بیان: 25/ نومبر 2025
بمقام: دفتر جمعیت علمائے ہند مسجد عبد النبی نئی دہلی
بسم الله الرحمن الرحيم
إن الله وملائكته يصلون على النبي يا أيها الذين آمنوا صلوا عليه وسلموا تسليماصدق الله مولانا العلي العظيم
محضرات علمائے کرام، حاضرین و محترم!جمعیت علماء ہند کے تعمیری پروگرام میں ایک اہم جز یہ ہے کہ جابجا درسِ قرآن کریم کا سلسلہ جاری کیا جائے۔ چونکہ ہدایت کی تاثیر جیسی اللہ تعالی کے کلام میں ہو سکتی ہے، وہ کسی مخلوق کے کلام میں نہیں ہو سکتی۔ اور امت کو زیادہ سے زیادہ قرآن کریم سے جوڑنے کی اور وابستہ کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ قرآن کریم روشنی کا مینار، العروة الوثقیٰ ہے، جو بھی اس سے وابستہ ہو جائے گا، انشاء اللہ اس کا دنیا آخرت میں بیڑا پار ہو جائے گا۔ہمارے اکابر رحمہ اللہ نے اس سلسلے میں جابجا محنتیں فرمائیں اور جہاں جہاں بھی یہ سلسلہ جاری ہوا، عوام و خواص میں اس کے فوائد و ثمرات ظاہر ہوئے۔ اسی مناسبت سے یہاں مرکزی دفتر میں ہر روز عصر کے بعد کچھ دیر درسِ قرآن کا سلسلہ جاری کیا گیا ہے تاکہ یہ یاد دہانی کا اور دوسرے لوگوں کو اپنے اپنے مقامات پر جا کر اس سلسلے کو جاری کرنے کا ذریعہ بن جائے۔مولانا یاسین صاحب روزانہ اس کو بیان فرماتے ہیں۔ جس کو بھی موقع ہو، پانچ دس منٹ کی بات ہے، وہ اپنی قربانی دے کر اس میں شریک ہونا چاہیے۔ یہ نہیں کہ بس سلام پھیرا اور چل دیے۔ کوئی بات قرآن پاک کی کان میں پڑ جائے گی تو انشاء اللہ ضرور نفع بخش ہوگی۔اس وقت آپ کے سامنے ایک آیت پڑھی ہے جو بار بار آپ نے سنی ہوگی، اور جمعہ کے خطبے میں بھی، دوسرے خطبے میں بھی پڑھی جاتی ہے۔ اور چونکہ آج جمعہ کا دن بھی ہے، اس لیے مزید اس کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ اللہ تبارک و تعالی فرما رہے ہیں کہ اللہ تعالی اور تمام فرشتے پیغمبر علیہ السلام پر صلاۃ بھیجتے ہیں۔اور صلاۃ کی نسبت جب اللہ تعالی کی طرف ہوتی ہے، تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نبی پر رحمتیں نازل فرماتے ہیں۔ بے شمار رحمتیں ہر وقت پیغمبر علیہ السلام پر نازل ہوتی ہیں۔ اور فرشتوں کی طرف جب صلاۃ کی نسبت ہوگی تو مطلب یہ ہے فرشتے دعائے رحمت کرتے ہیں۔اور فرشتے ایک دو نہیں ہیں، لاکھوں، لاکھ، کروڑوں، کروڑ، اربوں، ارب، کھربوں، کھرب ہیں۔ وما يعلم جنود ربك إلا هو (اللہ تعالی نے فرمایا کہ تیرے رب کے لشکروں کو رب کے علاوہ کوئی جانتا ہی نہیں)۔ اور سب فرشتے الملائکہ میں، الف لام جو ہے عموم کو ثابت کرنے کے لیے، تمام فرشتے پیغمبر علیہ السلام خاتم النبیین علیہ الصلوۃ والسلام کے لیے دعائے رحمت فرماتے رہتے ہیں۔اس کے بعد اللہ تعالی نے ہمیں اور آپ کو اور قیامت تک انے والے تمام اہل ایمان کو خطاب کیا ہے کہ جس عظیم شرافت والے کام میں تمام فرشتے لگے ہوئے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی اسی کام پر لگ جاؤ۔ يا أيها الذين آمنوا صلوا عليه وسلموا تسليما (اے ایمان والو! حضور پر صلاۃ بھیجو، خوب خوب سلام بھیجو۔ سلموا تسلیما)۔اب اس میں پیغمبر علیہ السلام کے لیے تو ہم صلاۃ و سلام بھیجیں گے، تو حضور سے محبت کا اظہار ہوگا، تعظیم کا اظہار ہوگا، آپ کی قدر و عظمت کا اظہار ہوگا، وہ تو اپنی جگہ، سب سے بڑا فائدہ ہمیں خود ہوگا کہ جو ایک مرتبہ درود پڑھے گا، اللہ تعالی دس رحمتیں اس پر نازل فرمائے گا۔ چھوٹے سے چھوٹا درود پڑھے پھر بھی: من صلى علي واحدة صلى الله عليه عشرا۔اور بعض روایتوں میں ستر مرتبہ درود شریف۔ اور بے شمار فضائل ہیں۔ پیغمبر علیہ السلام کا ہم کیا حق ادا کر سکتے ہیں؟ زندگی بھر بھی درود پڑھتے رہیں، الصلوۃ والسلام پڑھتے رہیں اور دعا کرتے رہیں، پھر بھی ایک ادنیٰ سے ادنیٰ حق کا بھی ہم، حق کو بھی ہم حق کو بھی احسان کا بھی ہم حق نہیں بجا سکتے، لیکن ہمارے لیے سعادت کی بات ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ درود شریف کا اہتمام کریں۔ایک صحابی نے درخواست کی کہ میرا جی چاہتا ہے میں اپنے اولاد میں درود شریف کر لوں، تہائی کر لوں۔ حضور نے فرمایا تمہاری مرضی۔ کہا جی اور جی چاہتا ہے چاہتا ہوں آدھا کر لوں۔ تمہاری مرضی۔ کہا جی چاہتا ہے دو تہائی درود ہی پڑھتا رہوں، ایک تہائی میں قرآن، ذکر اور دیگر۔ تمہاری مرضی۔ اس کے بعد عرض کیا کہ جی میرا تو جی چاہے بس درود ہی پڑھتا رہوں۔ তো حضور اکرم علیہ السلام نے فرمایا: إذا يكفي همك ويغفر ذنبك (اگر تم نے یہ کر لیا تو تمہاری ہر پریشانی دور ہو جائے گی، ہر گناہ معاف ہو جائے گا) درود شریف کی برکت سے۔ دنیا بھی بنے گی، آخرت بھی بنے گی۔ ٹینشن فری زندگی گزرے گی۔تو اللہ تعالی نے ہمیں حکم دیا ہے، اس کی ہمیں تعمیل کرنی ہے، خاص کر جمعہ کے دن زیادہ اہتمام کرنا ہے۔ پیغمبر علیہ السلام نے فرمایا: جمعہ کا درود خصوصیت سے میرے دربار میں پیش کیا جاتا ہے۔ اللہ تعالی ہم سب کو توفیق عطا فرمائے اور اس سلسلے کو قبول فرمائے، بابرکت بنائے، نفع بخش بنائے اور اپنے اپنے علاقوں میں ہمیں اس خدمت کی سعادت سے نوازے۔ وصلی اللہ علی خير خلقہ محمد وعلى آله وصحبه وبارك وسلم تسليما۔ربنا تقبل منا إنك أنت السميع العليم وتب علينا إنك أنت التواب الرحيم.إله العالمين ہم سب کے گناہوں کو معاف فرما، ہماری غلطیوں سے درگزر فرما، کوتاہیوں سے صرف نظر فرما، عیوب کی ستر پوشی فرما، اپنی رضا اور خوشنودی سے مالا مال فرما، ناراضگی سے، غضب سے، غضب کے اسباب سے ہم سب کی حفاظت فرما۔ جب تک بھی جینا مقدر ہے، دین پر جینا نصیب فرما، جب موت آئے تو حسن خاتمہ عطا فرما، ہر قسم کی آزمائش، ابتلا، امتحان، آفات و بلیات، آوار، ہر پریشانی سے ہماری اور پوری امت کی حفاظت فرما۔ہمارے مرحومین کی مغفرت فرما، بیماروں کو شفا عطا فرما، قرض داروں کے قرضوں کی ادائیگی کا غیب سے انتظام فرما، پریشان حالوں کی پریشانیوں کو دور فرما، مصیبت زدوں کی حاجت روائی فرما، تمام دینی اداروں، جماعتوں اور تنظیموں کی حفاظت فرما۔ جمعیت علماء ہند کی حفاظت فرما، دارالعلوم دیوبند کی حفاظت فرما، تمام مدارس و مساجد کی حفاظت فرما، اوقاف کی حفاظت فرما، دینی تحریکات کی حفاظت فرما، اسلامی شعائر کو اس ملک میں سربلند فرما۔جو دشمنان دین شعائر کو مٹانے پر تلے ہیں، انہیں ناکام و نامراد، خائب و خاسر فرما، ان کے شر اور تسلط سے ہمیں نجات عطا فرما، ہمارے ناقص کاموں کو مکمل فرما، بگڑے ہوئے کاموں کو درست فرما، وصلی اللہ علی خیر خلقہ محمد وعلى آله وصحبه اجمعین۔ آمین یا رب العالمین۔





















