اتوار, جولائی 12, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی

    کب تک بیٹیاں رشتوں کے انتظار میں بیٹھی رہیں گی؟

    اقوام متحدہ کی فلسطین رپورٹ میں لرزہ خیز انکشافات

    اقوام متحدہ کی فلسطین رپورٹ میں لرزہ خیز انکشافات

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    دھرمستھلا، کراس ووٹنگ اور قیادت کا بحرانکرناٹک کی سیاست آخر کس سمت بڑھ رہی ہے؟

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بنگلہ دیش اور جمعیت علمائے ہند کا تاریخی کردار

    اہلِ مدارس کے لیے تعلیمی ایجوکیشن پالیسیز میں اہم فارمولے

    احوال و کوائف اور تعارف حضرت مولانا مفتی محمد شوکت علی صاحب بھاگلپوری دامت برکاتہم شیخ الحدیث : دار العلوم سعادتِ دارین ستپون ، ضلع : بھروچ ، گجرات

    بھارت فرقہ پرستی اور تعصب کی تباہی کے دہانے پر

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    بے نقاب ہوتا ہندوتو کا چہرہ

    جنود ربانی کے مقاصد اور مناصب

    تحریکِ ریشمی رومال: معاونین و ہمدردان کی ایک تاریخی فہرست

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    جھپنیاں بستی میں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام کا دوسرا پروگرام منعقد

    شہری حقوق کے تحفظ کے لیے SIR کے عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ضروری: مولانا محمد یاسین جہازی

    جھپنیاں بستی میں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام کا دوسرا پروگرام منعقد

    گیروا ندی کے ساحل سے بلند ہوا ذکر و ضرب کا غلغلہ

    گنگا کے پار دو دلوں کا ملاپ — ایک یادگار علمی، فکری اور دعوتی سفر کی داستان

    گنگا کے پار دو دلوں کا ملاپ — ایک یادگار علمی، فکری اور دعوتی سفر کی داستان

    دھپرا بستی میں جمعیت علمائے بسنترائے کے زیر اہتمام “گاؤں گاؤں بیداری پروگرام” میں ایس آئی آر پر رہنمائی

    دھپرا بستی میں جمعیت علمائے بسنترائے کے زیر اہتمام “گاؤں گاؤں بیداری پروگرام” میں ایس آئی آر پر رہنمائی

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ہندستانی جیل خانوں کے بڑھتے مسائل،توجہ کی ضرورت!

    نوجوانوں کی اصلاح اور بیداری وقت کی اہم ضرورت: مفتی محمد نظام الدین قاسمی

    ہماری نسل نو کے ایمان و تعلیم کے لیے فرشتے نہیں،رسول نہیں ،دہلی مُمبئی کے علما نہیں ، بلکہ ہمیں خود آنا ہوگا

    گاؤں گاؤں بیداری پروگرام سے جنرل سکریٹری جمعیت علمائے گڈا کا حیات افروز پیغام

    گاؤں گاؤں بیداری پروگرام سے جنرل سکریٹری جمعیت علمائے گڈا کا حیات افروز پیغام

    بجٹ، بیانیہ اور حقیقت کرناٹک میں اقلیتوں کے نام پر سیاست یا حقائق کی تحریف؟

    جمعیت علمائے بسنت رائے کا بارھواں ’عوامی بیداری پروگرام‘ سمری میں کامیابی کے ساتھ منعقد؛ نوجوانوں کی فکری و تعلیمی تربیت پر زور

    گیارھواں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام میں مدنی مسجد ہوئی نورانی

    گیارھواں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام میں مدنی مسجد ہوئی نورانی

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی

    کب تک بیٹیاں رشتوں کے انتظار میں بیٹھی رہیں گی؟

    اقوام متحدہ کی فلسطین رپورٹ میں لرزہ خیز انکشافات

    اقوام متحدہ کی فلسطین رپورٹ میں لرزہ خیز انکشافات

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    دھرمستھلا، کراس ووٹنگ اور قیادت کا بحرانکرناٹک کی سیاست آخر کس سمت بڑھ رہی ہے؟

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بنگلہ دیش اور جمعیت علمائے ہند کا تاریخی کردار

    اہلِ مدارس کے لیے تعلیمی ایجوکیشن پالیسیز میں اہم فارمولے

    احوال و کوائف اور تعارف حضرت مولانا مفتی محمد شوکت علی صاحب بھاگلپوری دامت برکاتہم شیخ الحدیث : دار العلوم سعادتِ دارین ستپون ، ضلع : بھروچ ، گجرات

    بھارت فرقہ پرستی اور تعصب کی تباہی کے دہانے پر

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    بے نقاب ہوتا ہندوتو کا چہرہ

    جنود ربانی کے مقاصد اور مناصب

    تحریکِ ریشمی رومال: معاونین و ہمدردان کی ایک تاریخی فہرست

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    جھپنیاں بستی میں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام کا دوسرا پروگرام منعقد

    شہری حقوق کے تحفظ کے لیے SIR کے عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ضروری: مولانا محمد یاسین جہازی

    جھپنیاں بستی میں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام کا دوسرا پروگرام منعقد

    گیروا ندی کے ساحل سے بلند ہوا ذکر و ضرب کا غلغلہ

    گنگا کے پار دو دلوں کا ملاپ — ایک یادگار علمی، فکری اور دعوتی سفر کی داستان

    گنگا کے پار دو دلوں کا ملاپ — ایک یادگار علمی، فکری اور دعوتی سفر کی داستان

    دھپرا بستی میں جمعیت علمائے بسنترائے کے زیر اہتمام “گاؤں گاؤں بیداری پروگرام” میں ایس آئی آر پر رہنمائی

    دھپرا بستی میں جمعیت علمائے بسنترائے کے زیر اہتمام “گاؤں گاؤں بیداری پروگرام” میں ایس آئی آر پر رہنمائی

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ہندستانی جیل خانوں کے بڑھتے مسائل،توجہ کی ضرورت!

    نوجوانوں کی اصلاح اور بیداری وقت کی اہم ضرورت: مفتی محمد نظام الدین قاسمی

    ہماری نسل نو کے ایمان و تعلیم کے لیے فرشتے نہیں،رسول نہیں ،دہلی مُمبئی کے علما نہیں ، بلکہ ہمیں خود آنا ہوگا

    گاؤں گاؤں بیداری پروگرام سے جنرل سکریٹری جمعیت علمائے گڈا کا حیات افروز پیغام

    گاؤں گاؤں بیداری پروگرام سے جنرل سکریٹری جمعیت علمائے گڈا کا حیات افروز پیغام

    بجٹ، بیانیہ اور حقیقت کرناٹک میں اقلیتوں کے نام پر سیاست یا حقائق کی تحریف؟

    جمعیت علمائے بسنت رائے کا بارھواں ’عوامی بیداری پروگرام‘ سمری میں کامیابی کے ساتھ منعقد؛ نوجوانوں کی فکری و تعلیمی تربیت پر زور

    گیارھواں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام میں مدنی مسجد ہوئی نورانی

    گیارھواں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام میں مدنی مسجد ہوئی نورانی

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
No Result
View All Result
Home قومی و بین الاقوامی

تعلیمی پالیسی اور مدارسِ اسلامیہ: تحفظ اور اصلاح کا متوازن راستہ

by Admin
جون 28, 2026
in قومی و بین الاقوامی
0
تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟
0
SHARES
48
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

محمد یاسین جہازی

تعلیم کسی بھی قوم کی فکری، تہذیبی اور تمدنی شناخت کی بنیاد ہوتی ہے۔ جب بھی کسی ملک میں نئی تعلیمی پالیسی مرتب کی جاتی ہے تو اس کا اثر نہ صرف اسکولی اور عصری تعلیمی اداروں پر پڑتا ہے بلکہ دینی و مذہبی تعلیمی نظام، خصوصاً مدارسِ اسلامیہ بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہتے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی کوئی نئی تعلیمی پالیسی یا کمیشن کی سفارشات سامنے آتی ہیں اور ان میں ایسی کوئی شق شامل ہوتی ہے جس سے مدارس کے نصاب، نظام یا خودمختاری پر زد پڑنے کا اندیشہ ہو، تو ملی و دینی تنظیمیں فطری طور پر اس کے خلاف آواز اٹھاتی ہیں اور حکومت سے مطالبہ کرتی ہیں کہ ایسی تجاویز میں مناسب ترمیم کی جائے تاکہ مدارس اپنی دینی شناخت کے ساتھ محفوظ رہ سکیں۔تاہم اس صورتِ حال کا ایک دوسرا پہلو بھی نہایت اہم ہے، جسے نظر انداز کرنا کسی طور دانشمندی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ تعلیمی کمیشنوں کی جانب سے پیش کی جانے والی بہت سی سفارشات جدید تعلیمی تحقیق، نفسیاتی اصولوں، اور عالمی تجربات پر مبنی ہوتی ہیں، جو طلبہ کی بہتر تربیت، مؤثر تدریس، اور اداروں کی مجموعی ترقی کے لیے نہایت مفید اور ناگزیر حیثیت رکھتی ہیں۔ اگر ہم محض مخالفت کی بنیاد پر ان سفارشات کو یکسر رد کر دیں اور ان کے مثبت پہلوؤں سے فائدہ نہ اٹھائیں، تو اس کا نقصان خود ہمارے تعلیمی نظام کو ہوگا۔اس لیے ایک متوازن اور دانشمندانہ رویہ یہی ہے کہ جہاں کہیں مدارس کے دینی تشخص یا بنیادی اصولوں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو، وہاں بھرپور اور اصولی مخالفت کی جائے؛ لیکن ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ مدارس کے ذمہ داران اور اہلِ علم ان سفارشات کا سنجیدگی سے مطالعہ کریں، جدید تعلیمی اصولوں کو سمجھیں، اور جو نکات اسلامی تعلیمات سے متصادم نہ ہوں بلکہ تعلیمی بہتری کا ذریعہ بن سکتے ہوں، انہیں اپنے نظام میں مناسب انداز سے شامل کریں۔ اسی طرزِ عمل سے مدارس نہ صرف اپنی روایت کو محفوظ رکھ سکتے ہیں بلکہ جدید تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر زیادہ مؤثر اور نتیجہ خیز کردار ادا کر سکتے ہیں۔اسی تناظر میں ذیل میں این ای پی 2020 کے چند اہم رہنما اصولوں کا خلاصہ پیش کیا جا رہا ہے، جو ہر تعلیمی ادارے اور اس سے وابستہ افراد کے لیے نہایت اہمیت کے حامل ہیں:این ای پی 2020 واضح کرتی ہے کہ تعلیم کا مقصد ایسے اچھے انسان تیار کرنا ہے جو معقول (عقلی) سوچ اور عمل کی صلاحیت رکھتے ہوں، جن میں ہمدردی، دردمندی، حوصلہ، لچک، سائنسی مزاج، اور تخلیقی تخیل کے ساتھ ساتھ مضبوط اخلاقی بنیادیں اور اقدار موجود ہوں۔ اس کا مقصد ایک ایسے منصفانہ، جامع (inclusive) اور کثیر الثقافتی معاشرے کی تعمیر کے لیے متحرک، پیداواری اور اپنا تعاون دینے والے شہری تیار کرنا ہے جیسا کہ ہمارے آئین نے تصور کیا ہے۔ایک اچھا تعلیمی ادارہ وہ ہوتا ہے جہاں ہر طالب علم خود کو خوش آمدید اور محفوظ محسوس کرے، جہاں ایک محفوظ اور حوصلہ افزا تعلیمی ماحول موجود ہو، جہاں سیکھنے کے وسیع تجربات پیش کیے جائیں، اور جہاں تمام طلبہ کے لیے بہترین مادی ڈھانچہ (انفراسٹرکچر) اور سیکھنے کے لیے سازگار مناسب وسائل دستیاب ہوں۔ ان خصوصیات کو حاصل کرنا ہر تعلیمی ادارے کا ہدف ہونا چاہیے۔ تاہم، اس کے ساتھ ساتھ، تمام تعلیمی اداروں اور تعلیم کے تمام مراحل کے درمیان ہموار انضمام اور ہم آہنگی بھی ہونی چاہیے۔این ای پی 2020 کے اہم رہنما اصول درج ذیل ہیں:

1۔ اساتذہ اور والدین کو حساس بنا کر ہر طالب علم کی منفرد صلاحیتوں کو پہچاننا، ان کی شناخت کرنا اور ان کی پرورش کرنا، تاکہ تعلیمی اور غیر تعلیمی دونوں شعبوں میں ہر طالب علم کی ہمہ جہت (مکمل) ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔

2۔ گریڈ 3 (تیسری جماعت) تک تمام طلبہ کی جانب سے بنیادی خواندگی اور اعداد کے علم (Foundational Literacy and Numeracy) کو حاصل کرنے کو اولین ترجیح دینا۔

3۔ لچکداری (Flexibility)، تاکہ سیکھنے والوں کو اپنے تعلیمی سفر کے راستوں اور پروگراموں کو منتخب کرنے کی صلاحیت حاصل ہو، اور اس طرح وہ اپنی صلاحیتوں اور دلچسپیوں کے مطابق زندگی میں اپنے راستے کا انتخاب خود کر سکیں۔

4۔ آرٹس اور سائنسز، نصابی اور ہم نصابی سرگرمیوں، اور پیشہ ورانہ (vocational) اور تعلیمی شعبوں وغیرہ کے درمیان کوئی سخت تفریق نہ ہونا، تاکہ سیکھنے کے مختلف شعبوں کے درمیان نقصان دہ درجہ بندیوں اور فاصلوں کو ختم کیا جا سکے۔

5۔ ایک کثیر الجہتی دنیا کے لیے سائنسز، سوشل سائنسز، آرٹس، ہیومینیٹیز، اور کھیلوں کے درمیان کثیر الشعبہ جاتی اور ہمہ جہت تعلیم فراہم کرنا، تاکہ تمام علوم کی وحدت اور سالمیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

6۔ رٹّہ مارنے اور صرف امتحانات کے لیے پڑھنے کے بجائے تصوراتی سمجھ (conceptual understanding) پر زور دینا۔

7۔ منطقی فیصلہ سازی اور جدت طرازی کی حوصلہ افزائی کے لیے تصوراتی سمجھ، مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت، تخلیقی صلاحیت، اور تنقیدی سوچ کو فروغ دینا۔

8۔ اخلاقیات اور انسانی و آئینی اقدار جیسے کہ ہمدردی، دوسروں کا احترام، صفائی ستھرائی، تہذیب، جمہوری جذبہ، خدمت کا جذبہ، عوامی املاک کا احترام، سائنسی مزاج، آزادی، ذمہ داری، کثرتِ رائے، برابری اور انصاف۔

9۔ تدریس اور سیکھنے کے عمل میں کثیر اللسانیت اور زبان کی طاقت کو فروغ دینا۔

10۔ زندگی کی مہارتیں جیسے کہ بات چیت کا طریقہ، باہمی تعاون، ٹیم ورک، اور لچک و حوصلہ۔

11۔ سیکھنے کے لیے باقاعدہ تعمیری تشخیصی نظام پر توجہ مرکوز کرنا، نہ کہ صرف سالانہ یا اختتامی امتحان پر، جو کہ کوچنگ کلچر کو فروغ دیتا ہے۔

12۔ تدریس اور سیکھنے کے عمل میں ٹیکنالوجی کا وسیع استعمال، زبان کی رکاوٹوں کو دور کرنا، دیویانگ طلبہ کے لیے رسائی میں اضافہ کرنا، اور تعلیمی منصوبہ بندی و انتظام۔

13۔ تمام نصاب، طریقہ تدریس اور پالیسی میں تنوع کا احترام اور مقامی تناظر کا احترام کرنا، اور یہ بات ہمیشہ ذہن میں رکھنا کہ تعلیم ایک مشترکہ موضوع ہے۔

14۔ تمام تعلیمی فیصلوں کی بنیاد کے طور پر مکمل مساوات اور شمولیت کو برقرار رکھنا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ تمام طلبہ تعلیمی نظام میں ترقی کر سکیں۔

15۔ ابتدائی بچپن کی دیکھ بھال اور تعلیم سے لے کر اسکول کی تعلیم اور اعلیٰ تعلیم تک، تعلیم کے تمام درجوں کے نصاب میں ہم آہنگی اور باہمی ربط۔

16۔ اساتذہ اور فیکلٹی کو سیکھنے کے عمل کا مرکز سمجھنا — ان کا تقرر، مسلسل پیشہ ورانہ ترقی، کام کا مثبت ماحول، اور سروس کی سازگار شرائط۔

17۔ ایک ایسا ریگولیٹری فریم ورک جو ہلکا مگر سخت ہو، تاکہ آڈٹ اور عوامی انکشاف کے ذریعے تعلیمی نظام کی سالمیت، شفافیت، اور وسائل کی کارکردگی کو یقینی بنایا جا سکے، جبکہ خودمختاری، اچھی گورننس، اور بااختیار بنانے کے ذریعے جدت طرازی کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔

18۔ بہترین تعلیم اور ترقی کے لیے ایک لازمی شرط کے طور پر شاندار تحقیق کو فروغ دینا۔

19۔ تعلیمی ماہرین کی جانب سے مسلسل تحقیق اور باقاعدہ تشخیص کی بنیاد پر پیش رفت کا مسلسل جائزہ لینا۔

20۔ ہندوستان سے گہرا لگاؤ اور فخر کا احساس، اور اس کی امیر، متنوع، قدیم اور جدید ثقافت، علمی نظام اور روایات کا احترام۔

21۔ تعلیم ایک عوامی خدمت ہے؛ معیاری تعلیم تک رسائی کو ہر بچے کا بنیادی حق سمجھا جانا چاہیے۔

Admin

Admin

Next Post
اقوام متحدہ کی فلسطین رپورٹ میں لرزہ خیز انکشافات

اقوام متحدہ کی فلسطین رپورٹ میں لرزہ خیز انکشافات

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

فلسفے کی تعلیم: روایت نہیں، ضرورت

9 مہینے ago
حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

ماں جی آخر سوکھی روٹی کون کھاتا ہے

3 مہینے ago

مقبول

  • کب تک بیٹیاں رشتوں کے انتظار میں بیٹھی رہیں گی؟

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • عملی اسلام کہاں ہے……؟

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • حکومت اپنے شہریوں کو مشکوک کیوں بنارہی ہے؟

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • شہری حقوق کے تحفظ کے لیے SIR کے عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ضروری: مولانا محمد یاسین جہازی

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • ظلم کبھی دائمی نہیں ہوتا

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیۃ علماء ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.