دوسری قسط
محمد یاسین جہازی
مکہ مکرمہ کے شریف حسین کی حکومت اور ہندوستانی مسلمانوں کا رد عمل
20/مئی 1923 کو برطانیہ اور شریف حسین کے درمیان انگلو۔حجاز معاہدہ طے پایا، جمعیت علمائے ہند نے 13 تا 16/جولائی 1923 کی مجلسِ منتظمہ میں اس معاہدے کو اسلام اور سرزمینِ حجاز کی توہین قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ جزیرہ عرب کو ہر قسم کے غیر مسلم اثر سے پاک رکھنا، حجاز کے مذہبی تشخص کی حفاظت کرنا اور اس مقصد کے لیے مسلسل جدوجہد جاری رکھنا تمام مسلمانوں کا فرض ہے۔
20،21/ستمبر 1923ء کو جزیرہ عرب کی آزادی کے لیے ایک ذیلی کمیٹی قائم کی گئی، جس نے 6/نومبر 1923ء کے اجلاس میں حالات کا جائزہ لینے کے بعد مزید مشاورت تک فیصلے موخر کرنے کی سفارش کی۔ اس سے قبل 15/نومبر 1923ء کو مفتی محمد کفایت اللہؒ نے پورے ہندستان میں ’’ہفتہجزیرہ عرب‘‘ منانے کی اپیل جاری کی۔
پانچواں اجلاسِ عام (29/دسمبر 1923ء تا یکم جنوری 1924ئ) مولانا حسین احمد مدنیؒ کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں قرار دیا گیا کہ جزیرہ عرب اور مقاماتِ مقدسہ کو غیر مسلم اقتدار سے آزاد کرانا تمام مسلمانوں کا دینی فرض ہے۔ اجلاس نے یہ بھی اعلان کیا کہ جزیرہ عرب، جس میں عدن بھی شامل ہے، ہمیشہ غیر مسلم تسلط سے پاک رہنا چاہیے، برطانیہ اور عرب حکومتوں کے معاہدے ناقابلِ قبول ہیں، اور جزیرہ عرب کی آزادی کے لیے ہونے والے مظاہروں کے خلاف حکومتی کارروائیاں مذہبی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہیں۔
(جاری۔۔۔۔۔)
@all





















