جمعیت علمائے بسنت رائے کا گیارہواں ”گاؤں گاؤں نوجوانوں اور عوامی بیداری پروگرام“ بسمبر چک میں کامیابی کے ساتھ منعقد
بتاریخ: 18 جون 2026، بروز جمعرات (نمائندہ بسنت رائے)
جمعیت علمائے بسنت رائے کے زیرِ اہتمام جاری ’’گاؤں گاؤں نوجوانوں اور عوامی بیداری پروگرام‘‘ کے سلسلے کی گیارہویں کڑی 18 جون 2026 بروز جمعرات، بسمبر چک کی مدنی مسجد میں نہایت کامیابی، اور دینی جذبے کے ساتھ منعقد ہوئی۔ اس بیداری مہم کا بنیادی مقصد نوجوان نسل اور عوام میں ایمان و عقیدہ کی مضبوطی، دینی شعور کی بیداری، اخلاقی تربیت اور مثبت فکری رجحانات کو فروغ دینا ہے۔پروگرام کا آغاز حافظ محمد دلشاد صاحب کی پُرسوز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جبکہ عزیزم حافظ محمد اقبال نے نعتِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم پیش کرکے محفل کو روحانی فضا سے معطر کردیا۔پروگرام کے پہلے عنوان ’’اپنے ایمان کا محاسبہ کیجیے‘‘ پر جمعیت علمائے بسنت رائے کے ناظمِ اعلیٰ اور جامعہ خدیجۃ الکبریٰ، بسنت رائے کے بانی و مہتمم، مفتی محمد زاہد امان قاسمی نے پروجیکٹر کے ذریعے نہایت مؤثر اور فکر انگیز پریزنٹیشن پیش کی۔ انہوں نے حاضرین کو اپنے ایمان، اعمال، اخلاق اور دینی ذمہ داریوں کا سنجیدگی سے جائزہ لینے کی دعوت دی اور مختلف عملی مثالوں کے ذریعے ایمان کی ضرورت اور اس کے تقاضوں کو اجاگر کیا۔اس موقع پر بسمبر چک بستی کا ایک تجزیاتی جائزہ بھی پیش کیا گیا۔ جائزے کے مطابق بستی میں تقریباً ڈیڑھ سو گھر ، دو مسجد اور ایک ہزار کے قریب آبادی ہے، جن میں تقریباً پانچ سو بچے ہیں۔ ان میں سے صرف سو بچے مکاتب سے اور سو بچے اسکولوں سے وابستہ ہیں، جبکہ تقریباً تین سو بچے ایسے ہیں جو نہ دینی تعلیم سے جڑے ہوئے ہیں اور نہ ہی عصری تعلیم سے۔ اسی طرح دونوں مساجد کو ملا کر تقریباً پچاس نمازی اور اتنی ہی خواتین نماز سے وابستگی رکھتی ہیں، جبکہ آبادی کا ایک بڑا حصہ مسجد، تعلیم اور دینی سرگرمیوں سے دور ہے۔ اس تجزیاتی رپورٹ نے حاضرین کو اپنی بستی کی دینی و تعلیمی صورتحال پر سنجیدگی سے غور کرنے پر آمادہ کیا۔پریزنٹیشن کے دوران سلام، مصافحہ اور باہمی تعلقات کے موضوع پر ایک تربیتی اور فکری سرگرمی (گیم) بھی پیش کی گئی، جس سے حاضرین میں غیر معمولی دلچسپی پیدا ہوئی اور انہیں ایمان کے عملی تقاضوں کا احساس ہوا۔اس کے بعد ’’سات بنیادی عقائد‘‘ کے عنوان پر مولانا سرفراز قاسمی بڑی سانکھی نے نہایت مؤثر، عام فہم اور دلنشین انداز میں پریزنٹیشن پیش کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ صحیح عقیدہ ہی انسان کے ایمان کی بنیاد اور نجات کا ذریعہ ہے۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ، فرشتوں، آسمانی کتابوں، رسولوں، یومِ آخرت، تقدیر اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے پر ایمان کی اہمیت کو مثالوں کے ذریعے سمجھایا۔ انہوں نے ایک فکر انگیز جملہ ادا کرتے ہوئے کہا:’’اگر ہم یہ سوچنے لگیں کہ اولاد دینے والا اللہ کے علاوہ کوئی اور بھی ہوسکتا ہے تو ہمارا عقیدہ کمزور اور فاسد ہوجائے گا؛ اس لیے عقیدے کی درستگی ہر مسلمان کی اولین ضرورت ہے۔‘‘بعد ازاں جمعیت علمائے بسنت رائے کے صدر، بانی و مہتمم جامعۃ الہدی جہاز قطعہ، مفتی محمد نظام الدین قاسمی نے ’’ریل سے ریئل تک‘‘ کے عنوان سے نوجوانوں کی فکری، تعلیمی اور عملی تربیت پر مبنی نہایت مؤثر پریزنٹیشن پیش کی۔ انہوں نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آج کی نسل ریلز کی دنیا میں کھو کر اپنے حقیقی مقاصدِ زندگی سے دور ہوتی جارہی ہے، جبکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوان اپنی صلاحیتوں کو پہچانیں، اپنی زندگی کا واضح ہدف متعین کریں، وقت کی قدر کریں اور حقیقی زندگی میں کامیابی کے لیے سنجیدہ منصوبہ بندی اختیار کریں۔ انہوں نے مختلف بصری مثالوں کے ذریعے واضح کیا کہ بے مقصد زندگی انسان کی صلاحیتوں کو ضائع کردیتی ہے، جبکہ واضح نصب العین انسان کو ترقی اور کامیابی کی راہوں پر گامزن کرتا ہے۔اس کے بعد مفتی محمد نظام الدین قاسمی نے حاضرین سے کلمۂ طیبہ کی صحیح تلفظ کے ساتھ اجتماعی تصحیح کرائی اور ذکرِ جہری کی مجلس قائم کی، جس میں حاضرین نے خشوع و خضوع کے ساتھ شرکت کی۔
پروگرام کے اختتام پر مفتی محمد افروز سلیمی قاسمی نے اپنے جامع اور حوصلہ افزا تاثرات پیش کرتے ہوئے جمعیت علمائے بسنت رائے کی پوری ٹیم کو بھرپور مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا:’’آج اگر ہمارے علاقے میں دین کی بنیادی باتیں جدید اور مؤثر انداز میں عوام تک پہنچانے والی کوئی فعال اور مخلص ٹیم موجود ہے تو یہ نوجوان علماء کی یہی جماعت ہے۔ ایسے پروگرام صرف تقاریر نہیں بلکہ معاشرے کی بنیادوں کو مضبوط بنانے کی ایک عظیم کوشش ہیں۔ اگر یہ محنت مسلسل جاری رہی تو آنے والے دنوں میں مساجد آباد ہوں گی، مکاتب بھر جائیں گے اور نوجوان صحیح دینی و تعلیمی راستے پر گامزن ہوجائیں گے۔‘‘انہوں نے عوام خصوصا نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ ایسے پروگراموں میں بھرپور شرکت کریں اور ان علماء کی قدر کریں جو گاؤں گاؤں پہنچ کر دین کی بنیادی تعلیمات کو آسان اور جدید اسلوب میں پیش کررہے ہیں۔ انہوں نے یہ عزم بھی ظاہر کیا کہ وہ اپنے علاقے جمشید پور میں بھی اس طرز کے پروگرام کو متعارف کرانے کی کوشش کریں گے۔پروگرام کے اختتام پر قاری محمود صاحب نے دعا پڑھا، جس کے بعد عشاء کی نماز قاری کریم الدین صاحب، مدرس جامعۃ الہدی جہاز قطعہ نے پڑھائی۔ نماز کے بعد تمام شرکاء کے لیے طعام کا انتظام تھا، جس میں علماء، نوجوانوں اور عوام نے باہمی محبت اور خوشگوار ماحول میں شرکت کی۔
پروگرام میں جن اہم لوگوں نے شرکت کی ان میں سے مولانا محمد جمیل احمد صاحب قاسمی امام مدنی مسجد بسمبر چک مولانا محمد، مولانا مجیب الحق صاحب امام مسجد جھپنیاں ، قاری محمود صاحب بسمبر چک ماسٹر محمد مجاہد صاحب قاری محمد ضیاء الحق صاحب مہتمم مدرسہ مخزن العلوم دھبرا ماسٹر محمد شمیم محمد ضیاء القمر محمد نور نبی محمد مجیب صاحب محمد ذوالفقار اور محمد اطہر وعیرہ کا نام قابل ذکر ہیں ـپروجیکٹر کی تنصیب، آپریٹنگ اور دیگر تکنیکی ذمہ داریاں جناب اسماعیل صاحب اور محمد فرقان صاحب نے نہایت محنت، ذمہ داری اور خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دیں۔
اگلا پروگرام 20/ جون 2026 بروز ہفتہ کو سمری ہوگا اور 22/ جون 2026 کو موہن پور کی قاسمیہ مسجد میں ہوگا ـ























