محمد یاسین جہازی
راشٹرواد کی اسی بحث کے دوران ہندستان کی تاریخ میں دوسری بار ایسا ہوا کہ اہل علم و فقہ کے درمیان اس کی شرعی حیثیت موضوع بحث بنی۔
صورت واقعہ یہ ہوئی کہ
جمعیت کا دوسرا سالانہ اجلاس 19، 20، 21 نومبر 1920 کو ہوا۔ اس کی دو سالہ روداد میں اولین ناظم مولانا عبدالحلیم صدیقی صاحب نے لکھا کہ علما کا فرض صرف فقہی حکم بیان کرنا نہیں بلکہ اس کو نافذ کرنے والی طاقت پیدا کرنا بھی ہے اور اس کے لیے کامل آزادی شرط ہے۔
اسی اجلاس میں مولانا شبیر احمد عثمانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ وطن پرستی اور قوم پرستی بے شک اسلامی اصطلاح نہیں اور شاید یورپ سے لی گئی ہیں لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ اپنی قوم اور وطن کا تحفظ ہمارے فرائض سے خارج ہے۔ جو ملک ایک بار مسلمانوں کے جھنڈے تلے آ جائے اس کا ایک چپہ بھی کفار لینا چاہیں تو شرق سے غرب تک کل اہل اسلام پر دفاع فرض ہو جاتا ہے۔
اس کے بعد تیسرے اجلاس 18، 19، 20 نومبر 1921 میں اعلان کیا گیا کہ ہندستان کو غلامی سے آزاد کرانا مسلمانوں کے مذہبی فرائض میں داخل ہے۔ چوتھے اجلاس 24 تا 26 دسمبر 1922 میں مولانا حبیب الرحمان عثمانی نے فرمایا کہ جمعیت کا نصب العین دو حصوں میں ہے، اندرون ملک مذہبی رہنمائی اور بیرون ملک مذہبی تعلقات کا تحفظ، اور دونوں آزادی کے بغیر ممکن نہیں۔ پانچویں اجلاس 29 دسمبر 1923 تا یکم جنوری 1924 میں حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی نے مسلمانوں کے کئی فرائض گنوائے جن میں سے تیسرا فرض ہندستان کو آزاد کرانا تھا۔ انھوں نے قرآن کی آیات وقاتلوا فی سبیل اللہ اور واعدوا لہم ما استطعتم من قوۃ سے استدلال کیا کہ اس حکومت سے مقابلہ فرض ہے اور ہندستان کی آزادی انگلستان کی موت کے مترادف ہے۔
قصہ مختصر یہ کہ
جب بھارت کو آزاد کرانا مسلمانوں کے لیے مذہبی فرض ہے، اور چو ں کہ بھارت کے سیاسی حالات کے تناظر میں یہ فرض غیر مسلموں کو ساتھ لیے بغیر ممکن نہیں، تو اس مذہبی فرض کی ادائیگی میں غیر مسلموں کا تعاون لینے، یا ان کا تعاون کرنے کا معاملہ فقہی تشریح کا محتاج ہے۔ فخر المحدثین حضرت مولانا انور شاہ کشمیری نے اس کا حل یہ پیش کیا کہ ہندستان نہ تو دارالاسلام ہے کہ غیر مسلموں سے تعاون لینا ناجائز ہو اور نہ ہی دارالکفر ہے کہ مسلمانوں کا تعاون دینا ناجائز ہو، بلکہ یہ دارالامان ہے۔ چنانچہ انھوں نے 2 تا 5 دسمبر 1927 کو منعقد آٹھویں اجلاس عام کے صدارتی خطاب میں فرمایا کہ شاہ عبدالعزیز نے جب کہ اسلامیت کا رنگ گہرا تھا تب اسے دارالاسلام نہیں کہا تو آج بدرجہ اولیٰ نہیں ہے، اس لیے دارالامان کے احکام تلاش کرکے رہنمائی کرنی چاہیے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے میثاق مدینہ کی طرف توجہ دلائی۔ اسی نظریے کی بنیاد پر 4، 5، 6 مئی 1930 کو جمعیت علمائے ہند نے جہادی آزادی میں کانگریس کے ساتھ اشتراک عمل کیا۔ اور اس طرح مشترکہ کوشش سے بالآخر 15/اگست 1947 کو ہندستان کو آزاد کرا لیا گیا۔
راشٹرواد کا ہندو ورژن
جاری۔۔۔۔




















