26/مئی 2026
پریس بیان
جمعیت علمائے بسنترائے کے زیر اہتمام گاؤں گاؤں بیداری پروگرام کے تحت دوسرا پروگرام 26 مئی 2026 کو مغرب کی نماز کے بعد متصل جھپنیاں کی مسجد میں منعقد کیا گیا۔ یہ پروگرام جمعیت علمائے بسنترائے کی مجلسِ منتظمہ کے فیصلے کے مطابق بلاک کی 55 بستیوں میں جاری بیداری مہم اور نوجوانوں کی فکری ٹریننگ کے عنوان کے تحت منعقد ہوا۔
پروگرام کا باقاعدہ آغاز جناب حافظ اسرار احمد کی تلاوتِ کلام پاک سے ہوا، اس کے بعد مولانا محمد شمیم صاحب مہتمم مدرسہ فخر الاسلام کوریانہ نے نعتِ نبی ﷺ پیش کی۔ اس کے بعد نظامت کے فرائض انجام دے رہے مولانا مجیب الحق قاسمی امام جھپنیاں مسجد نے پروگرام کو آگے بڑھاتے ہوئے "اپنے ایمان کا محاسبہ کیجیے” کے عنوان پر پریزنٹیشن پیش کرنے کے لیے مولانا محمد یاسین جہازی کو مدعو کیا۔چنانچہ مولانا محمد یاسین جہازی نے جھپنیاں بستی کا ڈیٹا پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اس گاؤں میں 800 مسلمان ہیں، جن کے ایمان و عقیدے کے لیے کام کرنے والے اداروں میں صرف ایک مکتب اور ایک مسجد ہے۔ مکتب میں تقریباً 50 بچے زیر تعلیم ہیں جبکہ مسجد میں نماز کی اوسط تعداد 50 سے 60 ہے۔ اس اعتبار سے پورے 800 مسلمانوں میں صرف تقریباً 100 سے 120 افراد ہی ایسے ہیں جو براہ راست اپنے ایمان و عقیدے کی فکر کرتے ہیں اور مسجد و مکتب سے جڑے ہوئے ہیں، جبکہ بقیہ 650 سے 700 مسلمان ایسے ہیں جو مساجد سے دور ہیں اور ان کے بچے مکاتب سے محروم ہیں۔انہوں نے یہ ڈیٹا پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اگر مسلمانوں نے اس وقت اپنے ایمان و عقیدے کی فکر نہیں کی تو بڑی تعداد غفلت کی وجہ سے دین کی صحیح معلومات سے محروم ہو جائے گی اور ارتداد کے دہانے تک پہنچ سکتی ہے۔ انہوں نے اندلس (اسپین) اور برما کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے یہ نہایت نازک موقع ہے، حالات کا تقاضا ہے کہ یا تو ایمان کی حفاظت کریں یا سنگین نتائج کے لیے تیار رہیں۔ اگر ایمان محفوظ رہا تو دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی ہوگی، ورنہ انجام اندلس اور برما سے مختلف نہیں ہوگا۔
مولانا جہازی کے بعد مولانا مفتی زاہد امان قاسمی نے "سات بنیادی عقائد” کے عنوان سے ایک مؤثر پریزنٹیشن پیش کیا، جس میں انہوں نے منفرد انداز سے عقائد کو سمجھایا اور یاد بھی کرایا۔ اس کے بعد سوال و جواب کا ایک سیشن رکھا گیا جس میں سامعین نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
بعد ازاں مفتی محمد نظام الدین قاسمی صدر بلاک جمعیت علمائے بسنترائے نے "ریل سے ریئل تک” کے عنوان سے نوجوانوں کی فکری و عملی تربیت پر ایک خوبصورت پریزنٹیشن پیش کیا۔ انہوں نے نوجوانوں کو سمجھایا کہ کامیابی کے لیے چار چیزیں ضروری ہیں: وقت کی قدر، زندگی کا مشن، واضح ویژن اور مسلسل جدوجہد۔ انہوں نے کہا کہ اگر نوجوان اپنا وقت صحیح استعمال کریں گے تو دنیا و آخرت دونوں میں کامیاب ہوں گے، ورنہ ان کا مستقبل تاریک ہو سکتا ہے۔
مولانا شمس پرویز قاسمی امام کیتھ پورا مسجد نے "تذکیر کلمہ” کے عنوان سے کلمہ طیبہ کی درست ادائیگی کروائی اور ایمان کے بنیادی عقائد کی یاد دہانی کرائی۔
پی پی ٹی اور پروجیکٹر کے ذریعے پروگرام پیش کیے جانے پر عوام نے مثبت تاثرات کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ آئندہ بھی اس طرح کے پروگرام ہوتے رہیں گے۔
آخر میں مولانا مجیب الحق قاسمی امام جھپنیاں مسجد نے تمام معاونین، منتظمین اور سامعین کا شکریہ ادا کیا اور مولانا محمود اسعد مدنی صدر جمیعت علمائے ہند کی اپیل کے مطابق سادہ عشائیہ (دال،کدو اور زیرا چاول) کا اہتمام کیا گیا۔سامعین میں جھپنیاں بستی کے تقریباً 300 سے 350 بچے، نوجوان اور بزرگ شامل تھے، جبکہ خواتین کی بھی ایک قابل ذکر تعداد موجود تھی۔
آخر میں وضاحت کی گئی کہ یہ لیول ون کا نصاب تھا، ان شاء اللہ دوسرے مرحلے میں لیول ٹو کے تحت کیریئر کونسلنگ اور معاشرے کی برائیوں کے عملی خاتمے کی ٹریننگ دی جائے گی۔ اگلا پروگرام ان شاء اللہ عید الاضحی کے بعد منعقد ہوگا۔
شرکت کرنی والی اہم شخصیات میں مولانا قاسم صاحب مہتمم معہد انور نیموہاں، حافظ ضیاء الحق ذمہ دار دھپرا مدرسہ اور آس پاس کی بستیوں کے ائمہ و مؤذنین حضرات موجود تھے۔آخر میں یہ بھی قابل ذکر ہے کہ لیپ ٹاپ اور پروجیکٹر جیسے تکنیکی امور کی انجام دہی مولانا محمد بلال قاسمی، استاذ القرآن جامعۃ الہدیٰ جہاز قطعہ نے انجام دی





















