راشٹر واد(12)
محمد یاسین جہازی
تو جوابات یہ ہیں ۔۔
ان سوالات کے جوابات جذبات سے نہیں بلکہ تاریخ کے پورے پس منظر کو سامنے رکھ کر تلاش کرنا چاہیے۔
(1) انگریزوں کی وفاداری کے بجائے آزادی کی راہ کیوں اختیار کی گئی؟
جہاں تک سر سید کے اس نظریے کا تعلق ہے کہ مسلمانوں کو برطانوی حکومت کے ساتھ وفاداری اختیار کرنی چاہیے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہندو مہاسبھا اور آر ایس ایس نے اسی نظریے پر عمل کرتے ہوئے جہاد ازادی ہند میں انگریزوں کی چاپلوسی کرتے رہے اور ہندستان کی غلامی کی عمر کو طویل کرتے رہے۔انگریز ہندستان کو لوٹتا رہا اور اس نظریے کے حامل افراد اور تنظیموں نے وطن سے غداری کرتے ہوئے ان لٹیروں کا ساتھ دیتے رہے۔
ظاہر سی بات ہے کہ یہ بات جہاں محبان وطن کی فطرت کے خلاف ہے وہی مسلمانوں کا مذہب بھی اس کی اجازت نہیں دیتا کیوں کہ مسلمانوں کے لیے اپنے وطن کی آزادی اور غیر ملکی اقتدار سے نجات محض سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ دینی و اخلاقی ذمہ داری بھی تھی؛ اسی لیے سوادِ اعظمِ مسلمین کے ایک بڑے حصے اور جمعیت علمائے ہند نے انگریزوں کا ساتھ دینے کے بجائے آزادی کی جدوجہد کو اختیار کیا۔
ہندستان کی آزادی کے لیے چند ضروری وجوہات
جمعیت علمائے ہند کے پانچویں اجلاس عام منعقدہ:29 ؍دسمبر 1923تا یکم جنوری 1924 کے خطبہ صدارت میں انگریزیوں کی غلامی کے بجائے ہندستان کو آزادی کیوں حاصل کرنا چاہیے،صدر اجلاس حضرت مولانا حسین احمد مدنی نور اللہ مرقدہ نے اس کی درج ذیل وجوہات بیان فرمائیں:
- خلافت و اسلامی ممالک کا تحفظ: ہندستان آزاد ہوتا تو اس کی فوج اور مالی وسائل مسلمانوں کے خلاف بیرونی جنگوں میں استعمال نہ کیے جاسکتے۔ اس لیے آزادی حاصل کرنا ضروری ہے۔
- مقدس مقامات کا تحفظ: برطانوی پالیسی کے خاتمے سے جزیرۃ العرب اور مقدس مقامات کو بیرونی سیاسی مفادات سے محفوظ رکھنے میں مدد مل سکتی ہے، اس لیے آزادی حاصل کرنا ضروری ہے۔
- مسلمانوں کی جان و مال کا تحفظ: ہندستان کی فوج کو بیرونِ ملک مسلم قوموں کے خلاف استعمال ہونے سے روکنا ضروری ہے، اس لیے آزادی حاصل کرنا ضروری ہے۔
- مؤثر سیاسی آواز: آزاد ہندستان ہی بیرونِ ملک مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف مؤثر احتجاج آزاد ملک ہی کرسکتا ہے، اس لیے آزادی حاصل کرنا ضروری ہے۔
- مالی و فوجی مدد کی آزادی: غلامی کی حالت میں ہندستانی مسلمان بیرونی مسلمانوں کی آزادانہ مالی یا دیگر امداد نہیں کرسکتے، اس لیے آزادی حاصل کرنا ضروری ہے۔
- برطانوی فوجی پالیسی سے نجات: ہندستانی فوج کے ذریعے دوسری مسلم قوموں کے خلاف کارروائیوں کواسی وقت روکا جاسکتا ہے، جب کہ ہندستان آزاد ہو، اس لیے آزادی حاصل کرنا ضروری ہے۔
- مذہبی آزادی: مصنف کے مطابق موجودہ حکومت کی پالیسی سے اسلامی احکام و شعائر متاثر ہورہے تھے، اس لیے آزادی حاصل کرنا ضروری ہے۔
- حقوقِ انسانی و شہری آزادی: مذہبی، معاشرتی، تمدنی اور انسانی حقوق کا تحفظ اسی وقت ہوسکتا ہے ، جب کہ ہندستان آزاد ہو، اس لیے آزادی حاصل کرنا ضروری ہے۔
- معاشی خوش حالی: بھاری ٹیکس اور معاشی استحصال سے پیدا ہونے والی غربت کے خاتمے اور عوام کی خوش حالی کے لیے آزادی ضروری ہے اس لیے آزادی حاصل کرنا ضروری ہے۔
- سیاسی خود اختیاری: چوں کہ ہندستان مسلمانوں کا بھی وطن تھا، اس لیے غلامی کے سیاسی، معاشی، تعلیمی اور معاشرتی نقصانات سب سے زیادہ مسلمانوں کا ہورہا تھا، اس لیے آزادی حاصل کرنا ضروری ہے۔
اسی طرح شیخ الاسلام حضرت حسین احمد مدنی صدر جمعیت علمائے ہند نے 7تا 9؍ جون 1940 کو منعقد بارھویں اجلاس عام کے صدارتی خطبے میں آزادی حاصل کرنے کی درج ذیل وجوہات بیان فرمائیں:
1۔ برطانوی قوم کا کردار
انگریز ہندستان میں آکر بالکل نیا انسان بن جاتا ہے۔ وہ مظالم جو انگلستان میں نہیں کر سکتا، یہاں روا رکھتا ہے۔
لارڈ میکالے، وارن ہیسٹنگز، سر جان شور وغیرہ کے اقوال سے ثابت کیا کہ انگریزوں نے ذاتیں ذلیل کیں، قوانین وراثت منسوخ کیے، عبادت گاہیں ضبط کیں، تجارت لوٹ لی اور ہندستانیوں کو ادنیٰ قوم سمجھا۔
2۔ لوٹ کھسوٹ کے تین ادوار: انگریزوں نے ہندستان کو بری طرح لوٹا۔
1700-1757: تسلط بذریعہ تجارت: ننگی لوٹ، کمپنی ملازمین نے چوتھائی قیمت پر مال خریدا۔
1758-1832: تسلط بذریعہ اطاعت بالجبر: پلاسی 1757ء کے بعد ملک گیری، خزانے لندن منتقل۔
1833-1940: تسلط بذریعہ پوست / دکھاوا: خوش معاملگی کا نعرہ مگر حقیقت میں مزید استحصال۔
3. شاہی اعلانات اور بدعہدیوں کی تاریخ – آزادی دینے کی بات کہی، لیکن ہمیشہ وعدہ خلافی کی۔
1833ء کا چارٹر ایکٹ: کہا گیا مذہب، رنگ، نسل کی بنیاد پر کوئی عہدہ ممنوع نہیں ہوگا۔ لارڈ لٹن نے خود اعتراف کیا کہ یہ محض "فریب دینا” تھا، مقابلے کے امتحان میں عمر کی قید جیسے حیلے بنا کر ہندوستانیوں کو روکا گیا۔
1858ء کا ملکہ وکٹوریہ کا اعلان: کہا گیا ہماری رعایا کو بلا امتیاز عہدے دیے جائیں گے۔ عملاً 1000 روپے سے اوپر کے 96% عہدوں پر انگریز، ہندستانی 4%۔ فوجی کالج میں داخلہ تک بند۔
4۔ زمینوں کا دوامی بندوبست: لارڈ کارنوالس نے دوامی بندوبست کا وعدہ کیا، 1862ء میں منظوری ہوئی، پھر 1883ء میں زر پرستی کی وجہ سے منسوخ کر دیا گیا۔ نتیجہ: میعادی بندوبست میں 55% زمین سے 84% لگان وصولی، کسان تباہ۔
مال گزاری: پہلے پیداوار کا 25% تھی، انگریزوں نے 80-90% تک کر دی، نقد وصولی لازمی، نہ ادا کرنے پر جائیداد نیلام، قید۔
فارورڈ پالیسی: ملکہ کے اعلان میں کہا "ہم توسیع نہیں چاہتے” مگر افغانستان، سوات، چترال، وزیرستان پر 30-35 جنگیں، 7 ارب روپے سے زیادہ خرچ ہندستان پر ڈالا گیا۔
5۔ مقدس مقامات سے متعلق اعلان 1914ء: کہا عرب کے مقدس مقامات محفوظ رہیں گے، پھر جدہ پر بمباری، طائف کا محاصرہ، ترک قیدیوں کو قید۔
6۔ آزادی کے جھوٹے وعدے 1833ء سے 1929ء تک: میکالے، ایڈورڈ ہفتم، گلیڈسٹون، 1917ء کا اعلان، 1919ء کا ایکٹ، 1921ء میں ڈیوک آف کناٹ کا سوراج کا وعدہ، لارڈ ارون کا ڈومین اسٹیٹس کا مبہم اعلان۔ سب کے جواب میں لائیڈ جارج کا بیان: "1200 انگریز فولادی قالب ہیں، ان کے بغیر عمارت گر جائے گی”۔
7. آزادی ہند کیوں فرض اور ضروری ہے؟ مولانا کے نزدیک آزادی محض سیاسی نہیں، دینی و انسانی فریضہ ہے:
- غلامی تمام مصائب – قحط، افلاس، بے روزگاری، جہالت – کی جڑ ہے، اس کے بغیر دین و دنیا دونوں برباد۔
- برطانیہ کے تمام وعدے سو سالہ تجربے سے جھوٹے ثابت ہو چکے، اب کسی نئے وعدے پر اعتبار "آزمودہ را آزمودن جہل است” ہے۔
- تعلیم کی شرط محض دھوکہ ہے – انگریزوں سے پہلے ہر گاؤں میں مدرسہ تھا، انگریز نے تباہ کیا۔ 1871ء سے 1931ء تک شرح خواندگی 2.3% سے 8% ہوئی، اس رفتار سے آزادی میں 1000 سال لگیں گے۔
مسلمانوں پر تو یہ فریضہ سب سے زیادہ ہے، سات وجوہات:
- ہندوستان حضرت آدمؑ سے مسلمانوں کا وطن آبائی ہے۔
- یہاں دفن ہونے سے بھی نفع اٹھانا اور یہاں سابقہ انبیاء گزرے ہیں۔
- ملک مسلمانوں سے ہی چھینا گیا تھا۔
- ہندستان کی آزادی سے افغانستان، ایران، حجاز، فلسطین، مصر وغیرہ بھی آزاد ہوں گے۔
- انگریز نے مسلمانوں کو سب سے زیادہ برباد کیا۔
- خواہ اسلامی راج ہو یا مشترک راج، غلامی سے نکلنا شرعی فریضہ ہے۔
- شدید فقر و افلاس سے "کاد الفقر ان یکون کفرا” – لوگ مرتد ہو رہے ہیں، اور بے روزگاری کا خاتمہ آزادی کے بغیر ممکن نہیں۔
انھی وجوہات کی وجہ سے جمعیت علمائے ہند اور عام مسلمانوں نے سر سید مرحوم کے نظریہ غلامی کو قابل عمل نہیں سمجھا اور آزادی ہند کے لیے کوشاں رہے۔
جاری















