ہفتہ, اگست 8, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی

    بچوں کو کھیل کھیل میں تعلیم کے 27 طریقے: سید الملت حضرت مولانا محمد میاں صاحب نور اللہ مرقدہ

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    بھارت کی موجودہ حکومت،ایسٹ انڈیا کمپنی کی راہ پر!

    محمد یاسین جہازی

    تدریس کے 35 جدید طریقے

    ایجوکیشن کمیشن اور مدارسِ اسلامیہ

    ایجوکیشن کمیشن اور مدارسِ اسلامیہ

    نسلِ جدید

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    حضرت العلامہ معین الدین اجمیری رحمۃ اللہ علیہ

    سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا  سے جہازی مکالمات

    جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    اصلاح معاشرہ کانفرنس لوگائیں گڈا (22مئی 2009ء)کی ایک رپورٹ

    محمد یاسین جہازی

    پاکستان اور ہندستانی مسلمان

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں

    بھارت چھوڑو تحریک” کا سبق – صرف ماضی کی یاد نہیں، حال کی رہنمائی بھی ہےایم. ڈبلیو. انصاری (آئی.پی. ایس) ریٹائرڈ، ڈی. جی

    قانون کو ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں، قصورواروں کو فوری گرفتار کیا جائے: جمعیۃ علماء جھارکھنڈ

    قانون کو ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں، قصورواروں کو فوری گرفتار کیا جائے: جمعیۃ علماء جھارکھنڈ

    وندے ماترم کو قانونی لزوم دینا مذہبی و آئینی آزادی پر حملہ ہےآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کا ایک سہ روزہ سمر کیمپ کا افتتاحی پروگرام

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کا ایک سہ روزہ سمر کیمپ کا افتتاحی پروگرام

    مہاراشٹر میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی مخالفت کی جائے گی: مولانا حلیم اللہ قاسمی

    مہاراشٹر میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی مخالفت کی جائے گی: مولانا حلیم اللہ قاسمی

    بسنت رائے میں ” گلوبل ٹریول” حج و عمرہ دفتر کا شاندار افتتاح

    بسنت رائے میں ” گلوبل ٹریول” حج و عمرہ دفتر کا شاندار افتتاح

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    فرقہ پرستوں کا ایک اہم اعتراض اور اس کا جواب

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    ہماری مساجد کی تعمیر ہماری ذمہ داری

    عورت کا وقار، قانون کی تعبیر اور انصاف کا امتحان

    عورت کا وقار، قانون کی تعبیر اور انصاف کا امتحان

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی

    بچوں کو کھیل کھیل میں تعلیم کے 27 طریقے: سید الملت حضرت مولانا محمد میاں صاحب نور اللہ مرقدہ

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    بھارت کی موجودہ حکومت،ایسٹ انڈیا کمپنی کی راہ پر!

    محمد یاسین جہازی

    تدریس کے 35 جدید طریقے

    ایجوکیشن کمیشن اور مدارسِ اسلامیہ

    ایجوکیشن کمیشن اور مدارسِ اسلامیہ

    نسلِ جدید

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    حضرت العلامہ معین الدین اجمیری رحمۃ اللہ علیہ

    سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا  سے جہازی مکالمات

    جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    اصلاح معاشرہ کانفرنس لوگائیں گڈا (22مئی 2009ء)کی ایک رپورٹ

    محمد یاسین جہازی

    پاکستان اور ہندستانی مسلمان

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں

    بھارت چھوڑو تحریک” کا سبق – صرف ماضی کی یاد نہیں، حال کی رہنمائی بھی ہےایم. ڈبلیو. انصاری (آئی.پی. ایس) ریٹائرڈ، ڈی. جی

    قانون کو ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں، قصورواروں کو فوری گرفتار کیا جائے: جمعیۃ علماء جھارکھنڈ

    قانون کو ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں، قصورواروں کو فوری گرفتار کیا جائے: جمعیۃ علماء جھارکھنڈ

    وندے ماترم کو قانونی لزوم دینا مذہبی و آئینی آزادی پر حملہ ہےآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کا ایک سہ روزہ سمر کیمپ کا افتتاحی پروگرام

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کا ایک سہ روزہ سمر کیمپ کا افتتاحی پروگرام

    مہاراشٹر میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی مخالفت کی جائے گی: مولانا حلیم اللہ قاسمی

    مہاراشٹر میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی مخالفت کی جائے گی: مولانا حلیم اللہ قاسمی

    بسنت رائے میں ” گلوبل ٹریول” حج و عمرہ دفتر کا شاندار افتتاح

    بسنت رائے میں ” گلوبل ٹریول” حج و عمرہ دفتر کا شاندار افتتاح

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    فرقہ پرستوں کا ایک اہم اعتراض اور اس کا جواب

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    ہماری مساجد کی تعمیر ہماری ذمہ داری

    عورت کا وقار، قانون کی تعبیر اور انصاف کا امتحان

    عورت کا وقار، قانون کی تعبیر اور انصاف کا امتحان

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
No Result
View All Result
Home قومی و بین الاقوامی

کیا ہم نے اپنے وطن کی قدر کرنا چھوڑ دیا ہے؟

by Admin
اگست 8, 2026
in قومی و بین الاقوامی
0
کیا یورپ واقعی سونے کی چڑیا ہے؟
0
SHARES
1
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

محمد عادل ارریاوی*24 صفر المظفر 1448ھ________________________________

کبھی کبھی نعمت ہمارے اتنی قریب ہوتی ہے کہ ہمیں نعمت دکھائی ہی نہیں دیتی۔ ہم جس مٹی پر روز چلتے ہیں جس فضا میں سانس لیتے ہیں اور جن سہولتوں کو معمول سمجھ کر استعمال کرتے ہیں ان کی قدر کا احساس اکثر اس وقت ہوتا ہے جب انسان ان سے دور ہو جائے۔ وطن عزیز ہندوستان بھی اللہ رب العزت کی بے شمار نعمتوں کا حسین مجموعہ ہے مگر سوال یہ ہے کہ ہم نے اس نعمت کو پہچانا کتنا اس کا شکر ادا کیا کتنا اور اس کی تعمیر و ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کیا کتنا؟۔آپ غور کریں گے تو آپ کو پتہ چلے گا کہ اللہ ربّ العزت نے ہمارے پیارے ملک ہندوستان کو بے شمار دینی اور دنیاوی نعمتوں سے نوازا اور یہ کہنا چاہیے کہ مالا مال فرمایا ہے جو مجموعی طور پر دوسرے ملکوں کو عام طور پر حاصل نہیں آب و ہوا موسم مختلف فصلوں اور پھلوں کی پیداوار اور کئی دوسری ایسی قدرتی نعمتیں وطن عزیز کو حاصل ہیں کہ جو عام طور پر بیش تر ملکوں کو حاصل نہیں۔ اسی کے ساتھ موجودہ پرفتن دور میں اللہ ربّ العزت نے وطن عزیز میں بعض جہات سے دین کی جو خدمات اور ان کے مواقع اور اہل علم اور اکابر کی محنتوں سے دین کا جو آزادانہ ماحول فراہم کیا ہے وہ بھی عظیم نعمت ہے جس سے بڑے بڑے مسلم ممالک بھی محروم ہیں۔اور ان چیزوں کا احساس در حقیقت ان لوگوں کو ہوتا ہے جو مختلف ممالک کے دورے کرتے اور اپنے دل و دماغ میں دین اسلام کی کچھ قدر رکھتے ہیں کسی نئی چیز یا نئی جگہ کو اول میں دیکھ کر اچھا لگ جانا ایک الگ چیز ہے اور کل جدید لذیذ کا مصداق ہے۔لیکن انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ وطن عزیز میں رہنے سہنے اور اس کی نعمتوں کو برتتے رہنے کی وجہ سے بہت سے لوگوں کے دل و دماغ میں وطن عزیز کی نعمتوں کی قدر اور ان کا احساس نہیں۔ہمارے وطن عزیز میں جس کثرت سے مدارس مساجد اور اہلِ علم و علماء کرام موجود ہیں شاید ہی دنیا کے کسی دوسرے ملک میں اس کی ایسی مثال ملے۔ اسی سرزمین سے ایسے جلیل القدر علماءِ کرام نے جنم لیا جنہوں نے نہ صرف اپنے وطن بلکہ دنیا کے مختلف ممالک میں دینِ اسلام کی ایسی عظیم خدمات انجام دیں جن کی روشن تاریخ رہتی دنیا تک فراموش نہیں کی جا سکتی۔شاید خدا نخواستہ یہ نعمتیں سلب اور زائل ہو جائیں تو پھر احساس ہو مگر اس وقت احساس کا شاید معتد بہ فائدہ نہ ہو۔دوسرا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ایک بہت بڑے طبقے نے (جس میں بعض دینی لوگوں کے ساتھ ساتھ تقریباً ہر شعبہ زندگی کے لوگ شامل ہیں ) قیام ہندوستان سے لے کر اب تک ہمیشہ وطن عزیز میں کانٹے ہی محسوس کیے اور نکالے ہیں اور خود ناشکری کا رونا رونے کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی وطن عزیز کے بارے میں برا تاثر پیش کرنے بلکہ بعض نوجوانوں کو جذباتی حد تک مایوس کرنے کا درس دینے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔جس کا نتیجہ یہ ہے کہ بعض مقتداؤں کے ساتھ عوام کا بڑا طبقہ بھی وطن عزیز کے بارے میں ہمیشہ برا تاثر ہی پیش کرتا ہے۔ذرائع ابلاغ کے ذریعے سے بھی عموماً عوام کو یہی درس دیا جاتا ہے کہ وطن عزیز میں یہ ہو گیا وہ ہو گیا یہاں یہ نہیں ہے وہ نہیں ہے اور ملک تباہ ہو چکا ہے یا ہونے والا ہے وغیرہ وغیرہ۔اس کا بہت بڑا نقصان یہ ہے کہ عوام میں تعمیر و ترقی کے جذبہ کے بجائے کم ہمتی اور مایوسی جیسے رجحانات پیدا ہوتے بڑھتے اور ترقی کرتے ہیں۔اولاً تو اچھے اور مثبت پہلوؤں کو چھوڑ کر ہمیشہ منفی اور برے پہلوؤں کا ہی رونا روتے رہنا نا انصافی ہے انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ ہر چیز کو اپنے مقام پر رکھا جائے اور مثبت و منفی اور اچھی و بری چیز کو اپنے اپنے درجہ پر رکھا جائے۔دوسرے اگر کچھ برائیاں اور خرابیاں بھی ہیں تو محض ان کا رونا روتے رہنا مسائل کا حل نہیں بلکہ ان کے حل اور تعمیر و ترقی کے لیے اپنا اپنا کردار ادا کرنا ضروری ہے۔ہمیں اپنی نئی نسل کو صرف یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ملک میں کیا خراب ہے بلکہ یہ بھی بتانا ضروری ہے کہ اس ملک میں ہمارے لیے کیا کچھ اچھا ہے ہمارے بزرگوں نے اس کی تعمیر و ترقی میں کیا کردار ادا کیا اور آج ہماری ذمہ داری کیا ہے۔ اگر ہم ہر وقت نوجوانوں کے سامنے مایوسی بے بسی اور ناکامی کی تصویر پیش کرتے رہیں گے تو ان کے اندر تعمیر کا جذبہ کیسے پیدا ہوگا؟ قومیں صرف شکایتوں سے ترقی نہیں کرتیں بلکہ امید محنت علم اچھے کردار اور مسلسل جدوجہد سے آگے بڑھتی ہیں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ وطن عزیز میں بہت سی مشکلات اور مسائل موجود ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ جہاں ظلم ہو وہاں ظلم کے خلاف آواز اٹھانا جہاں ناانصافی ہو وہاں انصاف کا مطالبہ کرنا اور جہاں اصلاح کی ضرورت ہو وہاں اصلاح کی کوشش کرنا ہماری ذمہ داری ہے لیکن اصلاح اور مایوسی میں فرق ہے۔ تنقید اور تخریب میں فرق ہے۔ ہمیں ایسی تنقید کی ضرورت ہے جو اصلاح کا راستہ دکھائے ایسی گفتگو کی ضرورت ہے جو امید پیدا کرے اور ایسی فکر کی ضرورت ہے جو نوجوانوں کو حالات کا شکوہ کرنے کے بجائے حالات بدلنے کے لیے تیار کرے۔ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ملک کسی ایک طبقے قوم یا مذہب کی جاگیر نہیں ہوتا۔ جو لوگ اس سرزمین میں رہتے ہیں اور ہواؤں میں سانس لیتے ہیں اس کا پانی پیتے ہیں اور اس کے وسائل سے فائدہ اٹھاتے ہیں ان سب کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس ملک کی بھلائی کے لیے اپنا حصہ ادا کریں۔ مسلمان ہونے کے ناتے ہمیں اپنے دینی تشخص اخلاق و کردار اور اپنے بزرگوں کی قربانیوں کو سامنے رکھتے ہوئے وطن عزیز کے امن سلامتی اور ترقی میں مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔اس لیے کہ مایوسی اور منفی چیزوں کا سبق بہت مدت تک پڑھ لیا اور ایک بہت بڑے طبقے کو جذباتی بنا کر وطن عزیز کی تباہی و بربادی کے لیے تیار کر لیا اب یہ سلسلہ موقوف ہونا چاہیے اور وطن عزیز کی قدر و قیمت کو پہچاننا چاہیے اور دوسروں کو بھی اس کی اہمیت کا احساس دلانا چاہیے اور ہمت و حوصلہ بلند رکھنے کے ساتھ تعمیر و ترقی کے لیے مل جل کر کام کرنا چاہیے۔وطن عزیز کی بہتری صرف حکومتوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ہر شخص اپنے دائرۂ کار میں اخلاص کے ساتھ اپنا کردار ادا کرے تو چھوٹی چھوٹی کوششیں مل کر بڑی تبدیلی کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ آج اگر ہم نے مایوسی کے بجائے امید شکایت کے بجائے عمل اور نفرت کے بجائے خیر خواہی کا راستہ اختیار کر لیا تو یقیناً آنے والی نسلیں ہمیں دعاؤں میں یاد کریں گی۔اللہ رب العزت ہمارے وطن عزیز کو امن سلامتی خوشحالی اور ترقی عطا فرمائے اور ہمیں اس کی بھلائی و تعمیر میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین ۔

Admin

Admin

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

جمعیت علمائے ہند کے 106سال مکمل، تاسیس کی مستند کہانی

جمعیت علمائے ہند کے 106سال مکمل، تاسیس کی مستند کہانی

9 مہینے ago
دو سادہ نکاح، سنتی طرزِ عمل کی عملی مثال — فضول رسومات کے خلاف بامعنی پیغام

دو سادہ نکاح، سنتی طرزِ عمل کی عملی مثال — فضول رسومات کے خلاف بامعنی پیغام

2 مہینے ago

مقبول

  • آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    بچوں کو کہانیوں کے ذریعے تعلیم دینے کے نفسیاتی طریقے

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • کیا ہم نے اپنے وطن کی قدر کرنا چھوڑ دیا ہے؟

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • بھارت چھوڑو تحریک” کا سبق – صرف ماضی کی یاد نہیں، حال کی رہنمائی بھی ہےایم. ڈبلیو. انصاری (آئی.پی. ایس) ریٹائرڈ، ڈی. جی

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • کھلونا پر مبنی تدریس (Toy-Based Learning)

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • طرحی غزل

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیت علمائے ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • متفرق مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.