سیکشن 4.6: مثبت کلاس روم کا ماحول بنانا
جب بچے اسکول میں داخل ہوتے ہیں تو ان کی دنیا وسیع ہوتی جاتی ہے۔ وہ دوست بناتے ہیں، خاندان سے باہر کے بالغ افراد سے تعلق قائم کرنا شروع کرتے ہیں اور رفتہ رفتہ زیادہ متحرک اور بات چیت کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ وہ ہر چیز کے بارے میں جاننا اور سیکھنا چاہتے ہیں۔ بچوں کے رویے کی رہنمائی کرنے اور ان کے ساتھ مضبوط اور مثبت تعلقات قائم کرنے میں استاد کا کردار بہت اہم ہوتا ہے۔
اس لیے اساتذہ کو بچوں کی ضروریات کے بارے میں غور و فکر کرنے والا اور حساس ہونا چاہیے۔ بچوں کی دیکھ بھال ایک پیچیدہ اور اہم ذمہ داری ہے۔ یہ کام اس لیے پیچیدہ ہے کہ بچوں اور ان کے خاندانوں کے ساتھ تعلقات قائم کرنے میں بہت سے پہلو شامل ہوتے ہیں۔
4.6.1 کلاس روم کا ماحول
’’ماحول‘‘ کی اصطلاح کلاس روم کی جسمانی جگہ (Physical Space) اور فضا یا نفسیاتی ماحول، دونوں کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ جسمانی ماحول ایسا ڈھانچہ فراہم کرتا ہے جو بچوں کو محفوظ انداز میں تلاش و جستجو، علمی نشوونما اور مختلف چیلنجز کا سامنا کرنے کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ فضا یا نفسیاتی ماحول ان تمام رشتوں اور سماجی تعاملات سے تشکیل پاتا ہے جو کلاس روم میں ہوتے ہیں۔
ایک محفوظ، پُرسکون، آرام دہ اور خوشگوار کلاس روم کا ماحول بچوں کو بہتر طریقے سے سیکھنے اور زیادہ کامیاب ہونے میں مدد دے سکتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ سیکھنے کے لیے درکار سہولیات، مثلاً تعلیمی مواد، آلات، سرگرمیاں انجام دینے، باہمی تعاون اور کھیلنے کے لیے مناسب جگہ، فراہم کی جائے تاکہ ہر بچے کو بہتر طریقے سے سیکھنے میں مدد مل سکے۔
کلاس روم ایک جامع (Inclusive) اور سیکھنے کے لیے سازگار ماحول ہونا چاہیے، جو ہر بچے کو آزادی، کشادہ دلی، قبولیت، معنویت، تعلق اور چیلنج کے مواقع فراہم کرے۔
بنیادی مرحلے (Foundational Stage) میں دیکھ بھال کلاس روم کے ماحول کے لیے مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ ہمدردی اور احترام دیکھ بھال کی بنیاد ہیں۔ یہ بچوں اور ان کے ساتھ قائم رشتوں کے لیے فکر مندی اور ذمہ داری کا رویہ ہے۔
4.6.2 بچوں کے ساتھ کلاس روم کے ضوابط (Norms) بنانا
بچوں کو نرمی لیکن واضح انداز میں، جتنی جلد ممکن ہو، کلاس روم میں مل جل کر رہنے کے طے شدہ ضوابط سے متعارف کرایا جانا چاہیے۔ اس سے انہیں واضح سمت ملتی ہے اور کلاس میں بہتر طور پر گھلنے ملنے اور ایڈجسٹ ہونے میں مدد ملتی ہے۔
بہتر یہ ہے کہ بچوں کے ساتھ گفتگو کی جائے اور ان کے ساتھ مل کر ضوابط طے کیے جائیں۔ اس سے ان میں ملکیت اور ذمہ داری کا احساس پیدا ہوتا ہے اور ایک مثبت کلاس روم کلچر کو فروغ دینے اور تشکیل دینے میں مدد ملتی ہے۔
ضوابط مختصر، واضح اور مثبت جملوں میں ہونے چاہئیں تاکہ انہیں آسانی سے سمجھا جا سکے۔ ایک بار ضوابط طے ہو جائیں تو ہر ضابطے کو مثالوں کے ذریعے تفصیل سے سمجھایا جانا چاہیے۔
ایک پوسٹر پر ہر ضابطے کے ساتھ اس سے متعلقہ تصویر بھی درج کی جائے اور اسے بچوں کی آنکھوں کی سطح پر آویزاں کیا جائے۔ اس سے بچوں کو ضوابط بہتر طور پر سمجھنے اور ان پر عمل کرنے میں مدد ملے گی۔
ضوابط یہ ہو سکتے ہیں:
الف۔ جب کوئی دوسرا شخص بات کر رہا ہو تو غور سے سنیں۔
ب۔ گروپ میں بولنے سے پہلے ہاتھ اٹھائیں۔
ج۔ اپنے ہم جماعتوں اور استاد کے ساتھ احترام سے بات کریں۔
د۔ اپنے ہاتھ، پاؤں اور دیگر اشیا اپنے تک محدود رکھیں؛ دوسروں کو نہ ماریں اور نہ ہی بلاوجہ چھوئیں۔
ضوابط نافذ کرنے کا عمل مثبت انداز میں ہونا چاہیے۔ جب کوئی ضابطہ ٹوٹ جائے تو بچوں کو نرمی سے دیوار پر آویزاں ’’ضوابط‘‘ کے پوسٹر کی طرف متوجہ کریں اور اس ضابطے کے بارے میں ان سے بات کریں۔
استاد کی آواز — 4.6A
حاضری کی بالٹی!
میری کلاس میں 5 سے 6 سال کی عمر کے 20 بچے ہیں۔ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہمارے پاس حاضری لگانے کا روایتی نظام نہیں ہوگا۔ اس کے بجائے ہم نے کلاس کے ہر بچے کے نام کی ایک تختی بنائی ہے؛ میرے لیے بھی ایک تختی ہے۔ ہم تمام تختیاں ایک بالٹی میں رکھتے ہیں۔
جو بچے کلاس میں آتے ہیں، وہ اپنی نام والی تختی اٹھا کر اپنے باقی سامان کے ساتھ اپنی الماری یا شیلف میں رکھ دیتے ہیں۔ واپسی کے وقت ہم ان تختیوں کو دوبارہ بالٹی میں رکھ دیتے ہیں۔
این سی ایف کے چیپٹر کا ترجمہ






















