بتاریخ: 20 جون 2026، بروز سنیچر (نمائندہ بسنت رائے)
جمعیت علمائے بسنت رائے کے زیرِ اہتمام جاری ’’گاؤں گاؤں نوجوانوں اور عوامی بیداری پروگرام‘‘ کے سلسلے کی بارہویں کڑی 20 جون 2026 بروز سنیچر، سمری کی جامع مسجد میں نہایت منظم، پُراثر اور دینی جذبے سے سرشار ماحول میں منعقد ہوئی۔ اس بیداری مہم کا بنیادی مقصد نوجوان نسل اور عوام میں ایمان و عقیدہ کی مضبوطی، دینی شعور کی بیداری، اخلاقی تربیت اور مثبت فکری رجحانات کو فروغ دینا ہے۔پروگرام کا آغاز ایک کمسن طالبہ، ناظمین کی پُرسوز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جبکہ عزیزم حذیفہ سلمہ نے نعتِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم پیش کرکے سامعین کے دلوں کو منور کردیا۔پروگرام کے پہلے عنوان ’’اپنے ایمان کا محاسبہ کیجیے‘‘ پر جمعیت علمائے بسنت رائے کے ناظمِ اعلیٰ اور جامعہ خدیجۃ الکبریٰ، بسنت رائے کے بانی و مہتمم، مفتی محمد زاہد امان قاسمی نے پروجیکٹر کے ذریعے نہایت مؤثر اور فکر انگیز پریزنٹیشن پیش کی۔ انہوں نے حاضرین کو اپنے ایمان، اعمال، اخلاق اور دینی ذمہ داریوں کا سنجیدگی سے جائزہ لینے کی دعوت دی اور مختلف عملی مثالوں کے ذریعے ایمان کی ضرورت اور اس کے تقاضوں کو اجاگر کیا۔پریزنٹیشن کے دوران سلام، مصافحہ اور باہمی تعلقات کے موضوع پر ایک تربیتی اور فکری سرگرمی (گیم) بھی پیش کی گئی، جس سے حاضرین میں غیر معمولی دلچسپی پیدا ہوئی اور انہیں ایمان کے عملی تقاضوں کا احساس ہوا۔اس کے بعد ’’سات بنیادی عقائد‘‘ کے عنوان پر مولانا سرفراز قاسمی بڑی سانکھی نے نہایت مؤثر، عام فہم اور دلنشین انداز میں پریزنٹیشن پیش کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ صحیح عقیدہ ہی انسان کے ایمان کی بنیاد اور نجات کا ذریعہ ہے۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ، فرشتوں، آسمانی کتابوں، رسولوں، یومِ آخرت، تقدیر اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے پر ایمان کی اہمیت کو مثالوں کے ذریعے سمجھایا اور حاضرین کو عقائد کی درستگی کی طرف متوجہ کیا۔بعد ازاں جمعیت علمائے بسنت رائے کے صدر، بانی و مہتمم جامعۃ الہدی جہاز قطعہ، مفتی محمد نظام الدین قاسمی نے ’’ریل سے ریئل تک‘‘ کے عنوان سے نوجوانوں کی فکری، تعلیمی اور عملی تربیت پر مبنی نہایت مؤثر پریزنٹیشن پیش کی۔ انہوں نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آج کی نسل ریلز کی دنیا میں کھو کر اپنے حقیقی مقاصدِ زندگی سے دور ہوتی جارہی ہے، جبکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوان اپنی صلاحیتوں کو پہچانیں، اپنی زندگی کا واضح ہدف متعین کریں، وقت کی قدر کریں اور حقیقی زندگی میں کامیابی کے لیے سنجیدہ منصوبہ بندی اختیار کریں۔ انہوں نے مختلف بصری مثالوں کے ذریعے واضح کیا کہ بے مقصد زندگی انسان کی صلاحیتوں کو ضائع کردیتی ہے، جبکہ واضح نصب العین انسان کو ترقی اور کامیابی کی راہوں پر گامزن کرتا ہے۔اس کے بعد مفتی محمد نظام الدین قاسمی نے حاضرین سے کلمۂ طیبہ کی صحیح تلفظ کے ساتھ اجتماعی تصحیح کرائی اور ذکرِ جہری کی مجلس قائم کی۔ پروگرام کے اختتام پر مفتی محمد نظام الدین قاسمی نے دعا بھی پڑھائی۔پروگرام کے اختتام پر مفتی محمد افروز سلیمی قاسمی نے اپنے تاثرات میں اس منفرد اور مؤثر پروگرام کو بے حد سراہتے ہوئے جمعیت علمائے بسنت رائے کی پوری ٹیم کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کی بیداری مہمات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگر یہی جذبہ اور جوش و خروش برقرار رہا تو آنے والے دنوں میں اس کے نہایت مثبت نتائج سامنے آئیں گے، عوامی سطح پر اس سے بڑے پیمانے پر فائدہ ہوگا اور مزید لوگ اس تحریک سے جڑتے چلے جائیں گے۔بعد ازاں ڈاکٹر عبدالمجید ندوی صاحب نے بھی اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے پروگرام کو انتہائی مفید اور فکر انگیز قرار دیا۔ انہوں نے بالخصوص ’’اپنے ایمان کا محاسبہ کیجیے‘‘ کے عنوان کو نہایت اہم قرار دیتے ہوئے مشورہ دیا کہ ایمان کی تعریف اور اس کے مفہوم پر مزید تفصیلی گفتگو شامل کی جائے تو یہ عنوان مزید مؤثر اور جامع ہوسکتا ہے۔ انہوں نے پروگرام کو بھرپور سراہا اور عزم ظاہر کیا کہ اس نوعیت کا پروگرام دوبارہ بھی منعقد کیا جائے گا۔اس موقع پر انجینئر اظہر صاحب نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے پروگرام اور اس کے منتظمین کی بھرپور ستائش کی اور شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے دین کی بنیادی تعلیمات کو اس مؤثر انداز میں عوام تک پہنچانا ایک قابلِ قدر اور لائقِ تحسین کوشش ہے۔ انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ معمولی تبدیلیوں اور مزید تجاویز کے ساتھ اس پروگرام کو آئندہ اور بھی بہتر اور مؤثر بنایا جاسکتا ہے اور یقین ظاہر کیا کہ جمعیت کی ٹیم مثبت مشوروں سے استفادہ کرتے ہوئے اس خدمت کو مزید ترقی دے گی۔پروگرام انتہائی منظم، پُرامن اور خوشگوار ماحول میں اختتام پذیر ہوا، جس میں علماء، نوجوانوں اور عوام نے بھرپور دلچسپی کے ساتھ شرکت کی اور اس بیداری مہم کو اپنے علاقے کے لیے ایک نہایت مفید اور امید افزا پیش رفت قرار دیا۔قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اس پروگرام کی مقبولیت اب بلاک بسنت رائے کی حدود سے آگے بڑھ رہی ہے اور مختلف علاقوں کے لوگ خود اس نوعیت کے پروگرام کے انعقاد کا مطالبہ کررہے ہیں، جو اس تحریک کی کامیابی اور عوامی اعتماد کی روشن علامت ہے۔جمعیت علمائے بسنت رائے کے اس سلسلے کی اگلی کڑی 23 جون 2026 بروز منگل، قاسمیہ مسجد موہن پور میں منعقد ہوگی، جو بلاک بسنت رائے سے باہر اس بیداری مہم کا ایک اہم اور تاریخی قدم ثابت ہوگی۔پروگرام میں سمری بستی کے متعدد معززین، علماء، اساتذہ، نوجوانوں اور عوام نے بھرپور شرکت کی۔ خصوصاً حافظ مظہر صاحب، انجینئر اظہر صاحب، ڈاکٹر عبدالمجید ندوی صاحب، ماسٹر کبیر صاحب، مولانا نذیر صاحب قاسمی نوشہ، حکیم شریف الحسن صاحب، ماسٹر رمضان علی صاحب، مفتی افروز سلیمی صاحب قاسمی، جناب لقمان صاحب اور دیگر معزز شخصیات کی شرکت قابلِ ذکر رہی۔ ان حضرات نے پروگرام کو نہایت مفید، فکر انگیز اور وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے جمعیت علمائے بسنت رائے کی اس دینی و اصلاحی کاوش کو سراہا۔























