کر آئے۔ اس لیے قران کریم نے کہا: "وما ارسلنک الا رحمت للعالمین”۔اس وقت عالمی سطح پر ہمارے اس ملک میں بھی اس بات کی ضرورت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جو صفت رحمت ہے اور آپ کا جو پیغام ہے, اس پیغام کو ہر ایک کے سامنے عام کیا جائے، اور سب سے پہلے اس بات کی ضرورت ہے کہ ہماری زندگیوں میں ہوں، ہماری زندگیوں میں وہ اخلاق آئیں، ہماری زندگیوں میں وہ امانت آئے، ہماری زندگیوں میں وہ سادگی آئے، ہماری زندگیوں میں غریبوں کے ساتھ وہ محبت کا جذبہ آئے جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کا مظہر ہے۔آپ نے فرمایا کہ دیکھو! اگر تم کہیں سوسائٹی میں رہتے ہو، یا کسی مکان میں رہتے ہو، بلڈنگ میں رہتے ہو، لیکن تم میں تمہارے پڑوس میں رہنے والا، اگر تمہارا پڑوسی تم سے دکھی ہے، اگر وہ تم سے پریشان ہے تمہارے کرتوتوں کی وجہ سے، تو یاد رکھو! تم سب کچھ ہو سکتے ہو، لا یؤمن، لیکن تمہارے پڑوسی کا تم سے پریشان ہونا یہ اس بات کی علامت ہے کہ تمہارا ایمان مکمل نہیں ہے۔ تمہیں اپنے ایمان کی خیر منانی چاہیے۔اسی طرح آپ نے فرمایا کہ تمہارے پڑوس میں اگر کسی غریب کی جھونپڑی ہے، اور اس جھونپڑی میں رہنے والا غریب فیملی کا غریب بچہ اگر رات کو بھوکے سوتا ہے، تو یاد رکھو کہ تمہیں اپنے ایمان پر نظرثانی کرنی چاہیے۔تو یہ جو انسانیت کی تعلیمات ہیں، محبت کی تعلیمات ہیں، رحمت کی تعلیمات ہیں، ان تعلیمات کو ہمیں سب لوگوں کے سامنے عام کرنا ہے، لیکن اس سے پہلے یہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے اپنے اخلاق اچھے ہوں، ہمارے اندر امانت داری ہو، ہمارے اندر ایک دوسرے کے لیے کچھ کرنے کا، قربانی کا اور ہمدردی کا جذبہ ہو۔یہی ہمارے اسلام کی تعلیم ہے، ہمارے مذہب نے ہمیں یہی سکھایا ہے، ظاہر ہے کہ ہمیشہ اخلاق سے اور رحمت کا جو میسج اور پیغام ہے، اسی سے لوگوں کے دلوں کو فتح کیا گیا ہے۔ اس ملک میں آج کا مسئلہ نہیں ہے، شروع میں بھی بہت اس طرح ماحول خراب کیا گیا، لیکن ایسے لوگ آئے، لوگوں نے ان کے اخلاق کو دیکھا، ان کے کردار کو دیکھا، ان کے چہرے مہرے کو دیکھا اور لوگوں نے اسلام قبول کیا ہے۔ظاہر ہے کہ یہاں کے جو مسلمان ہیں وہ صرف باہر سے آئے ہوئے نہیں ہیں، سب یہیں کے لوگ ہیں، یہیں کی برادریوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمتہ اللہ علیہ اس ملک میں جب تشریف لاتے ہیں تو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے دلائل و فوائد میں لکھا ہے کہ تنہا خواجہ صاحب کے ہاتھ پر 90 لاکھ آدمیوں نے اسلام قبول کیا ہے۔ خواجہ صاحب کے پاس کوئی آرمی تھی، ہٹو بچو کی آواز تھی، ان کی کوئی لابی تھی، کچھ نہیں، لیکن وہ جو صرف اجمی سے دہلی اور دہلی سے اجمی جایا کرتے تھے، لیکن لوگ ان کے اخلاق کو دیکھ کر، ان کے کردار کو دیکھ کر، ان کے ساتھ جو اسلامی تعلیمات کی روشنی تھی، اس روشنی کو دیکھ کر لوگ اسلام کا کلمہ پڑھ کر اسلام کے حلقے میں داخل ہو جایا کرتے تھے۔ہمیں اسی تاریخ کو دہرانے کی ضرورت ہے، ہمیں سب کے لیے ایک رحمت کا باعث بننا ہے، ہم کسی کے لیے زحمت بنا کر نہیں بھیجے گئے ہیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ جو تعلیم ہے، ظاہر ہے کہ میں نے شروع میں کہا کہ کسی نبی اور پیغمبر نے آج تک یہ دعویٰ نہیں کیا ہے کہ اس کی تعلیم ہر طبقے کے لیے ہے، ہر زمانے کے لیے ہے اور قیامت تک کے لیے ہے، یہ دعویٰ صرف اور صرف رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے، اس لیے آپ کے ماننے والے ایک ایک فرد کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ آپ کے پیغام کو دوسرے لوگوں تک پہنچائے۔اور اس لیے اسلام کا جو معجزہ ہے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جو معجزہ ہے، وہ معجزہ آج جوں کا توں باقی ہے، کیونکہ آپ کی رسالت ہمیشہ کے لیے ہے، آپ کی پیغمبری ہمیشہ کے لیے ہے اور آپ کے بعد کوئی نبی نہ آیا ہے نہ آئے گا، اگر کوئی اس کی آڑ میں نبوت کا دعویٰ کرتا ہے یا اپنے آپ کو اس طرح بنا کر پیش کرتا ہے، تو یاد رکھیے اس دھرتی پر، اس आकाश کے نیچے دنیا کا سب سے بڑا جھوٹا انسان ہے وہ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آیا ہے نہ آئے گا۔اور یہ ہمارا اس کا تعلق ہمارے عقیدے سے ہے، نماز، روزہ اس کا تعلق ہمارے اعمال سے ہے، یاد رکھیے اعمال کے سلسلے میں کمی کوتائی برداشت کی جا سکتی ہے، لیکن عقیدے کے سلسلے میں کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا، اس لیے توحید کا عقیدہ یہ بنیادی عقیدہ ہے، رسالت کا عقیدہ ہمارا مضبوط ہونا چاہیے، معاد کا عقیدہ ہمارا مضبوط ہونا چاہیے اور اس ملک میں اگر ہمیں رہنا ہے تو سب سے پہلے ہمیں اپنے بچوں کے افکار، جو نسلیں آ رہی ہیں، ان کے عقائد کو بھی مضبوط کرنا بہت ضروری ہے۔اس لیے ہم توحید کی تعلیم بھی ہم اپنے بچوں کو دیں، رسالت ان کی گھٹیوں میں، ان کے اندر ہم رسالت کا جو اصل مقصد ہے، اس کا جو پیغام ہے، اس کا مطلب ہے وہ ان کے ذہن اور دماغ میں بٹھا دیں اور اچھی طرح اس کو رچانے اور بسانے کی کوشش کریں۔یہ جو توحید کا پیغام ہے، اللہ ایک ہے، ہم ایک اللہ کے علاوہ دنیا کی کسی شکتی کے آگے، کسی طاقت کے آگے اپنا سر نہیں جھکا سکتے، یہ ہمیں اپنے بچوں کو بھی بتلانا ہے، ہمیں اپنی نسلوں کو بھی بتلانا ہے، اس لیے اب صرف ہمیں نماز روزے کے فضائل نہیں بتانے ہیں، یہ سب چیزیں ضروری ہیں اور ان سب چیزوں پر محنت کرنا ہے، لیکن اس وقت جو یلغار ہو رہی ہے اور جو اٹیک ہو رہا ہے وہ ڈائریکٹ ہمارے ایمان پر ہو رہا ہے، ہمارے عقیدے پر حملہ ہو رہا ہے۔اس لیے اب آپ اپنے بچوں کو صبح شام کی دعاؤں کے ساتھ ساتھ توحید بھی بتلائیے، اپنے بچوں کو یہ سکھائیے کہ پیارے بچے! ہو سکتا ہے کہ تم کہیں گر جاؤ، تمہارے ہاتھ پیر توڑ دیے جائیں اور تم بالکل ہر طرف سے تمہارا گھیرا تنگ کر دیا جائے، لیکن اس کے باوجود تمہاری زبان پر احد احد، ایک اللہ، ایک اللہ کا نعرہ ہونا چاہیے، ہمیں اپنے بچوں کو صبح شام یہ پاکی پڑھانے کی ضرورت ہے۔ اسی کے لیے جگہ جگہ مکاتب کا نظام ہو اور تعلیم کا نظام ہو۔بہرحال! یہ جو مہینہ ہے، یہ مہینہ ہم سے اس بات کا مطالبہ کرتا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو ہر مسلمان کو عشق اور محبت کا ایک تعلق ہے، اپنی اس تعلق کی وہ تجدید کرے اور سنت اس کی زندگیوں میں ہو۔ اللہ مجھے بھی توفیق دے، آپ حضرات کو بھی توفیق عمل سے نوازے۔ آمین واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔




















