محمد نظام الدین قاسمی بانی و مہتمم جامعۃ الہدی جہاز قطعہ گڈا جھارکھنڈ
صدر جمعیت علماء بلاک بسنت رائے گڈا
ایڈیٹر جہازی میڈیا
تمہید
اس عنوان کے تحت ہم کعبۃ اللہ ، مسجد نبوی اور دیگر مساجد کے، مقصد قیام پر بات کریں گے اور یہ تجزیہ کرنے کی کوشش کریں گے کہ کیا ہماری مسجدوں کے قیام کا مقصد بھیئوہی ہیں جو مسجد نبوی کا تھا، کیا آج ہناری مسجدوں میں ان مقاصد پر عمل ہوتا ہے جن مقاصد کے تحت مسجد نبوی قائم ہوئی تھی ؟ اگر ایسا نہیں ہے تو مقاصد سے ہٹنے کے وجوہات کیا ہیں ؟ اور حل کیا ہو سکتا ہے ؟
انسان کی تخلیق کا مقصد
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ
(الذاریات 56)
ترجمہ
اور میں نے جن اور انسان کو اسی واسطے پیدا کیا ہے کہ میری عبادت کیا کریں ۔
(بیان القرآن)
وضاحت
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں اور جنوں کے مقصد تخلیق کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اسے صرف اپنی عبادت اور بندگی کے لیے پیدا کیا ہے ، عبادت میں صرف نماز روزہ زکوٰۃ اور حج نہیں ہے بلکہ ہر وہ عمل ہے جو اخلاص نیت کے ساتھ اللہ کی رضا کے لیے کیا جائے ، خلاصہ کے طور پر یہ کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کا نام عبادت ہےـ
زمین پر انسان کے قیام کا مقصد
وَ اِذۡ قَالَ رَبُّکَ لِلۡمَلٰٓئِکَۃِ اِنِّیۡ جَاعِلٌ فِی الۡاَرۡضِ خَلِیۡفَۃً ؕ قَالُوۡۤا اَتَجۡعَلُ فِیۡہَا مَنۡ یُّفۡسِدُ فِیۡہَا وَ یَسۡفِکُ الدِّمَآءَ ۚ وَ نَحۡنُ نُسَبِّحُ بِحَمۡدِکَ وَ نُقَدِّسُ لَکَ ؕ قَالَ اِنِّیۡۤ اَعۡلَمُ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ
ترجمہ
اور جس وقت ارشاد فرمایا آپ کے رب نے فرشتوں سے کہ ضرور میں بناؤں گا زمین میں ایک نائب فرشتے کہنے لگے کیا آپ پیدا کریں گے زمین میں ایسے لوگوں کو جو فساد کریں گے اور خونریزیاں کریں گے اور ہم برابرتسبیح کرتے رہتے ہیں بحمدالله اور تقدیس کرتے رہتے ہیں آپ کی ارشاد فرمایا کہ میں جانتا ہوں اس بات کو جس کو تم نہیں جانتے ۔
(بیان القرآن 30)
وضاحت
ماقبل کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کا مقصد بیان کیا تھا ، اس میں زمین پر انسان کے قیام کا مقصد بیان کررہے ہیں کہ میں نے انسانوں کو زمین پر اس لیے اپنا خلیفہ اور نائب بناکر کے قیام کرایا یے تاکہ وہ عبادات کا عملی مظاہرہ کرسکیں ، گویا کہ انسانوں کو زمین میں بسانے کا مقصد عبادت کو عملی شکل دینا ہے ـ
بندگی کے لئے عملی مرکز کی ضرورت
اوپر میں بیان ہوا کہ انسان کی تخلیق کا مقصد اللہ کی عبادت ہے، اور عبادت کا عملی مظاہرہ زمین پر ہوگا اس لیے انسانوں کو زمین پر بسایا اور
جس طرح سے جسم کو زندگی کے لیے گھر زمین اور طعام کی ضرورت ہے، اسی طرح روحانی بندگی کو بھی عملی جامہ پہنانے کے لیے مرکزی جگہ کی ضرورت ہے تاکہ انسان وہاں پر انفرادی اور اجتماعی اعتبار سے حقوق اللہ اور حقوق العباد کو مکمل طور پر انجام دے سکیں ، اس لیے اللہ تعالٰی نے اولا فرشتوں سے مرکزی جگہ کو دنیا کے مرکز میں کعبۃ اللہ کی شکل میں تعمیر کرایا ، تاکہ انسان عملی شکل میں ڈھال سکیں ـ
کعبۃ اللہ کے قیام کا مقصد
کعبۃ اللہ کے مقصد قیام کو بیان کرنے کے لیے چار آیتوں کا انتخاب کیا گیا ہے ، جو مندرجہ ذیل ہیں ـ
(1) قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے
إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِّلْعَالَمِينَ
(سورہ آل عمران 96)
ترجمہ
شک سب سے پہلا گھر جو لوگوں کے لیے مقرر کیا گیا وہ ہے جو مکہ میں ہے۔ جو برکت والا ہے اور لوگوں کے لیے ہدایت ہے ـ
(انوار البیان)
وضاحت
اللہ تعالیٰ نے کعبۃ اللہ کو زمین پر انسانیت کے لیے پہلا عبادتی مرکز بنایا ہے اس کے قیام کا مقصد عبادت، توحید اور اجتماعی وحدت کو قرار دیا ہے، اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تین مقصد بیان کیا ہے ، پہلا یہ کہ کعبۃ اللہ عبادت کے لیے پہلا مقام ہے ،اوریہ کسی مخصوص قوم یا قبیلے کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہے، دوسرا یہ کہ کعبہ اللہ ایک بابرکت جگہ ہے، یہ روحانی، اجتماعی اور اخلاقی برکت کا مرکز ہے۔ تیسرا یہ کہ کعبۃ اللہ صرف عبادت کی جگہ نہیں بلکہ انسانیت کو راہِ حق، توحید اور صحیح عبادت کی طرف رہنمائی فراہم کرتا ہے ، اور لوگوں کو ایک نقطے پر جمع کرتا ہےـ
(2) اللَّهُ جَعَلَ الْكَعْبَةَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ قِيَامًا لِلنَّاسِ
(سورہ مائدہ 97)
ترجمہ
کعبہ جو احترام والا گھر ہے اللہ نے اسے لوگوں کے قائم رہنے کا سبب قرار دیا ہے
(انوار البیان)
وضاحت
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے کعبہ کو لوگوں کے لیے دین و دنیا کی بقا اور اتحاد کے قیام کا مرکز بنایاہے ،آج انسان انتشار، فساد اور بے سکونی میں مبتلا ہے۔ کعبہ کا قیام یاد دلاتا ہے کہ اصل وحدت اور سکون صرف اللہ کی بندگی اور اس کے گھر کے گرد جمع ہونے میں ہے،گو یاکہ کعبہ مرکزِ اتحاد نظامِ حیات اور امن و بقا کا مرکز ہے
(3) وَ اِذۡ جَعَلۡنَا الۡبَیۡتَ مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ وَ اَمۡنًا
(سورہ بقرہ 125)
ترجمہ
اور جب ہم نے بنایا خانہ کعبہ کو لوگوں کے جمع ہونے کی جگہ اور امن،
( انوار البیان)
وضاحت
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے کعبہ کو لوگوں کے لیے توجہ کا مرکز بنایا ہے ،تاکہ لوگ وہاں بار بار جمع ہوں اور اللہ کی عبادت کریں گویا کہ یہ آیت پیغام دیتی ہے کہ کعبہ روحانی کشش کا ذریعہ اور امن کا گہوارہ ہے ـ
(4) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے
وَ اِذۡ بَوَّاۡنَا لِاِبۡرٰہِیۡمَ مَکَانَ الۡبَیۡتِ اَنۡ لَّا تُشۡرِکۡ بِیۡ شَیۡئًا وَّ طَہِّرۡ بَیۡتِیَ لِلطَّآئِفِیۡنَ وَ الۡقَآئِمِیۡنَ وَ الرُّکَّعِ السُّجُوۡدِ
(سورہ حج 26)
ترجمہ
اور جب ہم نے ابراہیم کو بیت کی جگہ بتا دی کہ تم میرے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک نہ بناؤ اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور قیام کرنے والوں اور رکوع سجدہ کرنے والوں کے لیے پاک رکھنا ،
( انوار البیان)
وضاحت
اس آیت میں کعبہ کے قیام کا مقصد یہ بتایا گیا ہے کہ وہ شرک سے پاک خالص توحید کا مرکز ہو، پاکیزگی اور صفائی کی علامت ہو، اور اللہ کی عبادت طواف، قیام، رکوع اور سجدہ کے لیے عالمی مقام ہو۔ گویا کہ کعبہ توحید کا اعلان، عبادت کا مرکز، اور امت کے لیے عالمی اجتماع گاہ ہے ـ
خلاصہ
اس وقت چونکہ حالات مختلف تھے اور دنیا کو سب سے پہلے توحید کی دعوت کی ضرورت تھی، اس لیے کعبہ کے قیام کا اصل مقصد توحید کا اعلان امن کا گہوارہ اور انسانوں کو ایک مرکز پر جمع کرنا تھا اور جیسے جیسے دین تکمیل کی طرف آگے بڑھتا گیا ،لو گوں کی ضرورتیں بڑتی گئیں تو مسجد نبوی کے قیام کے وقت اس کے مقاصد میں بھی اضافہ ہوا اور وہ بھی من جانب اللہ تھا اور نبی کے ذریعہ سے عملی مظاہرہ کرایا گیاتھا ، مسجد نبوی میں کن کن کاموں کو انجام دیا گیا ہے اس کا جائزہ ان شاءاللہ دوسری قسط میں لینے کی کوشش کریں گے ، تاکہ موجودہ وقت کی مساجد کا جائزہ لینا اور اس کا حل تلاش کرنا آسان ہو جائے ـ



















