31جنوری 2025 کو مسجد عبدالنبی میں جمعہ کا خطاب
الحمد للہ، الحمد للہ نحمدہ ونستعینہ ونستغفره، ونعوذ باللہ من شرور انفسنا ومن سیئات اعمالنا، من یھدہ اللہ فلا مضل لہ ومن یضللہ فلا ھادی لہ۔> ونشھد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ، ونشھد ان سیدنا وحبیبنا ومولانا محمدا عبدہ ورسولہ۔> صلی اللہ تعالی علیہ وعلی آلہ واصحابہ وازواجہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا۔> اما بعد! فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم، بسم اللہ الرحمن الرحیم:> یَعْلَمُ خَائِنَةَ الْأَعْیُنِ وَمَا تُخْفِی الصُّدُورُ> صدق اللہ مولانا العظیم۔بزرگانِ محترم، برادرانِ عزیز!قرآنِ کریم کی ایک آیت میں نے آپ کے سامنے پڑھی ہے۔ اس میں ہماری دو روحانی بیماریوں کا ذکر ہے۔جیسے بیماری جسم کو لگتی ہے، روح کو بھی لگتی ہے۔ جسم کو لگنے والی بیماری کا اختتام موت کے ساتھ ہو جاتا ہے، لیکن اگر کسی کو روحانی بیماری لگ گئی تو اس کا سلسلہ آگے تک چلتا ہے۔حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ کا واقعہ آپ نے بارہا سنا ہو گا۔ ان کی زوجہ ام سلیمؓ گھر میں تھیں، ابو طلحہؓ سفر پر تھے۔ بیٹے کا انتقال ہوا، تو اب بیوی سوچ رہی ہیں کہ اگر میں کہتی ہوں کہ انتقال ہو گیا تو ابو طلحہ جو سفر سے آنے والے ہیں، ساری رات پریشان رہیں گے۔ اور اگر میں یوں کہتی ہوں کہ مرض میں افاقہ ہے، تو جھوٹ ہو گیا۔اللہ تعالیٰ جب کسی کو تقویٰ دیتا ہے، گناہوں سے بچنا اسے نصیب ہوتا ہے، تو اس کی عقل تیز ہو جاتی ہے۔ حدیث میں فرمایا گیا: "اتقوا فراسة المؤمن فإنه ينظر بنور الله”—مومن کی فراست، اس کی سمجھ، اس کے تاڑ لینے کی صلاحیت سے بچو، اس لیے کہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔کچھ مہینوں پہلے میرا سفر ہوا ازبکستان کا، تو وہاں ایک بزرگ کے مزار پر حاضری ہوئی۔ میں ان بزرگ کی سیرت پڑھ رہا تھا، حضرت شیخ عبد الخالق غجدوانی رحمتہ اللہ علیہ۔ تو وہ بیٹھے ہوئے تھے اپنے مریدوں کے ساتھ، ایک شخص آیا۔ اس کے بدن پر گدڑی پڑی ہوئی تھی، بظاہر لگ رہا تھا تارک الدنیا شخص ہے۔ اس نے کہا کہ مجھے "اتقوا فراسة المؤمن فإنه ينظر بنور الله” اس حدیث کا مطلب بتلاؤ۔تو حضرت نے فرمایا: "زنار اتار دو۔” زنار… وہ جنیو جو برہمن پہنتے ہیں، ایک ڈورا ہوتا ہے۔ تو اس نے کہا: "کیا بات کر رہے ہیں آپ زنار کی؟ کوئی زنار ونار نہیں ہے۔” تو خادم صاحب نے فرمایا: "ان کی گدڑی اتارو۔” جب گدڑی اتاری گئی تو زنار باندھے ہوئے تھا۔ تو کہا کہ: "یہ ہے اتقوا فراسة المؤمن۔” یہ تو ان کو مکاشفہ حضرت کو ہو گیا، کشف ہو گیا۔تو تقویٰ جتنا زیادہ بڑھے گا، آدمی کی فراست… تو حضرت ام سلیمؓ سوچ رہی ہیں کہ میں کیا جواب دوں؟ تو انہوں نے جواب اللہ نے سجھایا کہ اپنے شوہر سے یہ کہا کہ: "پہلے سے زیادہ سکون میں ہے، پہلے سے زیادہ چین و سکون میں ہے بیٹا!”بہرحال، تو موت کے ساتھ ہی ساری بیماریاں ختم! اور حق سبحانہ… ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "تحفة المؤمن الموت”—مومن کا تحفہ تو موت ہے۔ ہمارے یہاں جب کبھی ایسے لوگ ہمارے سامنے ہوتے ہیں کہ ایسا لگ رہا ہے کہ ایسی بیماری میں ہیں کہ بس اب آخری وقت لگ رہا ہے، تو میں ان کو ایک کتاب پڑھنے کی تلقین کرتا ہوں؛ حضرت تھانوی رحمتہ اللہ علیہ نے کتاب لکھی ہے "شوقِ وطن”۔ آدمی اسے پڑھے تو مرنے کو دل چاہے! ایسی پیاری پیاری اس میں باتیں ہیں، روایات ہیں۔بہرحال، جو بیماری روح کو لگتی ہے وہ آگے چلتی ہے۔ اس ایک بیماری کا تذکرہ یہاں پر فرمایا گیا: یَعْلَمُ خَائِنَةَ الْأَعْیُنِ—دو بیماریوں کا تذکرہ ہے لیکن میں صرف ایک بیماری پر کچھ عرض کر سکوں گا مختصر وقت میں: یَعْلَمُ خَائِنَةَ الْأَعْیُنِ—آنکھوں کی خیانت کو اللہ جانتا ہے۔یہ بہت بڑی بیماری ہے! اور اس میں شیوع روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ جب سے یہ موبائل فون آئے ہیں، اس کے بعد تو کچھ نہیں… اس قدر! کیا ہے خیانتِ اعین؟ آنکھوں کی خیانت یہ ہے کہ آدمی غیر محرم عورت پر لذت بھری نگاہ ڈالے، شہوت بھری نگاہ ڈالے—یہ ہے خیانت آنکھوں کی۔یہ مرض اتنا عام ہے کہ کوئی طبقہ خالی نہیں۔ جہلاء بھی، علماء بھی، جوان بھی، بوڑھے بھی، عورت بھی، مرد بھی۔ اس لیے کہ اس گناہ کے ہونے کے بعد—یعنی آنکھوں سے بدنگاہی کرنے کے بعد—بوڑھے کا جو وقار ہے اپنی سوسائٹی میں، وقار باقی ہے۔ قاری اپنی جگہ قاری ہے، عالم اپنی جگہ عالم ہے۔اور اگر کوئی دیکھ بھی لے کہ فلاں شخص فلاں غیر محرم عورت کو گھور رہا ہے، تو ہمیں تو یہ حکم ہے کہ ہر ایک کے متعلق ہم حسنِ ظن رکھیں۔ اس وجہ سے اس پر ہم تہمت بھی نہیں لگا سکتے، ہو سکتا ہے کہ بالکل نظر پڑ گئی ہو… اچانک نظر پڑ گئی ہو اس کی۔تو اس وجہ سے یہ مرض عام ہو رہا ہے۔ ایک بوڑھا آدمی جس کے پیر قبر میں لٹکے ہوئے ہیں، وہ بھی غیر محرم عورتوں کو یا امرد لڑکے کو گھورتا ہے۔ بہت سخت وعید ہے اس کی۔بعض لوگ جانتے ہیں کہ یہ گناہِ صغیرہ ہے۔ اگر قانون کی زبان میں پوچھا جائے، تو یہی جواب آپ کو مفتیوں سے ملے گا کہ یہ گناہِ صغیرہ ہے۔ کہتے ہیں بھائی! وضو کرتے ہیں تو آنکھ کے گناہ بھی دھل جاتے ہیں۔ لیکن گناہِ صغیرہ بھی تو کیا ہے؟ گناہ ہے کیا؟ گناہ اللہ کی نافرمانی ہے۔ اللہ کی نافرمانی چھوٹی ہو یا بڑی، نافرمانی تو ہے۔حضرت تھانوی رحمتہ اللہ علیہ نے گناہِ کبیرہ اور گناہِ صغیرہ کی مثال بیان فرمائی ہے۔ آپ نے فرمایا: "گناہِ کبیرہ کو سمجھئے آسمان، اور گناہِ صغیرہ کو سمجھئے سمندر۔ سمندر آسمان کے مقابلے میں چھوٹا ہے، لیکن ایسا بھی نہیں کہ اسے اٹھا کر ہم جیب میں رکھ لیں!”اور کبھی کبھی یہ گناہِ صغیرہ مفضی الی سلب الایمان—ایمان کے سلب کرنے کی طرف آدمی کو لے جاتا ہے۔ ایسے واقعات ہیں… ایسے واقعات ہیں، حکایات نہیں، واقعات ہیں!ایک واقعہ لکھا ہے کہ ایک صاحب گزر رہے تھے راستے پر، ان کے تن پر صالحین کا لباس تھا۔ بظاہر معلوم ہو رہا تھا کہ بڑے نیک آدمی ہیں، پارسا ہیں، متقی ہیں۔ ان کے سامنے ایک نوجوان خوبصورت لڑکی آئی۔ بس اس کے حسن کو دیکھ کر ان کے حواس باختہ ہو گئے۔ اور عشق ہوا!اب وہ لڑکی پوچھ رہی تھی: أين الطريق إلى حمام منجاب؟—حمامِ منجاب کا راستہ کہاں ہے؟ حمام اس مقام کو کہتے ہیں وہاں پر کہ جس میں عورتیں اور مرد پیسے دے کر نہانے کو جاتے ہیں۔ ترکی میں اب بھی ہیں، مراکش میں میں نے دیکھے۔تو اس نے پوچھا کہ حمامِ منجاب کا راستہ کہاں ہے؟ اب ان صاحب کا گھر حمامِ منجاب کے دروازے کے ساتھ ان کا دروازہ تھا۔ انہوں نے سوچا بہت اچھا موقع ہے، میرا گھر خالی ہے، اس وقت اس میں کوئی نہیں ہے، میں میرے گھر کی طرف نشاندہی کر دوں اسے۔ تو کہا کہ حمامِ منجاب کا دروازہ وہ ہے!وہ لڑکی گئی وہاں پر، گھر میں داخل ہو گئی۔ یہ جناب پیچھے سے گئے اور جا کر انہوں نے دروازہ اندر سے بند کر لیا۔ اب وہ لڑکی سمجھ گئی، نیک پارسا لڑکی تھی۔تو وہ کہنے لگی کہ مجھے تم سے بہت محبت تھی ایک مدت سے، دل ہی دل میں، میں سوچتی تھی کب ملاقات کا موقع ملے گا، اللہ تعالیٰ نے آج ملاقات کا موقع ہمیں فراہم کر دیا۔ ایک کام کیجیے کہ میں بھوکی ہوں، کھانا لے آئیے۔یہ صاحب گئے برتن لے کر بازار میں اور قسم قسم کے کھانے لے کر آئے، اس درمیان یہ لڑکی گھر سے نکل گئی۔ آئے یہ، انہوں نے کھانا رکھا، یہاں وہاں تلاش کیا، لڑکی نہیں ملی۔ تو اسی وقت وہ دم سے زمین پر گر گئے۔ دیکھئے! کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے۔میرے ساتھ پڑھنے والا ایک طالبِ علم—پتہ نہیں اب زندہ ہے یا نہیں—وہ فلمی ڈائجسٹ پڑھتا تھا۔ تو بس کسی ایکٹریس پر وہ عاشق ہو گیا۔ اور ہمارے سامنے روزانہ کہتا: "میں اسی سے شادی کروں گا۔” پڑھنے وڑھنے کا شوق ختم ہو گیا اس کا! ہوتا ہے ایسا، بدنگاہی سے۔اسی طرح ایک صاحب تھے، انتقال ہو گیا، مجھ سے کہنے لگے: "مولانا! جب کسی ایک لڑکی کو پیچھے سے دیکھتا ہوں، جب تک اس کا چہرہ نہ دیکھ لوں مجھے چین نہیں آتا۔”خیر، میں عرض یہ کر رہا تھا کہ وہ گر گرا اور بیماری اس کی شروع ہو گئی۔ یہاں تک کہ وہ مرنے کے قریب پہنچ گیا۔ اب لوگ کلمے کی تلقین کر رہے ہیں، اور یہ کہہ رہا ہے:> وَرُبَّ سَائِلَةٍ یوْماً وَقَدْ تَعِبَتْ> أَیْنَ الطَّرِیْقُ إِلَی حَمَّامِ مِنْجَابِ”وہ کہاں گئی جو تھکی ہاری تھی اور پوچھ رہی تھی حمامِ منجاب کا راستہ کہاں ہے؟” لوگ کلمے کی تلقین کر رہے ہیں اور اس کی زبان سے یہ شعر، یہ الفاظ نکل رہے ہیں! اور اسی حالت میں اس کی موت ہو گئی۔عرض یہ کر رہا تھا کہ گناہِ صغیرہ قانون کی زبان میں، لیکن وہ مفضی الی سلب الایمان!علامہ ابن الجوزی رحمتہ اللہ علیہ نے ایک واقعہ لکھا ہے کہ مصر میں ایک مؤذن اذان دینے کے لیے مینارے پر چڑھا۔ اس کی نظر چھت پر پڑی، دیکھا کہ کوئی خوبصورت لڑکی بیٹھی ہوئی ہے۔ پہلے پہل اس نے اسے دیکھا، وہ اترا اور فوراً اس گھر گیا۔ اس نے دستک دی، اس کا باپ آیا۔ کہا کہ: "آپ کرائے دار ہیں، نئے کرائے دار ہیں؟” کہا: "ہاں۔” کہا کہ: "میں، میری شادی نہیں ہوئی، میں شادی کرنا چاہتا ہوں آپ کی لڑکی سے۔” اس نے کہا: "ہم نہیں کر سکتے، ہم تو عیسائی ہیں! آپ مسلمان ہیں، اسلام چھوڑ دیں تو کر دیں گے۔” مؤذن نے اسلام چھوڑ دیا!یہ… جسے ہم گناہِ صغیرہ سمجھتے ہیں کہ یہ چھوٹا گناہ ہے۔ بڑے گناہ تک، زنا خدا نخواستہ، اس تک تو بہت سے موانع اور رکاوٹیں ہوتی ہیں کہ سامنے والی پارٹی راضی بھی ہے یا نہیں؟ پیسے بھی خرچ ہوں گے۔ ہو سکتا ہے راز فاش ہو جائے تو عزت بھی جائے گی۔ اور اگر وہ بازاری عورت ہے تو ہو سکتا ہے سوزاک یا آتشک جیسی بیماری لگ جائے۔ تو وہ تو بہت… لیکن یہ آنکھوں کا گناہ، آنکھوں کا زنا!نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "العينان تذنيان وزناهما النظر”—آنکھیں بھی زنا کرتی ہیں۔ جب ایک شخص نے ایک غیر محرم عورت کو شہوت کی نگاہ سے دیکھا تو گویا اپنے دل میں اس نے اس سے زنا کر لیا۔تو عرض یہ کر رہا تھا کہ یہ بیماری روح کو لگنے والی بیماری ہے، جس سے بچنا بہت ضروری ہے۔ جب تک ہم اپنی آنکھوں کو لگام نہیں دیں گے، وہاں تک ہم اس بیماری سے نہیں بچ سکتے۔ اور یہ ۱۵-۲۰ اخیر ۱۵-۲۰ سالوں میں موبائل کے شیوع کی وجہ سے یہ بیماری بہت عام ہے۔آپ عبدالباسط کی قرات کسی کلپ پر سنیں گے، بیچ میں ایڈورٹائز آ جائے گی، اس میں عورت ہے۔ کیا کریں پھر ہم بھائی؟ عزمِ مصمم کریں! پکا ارادہ کریں کہ ہم اپنی نگاہ ہٹا لیں گے۔ ہم یوں تو لوگوں کو پابند نہیں کر سکتے موبائل چھوڑ دو، ضرورت بن گئی ہے لوگوں کی۔ اسی پر بیپار ہو رہا ہے۔ ارے اس پر کتنی اچھی اچھی چیزیں آ گئی ہیں، ایک اعتبار سے بہت بڑا انعام ہے اللہ کی طرف سے، نعمت ہے یہ!ایک کتاب تھی، ۴۰ سال سے اسے ڈھونڈ رہا تھا۔ شاید ڈیڑھ سو سال، سوا سو سال پہلے کچھ علماء اور مفکرین نے مل کر یہ سوچا کہ اس وقت جو بڑے بڑے علماء اور مفکر ہیں ان کی خدمت میں خط لکھا جائے کہ آپ کی شخصیت کے بنانے میں کن کتابوں کا حصہ ہے؟ کن کتابوں نے آپ کی شخصیت کو بنایا؟ چنانچہ خطوط لکھتے گئے، ان خطوط کے جواب آئے، اسے کتاب کی شکل دی گئی جس کا نام تھا… نام ہے "مشاہیر علماء کی محسن کتابیں”۔ آن لائن مجھے مل گئی!میرے دادا کے کتب خانے میں کتاب تھی "کنز المدفون” علامہ سیوطی رحمتہ اللہ علیہ کی، دفن کیا ہوا خزانہ۔ لیکن وہ اتنی خستہ ہو چکی تھی کہ اوراق پلٹتا تھا تو ورق ٹوٹ ٹوٹ کر گرتے تھے۔ مجھے آن لائن وہ کتاب مل گئی! لاکھوں کتابیں آ گئیں!اس لیے ان چیزوں کو دیکھئے آپ، اور ان چیزوں کو فارورڈ کریں۔ نہ کہ فوٹو والی چیزوں کو، خود تو گناہ میں مبتلا ہو رہے ہیں اور دوسروں کو بھی مبتلا کر رہے ہیں۔ ہم تو توبہ کرنے کی ہمیں توفیق اگر ہو گئی، ہم نے توبہ کر لی، سامنے والے کو توفیق نہیں ہوئی، اس گناہ میں ہم شریک ہو گئے۔لہٰذا، ہم کتابوں کا مطالعہ کریں، ایسی چیزوں کو نہ دیکھیں، اپنے اوقات… اگر موبائل پڑھنے میں اور موبائل دیکھنے کی طرف کسی وجہ سے ہم مجبور ہیں، ایک کام تو یہ کریں کہ جہاں عورت کی تصویر آئے، اپنی آنکھوں کو وہاں سے ہٹائیں۔ شہوت کی نگاہ کبھی نہ ڈالیں! ایسی اچٹتی نگاہ پڑ گئی تو وہ معاف ہے۔ ایک کام تو یہ کرنا ہے، اور اپنے بچوں کو جب بھی ہم دسترخوان پر بیٹھیں، یا اپنے بچوں کے ساتھ کبھی موقع ملے بیٹھنے کا، تو انہیں ضرور نصیحت کریں اس کی کہ اپنے آنکھوں کی حفاظت کریں۔یہ گناہ بہت عام ہوتا جا رہا ہے اور اس پر نکیر بہت کم ہے۔ اس وجہ سے آج میں نے اس مضمون کو بیان کرنے کو مناسب سمجھا۔بعض بے وقوف و جاہل یہ جواب دیتے ہیں کہ ہم خوبصورت عورتوں میں اللہ کی عظمت کا مشاہدہ کرتے ہیں، نعوذ باللہ! اور میرے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا، ۱۹۸۲ء میں جب میں پانی کے جہاز سے حج میں گیا، ایک صاحب تھے بمبئی کے، انہوں نے کہا: "مولانا دیکھو! اللہ تعالیٰ کا… ہمیں تو پٹرول کی شکل میں دولت ملی ہے، اور دیکھو مسلمانوں کو اللہ نے کتنے حسن سے نوازا ہے اپنی عورتوں کو!” بے چارہ ان پڑھ آدمی تھا! کہتے ہیں: "دیکھیے اللہ کی قدرت! اور کتنا ہم پر اللہ کی نعمتوں کا فیضان ہے!”تو بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم اللہ کی عظمت اور اس کی قدرت کا مشاہدہ کرتے ہیں حسن میں، نعوذ باللہ من ذلک! اللہ نے بہت ساری حسین چیزیں بنائی ہیں، یہ پھول ہی کوئی کم ہیں اس کی رنگا رنگی میں؟ اس کی لطافت میں، اس کی نزاکت میں؟ نہیں ہے ہماری اللہ کی عظمت کا مشاہدہ؟ مرغزار ہیں، باغ ہیں، اور قسم قسم کے پرندے ہیں، آسمان و زمین ہیں، دریا ہے، سمندر ہے۔ بہت ساری چیزیں ہیں اللہ کی عظمت کا مشاہدہ جس میں کیا جا سکتا ہے۔تو فرمایا گیا: یَعْلَمُ خَائِنَةَ الْأَعْیُنِ—اللہ آنکھوں کی خیانتوں کو جانتا ہے۔ آگے ایک موقع پر ارشاد فرمایا گیا:> قُلْ لِلْمُؤْمِنِینَ یَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَیَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِکَ أَزْکَى لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ خَبِیرٌ بِمَا یَصْنَعُونَ”آپ مومنوں سے کہہ دیجیے: نظریہ نیچی رکھیں اپنی، شرمگاہوں کی حفاظت کریں، یہ ان کے لیے پاکیزگی ہے، اور سنو! إِنَّ اللَّهَ خَبِیرٌ بِمَا یَصْنَعُونَ—لوگ جو کچھ کرتے ہیں اللہ سب سے باخبر ہے” (مطلب ہے ہم سزا دیں گے اس کی)۔اللہ رب العزت کہنے اور سننے کو قبول فرمائے، آمین!





















