محمد یاسین جہازی
خمینی ایرانیوں کی حرم محترم کی بے حرمتی کے خلاف ملک گیر صدائے احتجاج, تحفظ حرمین شریفین کے لیے ہر قربانی دینے کا اعلان اور سعودی حکومت کے اقدامات کی ستائش
نومبر 1979 (مطابق 1/محرم 1400ھ) کو مسجد الحرام پر ایرانی خمینی کے زیر قیادتِ جہیمان العتیبی کے مسلح گروہ کے قبضے کے واقعہ نے پوری دنیا کو ہلا دیا۔ اس کے اگلے روز 21/نومبر 1979 کو جمعیت علمائے ہند نے اس سانحہ کو حرم کی بے حرمتی قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی اور سعودی حکومت کی کارروائی کو سراہا۔
بعد ازاں 28 اور 29/جنوری 1980 کو مجلس عاملہ نے باقاعدہ قرارداد منظور کر کے حملہ آوروں کی مذمت اور شاہ خالد، وزیر داخلہ نائف بن عبدالعزیز اور سعودی حکومت کو حرم کے تحفظ پر مبارک باد پیش کی۔
11/گست 1981 کو جمعیت علمائے ہند کے مرکزی دفتر، مسجد عبدالنبی (آئی ٹی او، دہلی) میں سعودی سفیر شیخ صالح الصقیر کے اعزاز میں الوداعی تقریب منعقد ہوئی۔ مولانا سید اسعد مدنی نے ہندستان اور سعودی عرب کے مضبوط ہوتے تعلقات میں ان کی خدمات کو سراہا، جب کہ سفیر نے جمعیت، ہندستانی مسلمانوں اور دونوں ممالک کے تعلقات کے فروغ پر اظہارِ تشکر کیا۔
8 اور 9/مئی 1983 کو مجلس عاملہ نے حجاج کے داخلے سے متعلق سعودی حکومت کی نئی پابندیوں پر غور کیا اور فیصلہ کیا کہ رابطہ عالم اسلامی کے سیکریٹری جنرل محمد علی خرکان کو اس سلسلے میں خط لکھا جائے۔
11/جولائی 1987
کو ایرانی حجاج کے پرتشدد مظاہرے اور سانحہ حرم میں سیکڑوں افراد جاں بحق ہوئے۔ اس پر 2/اگست 1987 کو ناظم عمومی مولانا محمد اسرار الحق قاسمی نے ایران کی پالیسی کو حرمین کے امن کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کی۔ 9/اگست 1987 کو حج پر موجود صدر جمعیت مولانا سید اسعد مدنی نے ٹیلی فون پر اپنے بیان میں واقعہ کی ذمہ داری ایرانی حکومت پر عائد کی۔ پھر 12/اگست 1987 کو جمعیت نے 21/اگست 1987ئ کو ’’یومِ حرم‘‘ منانے کی اپیل جاری کی، جس پر ملک بھر میں احتجاجی اجتماعات اور قراردادیں منظور کی گئیں۔ بعد ازاں 3/ستمبر 1987 کو جمعیت کے وفد نے سعودی سفیر فواد صادق مفتی سے ملاقات کر کے اپنا موقف پیش کیا۔
3 اور 4/اکتوبر 1987 کو مجلس عاملہ نے سانحہ حرم پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے ’’تحفظِ حرم کانفرنس‘‘ کے انعقاد کی توثیق کی۔ پھر 6/نومبر 1987 کو کانفرنس کی قرارداد تیار کرنے کے لیے سہ رکنی کمیٹی قائم کی گئی اور سعودی فرمانروا شاہ فہد کو قرارداد پیش کرنے کے لیے وفد بھیجنے کا فیصلہ ہوا۔ 7/نومبر 1987 کو مجلس منتظمہ کے اجلاس میں مولانا اسعد مدنی نے تحفظِ حرم کانفرنس کے اغراض و مقاصد بیان کیے اور سانحہحرم کے بارے میں ایک قرارداد بھی منظور کی۔
اس کے بعد 8/نومبر 1987 (مطابق 16/ربیع الاول 1408ھ) کو نئی دہلی کے سپرو ہاوس میں عظیم الشان ’’تحفظِ حرم کانفرنس‘‘ منعقد ہوئی، جس کی صدارت مولانا سید اسعد مدنی نے کی اور افتتاح امامِ حرم شیخ عبداللہ السبیل نے کیا۔ کانفرنس میں حرمین کے تقدس، سعودی حکومت کی خدمات اور ایرانی ہنگامہ آرائی کے خلاف متعدد قراردادیں منظور کی گئیں، سعودی حکومت کی حمایت کی گئی، ایرانی حکومت کی مذمت کی گئی اور اسلامی ممالک سے ایران کے خلاف سخت موقف اختیار کرنے کی اپیل کی گئی۔
بعد ازاں 11/دسمبر 1987 کو بمبئی، 16/دسمبر 1987 کو لکھنؤ، 27/دسمبر 1987 کو بسن پور (پورنیہ)، 21/فروری 1988 کو جون پور اور 25/فروری 1988 کو بستی سمیت ملک کے مختلف حصوں میں تحفظِ حرم کانفرنسیں منعقد ہوئیں، جن سے مولانا سید اسعد مدنی نے خطاب کیا اور حرمین کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔
آخر میں 9 اور 10/اپریل 1988 کو مجلس منتظمہ نے تحفظِ حرم کے سلسلے میں ایک جامع قرارداد منظور کی، جس میں سعودی حکومت کی خدمات کو سراہتے ہوئے ایرانی ہنگامہ آرائی کی شدید مذمت کی گئی، ایران سے سفارتی و اقتصادی تعلقات ختم کرنے، حرمین کے امن کے تحفظ کے لیے موثر اقدامات کرنے اور حجاج کی سلامتی کو یقینی بنانے کی اپیل کی گئی۔
(جاری)
@all





















