محمد عادل ارریاوی*24 صفر المظفر 1448ھ________________________________
کبھی کبھی نعمت ہمارے اتنی قریب ہوتی ہے کہ ہمیں نعمت دکھائی ہی نہیں دیتی۔ ہم جس مٹی پر روز چلتے ہیں جس فضا میں سانس لیتے ہیں اور جن سہولتوں کو معمول سمجھ کر استعمال کرتے ہیں ان کی قدر کا احساس اکثر اس وقت ہوتا ہے جب انسان ان سے دور ہو جائے۔ وطن عزیز ہندوستان بھی اللہ رب العزت کی بے شمار نعمتوں کا حسین مجموعہ ہے مگر سوال یہ ہے کہ ہم نے اس نعمت کو پہچانا کتنا اس کا شکر ادا کیا کتنا اور اس کی تعمیر و ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کیا کتنا؟۔آپ غور کریں گے تو آپ کو پتہ چلے گا کہ اللہ ربّ العزت نے ہمارے پیارے ملک ہندوستان کو بے شمار دینی اور دنیاوی نعمتوں سے نوازا اور یہ کہنا چاہیے کہ مالا مال فرمایا ہے جو مجموعی طور پر دوسرے ملکوں کو عام طور پر حاصل نہیں آب و ہوا موسم مختلف فصلوں اور پھلوں کی پیداوار اور کئی دوسری ایسی قدرتی نعمتیں وطن عزیز کو حاصل ہیں کہ جو عام طور پر بیش تر ملکوں کو حاصل نہیں۔ اسی کے ساتھ موجودہ پرفتن دور میں اللہ ربّ العزت نے وطن عزیز میں بعض جہات سے دین کی جو خدمات اور ان کے مواقع اور اہل علم اور اکابر کی محنتوں سے دین کا جو آزادانہ ماحول فراہم کیا ہے وہ بھی عظیم نعمت ہے جس سے بڑے بڑے مسلم ممالک بھی محروم ہیں۔اور ان چیزوں کا احساس در حقیقت ان لوگوں کو ہوتا ہے جو مختلف ممالک کے دورے کرتے اور اپنے دل و دماغ میں دین اسلام کی کچھ قدر رکھتے ہیں کسی نئی چیز یا نئی جگہ کو اول میں دیکھ کر اچھا لگ جانا ایک الگ چیز ہے اور کل جدید لذیذ کا مصداق ہے۔لیکن انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ وطن عزیز میں رہنے سہنے اور اس کی نعمتوں کو برتتے رہنے کی وجہ سے بہت سے لوگوں کے دل و دماغ میں وطن عزیز کی نعمتوں کی قدر اور ان کا احساس نہیں۔ہمارے وطن عزیز میں جس کثرت سے مدارس مساجد اور اہلِ علم و علماء کرام موجود ہیں شاید ہی دنیا کے کسی دوسرے ملک میں اس کی ایسی مثال ملے۔ اسی سرزمین سے ایسے جلیل القدر علماءِ کرام نے جنم لیا جنہوں نے نہ صرف اپنے وطن بلکہ دنیا کے مختلف ممالک میں دینِ اسلام کی ایسی عظیم خدمات انجام دیں جن کی روشن تاریخ رہتی دنیا تک فراموش نہیں کی جا سکتی۔شاید خدا نخواستہ یہ نعمتیں سلب اور زائل ہو جائیں تو پھر احساس ہو مگر اس وقت احساس کا شاید معتد بہ فائدہ نہ ہو۔دوسرا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ایک بہت بڑے طبقے نے (جس میں بعض دینی لوگوں کے ساتھ ساتھ تقریباً ہر شعبہ زندگی کے لوگ شامل ہیں ) قیام ہندوستان سے لے کر اب تک ہمیشہ وطن عزیز میں کانٹے ہی محسوس کیے اور نکالے ہیں اور خود ناشکری کا رونا رونے کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی وطن عزیز کے بارے میں برا تاثر پیش کرنے بلکہ بعض نوجوانوں کو جذباتی حد تک مایوس کرنے کا درس دینے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔جس کا نتیجہ یہ ہے کہ بعض مقتداؤں کے ساتھ عوام کا بڑا طبقہ بھی وطن عزیز کے بارے میں ہمیشہ برا تاثر ہی پیش کرتا ہے۔ذرائع ابلاغ کے ذریعے سے بھی عموماً عوام کو یہی درس دیا جاتا ہے کہ وطن عزیز میں یہ ہو گیا وہ ہو گیا یہاں یہ نہیں ہے وہ نہیں ہے اور ملک تباہ ہو چکا ہے یا ہونے والا ہے وغیرہ وغیرہ۔اس کا بہت بڑا نقصان یہ ہے کہ عوام میں تعمیر و ترقی کے جذبہ کے بجائے کم ہمتی اور مایوسی جیسے رجحانات پیدا ہوتے بڑھتے اور ترقی کرتے ہیں۔اولاً تو اچھے اور مثبت پہلوؤں کو چھوڑ کر ہمیشہ منفی اور برے پہلوؤں کا ہی رونا روتے رہنا نا انصافی ہے انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ ہر چیز کو اپنے مقام پر رکھا جائے اور مثبت و منفی اور اچھی و بری چیز کو اپنے اپنے درجہ پر رکھا جائے۔دوسرے اگر کچھ برائیاں اور خرابیاں بھی ہیں تو محض ان کا رونا روتے رہنا مسائل کا حل نہیں بلکہ ان کے حل اور تعمیر و ترقی کے لیے اپنا اپنا کردار ادا کرنا ضروری ہے۔ہمیں اپنی نئی نسل کو صرف یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ملک میں کیا خراب ہے بلکہ یہ بھی بتانا ضروری ہے کہ اس ملک میں ہمارے لیے کیا کچھ اچھا ہے ہمارے بزرگوں نے اس کی تعمیر و ترقی میں کیا کردار ادا کیا اور آج ہماری ذمہ داری کیا ہے۔ اگر ہم ہر وقت نوجوانوں کے سامنے مایوسی بے بسی اور ناکامی کی تصویر پیش کرتے رہیں گے تو ان کے اندر تعمیر کا جذبہ کیسے پیدا ہوگا؟ قومیں صرف شکایتوں سے ترقی نہیں کرتیں بلکہ امید محنت علم اچھے کردار اور مسلسل جدوجہد سے آگے بڑھتی ہیں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ وطن عزیز میں بہت سی مشکلات اور مسائل موجود ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ جہاں ظلم ہو وہاں ظلم کے خلاف آواز اٹھانا جہاں ناانصافی ہو وہاں انصاف کا مطالبہ کرنا اور جہاں اصلاح کی ضرورت ہو وہاں اصلاح کی کوشش کرنا ہماری ذمہ داری ہے لیکن اصلاح اور مایوسی میں فرق ہے۔ تنقید اور تخریب میں فرق ہے۔ ہمیں ایسی تنقید کی ضرورت ہے جو اصلاح کا راستہ دکھائے ایسی گفتگو کی ضرورت ہے جو امید پیدا کرے اور ایسی فکر کی ضرورت ہے جو نوجوانوں کو حالات کا شکوہ کرنے کے بجائے حالات بدلنے کے لیے تیار کرے۔ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ملک کسی ایک طبقے قوم یا مذہب کی جاگیر نہیں ہوتا۔ جو لوگ اس سرزمین میں رہتے ہیں اور ہواؤں میں سانس لیتے ہیں اس کا پانی پیتے ہیں اور اس کے وسائل سے فائدہ اٹھاتے ہیں ان سب کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس ملک کی بھلائی کے لیے اپنا حصہ ادا کریں۔ مسلمان ہونے کے ناتے ہمیں اپنے دینی تشخص اخلاق و کردار اور اپنے بزرگوں کی قربانیوں کو سامنے رکھتے ہوئے وطن عزیز کے امن سلامتی اور ترقی میں مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔اس لیے کہ مایوسی اور منفی چیزوں کا سبق بہت مدت تک پڑھ لیا اور ایک بہت بڑے طبقے کو جذباتی بنا کر وطن عزیز کی تباہی و بربادی کے لیے تیار کر لیا اب یہ سلسلہ موقوف ہونا چاہیے اور وطن عزیز کی قدر و قیمت کو پہچاننا چاہیے اور دوسروں کو بھی اس کی اہمیت کا احساس دلانا چاہیے اور ہمت و حوصلہ بلند رکھنے کے ساتھ تعمیر و ترقی کے لیے مل جل کر کام کرنا چاہیے۔وطن عزیز کی بہتری صرف حکومتوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ہر شخص اپنے دائرۂ کار میں اخلاص کے ساتھ اپنا کردار ادا کرے تو چھوٹی چھوٹی کوششیں مل کر بڑی تبدیلی کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ آج اگر ہم نے مایوسی کے بجائے امید شکایت کے بجائے عمل اور نفرت کے بجائے خیر خواہی کا راستہ اختیار کر لیا تو یقیناً آنے والی نسلیں ہمیں دعاؤں میں یاد کریں گی۔اللہ رب العزت ہمارے وطن عزیز کو امن سلامتی خوشحالی اور ترقی عطا فرمائے اور ہمیں اس کی بھلائی و تعمیر میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین ۔




















