محمد یاسین جہازی
اسلام کے بالمقابل ہندو دھرم میں قومیت کا کوئی مذہبی تصور نہیں ملتا۔ اس حوالے سے ہندوتو کے ماہر حضرت مولانا عبدالحمید نعمانی صاحب سے بھی استفسار کیا تو انھوں نے بھی اسی بات کی تصدیق کی۔
دراصل ہندوؤں کے یہاں اسلامی فقہ کے طرز پر کوئی فقہ نہیں ہے۔ پہلے کی سماجی رسمیں بعد کے لوگوں کے لیے دھرمک حیثیت اختیار کرلیتی ہیں۔ایسی ہی رسوم میں رمائن میں راج دھرم نبھانے کا نظریہ پایا جاتا ہے۔
البتہ ساور کر کے یہاں ہندو قومیت کا تذکرہ ملتا ہے۔
ساورکر کے نزدیک ’’ہندو راشٹر‘‘ محض جغرافیائی وطن کا نام نہیں، بلکہ ایک مخصوص تاریخی، تہذیبی اور قومی شناخت کا تصور ہے۔ 1923 میں اشاعت پذیر ان کی کتاب Essentials of Hindutva میں ’’ہندو‘‘ کی بنیادی تعریف یہ کی گئی ہے کہ ہے کہ ہندستان اس کے لیے صرف پِتر بھومی (آبائی وطن) ہی نہیں بلکہ پُنیہ بھومی (مقدس سرزمین) بھی ہو۔ اسی بنیاد پر ساورکر ہندستانی مسلمانوں اور عیسائیوں کو اپنے متعین کردہ ’’ہندو‘‘ کے دائرے سے باہر رکھتے ہیں، کیوں کہ ان کے نزدیک ہندستان ان کا وطن تو ہے، لیکن ان کی مذہبی مقدس سرزمین نہیں۔کیو ں کہ مسلمانوں کی مذہبی سرزمین مکہ و مدینہ اور عیسائیوں کی یروشلم ہے۔
ساورکر لکھتے ہیں: “For though Hindusthan to them is Fatherland as to any other Hindu yet it is not to them a Holyland too.” یعنی ہندستان مسلمانوں اور عیسائیوں کے لیے وطن تو ہے، لیکن مقدس سرزمین نہیں۔ تاہم ساورکر کے ابتدائی تصور میں ان کے لیے یہ گنجائش موجود تھی کہ اگر وہ ہندستان کو پِتر بھومی کے ساتھ پُنیہ بھومی بھی تسلیم کریں تو ہندو قومی وحدت میں شامل ہو سکتے ہیں۔
بعد کے سیاسی دور میں ساورکر کا موقف مزید واضح ہوا۔ 1937ء کے احمد آباد میں منعقد ہندو مہاسبھا کے اجلاس میں انھوں نے کہاکہ: “there are two nations in the main; the Hindus and the Moslems” یعنی ہندستان میں بنیادی طور پر دو قومیں، ہندو اور مسلمان، موجود ہیں۔ تاہم ساورکر اس بنیاد پر ہندستان کی تقسیم کے حامی نہیں تھے؛ ان کا تصور یہ تھا کہ دونوں ایک ہی ریاست میں رہ سکتے ہیں، لیکن ہندو قوم کو ہندستان کی بنیادی قومی حیثیت حاصل ہو۔
یعنی ساورکر کے ’’ہندو راشٹر‘‘ اور ’’نیشنلزم کی دوسری تشریحات میں فرق یہ ہے کہ عمومی قومیت میں ہندستان میں رہنے والا ہر شخص محض مشترک وطن کی بنیاد پر ایک قوم کا حصہ ہے، جب کہ ساورکر کے نزدیک قومی شناخت کے لیے مشترک آبائی وطن کے ساتھ مشترک تاریخ، تہذیب اور ہندستان کو پُنیہ بھومی سمجھنے کا عنصر بھی اہم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے نظریے میں مسلمان ہندستان کے شہری تو ہو سکتے ہیں، مگر ان کی ’’ہندو راشٹر‘‘ کی تعریف میں ان کی حیثیت ہندوؤں کے برابر نہیں بنتی۔
اس کے بعد ہندووں کے دوسرے بڑے مفکر گولوالکر کے یہاں رشٹرواد پر بحث کی گئی ہے۔
گولوالکر نے اپنی کتاب We or Our Nationhood Defined 1939 میں قوم کے لیے پانچ وحدتیں بیان کیں:ملک، نسل، مذہب، ثقافت اور زبان۔ ان کے نزدیک جو ان پانچ ہندو عناصر سے باہر ہیں وہ اپنی جدا شناخت چھوڑ کر ہی قومی زندگی کا حصہ بن سکتے ہیں۔
1965 میں شائع ان کی اسی کتاب کے صفحہ 18، 40 سے 46 اور 130 پر انھوں نے لکھا کہ پاکستان بن جانے کے بعد مسلمان راتوں رات دیش بھکت نہیں بن گئے، بلکہ خطرہ سو گنا بڑھ گیا ہے۔
راشٹر کے متعلق گول والکر کے اسی نظریے کو واٹس ایپ گیان کے ذریعے، ہندو راشٹر کے حامی و کوشاں آر ایس ایس کے کیڈر کے ذہنوں میں یہ بٹھا دیا گیا ہے کہ جو بھی مسلمان ہوگا وہ کبھی بھارت راشٹر کا وفادار ہو ہی نہیں سکتا وہ دیش دروہ اور غدار ہی ہوگا۔ اور ہندستانی مسلمانوں کو اپنے مستقبل کے تحفظ کے لیے اسی نظریے کا علمی و سیاسی تعاقب کرنا ضروری ہے، ورنہ انھیں اسپین جیسے اپنے انجام بد دیکھنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
کیا پاکستان ہندستانی مسلمانوں کے راشٹرواد پر سوالیہ نشان ہے
جاری۔۔۔۔۔


















