این سی ایف کے ایک چیپٹر کا ترجمہ
ایک ناواقف زبان پڑھانے کے کچھ طریقےاستاد کا سامنا کلاس روم میں ایسے بچوں سے ہو سکتا ہے جو پڑھائی جانے والی زبان سے ناواقف ہوں۔ ناواقف زبان سکھانے کی تدریس کو ٹوٹل فزیکل رسپانس (TPR) جیسی سرگرمیوں، طویل زبانی اور ابلاغی کام، ذخیرہ الفاظ کی نشوونما، حکم کے طور پر استعمال ہونے والے سادہ جملے اور فقرے، بات چیت اور کہانیوں جیسی حکمت عملیوں کے ساتھ بہتر طور پر سمجھنے اور ابلاغ کرنے کی ضرورت ہے۔ناواقف زبان سکھانے کے کچھ طریقے درج ذیل ہیں:الف) ابتدا میں تفریحی اور باہمی تعامل (interactive) والی سرگرمیوں کے ساتھ زبانی زبان کی نشوونما کو فروغ دیں؛ جیسے کہ TPR (مثلاً، ‘جمپ’ لفظ بولتے ہوئے جسمانی طور پر عمل کا مظاہر کرنا)، طویل زبانی اور ابلاغی کام، ذخیرہ الفاظ کی نشوونما، احکامات کے طور پر استعمال ہونے والے سادہ فقرے اور جملے (مثلاً، دروازہ بند کرو، باہر دیکھو)، اور بات چیت اور کہانیاں۔ب) ناواقف زبان میں قابل فہم ان پٹ (comprehensive input) فراہم کریں۔ اس میں بچوں کے فہم کے دائرے میں آنے والی شکل میں زبان سننے اور اسے پڑھنے کے بہت سے مواقع فراہم کرنا شامل ہے، جسے ‘قابل فہم ان پٹ’ بھی کہا جاتا ہے۔ استاد کی طرف سے استعمال کی جانے والی زبان سادہ ہونی چاہیے اور اشاروں، تصویروں، عمل، اور بچوں کی مادری زبان کے الفاظ کے استعمال سے معاونت حاصل ہونی چاہیے۔ بہتر سمجھ کے لیے ایک ایسے مانوس سیاق و سباق کا استعمال کرنا اہم ہے جس سے بچے آسانی سے جڑ سکیں۔ج) ایک بامعنی اور با مقصد سیاق و سباق بنائیں۔ اس کا مطلب ہے کہ بچوں کو زبان کی پاکیزگی اور درستگی میں الجھنے کے بجائے موثر ابلاغ کے لیے ناواقف زبان کا استعمال کرتے ہوئے اسے سیکھنے کی ترغیب دی جانی چاہیے۔ اس سے ناواقف زبان میں بچوں کے زبانی اظہار میں بہتری آئے گی۔د) ناواقف زبان سے بھرپور تعارف کروائیں۔ یہ زبان سننے کے مواقع فراہم کرنے، ابلاغ کے لیے زبان کا استعمال کرنے، اور مطالعے کا وافر مواد فراہم کر کے کیا جا سکتا ہے۔ہ) تناؤ سے پاک اور محفوظ ماحول بنائیں۔ ناواقف زبان کے ابتدائی اظہار یا بولنے اور باضابطہ تشخیص پر کوئی دباؤ نہیں ہونا چاہیے۔ ایک مثبت اور معاون کلاس روم کا ماحول جہاں بچے حوصلہ افزائی پاتے ہیں اور جن کا خود اعتمادی بلند ہوتا ہے اور اضطراب کی سطح کم ہوتی ہے، بچوں کو بہتر اور آسانی سے سیکھنے میں مدد کرتا ہے۔





















