گیارھویں قسط
محمد یاسین جہازی
استقبالیہ،اعزازات،پیغامات،تعزیت
19 فروری 1965 کو جمعیت علمائے ہند نے دہلی میں عرب ممالک کے مندوبین کے اعزاز میں استقبالیہ منعقد کیا، جس میں شام، فلسطین، اردن، الجزائر، تیونس، لبنان، مصر، سوڈان اور دیگر عرب ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔ شامی وفد کے قائد عبدالمعین الملوحی نے اتحادِ امت، فلسطین کی آزادی اور عرب و ہند کے تعلقات پر زور دیا، جبکہ جمعیت نے اپنے سپاس نامے میں عرب دنیا سے دینی، تہذیبی اور تاریخی روابط کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت بیان کی۔
اسی سلسلے میں 26 فروری 1965 کو عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل عبدالخالق حسونہ کے اعزاز میں استقبالیہ دیا گیا۔ انہوں نے عرب دنیا کی آزادی، فلسطین کے مسئلے اور مسلمانوں کے اتحاد پر اظہارِ خیال کیا، جبکہ جمعیت کے سپاس نامے میں عرب لیگ کی خدمات، فلسطین و الجزائر کی حمایت اور عربی مدارس و علمی تبادلوں کی ضرورت پر زور دیا۔
3 جون 1965 کو متحدہ عرب جمہوریہ کے فوجی اتاشی کرنل عبدالستار کے اعزاز میں الوداعی تقریب منعقد کی گئی، جس میں باہمی محبت اور دینی تعلقات کا اظہار کیا گیا۔ بعد ازاں 21 اگست 1965 کو لیگ آف عرب اسٹیٹس نے جمعیت کے تہنیتی پیغام کے جواب میں دونوں ممالک کے دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش ظاہر کی۔
15 تا 17 اپریل 1966 کے بائیسویں اجلاسِ عام کے موقع پر شاہ فیصل نے مسلمانوں کے اتحاد، باہمی تعاون اور اصلاحِ احوال کے لیے دعا کا پیغام بھیجا اور اپنی نمائندگی کے لیے ہندستان میں سعودی سفیر محمد الحماد الشبیلی کو نامزد کیا۔ سعودی سفیر نے بھی اجلاس کی کامیابی کی خواہش ظاہر کی، جبکہ عبدالخالق حسونہ اور عرب لیگ کے نمائندہ کلوویس مقصود نے جمعیت کی اسلامی، انسانی اور فلسطینی کاز کی خدمات کو سراہا۔
عرب و اسرائیل کشیدگی کے دوران 25 مئی 1967 کو مولانا اسعد مدنی نے مسلمانانِ ہند سے عرب ممالک کی کامیابی کے لیے خصوصی دعاؤں کی اپیل کرتے ہوئے خلیجِ عقبہ پر عرب ممالک کے حق کی حمایت کی، جس کی تفصیل 27 مئی 1967 کے روزنامہ الجمعیۃ میں شائع ہوئی۔ پھر 28 مئی 1967 کو جمعیت کے زیر اہتمام اجلاس میں عرب لیگ کے قائم مقام نمائندہ محمد عبدالعزیز الرجبی نے خلیجِ عقبہ پر سعودی عرب اور متحدہ عرب جمہوریہ کے حقِ اقتدار کی وضاحت کی، جبکہ سعودی سفارت خانے کے شیخ حسین نے اعلان کیا کہ اگر امریکہ اسرائیل کی فوجی مدد کرے گا تو سعودی عرب تیل کی فراہمی بند کر سکتا ہے۔ ان بیانات کی تفصیل 30 مئی 1967 کے روزنامہ الجمعیۃ میں شائع ہوئی۔
28 اگست 1968 کو عرب جمہوریہ کے سبکدوش سفیر عیسیٰ سراج الدین کے اعزاز میں جمعیت علمائے ہند نے وداعی تقریب منعقد کی، جس میں ہند و عرب تعلقات، فلسطین کی حمایت اور باہمی تعاون کو سراہا گیا۔ اس تقریب کی رپورٹ 30 اگست 1968ئ کو شائع ہوئی۔
22 و 23 اگست 1969ئ کو منعقدہ مجلسِ عاملہ نے سعودی سفارت خانے کے ممتاز افسر شیخ حسین اتاشی کے اندوہناک قتل پر گہرے رنج و افسوس کا اظہار کیا، اسے ہندستان اور سعودی عرب دونوں کے لیے بڑا سانحہ قرار دیا، حکومتِ ہند سے مکمل تحقیقات اور مجرموں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا، اور سعودی حکومت، سفارت خانے اور مرحوم کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت و ہمدردی کا اظہار کیا۔
(جاری)۔۔۔۔
@all





















