ہفتہ, نومبر 7, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
جہازی میڈیا۔۔۔ نظریوں کا نیٹ ورک
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
     آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

     آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

    قاضی سید کمال الدین ثانی رح: جن کی نسبت سے صاحب پور کمال آباد ہے

    قاضی سید کمال الدین ثانی رح: جن کی نسبت سے صاحب پور کمال آباد ہے

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری کے اچھے دن!

    طریقہ تعلیم پر اہل حدیث عالم کا نظریہ

    متحدہ قومیت پر اہل حدیث عالم مولانا عبد الوہاب آروی کا نظریہ

    اجلاس اور تجاویز

    محمد یاسین جہازی

    مسئلہ آسام اور جمعیت علمائے ہند

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    بھارت میں فرقہ وارانہ اتحاد و انتشار کی راہ

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (15)۔ جہازی فارمولے

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    بسنترائے جمعیت علما کی مجلس منتظمہ کے دوسرے اجلاس کا انعقاد

    بسنترائے جمعیت علما کی مجلس منتظمہ کے دوسرے اجلاس کا انعقاد

    جمعیت علمائے بسنت رائے کی سکریٹری رپورٹ کا خلاصہ

    جمعیت علمائے بسنت رائے کی سکریٹری رپورٹ کا خلاصہ

    جمعیت علمائے بسنت رائے کی مجلس منتظمہ کے اجلاس میں منظور کردہ تجاویز

    جمعیت علمائے بسنت رائے کی مجلس منتظمہ کے اجلاس میں منظور کردہ تجاویز

    IMG-20261019-WA0106

    مدرسہ دارالعلوم انوارِ صحابہ، مکتاپور، چندن کیاری، بوکارو: ایک مختصر تعارف اور یادگار حاضری

    جمعیت علمائے ہند کے 106سال مکمل، تاسیس کی مستند کہانی

    جمعیت کے اعلامیہ کاظلم کے آگے نہ جھکنے کا اعلان

     آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

    ریس کورس مسجد کو انہدامی نوٹس غیر قانونی اور غیر دستوری ہے: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈبی جے پی حکومتوں کے دور میں مساجد اور مدارس کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں انتہائی تشویشناک ہیں

    آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

    وہی تنظیم قائم رہتی ہے، جو وقت کے ساتھ ہم آہنگ ہوتی ہے

    تو ہم کہہ دیں گے کہ یہ ملک ہندو اسٹیٹ بن گیا ہے

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم

    تھورنا ڈائک(Edward Thorndike)  کا قانون تعلیم

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
     آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

     آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

    قاضی سید کمال الدین ثانی رح: جن کی نسبت سے صاحب پور کمال آباد ہے

    قاضی سید کمال الدین ثانی رح: جن کی نسبت سے صاحب پور کمال آباد ہے

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری کے اچھے دن!

    طریقہ تعلیم پر اہل حدیث عالم کا نظریہ

    متحدہ قومیت پر اہل حدیث عالم مولانا عبد الوہاب آروی کا نظریہ

    اجلاس اور تجاویز

    محمد یاسین جہازی

    مسئلہ آسام اور جمعیت علمائے ہند

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    بھارت میں فرقہ وارانہ اتحاد و انتشار کی راہ

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (15)۔ جہازی فارمولے

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    بسنترائے جمعیت علما کی مجلس منتظمہ کے دوسرے اجلاس کا انعقاد

    بسنترائے جمعیت علما کی مجلس منتظمہ کے دوسرے اجلاس کا انعقاد

    جمعیت علمائے بسنت رائے کی سکریٹری رپورٹ کا خلاصہ

    جمعیت علمائے بسنت رائے کی سکریٹری رپورٹ کا خلاصہ

    جمعیت علمائے بسنت رائے کی مجلس منتظمہ کے اجلاس میں منظور کردہ تجاویز

    جمعیت علمائے بسنت رائے کی مجلس منتظمہ کے اجلاس میں منظور کردہ تجاویز

    IMG-20261019-WA0106

    مدرسہ دارالعلوم انوارِ صحابہ، مکتاپور، چندن کیاری، بوکارو: ایک مختصر تعارف اور یادگار حاضری

    جمعیت علمائے ہند کے 106سال مکمل، تاسیس کی مستند کہانی

    جمعیت کے اعلامیہ کاظلم کے آگے نہ جھکنے کا اعلان

     آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

    ریس کورس مسجد کو انہدامی نوٹس غیر قانونی اور غیر دستوری ہے: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈبی جے پی حکومتوں کے دور میں مساجد اور مدارس کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں انتہائی تشویشناک ہیں

    آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

    وہی تنظیم قائم رہتی ہے، جو وقت کے ساتھ ہم آہنگ ہوتی ہے

    تو ہم کہہ دیں گے کہ یہ ملک ہندو اسٹیٹ بن گیا ہے

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم

    تھورنا ڈائک(Edward Thorndike)  کا قانون تعلیم

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
جہازی میڈیا۔۔۔ نظریوں کا نیٹ ورک
No Result
View All Result
Home قومی و بین الاقوامی

کیا ہم نے اپنے وطن کی قدر کرنا چھوڑ دیا ہے؟

by Admin
اگست 8, 2026
in قومی و بین الاقوامی
0
کیا یورپ واقعی سونے کی چڑیا ہے؟
0
SHARES
6
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

محمد عادل ارریاوی*24 صفر المظفر 1448ھ________________________________

کبھی کبھی نعمت ہمارے اتنی قریب ہوتی ہے کہ ہمیں نعمت دکھائی ہی نہیں دیتی۔ ہم جس مٹی پر روز چلتے ہیں جس فضا میں سانس لیتے ہیں اور جن سہولتوں کو معمول سمجھ کر استعمال کرتے ہیں ان کی قدر کا احساس اکثر اس وقت ہوتا ہے جب انسان ان سے دور ہو جائے۔ وطن عزیز ہندوستان بھی اللہ رب العزت کی بے شمار نعمتوں کا حسین مجموعہ ہے مگر سوال یہ ہے کہ ہم نے اس نعمت کو پہچانا کتنا اس کا شکر ادا کیا کتنا اور اس کی تعمیر و ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کیا کتنا؟۔آپ غور کریں گے تو آپ کو پتہ چلے گا کہ اللہ ربّ العزت نے ہمارے پیارے ملک ہندوستان کو بے شمار دینی اور دنیاوی نعمتوں سے نوازا اور یہ کہنا چاہیے کہ مالا مال فرمایا ہے جو مجموعی طور پر دوسرے ملکوں کو عام طور پر حاصل نہیں آب و ہوا موسم مختلف فصلوں اور پھلوں کی پیداوار اور کئی دوسری ایسی قدرتی نعمتیں وطن عزیز کو حاصل ہیں کہ جو عام طور پر بیش تر ملکوں کو حاصل نہیں۔ اسی کے ساتھ موجودہ پرفتن دور میں اللہ ربّ العزت نے وطن عزیز میں بعض جہات سے دین کی جو خدمات اور ان کے مواقع اور اہل علم اور اکابر کی محنتوں سے دین کا جو آزادانہ ماحول فراہم کیا ہے وہ بھی عظیم نعمت ہے جس سے بڑے بڑے مسلم ممالک بھی محروم ہیں۔اور ان چیزوں کا احساس در حقیقت ان لوگوں کو ہوتا ہے جو مختلف ممالک کے دورے کرتے اور اپنے دل و دماغ میں دین اسلام کی کچھ قدر رکھتے ہیں کسی نئی چیز یا نئی جگہ کو اول میں دیکھ کر اچھا لگ جانا ایک الگ چیز ہے اور کل جدید لذیذ کا مصداق ہے۔لیکن انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ وطن عزیز میں رہنے سہنے اور اس کی نعمتوں کو برتتے رہنے کی وجہ سے بہت سے لوگوں کے دل و دماغ میں وطن عزیز کی نعمتوں کی قدر اور ان کا احساس نہیں۔ہمارے وطن عزیز میں جس کثرت سے مدارس مساجد اور اہلِ علم و علماء کرام موجود ہیں شاید ہی دنیا کے کسی دوسرے ملک میں اس کی ایسی مثال ملے۔ اسی سرزمین سے ایسے جلیل القدر علماءِ کرام نے جنم لیا جنہوں نے نہ صرف اپنے وطن بلکہ دنیا کے مختلف ممالک میں دینِ اسلام کی ایسی عظیم خدمات انجام دیں جن کی روشن تاریخ رہتی دنیا تک فراموش نہیں کی جا سکتی۔شاید خدا نخواستہ یہ نعمتیں سلب اور زائل ہو جائیں تو پھر احساس ہو مگر اس وقت احساس کا شاید معتد بہ فائدہ نہ ہو۔دوسرا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ایک بہت بڑے طبقے نے (جس میں بعض دینی لوگوں کے ساتھ ساتھ تقریباً ہر شعبہ زندگی کے لوگ شامل ہیں ) قیام ہندوستان سے لے کر اب تک ہمیشہ وطن عزیز میں کانٹے ہی محسوس کیے اور نکالے ہیں اور خود ناشکری کا رونا رونے کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی وطن عزیز کے بارے میں برا تاثر پیش کرنے بلکہ بعض نوجوانوں کو جذباتی حد تک مایوس کرنے کا درس دینے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔جس کا نتیجہ یہ ہے کہ بعض مقتداؤں کے ساتھ عوام کا بڑا طبقہ بھی وطن عزیز کے بارے میں ہمیشہ برا تاثر ہی پیش کرتا ہے۔ذرائع ابلاغ کے ذریعے سے بھی عموماً عوام کو یہی درس دیا جاتا ہے کہ وطن عزیز میں یہ ہو گیا وہ ہو گیا یہاں یہ نہیں ہے وہ نہیں ہے اور ملک تباہ ہو چکا ہے یا ہونے والا ہے وغیرہ وغیرہ۔اس کا بہت بڑا نقصان یہ ہے کہ عوام میں تعمیر و ترقی کے جذبہ کے بجائے کم ہمتی اور مایوسی جیسے رجحانات پیدا ہوتے بڑھتے اور ترقی کرتے ہیں۔اولاً تو اچھے اور مثبت پہلوؤں کو چھوڑ کر ہمیشہ منفی اور برے پہلوؤں کا ہی رونا روتے رہنا نا انصافی ہے انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ ہر چیز کو اپنے مقام پر رکھا جائے اور مثبت و منفی اور اچھی و بری چیز کو اپنے اپنے درجہ پر رکھا جائے۔دوسرے اگر کچھ برائیاں اور خرابیاں بھی ہیں تو محض ان کا رونا روتے رہنا مسائل کا حل نہیں بلکہ ان کے حل اور تعمیر و ترقی کے لیے اپنا اپنا کردار ادا کرنا ضروری ہے۔ہمیں اپنی نئی نسل کو صرف یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ملک میں کیا خراب ہے بلکہ یہ بھی بتانا ضروری ہے کہ اس ملک میں ہمارے لیے کیا کچھ اچھا ہے ہمارے بزرگوں نے اس کی تعمیر و ترقی میں کیا کردار ادا کیا اور آج ہماری ذمہ داری کیا ہے۔ اگر ہم ہر وقت نوجوانوں کے سامنے مایوسی بے بسی اور ناکامی کی تصویر پیش کرتے رہیں گے تو ان کے اندر تعمیر کا جذبہ کیسے پیدا ہوگا؟ قومیں صرف شکایتوں سے ترقی نہیں کرتیں بلکہ امید محنت علم اچھے کردار اور مسلسل جدوجہد سے آگے بڑھتی ہیں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ وطن عزیز میں بہت سی مشکلات اور مسائل موجود ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ جہاں ظلم ہو وہاں ظلم کے خلاف آواز اٹھانا جہاں ناانصافی ہو وہاں انصاف کا مطالبہ کرنا اور جہاں اصلاح کی ضرورت ہو وہاں اصلاح کی کوشش کرنا ہماری ذمہ داری ہے لیکن اصلاح اور مایوسی میں فرق ہے۔ تنقید اور تخریب میں فرق ہے۔ ہمیں ایسی تنقید کی ضرورت ہے جو اصلاح کا راستہ دکھائے ایسی گفتگو کی ضرورت ہے جو امید پیدا کرے اور ایسی فکر کی ضرورت ہے جو نوجوانوں کو حالات کا شکوہ کرنے کے بجائے حالات بدلنے کے لیے تیار کرے۔ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ملک کسی ایک طبقے قوم یا مذہب کی جاگیر نہیں ہوتا۔ جو لوگ اس سرزمین میں رہتے ہیں اور ہواؤں میں سانس لیتے ہیں اس کا پانی پیتے ہیں اور اس کے وسائل سے فائدہ اٹھاتے ہیں ان سب کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس ملک کی بھلائی کے لیے اپنا حصہ ادا کریں۔ مسلمان ہونے کے ناتے ہمیں اپنے دینی تشخص اخلاق و کردار اور اپنے بزرگوں کی قربانیوں کو سامنے رکھتے ہوئے وطن عزیز کے امن سلامتی اور ترقی میں مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔اس لیے کہ مایوسی اور منفی چیزوں کا سبق بہت مدت تک پڑھ لیا اور ایک بہت بڑے طبقے کو جذباتی بنا کر وطن عزیز کی تباہی و بربادی کے لیے تیار کر لیا اب یہ سلسلہ موقوف ہونا چاہیے اور وطن عزیز کی قدر و قیمت کو پہچاننا چاہیے اور دوسروں کو بھی اس کی اہمیت کا احساس دلانا چاہیے اور ہمت و حوصلہ بلند رکھنے کے ساتھ تعمیر و ترقی کے لیے مل جل کر کام کرنا چاہیے۔وطن عزیز کی بہتری صرف حکومتوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ہر شخص اپنے دائرۂ کار میں اخلاص کے ساتھ اپنا کردار ادا کرے تو چھوٹی چھوٹی کوششیں مل کر بڑی تبدیلی کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ آج اگر ہم نے مایوسی کے بجائے امید شکایت کے بجائے عمل اور نفرت کے بجائے خیر خواہی کا راستہ اختیار کر لیا تو یقیناً آنے والی نسلیں ہمیں دعاؤں میں یاد کریں گی۔اللہ رب العزت ہمارے وطن عزیز کو امن سلامتی خوشحالی اور ترقی عطا فرمائے اور ہمیں اس کی بھلائی و تعمیر میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین ۔

Admin

Admin

Next Post

درس قرآن کی مجلس میں ضرور شرکت کریں: نائب امیر الہند مفتی محمد سلمان منصور پوری استاذ دارالعلوم دیوبند کا بیان

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

مولانا محمود مدنی

دل پل میں تولہ ہوتا ہے اور پل میں ماشا: مولانا محمود مدنی صاحب

3 مہینے ago

پاکستان کا بھوت کھڑا کرکے ہندستانی مسلمانوں کو مرعوب نہیں کیا جاسکتا

4 مہینے ago

مقبول

  • بسنترائے جمعیت علما کی مجلس منتظمہ کے دوسرے اجلاس کا انعقاد

    بسنترائے جمعیت علما کی مجلس منتظمہ کے دوسرے اجلاس کا انعقاد

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • جمعیت علمائے بسنت رائے کی سکریٹری رپورٹ کا خلاصہ

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • جمعیت علمائے بسنت رائے کی مجلس منتظمہ کے اجلاس میں منظور کردہ تجاویز

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • ارتداد کی روک تھام کے لیے دو اہم اور قابلِ عمل طریقے

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • تجاویز: آٹھواں فقہی سیمینار مجلس تحقیقات شرعیہ ندوة العلماء، لکھنؤ

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیت علمائے ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • متفرق مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.