محمد یاسین جہازی
تعلیم کسی بھی قوم کی فکری، تہذیبی اور تمدنی شناخت کی بنیاد ہوتی ہے۔ جب بھی کسی ملک میں نئی تعلیمی پالیسی مرتب کی جاتی ہے تو اس کا اثر نہ صرف اسکولی اور عصری تعلیمی اداروں پر پڑتا ہے بلکہ دینی و مذہبی تعلیمی نظام، خصوصاً مدارسِ اسلامیہ بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہتے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی کوئی نئی تعلیمی پالیسی یا کمیشن کی سفارشات سامنے آتی ہیں اور ان میں ایسی کوئی شق شامل ہوتی ہے جس سے مدارس کے نصاب، نظام یا خودمختاری پر زد پڑنے کا اندیشہ ہو، تو ملی و دینی تنظیمیں فطری طور پر اس کے خلاف آواز اٹھاتی ہیں اور حکومت سے مطالبہ کرتی ہیں کہ ایسی تجاویز میں مناسب ترمیم کی جائے تاکہ مدارس اپنی دینی شناخت کے ساتھ محفوظ رہ سکیں۔تاہم اس صورتِ حال کا ایک دوسرا پہلو بھی نہایت اہم ہے، جسے نظر انداز کرنا کسی طور دانشمندی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ تعلیمی کمیشنوں کی جانب سے پیش کی جانے والی بہت سی سفارشات جدید تعلیمی تحقیق، نفسیاتی اصولوں، اور عالمی تجربات پر مبنی ہوتی ہیں، جو طلبہ کی بہتر تربیت، مؤثر تدریس، اور اداروں کی مجموعی ترقی کے لیے نہایت مفید اور ناگزیر حیثیت رکھتی ہیں۔ اگر ہم محض مخالفت کی بنیاد پر ان سفارشات کو یکسر رد کر دیں اور ان کے مثبت پہلوؤں سے فائدہ نہ اٹھائیں، تو اس کا نقصان خود ہمارے تعلیمی نظام کو ہوگا۔اس لیے ایک متوازن اور دانشمندانہ رویہ یہی ہے کہ جہاں کہیں مدارس کے دینی تشخص یا بنیادی اصولوں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو، وہاں بھرپور اور اصولی مخالفت کی جائے؛ لیکن ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ مدارس کے ذمہ داران اور اہلِ علم ان سفارشات کا سنجیدگی سے مطالعہ کریں، جدید تعلیمی اصولوں کو سمجھیں، اور جو نکات اسلامی تعلیمات سے متصادم نہ ہوں بلکہ تعلیمی بہتری کا ذریعہ بن سکتے ہوں، انہیں اپنے نظام میں مناسب انداز سے شامل کریں۔ اسی طرزِ عمل سے مدارس نہ صرف اپنی روایت کو محفوظ رکھ سکتے ہیں بلکہ جدید تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر زیادہ مؤثر اور نتیجہ خیز کردار ادا کر سکتے ہیں۔اسی تناظر میں ذیل میں این ای پی 2020 کے چند اہم رہنما اصولوں کا خلاصہ پیش کیا جا رہا ہے، جو ہر تعلیمی ادارے اور اس سے وابستہ افراد کے لیے نہایت اہمیت کے حامل ہیں:این ای پی 2020 واضح کرتی ہے کہ تعلیم کا مقصد ایسے اچھے انسان تیار کرنا ہے جو معقول (عقلی) سوچ اور عمل کی صلاحیت رکھتے ہوں، جن میں ہمدردی، دردمندی، حوصلہ، لچک، سائنسی مزاج، اور تخلیقی تخیل کے ساتھ ساتھ مضبوط اخلاقی بنیادیں اور اقدار موجود ہوں۔ اس کا مقصد ایک ایسے منصفانہ، جامع (inclusive) اور کثیر الثقافتی معاشرے کی تعمیر کے لیے متحرک، پیداواری اور اپنا تعاون دینے والے شہری تیار کرنا ہے جیسا کہ ہمارے آئین نے تصور کیا ہے۔ایک اچھا تعلیمی ادارہ وہ ہوتا ہے جہاں ہر طالب علم خود کو خوش آمدید اور محفوظ محسوس کرے، جہاں ایک محفوظ اور حوصلہ افزا تعلیمی ماحول موجود ہو، جہاں سیکھنے کے وسیع تجربات پیش کیے جائیں، اور جہاں تمام طلبہ کے لیے بہترین مادی ڈھانچہ (انفراسٹرکچر) اور سیکھنے کے لیے سازگار مناسب وسائل دستیاب ہوں۔ ان خصوصیات کو حاصل کرنا ہر تعلیمی ادارے کا ہدف ہونا چاہیے۔ تاہم، اس کے ساتھ ساتھ، تمام تعلیمی اداروں اور تعلیم کے تمام مراحل کے درمیان ہموار انضمام اور ہم آہنگی بھی ہونی چاہیے۔این ای پی 2020 کے اہم رہنما اصول درج ذیل ہیں:
1۔ اساتذہ اور والدین کو حساس بنا کر ہر طالب علم کی منفرد صلاحیتوں کو پہچاننا، ان کی شناخت کرنا اور ان کی پرورش کرنا، تاکہ تعلیمی اور غیر تعلیمی دونوں شعبوں میں ہر طالب علم کی ہمہ جہت (مکمل) ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔
2۔ گریڈ 3 (تیسری جماعت) تک تمام طلبہ کی جانب سے بنیادی خواندگی اور اعداد کے علم (Foundational Literacy and Numeracy) کو حاصل کرنے کو اولین ترجیح دینا۔
3۔ لچکداری (Flexibility)، تاکہ سیکھنے والوں کو اپنے تعلیمی سفر کے راستوں اور پروگراموں کو منتخب کرنے کی صلاحیت حاصل ہو، اور اس طرح وہ اپنی صلاحیتوں اور دلچسپیوں کے مطابق زندگی میں اپنے راستے کا انتخاب خود کر سکیں۔
4۔ آرٹس اور سائنسز، نصابی اور ہم نصابی سرگرمیوں، اور پیشہ ورانہ (vocational) اور تعلیمی شعبوں وغیرہ کے درمیان کوئی سخت تفریق نہ ہونا، تاکہ سیکھنے کے مختلف شعبوں کے درمیان نقصان دہ درجہ بندیوں اور فاصلوں کو ختم کیا جا سکے۔
5۔ ایک کثیر الجہتی دنیا کے لیے سائنسز، سوشل سائنسز، آرٹس، ہیومینیٹیز، اور کھیلوں کے درمیان کثیر الشعبہ جاتی اور ہمہ جہت تعلیم فراہم کرنا، تاکہ تمام علوم کی وحدت اور سالمیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
6۔ رٹّہ مارنے اور صرف امتحانات کے لیے پڑھنے کے بجائے تصوراتی سمجھ (conceptual understanding) پر زور دینا۔
7۔ منطقی فیصلہ سازی اور جدت طرازی کی حوصلہ افزائی کے لیے تصوراتی سمجھ، مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت، تخلیقی صلاحیت، اور تنقیدی سوچ کو فروغ دینا۔
8۔ اخلاقیات اور انسانی و آئینی اقدار جیسے کہ ہمدردی، دوسروں کا احترام، صفائی ستھرائی، تہذیب، جمہوری جذبہ، خدمت کا جذبہ، عوامی املاک کا احترام، سائنسی مزاج، آزادی، ذمہ داری، کثرتِ رائے، برابری اور انصاف۔
9۔ تدریس اور سیکھنے کے عمل میں کثیر اللسانیت اور زبان کی طاقت کو فروغ دینا۔
10۔ زندگی کی مہارتیں جیسے کہ بات چیت کا طریقہ، باہمی تعاون، ٹیم ورک، اور لچک و حوصلہ۔
11۔ سیکھنے کے لیے باقاعدہ تعمیری تشخیصی نظام پر توجہ مرکوز کرنا، نہ کہ صرف سالانہ یا اختتامی امتحان پر، جو کہ کوچنگ کلچر کو فروغ دیتا ہے۔
12۔ تدریس اور سیکھنے کے عمل میں ٹیکنالوجی کا وسیع استعمال، زبان کی رکاوٹوں کو دور کرنا، دیویانگ طلبہ کے لیے رسائی میں اضافہ کرنا، اور تعلیمی منصوبہ بندی و انتظام۔
13۔ تمام نصاب، طریقہ تدریس اور پالیسی میں تنوع کا احترام اور مقامی تناظر کا احترام کرنا، اور یہ بات ہمیشہ ذہن میں رکھنا کہ تعلیم ایک مشترکہ موضوع ہے۔
14۔ تمام تعلیمی فیصلوں کی بنیاد کے طور پر مکمل مساوات اور شمولیت کو برقرار رکھنا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ تمام طلبہ تعلیمی نظام میں ترقی کر سکیں۔
15۔ ابتدائی بچپن کی دیکھ بھال اور تعلیم سے لے کر اسکول کی تعلیم اور اعلیٰ تعلیم تک، تعلیم کے تمام درجوں کے نصاب میں ہم آہنگی اور باہمی ربط۔
16۔ اساتذہ اور فیکلٹی کو سیکھنے کے عمل کا مرکز سمجھنا — ان کا تقرر، مسلسل پیشہ ورانہ ترقی، کام کا مثبت ماحول، اور سروس کی سازگار شرائط۔
17۔ ایک ایسا ریگولیٹری فریم ورک جو ہلکا مگر سخت ہو، تاکہ آڈٹ اور عوامی انکشاف کے ذریعے تعلیمی نظام کی سالمیت، شفافیت، اور وسائل کی کارکردگی کو یقینی بنایا جا سکے، جبکہ خودمختاری، اچھی گورننس، اور بااختیار بنانے کے ذریعے جدت طرازی کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔
18۔ بہترین تعلیم اور ترقی کے لیے ایک لازمی شرط کے طور پر شاندار تحقیق کو فروغ دینا۔
19۔ تعلیمی ماہرین کی جانب سے مسلسل تحقیق اور باقاعدہ تشخیص کی بنیاد پر پیش رفت کا مسلسل جائزہ لینا۔
20۔ ہندوستان سے گہرا لگاؤ اور فخر کا احساس، اور اس کی امیر، متنوع، قدیم اور جدید ثقافت، علمی نظام اور روایات کا احترام۔
21۔ تعلیم ایک عوامی خدمت ہے؛ معیاری تعلیم تک رسائی کو ہر بچے کا بنیادی حق سمجھا جانا چاہیے۔






















