دھپرا، بسنت رائے (پریس ریلیز):
یکم جولائی 2026 کو بسنت رائے بلاک کے تحت واقع دھپرا نامی بستی میں جمعیت علمائے بسنترائے کے زیر اہتمام “گاؤں گاؤں بیداری پروگرام” کے عنوان سے ایک عظیم الشان، بصیرت افروز اور روح پرور اجلاس منعقد ہوا۔ اس پروگرام میں علاقے کے سرکردہ علماء کرام، دانشوران اور معززین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔پروگرام کا بنیادی مقصد مسلمانوں میں دینی بیداری پیدا کرنا، اصلاحِ معاشرہ کو فروغ دینا اور نئی نسل کو ایک بامقصد زندگی کی طرف راغب کرنا تھا۔ اس موقع پر جدید طرزِ تعلیم کو اپناتے ہوئے PPT کے ذریعے مسلمانوں کے لیے ضروری سات بنیادی عقائد کی تفصیل کے ساتھ تعلیم دی گئی، جسے حاضرین نے بے حد سراہا۔اجلاس میں مسلمانوں کے دینی و تعلیمی حالات پر مبنی ایک اہم ڈیٹا بھی پیش کیا گیا، جس کے مطابق تقریباً 800 کی مسلم آبادی میں صرف 50 افراد مسجد سے وابستہ ہیں، تقریباً 50 بچے مکتب سے جڑے ہوئے ہیں، اور دیگر اسلامی و ایمانی سرگرمیوں سے وابستہ افراد کو شامل کیا جائے تو کل تعداد محض ڈیڑھ سو بنتی ہے۔ اس طرح واضح کیا گیا کہ بڑی تعداد بدعملی اور بے عملی کا شکار ہے، جو ایک تشویشناک اور خطرناک صورت حال کی عکاسی کرتا ہے۔علماء کرام نے اپنے خطابات میں نوجوانوں کو وقت کے ضیاع، بے مقصد زندگی اور اس کے بھیانک انجام سے آگاہ کیا اور انہیں بامقصد زندگی گزارنے کے اصول، خوبصورت خواب دیکھنے اور انہیں عملی جامہ پہنانے کے مؤثر طریقے سکھائے۔
پروگرام میں دہلی سے تشریف لائے مولانا محمد یاسین جہازی، مفتی محمد نظام الدین قاسمی (بانی و مہتمم جامعۃ الہدی جہاز قطع)، صدر جمعیت علمائے بسنترائے مفتی محمد زاہد امان قاسمی (ناظم جمعیت و مہتمم جامعہ خدیجۃ الکبریٰ بسنترائے)، مولانا مجیب الحق قاسمی (امام جامع مسجد جھپنیہ)، مولانا شمیم صاحب (مہتمم مدرسہ فخر الاسلام کوریانہ) قاری ضیاء الحق سمیت دیگر معزز علماء و اہلِ علم نے شرکت کی اور اپنے قیمتی بیانات و تربیتی نشستوں سے حاضرین کو مستفید فرمایا۔
پروگرام کے اختتام پر “تذکیرِ کلمہ اور تصحیحِ کلمہ” کے عنوان سے ایک خصوصی عملی نشست منعقد کی گئی، جس میں حاضرین سے کلمہ کی درست ادائیگی کروائی گئی اور ان کے ایمان و عقیدہ کی اصلاح پر خصوصی توجہ دی گئی۔
اس پروگرام کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی رہی کہ جھارکھنڈ اور دیگر ریاستوں میں جاری SIR (Special Intensive Revision) مہم کے تعلق سے عوام کو بیدار کیا گیا۔ مقررین نے زور دیا کہ تمام افراد خواہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں، اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور اپنے نام ووٹر لسٹ میں برقرار رکھنے کے لیے سنجیدگی سے کوشش کریں۔ اس بات پر بھی متنبہ کیا گیا کہ معمولی غفلت اور کوتاہی کی وجہ سے نام خارج ہو سکتا ہے، جس کے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
آخر میں اعلان کیا گیا کہ آئندہ پروگرام میں SIR مہم کے حوالے سے باقاعدہ تربیتی نشست بھی منعقد کی جائے گی تاکہ عوام اس اہم قومی عمل میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔
مجموعی طور پر یہ پروگرام نہایت کامیاب اور مؤثر ثابت ہوا، اور شرکاء نے اس کی افادیت کا کھلے دل سے اعتراف کیا۔
























