منگل, اکتوبر 13, 2026
  • Login
  • Register
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری کے اچھے دن!

    طریقہ تعلیم پر اہل حدیث عالم کا نظریہ

    متحدہ قومیت پر اہل حدیث عالم مولانا عبد الوہاب آروی کا نظریہ

    اجلاس اور تجاویز

    محمد یاسین جہازی

    مسئلہ آسام اور جمعیت علمائے ہند

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    بھارت میں فرقہ وارانہ اتحاد و انتشار کی راہ

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (15)۔ جہازی فارمولے

    گاندھی جی اور جمعیت علمائے ہند

    گاندھی جی اور جمعیت علمائے ہند

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    آپ کس سمت سے نکلیں گے بچاکے دامن

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں

    وہی تنظیم قائم رہتی ہے، جو وقت کے ساتھ ہم آہنگ ہوتی ہے

    تو ہم کہہ دیں گے کہ یہ ملک ہندو اسٹیٹ بن گیا ہے

    تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کے خلاصے سے اہم اقتباسات

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (14)۔ ملک دو راہے پر آگے کا راستہ کیا؟

    شیخ محمد محسن تِرہُتی رح اور ان کی تصنیف الیانع الجنى فی اسانید الشیخ عبد الغنی (تاریخ، تعارف اور تجزیہ)

    شیخ محمد محسن تِرہُتی رح اور ان کی تصنیف الیانع الجنى فی اسانید الشیخ عبد الغنی (تاریخ، تعارف اور تجزیہ)

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(13) قیام پاکستان کی مخالفت کیو ں کی گئی؟

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    بھارت میں ہندو تہذیب وثقافت کی بالادستی کی جنگ 

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(11)۔لمحوں کی خطا کیا تھی؟—صدیوں کی سزا کیا ہوگی؟

    حکیم الاسلام کے حکیمانہ جوابات کی رسمِ اجراعلمی و فکری حلقوں میں کتاب کی پذیرائی

    حکیم الاسلام کے حکیمانہ جوابات کی رسمِ اجراعلمی و فکری حلقوں میں کتاب کی پذیرائی

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری کے اچھے دن!

    طریقہ تعلیم پر اہل حدیث عالم کا نظریہ

    متحدہ قومیت پر اہل حدیث عالم مولانا عبد الوہاب آروی کا نظریہ

    اجلاس اور تجاویز

    محمد یاسین جہازی

    مسئلہ آسام اور جمعیت علمائے ہند

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    بھارت میں فرقہ وارانہ اتحاد و انتشار کی راہ

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (15)۔ جہازی فارمولے

    گاندھی جی اور جمعیت علمائے ہند

    گاندھی جی اور جمعیت علمائے ہند

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    آپ کس سمت سے نکلیں گے بچاکے دامن

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں

    وہی تنظیم قائم رہتی ہے، جو وقت کے ساتھ ہم آہنگ ہوتی ہے

    تو ہم کہہ دیں گے کہ یہ ملک ہندو اسٹیٹ بن گیا ہے

    تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کے خلاصے سے اہم اقتباسات

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (14)۔ ملک دو راہے پر آگے کا راستہ کیا؟

    شیخ محمد محسن تِرہُتی رح اور ان کی تصنیف الیانع الجنى فی اسانید الشیخ عبد الغنی (تاریخ، تعارف اور تجزیہ)

    شیخ محمد محسن تِرہُتی رح اور ان کی تصنیف الیانع الجنى فی اسانید الشیخ عبد الغنی (تاریخ، تعارف اور تجزیہ)

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(13) قیام پاکستان کی مخالفت کیو ں کی گئی؟

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    بھارت میں ہندو تہذیب وثقافت کی بالادستی کی جنگ 

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(11)۔لمحوں کی خطا کیا تھی؟—صدیوں کی سزا کیا ہوگی؟

    حکیم الاسلام کے حکیمانہ جوابات کی رسمِ اجراعلمی و فکری حلقوں میں کتاب کی پذیرائی

    حکیم الاسلام کے حکیمانہ جوابات کی رسمِ اجراعلمی و فکری حلقوں میں کتاب کی پذیرائی

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
No Result
View All Result
Home اسلامیات

عملی اسلام کہاں ہے……؟

by Admin
جولائی 11, 2026
in اسلامیات
0
0
SHARES
28
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

محمد یاسین جہازی شعبہ تصنیف جمعیت علمائے ہند

اسلام میں جہاں نظریات کی بنیادی اہمیت ہے، وہیں عملیات بھی اس سے کم اہمیت نہیں رکھتے؛ البتہ یہ تفریق ضرور ہے کہ حقوق اللہ میں نظریات بنیادی حیثیت رکھتے ہیں، جب کہ حقوق العباد میں عمل کی اہمیت زیادہ ہے۔ آئیے ان دونوں پہلووں پر ایک زمینی تجزیہ کرتے ہیں کہ دونوں حقوق میں دونوں پہلوں پر کھرے اترنے والے مسلمان کتنے ہیں۔نظریاتی مسلماناعتقادو نظریات کے اعتبار سے تجزیہ کیا جائے تو اسی نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ

(۱) مدارس کے تعلیم یافتہ افراد: بنیادی اعتقاد کے بالکل پختہ ہوتے ہیں۔

(۲) عصری تعلیم یافتہ طبقہ: اس کی دو کٹیگری ہیں:

(الف) جن کو گھریلو ماحول میں اسلامی نظریات کی تربیت ملی ہے۔

(ب) جن کا گھریلو ماحول اسلامیات سے ناآشنا ہے۔اول الذکر افراد نظریاتی اعتبار سے بسا غنیمت ہیں، جب کہ آخر الذکر افراد محض نام کے مسلمان ہوتے ہیں، تاہم یہ نام بھی ان کی دائمی بخشش کے لیے سہارا بن سکتا ہے۔ ایک دوسری حیثیت سے غور کیا جائے تو یہ پہلو بھی سامنے آتا ہے کہ جو عصری تعلیم یافتہ حضرات علما کی رہنمائی و استفسار کے بغیر صرف اپنے مطالعہ سے اسلام کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، تو چوں کہ ان کی زبان بالعموم انگریزی ہوتی ہے، عربی یا اردو نہیں ہوتی۔ اور انگریزی زبان میں اسلامیات یا تو ندارد ہیں۔ اور اگر کچھ ہیں بھی، تو بالعموم راہ حق و اعتدال سے بھٹکے ہوئے قلم کاروں کی کاوش ہے، جنھوں نے اسلام علما سے نہیں؛ بلکہ انھوں نے بھی محض اپنے انگریزی مطالعہ سے سیکھا ہوا ہوتا ہے، جس کا نتیجہ ظاہر ہے کہ ایسی تحریروں میں اسلامیات کم اور گمراہیاں زیادہ ہوتی ہیں۔ جب گمراہی سے لت پت لٹریچر پڑھ کر نئی نسل اسلام کو سمجھنا چاہتی ہے، تو اس کا ریزلٹ یہ سامنے آرہا ہے کہ ایسا طبقہ از خود گمراہ ہوتا چلا جارہا ہے۔

(۲) ناخواندہ افراد: ان کی دو قسمیں ہیں:

(الف) مسلمانوں کے محلہ و معاشرے میں رہتے ہیں، جس کی وجہ سے مسجد کی اذان سنتے ہیں، جلسے جلوس میں شرکت کا موقع مل جاتا ہے، دوسرے لفظوں میں کسی نہ کسی حد تک اسلامی ماحول مل جاتا ہے۔ ایسے افراد تفصیلی عقائد سے تو انجان ہوتے ہیں؛ البتہ یہ ضرور مانتے ہیں کہ خدا ایک ہے۔ آخری نبی محمد ﷺ ہیں۔ اس قسم کے جو ضروری عقائد ہیں، انھیں نہ جاننے کے باوجودانھیں تسلیم کرتے ہیں۔

(ب) جو غیر مسلم آبادیوں میں رہتے ہیں، جہاں نہ مسجد ہے اور نہ ہی کوئی دوسرے اسلامی ادارے۔ وہ صرف یہ جانتے ہیں کہ ہمارا نام مسلمان ہے؛ لیکن اسلام کیا ہے؟ اسے نہ تو جانتے ہیں اور نہ جاننے سے کوئی سروکار رکھتے ہیں۔ ایسے افراد کے پاس جس مذہب کا بھی رہنما پہنچ جاتا ہے، وہ اس کے پیغام کو قبول کرلیتے ہیں۔اب ان کی قسمت کی بات ہوتی ہے پیغامبر حق و صداقت پہنچ گیا، تو اپنا ایمان بچانے میں کامیاب رہتے ہیں، بصورت دیگر ارتداد ان کا مقدر بن جاتا ہے۔

عملیاتی مسلمان

عملیات کے دو میدان ہیں: حقوق اللہ اور حقوق العباد۔ نماز، روزہ، حج اور زکوۃ؛ یہ اہم حقوق اللہ ہیں۔ ان کے زمینی عملیات کی رپورٹ کچھ اس طرح ہے:

(۱) علما و تبلیغی طبقہ: بالعموم حقوق اللہ ادا کرتے ہیں۔لیکن معاشرے میں ان کی تعداد دو سے چار پرسینٹ ہے۔

(۲) عصری تعلیم یافتہ طبقہ: بالعموم حقوق اللہ ادا نہیں کرتے؛ البتہ کچھ حضرات جنھیں گھریلو دینی ماحول مل جاتا ہے، یا پھر علما کی صحبت میسر آجاتی ہے، تو پھر یہ بھی حقوق اللہ کی ادائیگی پر مکمل توجہ دیتے ہیں، لیکن ان کی تعداد ایک پرسینٹ ہے

(۳) ناخواندہ طبقہ: یہ طبقہ حقوق اللہ کی ادائیگی میں بالکل صفر ہے۔ ہزاروں میں کچھ افراد اگر نماز روزہ کرلیتے ہوں، تو کرلیتے ہوں گے، بالعموم انھیں حقوق اللہ اور شعائر اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ہے۔ یہ طبقہ صرف اپنے اسلامی نام ہی مسلمان ہونے کے لیے کافی سمجھتے ہیں۔ چنانچہ ایک ایسی مسلم بستی آبادی میں چلے جائیے، جہاں ایک ہزار کی آبادی ہے، تو اس میں سے بمشکل تمام دس سے بیس افراد ہی نمازی ملیں گے۔ اب ائیے ایک نظر حقوق العباد پر ڈالتے ہیں: جتنے بھی سماجی، سیاسی، اقتصادی اور اخلاقی معاملات ہیں، ان سب کا تعلق حقوق العباد سے ہے۔ جیسے شادی بیاہ، سماجی مسئلہ ہے، تجارت اور نوکری اقتصادی پہلو ہے۔ اور ایک دوسرے کے ساتھ حسن سلوک اور حسن کلام کے ساتھ معاملہ کرنا اخلاقیات سے تعلق رکھتا ہے۔حقوق اللہ کے ان سارے پہلووں پر عمل کے اعتبار سے زمینی رپورٹ اسی نتیجے پر پہنچاتی ہے کہ یہاں مسلمان مکمل طور پر بے عملی؛ بلکہ بد عملی کے شکار ہیں۔ چنانچہ غیر مسلم سماج اور مسلم سماج کا تجزیہ کرلیجیے،تو مسلمانوں کا سماج ہر اعتبار سے غیر مسلم سماج سے کم تر نظر آئے گا۔اور اس حوالے سے کیا علما اور کیا خواص؛ سب ایک ہی رنگ میں نظر آتے ہیں۔ طوالت سے بچنے کے لیے صرف ایک ہی مثال لے لیجیے کہ مسلم شادی اور غیر مسلم شادی کی رسوم و رواج، محفل نکاح کے علاوہ کوئی اور فرق نظر نہیں آئے گا۔

بھارت میں مسلمانوں کی سیاسی حصہ داری کیا ہے اور جو لوگ سیاست میں براہ راست شریک ہیں، ان کا مسلمانوں کے تعلق سے کیا کارنامے ہیں، سب جگ ظاہر ہے۔ اسی طرح اخلاقی اعتبار سے جج کرلیجیے،تو معلم اخلاق کی امت ہونے کے باوجود بد اخلاقی میں مسلمان اول نمبر پر ہیں۔

قصہ مختصر یہ ہے کہ حقوق العباد میں مسلمان عملی اعتبار سے بالکل صفر ہیں؛ زیادہ سے زیادہ مبالغے کے ساتھ ایک فی صد کو مستثنیٰ کیا جاسکتا ہے۔اس رپورٹ کے تناظر میں فطری طور پر یہی سوال پیدا ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے ہر طقبے اور نظریاتی و عملی اعتبار سے حقو ق اللہ اور حقو ق العباد میں بھی اس درجہ بے عملی اور بد عملی کے شکار ہوچکے ہیں، تو آخر عملی اسلام ہے کہاں ……؟

یہ ایک ایسا سوال ہے، جس کا جواب ملت مسلمہ کے ہر مبلغ اور دین اسلام کے ہر داعی کو ڈھونڈھنا ضروری ہے؛ خواہ وہ تبلیغی سلسلے سے وابستہ ہوں، یا مدارس و مکاتب کے ذمہ دار ہوں، یا پھر کسی اور ذرائع سے دعوت اسلام کے فرائض انجام دے رہے ہوں؛ اس کے بغیر یہ پیش قیاسی شاید خلاف واقعہ نہ ہو کہ وہ دن زیادہ دور نہیں رہے گا، جب بھارت بھی مسلمانوں کے لیے اسپین بن جائے گا۔

(قدیم نوشتہ سے نشر مکرر)

Admin

Admin

Next Post

کب تک بیٹیاں رشتوں کے انتظار میں بیٹھی رہیں گی؟

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

اکیسویں صدی سے دیار حبیب صلی اللہ علیہ وسلم (سعودیہ عربیہ) سے ہندستانی مسلمانوں کے روابط

اکیسویں صدی سے دیار حبیب صلی اللہ علیہ وسلم سے ہندستانی مسلمانوں کے روابط: تیرھویں قسط

2 مہینے ago
ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

اب وہ جمعہ جمعہ نظر آئیں گے!!

5 مہینے ago

مقبول

  • معذر بچوں کی تدریس میں اساتذہ کا کردار کیا ہونا چاہیے

    معذر بچوں کی تدریس میں اساتذہ کا کردار کیا ہونا چاہیے

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • معذروں بچوں کے لیے تعلیمی اداروں کا کیا رول ہونا چاہیے

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • معذور بچوں کے تعلیمی مسائل، یا دیر سے سیکھنے والے طلبہ کے تدریسی طریقے

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • دن کی تنظیم و ترتیب (Organising the Day)

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • امتحان کے نتائج کو ریکارڈ میں رکھنا اور تجربات کے لیے مستقبل میں فائدہ اٹھانا

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • رجسٹر
  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیت علمائے ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • متفرق مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.