اتوار, اگست 9, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی

    بچوں کو کھیل کھیل میں تعلیم کے 27 طریقے: سید الملت حضرت مولانا محمد میاں صاحب نور اللہ مرقدہ

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    بھارت کی موجودہ حکومت،ایسٹ انڈیا کمپنی کی راہ پر!

    محمد یاسین جہازی

    تدریس کے 35 جدید طریقے

    ایجوکیشن کمیشن اور مدارسِ اسلامیہ

    ایجوکیشن کمیشن اور مدارسِ اسلامیہ

    نسلِ جدید

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    حضرت العلامہ معین الدین اجمیری رحمۃ اللہ علیہ

    سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا  سے جہازی مکالمات

    جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    اصلاح معاشرہ کانفرنس لوگائیں گڈا (22مئی 2009ء)کی ایک رپورٹ

    محمد یاسین جہازی

    پاکستان اور ہندستانی مسلمان

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں

    بھارت چھوڑو تحریک” کا سبق – صرف ماضی کی یاد نہیں، حال کی رہنمائی بھی ہےایم. ڈبلیو. انصاری (آئی.پی. ایس) ریٹائرڈ، ڈی. جی

    قانون کو ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں، قصورواروں کو فوری گرفتار کیا جائے: جمعیۃ علماء جھارکھنڈ

    قانون کو ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں، قصورواروں کو فوری گرفتار کیا جائے: جمعیۃ علماء جھارکھنڈ

    وندے ماترم کو قانونی لزوم دینا مذہبی و آئینی آزادی پر حملہ ہےآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کا ایک سہ روزہ سمر کیمپ کا افتتاحی پروگرام

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کا ایک سہ روزہ سمر کیمپ کا افتتاحی پروگرام

    مہاراشٹر میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی مخالفت کی جائے گی: مولانا حلیم اللہ قاسمی

    مہاراشٹر میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی مخالفت کی جائے گی: مولانا حلیم اللہ قاسمی

    بسنت رائے میں ” گلوبل ٹریول” حج و عمرہ دفتر کا شاندار افتتاح

    بسنت رائے میں ” گلوبل ٹریول” حج و عمرہ دفتر کا شاندار افتتاح

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    فرقہ پرستوں کا ایک اہم اعتراض اور اس کا جواب

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    ہماری مساجد کی تعمیر ہماری ذمہ داری

    عورت کا وقار، قانون کی تعبیر اور انصاف کا امتحان

    عورت کا وقار، قانون کی تعبیر اور انصاف کا امتحان

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی

    بچوں کو کھیل کھیل میں تعلیم کے 27 طریقے: سید الملت حضرت مولانا محمد میاں صاحب نور اللہ مرقدہ

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    بھارت کی موجودہ حکومت،ایسٹ انڈیا کمپنی کی راہ پر!

    محمد یاسین جہازی

    تدریس کے 35 جدید طریقے

    ایجوکیشن کمیشن اور مدارسِ اسلامیہ

    ایجوکیشن کمیشن اور مدارسِ اسلامیہ

    نسلِ جدید

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    حضرت العلامہ معین الدین اجمیری رحمۃ اللہ علیہ

    سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا  سے جہازی مکالمات

    جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    اصلاح معاشرہ کانفرنس لوگائیں گڈا (22مئی 2009ء)کی ایک رپورٹ

    محمد یاسین جہازی

    پاکستان اور ہندستانی مسلمان

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں

    بھارت چھوڑو تحریک” کا سبق – صرف ماضی کی یاد نہیں، حال کی رہنمائی بھی ہےایم. ڈبلیو. انصاری (آئی.پی. ایس) ریٹائرڈ، ڈی. جی

    قانون کو ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں، قصورواروں کو فوری گرفتار کیا جائے: جمعیۃ علماء جھارکھنڈ

    قانون کو ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں، قصورواروں کو فوری گرفتار کیا جائے: جمعیۃ علماء جھارکھنڈ

    وندے ماترم کو قانونی لزوم دینا مذہبی و آئینی آزادی پر حملہ ہےآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کا ایک سہ روزہ سمر کیمپ کا افتتاحی پروگرام

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کا ایک سہ روزہ سمر کیمپ کا افتتاحی پروگرام

    مہاراشٹر میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی مخالفت کی جائے گی: مولانا حلیم اللہ قاسمی

    مہاراشٹر میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی مخالفت کی جائے گی: مولانا حلیم اللہ قاسمی

    بسنت رائے میں ” گلوبل ٹریول” حج و عمرہ دفتر کا شاندار افتتاح

    بسنت رائے میں ” گلوبل ٹریول” حج و عمرہ دفتر کا شاندار افتتاح

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    فرقہ پرستوں کا ایک اہم اعتراض اور اس کا جواب

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    ہماری مساجد کی تعمیر ہماری ذمہ داری

    عورت کا وقار، قانون کی تعبیر اور انصاف کا امتحان

    عورت کا وقار، قانون کی تعبیر اور انصاف کا امتحان

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
No Result
View All Result
Home اسلامیات

نجات دین اسلام ماننے ہی میں ہے: مولانا اشرف عباس صاحب استاذ دارالعلوم دیوبند

by Admin
اگست 9, 2026
in اسلامیات
0
آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے
0
SHARES
11
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

29/اگست 2025 کو دارالعلوم دیوبند کے استاذ مولانا اشرف عباس صاحب کا مسجد عبدالنبی نئی دہلی میں خطاب

ہم سب سب ماننے، ایک اللہ کو ماننے والے اور ہم تک یہ دین پہنچا اور ہم کو سب سے بڑا رہنماء اور واسطہ بنے سرور کائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کہ سب ماننے والے اور سب کی تائید کرنے والے۔اس لیے ہمارے یہاں دین کا عقیدہ، جیسے توحید کا عقیدہ دنیا کی آخری حد ہے، اسی طرح رسالت کا عقیدہ بھی انتہائی پر کشش اور انسان کے لیے بہت اہم ہے۔ ایک ہے توحید اور ایک ہے رسالت، اور ایک ہے معاد (یعنی مرنے کے بعد دوبارہ سب کو زندہ ہونا)۔تو رسالت کا یا عقیدے کا مطلب یہ ہے کہ ہم سب کو دل سے اس بات کا یقین رکھنا ہے کہ اپنے اپنے وقت میں جو انبیاء کرام علیہم السلام اللہ تعالی کا پیغام اس کے بندوں کے نام لے کر آئے، وہ سب برحق تھے, سچے تھے اور آخر میں سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم یہ پیغام لے کر آئے، آپ اللہ کے آخری رسول اور آخری پیغمبر بنے۔اس لیے آپ کے بعد نہ کوئی نبوت کا دعویٰ کر سکتا ہے، نہ کوئی رسالت کا دعویٰ کر سکتا ہے، یہ ہمارے عقیدے کا حصہ ہے، اس لیے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جو رسالت اور آپ کا جو پیغام ہے، یہ پوری دنیا کے لیے ہے، تمام خطوں میں بسنے والے سارے انسانوں کے لیے ہے، اور رہتی دنیا تلک ہے۔اور انبیاء کرام علیہم السلام آتے تھے، وہ کسی خاص خطے کی طرف مبعوث کیے جاتے تھے، خاص لوگوں کی طرف، لیکن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس سب لوگوں کے لیے بھیجے گئے اور ہمیشہ کے لیے، اب آپ کے بعد کسی نئے پیغام کی ضرورت نہیں ہے، نہ کسی نئے پیغمبر کی ضرورت ہے، نہ کسی چیز کی ضرورت ہے۔دنیا میں اور بھی انبیاء کرام علیہم السلام کو ماننے والے غلط یا صحیح جس طریقے پر بھی ہو دین کے نام لیتے ہیں، لیکن آج تک دنیا میں کسی نبی نے یہ دعویٰ نہیں کیا ہے کہ میں پوری انسانیت کے لیے، پوری کائنات کے لیے ہوں۔ نہ تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یہ بات کہی، ظاہر ہے کہ آج بھی اگر کوئی یہودی بننا چاہے تو نہیں بن سکتا، اس لیے کہ موسیٰ علیہ السلام کے ماننے والے خود ہی کہتے ہیں کہ ہمارا جو دین ہے، وہ نسلی مذہب ہے، کسی اور نسل سے تعلق رکھنے والے کے لیے یہ دین نہیں ہے۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام بائبل کا جو ایڈیشن ہے، آپ اس کے ٹائٹل پر دیکھ سکتے ہیں، فوٹو بنا رکھا ہے کہ ایک بزرگ شخصیت ہیں، وہ ادھر ادھر جو بکریاں بھاگ رہی ہیں، ان کو راہِ راست پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بائبل میں ایک چیپٹر ہے، اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ میں تو صرف بنی اسرائیل کی جو گڈی ہوئی بکریاں ہیں, جو ریوڑ سے بھاگ رہی ہیں، انہیں راہِ راست پر لانے کے لیے آیا ہوں۔تو یہ انبیاء کرام علیہم السلام جن کے جو فالوورز ہیں اور جو یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا مذہب عالمی ہے، خود یہ انبیاء کرام علیہم السلام کی تصریح موجود ہے کہ نہیں، ہم کسی خاص نسل کے لیے ہیں، خاص وقت کے لیے ہیں، خاص خطے کے لوگوں کے لیے ہیں۔ لیکن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واحد پیغمبر ہیں، آخری پیغمبر ہیں، پہلے اور آخری پیغمبر ہیں، جنہوں نے کہا: "یا ایہا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا” (لوگو! میں تم سب کے لیے پیغمبر بنا کر بھیجا گیا ہوں) اس لیے آپ کا جو پیغام ہے وہ سب کے لیے ہے، صرف عربوں کے لیے نہیں، صرف عجم کے لیے نہیں، ہر خطے میں رہنے والوں کے لیے ہے اور ہمیشہ کے لیے آپ کا پیغام ہے۔اس لیے آج بھی اگر کسی کو نجات چاہیے اور اس کو صحیح راستہ چاہیے تو صرف اور صرف رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا پیغام۔ ربیع الاول کے مہینے میں جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تذکرے کی سعادت حاصل کی جاتی ہے، تو اس لیے ہمیں یہ پیغام دوسروں تک بھی پہنچانا چاہیے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جو رحمت ہے اور آپ کی جو بعثت ہے وہ سب کے لیے ہے۔اس لیے قران کریم نے صاف کہا: "وما ارسلنک الا رحمت للعالمین” (کہ دیکھو ہم نے آپ کو پوری دنیا کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے) اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی کو دیکھ لیجیے، آپ سماج کے ہر طبقے کے کام آئے اور ہر طبقے کے لوگوں کی آپ نے رہنمائی کی ہے۔اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا نہیں ہے کہ صرف مسلمانوں کے لیے رحمت بن کر آئے، کہ مسلمان آپ کی برکت سے وہ راہِ راست پر گامزن ہوئے، آپ کی برکت سے وہ جہنم کے عذاب سے بچیں گے اور جنت کی نعمتیں ان کو حاصل ہوں گی اور اللہ تک ان کی رسائی ہو رہی ہے۔ آپ صرف مسلمانوں کے لیے نہیں، بلکہ آپ جو غیر مسلم ہیں، ان کے لیے بھی رحمت ہیں۔ قران کریم نے کہا: "وما کان اللہ لیعذبہم وانت فیہم” (کہ میرے پیارے پیغمبر دیکھیے! ان کا تو جرم اتنا بڑا ہے اور جس طریقے سے یہ اللہ اور اس کے رسول کی ریٹ کو چیلنج کر رہے ہیں، یہ تو اس لائق ہے کہ انہیں زمین میں دھنسا دیا جائے اور انہیں بالکل نیست و نابود کر دیا جائے، لیکن اس کے باوجود یہ بچے ہوئے ہیں، صرف اس وجہ سے کہ آپ ان کے اندر موجود ہیں۔آپ کی صفت رحمت کی وجہ سے اللہ نے انہیں بھی بچا رکھا ہے اور اللہ نے انہیں بھی موقع دے رکھا ہے تو آپ غیر مسلموں کے لیے رحمت بن کر آئے، آپ سماج کے ہر ہر طبقے کے لیے رحمت بن کر آئے، آپ عورتوں کے لیے رحمت بن کر آئے، کہاں تو عورتوں کو یہ سمجھا جاتا تھا کہ یہ جہنم کا ایک نمونہ ہے اور لوگوں کے لیے یہ اور آج کی بات ہوا کرتی تھی کہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہمارے گھر میں بچی کی پیدائش ہوئی ہے، اس طرح کی صورتحال تھی، لیکن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے نتیجے میں عورتوں کو اللہ تبارک و تعالی نے سماج میں جو مقام تھا اس مقام کو لوگوں نے سمجھا جو اللہ نے دے رکھا ہے اور ایک ایک بچی کی پرورش پر لوگوں کو جنت کی بشارتیں دی گئی ہیں، اور اگر وہ عورت ماں کے روپ میں ہے تو کہا گیا کہ ان کے قدموں کے نیچے جنت ہے، اگر وہ بہن ہے تو اس کی عزت اور آبرو کی حفاظت کا حکم دیا گیا ہے اور اس طریقے سے عورتوں کو سماج میں کوئی حق نہیں تھا۔عورتوں کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے پہلے صرف اور صرف ان کی ذمہ داری تھی کہ انہیں گھر کے کام کرنے ہیں، انہیں مردوں کی حکمرانی کے نیچے زندہ رہنا ہے، یہ پہلی آواز تھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آواز اونچی کی آپ نے اپنے زوجہ کالیہ کا حق تھا۔ آپ نے فرمایا: "لوگو! یاد رکھو، تمہاری بیوی کی صرف ڈیوٹی نہیں ہے، بلکہ ان کے رائٹس بھی ہیں، ان کے حقوق بھی ہیں۔ اگر تم نے ان کے حقوق کو ادا نہیں کیا تو اللہ کے یہاں جوابدہی کے لیے تیار ہو جاؤ۔””خیرکم خیرکم لأہلی” آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، وہ آدمی بہت اچھا نہیں ہے جو باہر تو لوگوں سے بڑے اخلاق سے پیش آتا ہو، لیکن گھر والوں کے ساتھ بالکل روٹھے ہوئے مزاج سے ملتا ہو، گھر والوں کے ساتھ اس کا بیوھار اچھا نہیں ہے، بیوی بچوں کے ساتھ اس کا معاملہ اچھا نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا: ایسے لوگ اچھے نہیں ہوتے۔تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے لیے رحمت بن کر آئے، آپ بچوں کے لیے رحمت بن کر آئے، آپ نے ان سے شفقت کا حکم دیا، ورنہ اس وقت کی تہذیب یہ تھی کہ وہ کہتے تھے کہ بچوں کو پالا پیار کرنا، یہ تو مردانگی کے خلاف ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو رحمت کا سبب اور رحمت کا ذریعہ قرار دیا۔آپ مزدوروں کے لیے رحمت بن کر آئے۔ مزدور کے بارے میں آپ نے فرمایا: لوگ مزدوروں سے کام لے لیا کرتے تھے، انہیں ان کی مزدوری نہیں دیا کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا: "دیکھو! مزدور کی پیشانی کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے پہلے اس کی مزدوری ادا کرو۔”یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف انسانوں کے لیے نہیں، بلکہ آپ جو دوسری مخلوقات ہیں، ان کے لیے بھی رحمت بن کر آئے۔ آپ جنات کے لیے رحمت بن کر آئے۔ آپ نے فرمایا کہ دیکھو! یہ جو تم کھاتے ہو، یہ مٹن کھاتے ہو، گوشت کھاتے ہو، تو کھا کر ادھر ادھر ہڈیاں مت پھینک دیا کرو یا جو ہڈیاں ہیں، ان ہڈیوں میں گندگی مت ڈالو۔ کیوں؟ "فانہا زاد لکم من الجن” یاد رکھو! ان ہڈیوں میں اللہ پاک نے ایک نظام قائم کر دیا ہے کہ یہ ہڈیاں جنات کی خوراک کے طور پر استعمال ہوتی ہیں۔یہ تمہارے بھائی جنات کی خوراک ہیں، اس لیے تم ان ہڈیوں کو اس طرح ضائع مت کرو، ان پر گندگی مت لگاؤ، اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان جنات کے لیے رحمت بن کر آئے۔ آپ فرشتوں کے لیے رحمت بن کر آئے۔ آپ نے فرمایا کہ دیکھو! جب مسجد میں جاؤ تو اس کا خیال رکھا کرو، تمہارے منہ سے بدبو نہ آئے، تم جو ایسے گریٹ پی کر، اور اس طرح کی نشہ کی چیز کرکے (یعنی جس سے منہ سے بدبو آتی ہو)، پیاز کھاکر، لہسن کھاکر مسجد میں مت جاؤ۔ کیوں؟ اس لیے کہ وہاں رحمت کے فرشتے ہوتے ہیں، تمہاری بدبو کی وجہ سے ان فرشتوں کو اذیت ہوتی ہے۔تو آپ فرشتوں کے لیے رحمت بن کر آئے۔ آپ پرندوں کے لیے رحمت بن کر آئے۔ آپ نے دیکھا صبح کا وقت ہے اور چڑیا پریشان ہو رہی ہے، آپ نے فورا پوچھا: "من فجع الطیر؟” کس نے اس پرندوں کو پریشان کر رکھا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ فلاں صاحب نے ان کے چوزے اٹھا لیے ہیں، انڈے اٹھا لیے ہیں، اس لیے یہ پرندہ پریشان ہو رہا ہے۔آپ نے فورا فرمایا: "ردوا الی وکرہا” چلو ایسا کرو کہ ان کے جو چوزے ہیں، ان کے گھونسلے میں واپس کر دو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پرندوں کے لیے رحمت بن کر آئے۔ آپ فرشتوں کے لیے رحمت بن کر آئے۔ آپ جنات کے لیے رحمت بن کر آئے۔ سماج کے ہر طبقے کے لیے رحمت بن کر آئے۔ اس لیے قران کریم نے کہا: "وما ارسلنک الا رحمت للعالمین”۔اس وقت عالمی سطح پر ہمارے اس ملک میں بھی اس بات کی ضرورت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جو صفت رحمت ہے اور آپ کا جو پیغام ہے, اس پیغام کو ہر ایک کے سامنے عام کیا جائے، اور سب سے پہلے اس بات کی ضرورت ہے کہ ہماری زندگیوں میں ہوں، ہماری زندگیوں میں وہ اخلاق آئیں، ہماری زندگیوں میں وہ امانت آئے، ہماری زندگیوں میں وہ سادگی آئے، ہماری زندگیوں میں غریبوں کے ساتھ وہ محبت کا جذبہ آئے جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کا مظہر ہے۔آپ نے فرمایا کہ دیکھو! اگر تم کہیں سوسائٹی میں رہتے ہو، یا کسی مکان میں رہتے ہو، بلڈنگ میں رہتے ہو، لیکن تم میں تمہارے پڑوس میں رہنے والا، اگر تمہارا پڑوسی تم سے دکھی ہے، اگر وہ تم سے پریشان ہے تمہارے کرتوتوں کی وجہ سے، تو یاد رکھو! تم سب کچھ ہو سکتے ہو، لا یؤمن، لیکن تمہارے پڑوسی کا تم سے پریشان ہونا یہ اس بات کی علامت ہے کہ تمہارا ایمان مکمل نہیں ہے۔ تمہیں اپنے ایمان کی خیر منانی چاہیے۔اسی طرح آپ نے فرمایا کہ تمہارے پڑوس میں اگر کسی غریب کی جھونپڑی ہے، اور اس جھونپڑی میں رہنے والا غریب فیملی کا غریب بچہ اگر رات کو بھوکے سوتا ہے، تو یاد رکھو کہ تمہیں اپنے ایمان پر نظرثانی کرنی چاہیے۔تو یہ جو انسانیت کی تعلیمات ہیں، محبت کی تعلیمات ہیں، رحمت کی تعلیمات ہیں، ان تعلیمات کو ہمیں سب لوگوں کے سامنے عام کرنا ہے، لیکن اس سے پہلے یہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے اپنے اخلاق اچھے ہوں، ہمارے اندر امانت داری ہو، ہمارے اندر ایک دوسرے کے لیے کچھ کرنے کا، قربانی کا اور ہمدردی کا جذبہ ہو۔یہی ہمارے اسلام کی تعلیم ہے، ہمارے مذہب نے ہمیں یہی سکھایا ہے، ظاہر ہے کہ ہمیشہ اخلاق سے اور رحمت کا جو میسج اور پیغام ہے، اسی سے لوگوں کے دلوں کو فتح کیا گیا ہے۔ اس ملک میں آج کا مسئلہ نہیں ہے، شروع میں بھی بہت اس طرح ماحول خراب کیا گیا، لیکن ایسے لوگ آئے، لوگوں نے ان کے اخلاق کو دیکھا، ان کے کردار کو دیکھا، ان کے چہرے مہرے کو دیکھا اور لوگوں نے اسلام قبول کیا ہے۔ظاہر ہے کہ یہاں کے جو مسلمان ہیں وہ صرف باہر سے آئے ہوئے نہیں ہیں، سب یہیں کے لوگ ہیں، یہیں کی برادریوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمتہ اللہ علیہ اس ملک میں جب تشریف لاتے ہیں تو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے دلائل و فوائد میں لکھا ہے کہ تنہا خواجہ صاحب کے ہاتھ پر 90 لاکھ آدمیوں نے اسلام قبول کیا ہے۔ خواجہ صاحب کے پاس کوئی آرمی تھی، ہٹو بچو کی آواز تھی، ان کی کوئی لابی تھی، کچھ نہیں، لیکن وہ جو صرف اجمی سے دہلی اور دہلی سے اجمی جایا کرتے تھے، لیکن لوگ ان کے اخلاق کو دیکھ کر، ان کے کردار کو دیکھ کر، ان کے ساتھ جو اسلامی تعلیمات کی روشنی تھی، اس روشنی کو دیکھ کر لوگ اسلام کا کلمہ پڑھ کر اسلام کے حلقے میں داخل ہو جایا کرتے تھے۔ہمیں اسی تاریخ کو دہرانے کی ضرورت ہے، ہمیں سب کے لیے ایک رحمت کا باعث بننا ہے، ہم کسی کے لیے زحمت بنا کر نہیں بھیجے گئے ہیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ جو تعلیم ہے، ظاہر ہے کہ میں نے شروع میں کہا کہ کسی نبی اور پیغمبر نے آج تک یہ دعویٰ نہیں کیا ہے کہ اس کی تعلیم ہر طبقے کے لیے ہے، ہر زمانے کے لیے ہے اور قیامت تک کے لیے ہے، یہ دعویٰ صرف اور صرف رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے، اس لیے آپ کے ماننے والے ایک ایک فرد کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ آپ کے پیغام کو دوسرے لوگوں تک پہنچائے۔اور اس لیے اسلام کا جو معجزہ ہے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جو معجزہ ہے، وہ معجزہ آج جوں کا توں باقی ہے، کیونکہ آپ کی رسالت ہمیشہ کے لیے ہے، آپ کی پیغمبری ہمیشہ کے لیے ہے اور آپ کے بعد کوئی نبی نہ آیا ہے نہ آئے گا، اگر کوئی اس کی آڑ میں نبوت کا دعویٰ کرتا ہے یا اپنے آپ کو اس طرح بنا کر پیش کرتا ہے، تو یاد رکھیے اس دھرتی پر، اس आकाश کے نیچے دنیا کا سب سے بڑا جھوٹا انسان ہے وہ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آیا ہے نہ آئے گا۔اور یہ ہمارا اس کا تعلق ہمارے عقیدے سے ہے، نماز، روزہ اس کا تعلق ہمارے اعمال سے ہے، یاد رکھیے اعمال کے سلسلے میں کمی کوتائی برداشت کی جا سکتی ہے، لیکن عقیدے کے سلسلے میں کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا، اس لیے توحید کا عقیدہ یہ بنیادی عقیدہ ہے، رسالت کا عقیدہ ہمارا مضبوط ہونا چاہیے، معاد کا عقیدہ ہمارا مضبوط ہونا چاہیے اور اس ملک میں اگر ہمیں رہنا ہے تو سب سے پہلے ہمیں اپنے بچوں کے افکار، جو نسلیں آ رہی ہیں، ان کے عقائد کو بھی مضبوط کرنا بہت ضروری ہے۔اس لیے ہم توحید کی تعلیم بھی ہم اپنے بچوں کو دیں، رسالت ان کی گھٹیوں میں، ان کے اندر ہم رسالت کا جو اصل مقصد ہے، اس کا جو پیغام ہے، اس کا مطلب ہے وہ ان کے ذہن اور دماغ میں بٹھا دیں اور اچھی طرح اس کو رچانے اور بسانے کی کوشش کریں۔یہ جو توحید کا پیغام ہے، اللہ ایک ہے، ہم ایک اللہ کے علاوہ دنیا کی کسی شکتی کے آگے، کسی طاقت کے آگے اپنا سر نہیں جھکا سکتے، یہ ہمیں اپنے بچوں کو بھی بتلانا ہے، ہمیں اپنی نسلوں کو بھی بتلانا ہے، اس لیے اب صرف ہمیں نماز روزے کے فضائل نہیں بتانے ہیں، یہ سب چیزیں ضروری ہیں اور ان سب چیزوں پر محنت کرنا ہے، لیکن اس وقت جو یلغار ہو رہی ہے اور جو اٹیک ہو رہا ہے وہ ڈائریکٹ ہمارے ایمان پر ہو رہا ہے، ہمارے عقیدے پر حملہ ہو رہا ہے۔اس لیے اب آپ اپنے بچوں کو صبح شام کی دعاؤں کے ساتھ ساتھ توحید بھی بتلائیے، اپنے بچوں کو یہ سکھائیے کہ پیارے بچے! ہو سکتا ہے کہ تم کہیں گر جاؤ، تمہارے ہاتھ پیر توڑ دیے جائیں اور تم بالکل ہر طرف سے تمہارا گھیرا تنگ کر دیا جائے، لیکن اس کے باوجود تمہاری زبان پر احد احد، ایک اللہ، ایک اللہ کا نعرہ ہونا چاہیے، ہمیں اپنے بچوں کو صبح شام یہ پاکی پڑھانے کی ضرورت ہے۔ اسی کے لیے جگہ جگہ مکاتب کا نظام ہو اور تعلیم کا نظام ہو۔بہرحال! یہ جو مہینہ ہے، یہ مہینہ ہم سے اس بات کا مطالبہ کرتا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو ہر مسلمان کو عشق اور محبت کا ایک تعلق ہے، اپنی اس تعلق کی وہ تجدید کرے اور سنت اس کی زندگیوں میں ہو۔ اللہ مجھے بھی توفیق دے، آپ حضرات کو بھی توفیق عمل سے نوازے۔ آمین واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

Admin

Admin

Next Post

چار ملعون لوگ

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

سلف صالحین سے بدگمانی سے بچیں

10 مہینے ago
تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

پر شکوہ اسلوب

7 مہینے ago

مقبول

  • مولانا محمود مدنی

    دل پل میں تولہ ہوتا ہے اور پل میں ماشا: مولانا محمود مدنی صاحب

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • چار ملعون لوگ

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • نجات دین اسلام ماننے ہی میں ہے: مولانا اشرف عباس صاحب استاذ دارالعلوم دیوبند

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • درس قرآن کی مجلس میں ضرور شرکت کریں: نائب امیر الہند مفتی محمد سلمان منصور پوری استاذ دارالعلوم دیوبند کا بیان

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • کیا ہم نے اپنے وطن کی قدر کرنا چھوڑ دیا ہے؟

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیت علمائے ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • متفرق مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.