راشٹرواد (4)
محمد یاسین جہازی
متحدہ قومیت کے خلاف فرقہ پرستانہ ذہنیت کے فروغ کے لیے برطانوی حکومت ہند کی سازشیں
تقسیم کرو اور حکومت کرو
جیسا کہ عرض کیا گیا کہ علمائے دیوبند نے سرسید احمد خان کی اس سیاسی فکر کی مخالفت کی جس کے تحت مسلمانوں کو کانگریس سے الگ رہنے کی تلقین کی جا رہی تھی، اور اس کے برعکس متحدہ قومیت کی بنیاد پر ہندو مسلم اتحاد اور کانگریس کے ساتھ مشترکہ جدوجہد کی حمایت کی۔ جب ہندستانی عوام متحد ہوکر انگریزی اقتدار کے مقابل آنے لگے تو برطانوی حکومت کو یہ اندیشہ پیدا ہوا کہ اگر یہ اتحاد مضبوط ہوگیا تو ہندوستان پر اس کی حکومت باقی نہیں رہے گی۔ چنانچہ ’’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘‘ کی پالیسی کے تحت مذہبی بنیادوں پر سیاسی اختلافات کو ہوا دینے کا سلسلہ شروع کیا۔
اسی سیاسی پس منظر میں 1906 میں آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام عمل میں آیا۔ سید طفیل احمد منگلوری اپنی کتاب ’’روشن مستقبل‘‘ میں لکھتے ہیں کہ تقسیمِ بنگال کی تیاریوں کے ساتھ ہی کونسلوں میں حقوق دینے کا ڈھونگ رچایا جا رہا تھا۔ وائسرائے کے پرائیویٹ سکریٹری کرنل ڈنلپ اسمتھ نے ایک مضمون تیار کرکے پرنسپل آرچ بولڈ کو دیا، جسے آرچ بولڈ نے 6 جولائی 1906 کو نواب محسن الملک کے پاس بھیجا۔ اس کے بعد نواب محسن الملک نے وائسرائے سے ملاقات کے لیے وفد مرتب کیا۔ یکم اکتوبر 1906 کو آغا خان کی قیادت میں یہ وفد شملہ میں وائسرائے منٹو سے ملا اور مسلمانوں کے لیے جداگانہ سیاسی نمائندگی کا مطالبہ پیش کیا۔
بالآخر 30 دسمبر 1906 کو ڈھاکہ میں نواب وقار الملک کی صدارت میں آل انڈیا مسلم لیگ قائم ہوئی۔ اس کے ابتدائی مقاصد میں مسلمانوں کے سیاسی حقوق و مفادات کا تحفظ اور فروغ، حکومت کے ساتھ وفاداری پیدا کرنا اور مسلمانوں کے درمیان حکومت کے متعلق پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کو دور کرنا شامل تھا۔
جب مسلم لیگ کے قیام کی خبر انگلستان پہنچی تو وہاں خوشی منائی گئی کہ اب ہندستان میں صلح نہ رہے گی۔
بالکل اسی طرز پر اور اسی مقصد کے تحت ہندوؤں میں بھی 1900ء میں مہاراجہ دربھنگہ رامیشور سنگھ کی قیادت میں بھارت دھرم مہامَنڈل قائم ہوا، جو بعد میں ہندو مہاسبھا میں تبدیل ہوگیا۔
اسی تسلسل میں وینایک دامودر ساورکر نے 1923ء میں اپنی کتاب Essentials of Hindutva، جسے Hindutva: Who Is a Hindu? کے نام سے بھی شائع کیا گیا، میں ’’ہندو راشٹر‘‘ کاتصور پیش کیا۔ بعد ازاں ایم۔ ایس۔ گولوالکر نے 1939ء میں اپنی کتاب We, or Our Nationhood Defined میں ہندو قومیت کے اس تصور کو مزید منظم اور تفصیلی شکل دی، جسے آر ایس ایس والے ہندو راشٹر کا نعرہ دے کر آگے بڑھا رہے ہیں۔
مسلم لیگ کے قیام کے بعد جداگانہ نمائندگی کا مطالبہ ہندستانی سیاست کا مستقل مسئلہ بن گیا اور 1909 کی منٹو مارلے اصلاحات میں مسلمانوں کے لیے جداگانہ انتخاب تسلیم کرلیا گیا۔
مسلم لیگ کا پہلا مسلم مخالف کارنامہ 1916 میں سامنے آیا جب کانگریس اور مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس لکھنؤ میں ہوئے۔ 29 دسمبر کو کانگریس نے اور 31 دسمبر کو جناح کی صدارت میں مسلم لیگ نے میثاق لکھنؤ منظور کیا جس میں پہلی بار فرقہ وارانہ بنیاد پر جداگانہ انتخاب اور مخصوص نمائندگی تسلیم کی گئی، پنجاب میں پچاس فیصد اور بنگال میں چالیس فیصد حالانکہ وہاں مسلمان اکثریت میں تھے۔ سید طفیل احمد لکھتے ہیں کہ یہ آئین امن عامہ کے لیے مہلک ثابت ہوا۔ اسی تسلسل میں 1930 میں ڈسٹرکٹ جج میرٹھ مسٹر پوڈن کا یہ خفیہ خط منظر عام پر ایا جس میں انگریزوں کو زیادہ دنوں تک بھارت میں ٹکے رہنے کے لیے تقسیم ہند کا نظریہ پیش کیا گیا تھا۔بعد ازاں چودھری رحمت علی نے 28 جنوری 1933 کو برطانیہ کے شہر کیمبرج سے اپنا مشہور پمفلٹ “Now or Never; Are We to Live or Perish Forever?” شائع کیا، جس میں پہلی مرتبہ ’’پاکستان‘‘ کے نام سے الگ مسلم ریاست کا مطالبہ پیش کیا گیا، بالآخر 22 اور 23 مارچ 1940 کو قرارداد لاہور منظور ہوئی۔ جو بعد میں تشکیل پاکستان کا سبب بنا۔
اس طرح انگریز اپنے مقصد میں کامیاب ہو گیا لیکن انھی ادوار میں مسلمانوں کی ایک بڑی تنظیم وجود میں آئی، جس نے قومی زندگی کی ہر شاہراہ پر قومیت متحدہ، راشٹرواد اور ہندستان کو متحد رکھنے کی آخری دم تک کوشش کرتی رہی۔ اور اسلامی مملکت اور ہندو راشٹر دونوں کی مخالفت کرتی رہی۔وہ کوششیں کیا ہیں ائیے سطور ذیل میں ملاحظہ کرتے ہیں۔
جمعیت علمائے ہند کا قیام اور ون نیشن کا نظریہ
جاری





















