20جنوری 2025 کو مسجد عبدالنبی نئی دہلی کی تفسیری مجلس سے خطاب
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ، صَلَّى اللّٰهُ تَبَارَكَ وَتَعَالٰى عَلَيْهِ وَعَلٰى اٰلِهِ وَاَصْحَابِهِ وَذُرِّيَّاتِهِ اَجْمَعِيْنَ۔اَمَّا بَعْدُ! فَاَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔> "اللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا يُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ ؕ وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا اَوْلِيٰۤئُهُمُ الطَّاغُوْتُ يُخْرِجُوْنَهُمْ مِّنَ النُّوْرِ اِلَى الظُّلُمٰتِ ؕ اُولٰۤئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ۔”> صَدَقَ اللّٰهُ مَوْلَانَا الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ۔یہ آیتِ مبارکہ بہت اہمیت کی حامل ہے، اور یوں سمجھئے کہ اس آیت میں اسلام کا پورا فلسفہ بیان کر دیا گیا ہے۔اور اس میں اگر ہم غور کریں گے تو ہمارے ایمان میں غیر معمولی اضافہ ہو جائے گا، اور جو دلوں کے اندر کھوٹ ہے، وہ انشاء اللہ ختم ہو جائے گا۔اس میں اللہ تعالی فرمارہے ہیں خود اپنے بارے میں، کہ:اللہ تعالیٰ تمام ایمان والوں کے ‘ولی’ ہیں۔اور ‘ولی’ کا لفظ بہت جامع لفظ ہے۔ اس کے معنی مددگار کے بھی آتے ہیں، اس کے معنی نگراں کے بھی آتے ہیں، اس کے معنی دوست کے بھی آتے ہیں، اس کے معنی خیر خواہ کے بھی آتے ہیں، اور یہ سارے معنی یہاں لئے جا سکتے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ ہمارے ولی ہیں، یعنی ہمارے مددگار ہیں، ناصر ہیں، ہماری خیر خواہی فرمانے والے ہیں، ہر خیر سے ہمیں نوازنے والے ہیں۔ تو خود اللہ تعالیٰ ہمیں بشارت سنا رہے ہیں کہ "فکر مت کرو، ہم تمہارے ولی ہیں۔”تو ایک مومن اگر یہ دل میں بٹھا لے کہ اللہ ہمارا ولی ہے، ہماری بیک (back) پر ہے، ہمارا پشت پناہ ہے، تو ویسے ہی اس میں اسٹرینتھ (strength) پیدا ہو جائے گی، طاقت پیدا ہو جائے گی۔ اتنی بڑی ذات ہماری پشت پناہ بن رہی ہے۔اس کے بعد فرمایا کہ:اللہ تعالیٰ تمہیں اندھیریوں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جانے کی رہنمائی فرماتے ہیں، تاکید فرماتے ہیں۔’الظُّلُمَات’ کا لفظ آیا ہے، اس سے سارے غلط عقیدے اس میں شامل ہیں۔ ہر غلط عقیدہ اندھیرا ہے، تاریکی ہے۔ چاہے وہ شرک ہو، چاہے وہ کفر ہو، چاہے اور کوئی ایسا عقیدہ ہو جس سے دل میں تاریکی آتی ہو، وہ سب ‘الظلمات’ میں شامل ہیں۔جس سے اللہ تعالیٰ ہر انسان کو بری کرنا چاہتے ہیں کہ بھائی! ظلمات میں نہ رہو، اندھیری میں نہ رہو۔ اور ‘نور’ کی طرف لے جانا چاہتے ہیں، اور نور—ہر خیر وہ نور میں شامل ہے۔جس میں نمبر ایک پر جو نور ہے، وہ توحید کا نور ہے۔ یعنی آدمی یہ یقین کرے کہ سوائے اللہ کے کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ سر جھکے گا تو اسی کے سامنے جھکے گا، ہاتھ اٹھیں گے تو اسی کے سامنے اٹھیں گے۔ یہ سب سے بڑی روشنی اور نور کی بات ہے۔اور ہر خیر والا عمل، وہ بھی نور ہے۔ نماز بھی نور ہے، روزہ بھی نور ہے، صدقہ و خیرات بھی نور ہے، ذکر و اذکار بھی نور ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ اندھیریوں سے نکال کر اجالے کی طرف لے جاتے ہیں، اس کے اسباب فراہم کرتے ہیں۔اس کے لئے انہوں نے پیغمبروں کو بھیجا، کتابیں نازل فرمائیں، ہدایتیں عطا فرمائیں، سب کا مشن ایک ہے: اندھیری ختم کرو، اجالا لاؤ۔ ظلمات کو مٹاؤ، نور کو پھیلاؤ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا مشن ہے، یہی پیغمبروں کا بھی مشن ہے، یہی کتابوں کے نزول کا بھی مقصد ہے۔یہ تو ہوئی اللہ تعالیٰ کی بات۔ پھر اس کے بالمقابل لا رہے ہیں:> "وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اَوْلِيٰۤئُهُمُ الطَّاغُوْتُ”> کہ ایمان والوں کا دوست تو اللہ تعالیٰ ہے، ولی اللہ تعالیٰ ہے؛ اور کافروں کا ولی جو ہے وہ شیطانِ لعین ہے، ‘طاغوت’ ہے۔اور طاغوت کا کام کیا ہے؟ بالکل برعکس:> "يُخْرِجُوْنَهُمْ مِّنَ النُّوْرِ اِلَى الظُّلُمٰتِ”> وہ آدمی کو اجالے سے نکال کر اندھیریوں کی طرف لے جانا چاہتا ہے۔ توحید کی روشنی سے نکال کر شرک کی اندھیریوں میں اس کو مبتلا کرنا چاہتا ہے۔ اعمالِ خیر کے نور سے نکال کر برے اعمال کی اندھیریوں میں اسے ڈالنا چاہتا ہے۔ یہ شیطان کا مشن ہے۔تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: کرلے، جو تجھ سے ہو سکے کرلے!> "اُولٰۤئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ”> ہمارا یہ فیصلہ ہے کہ جو شیطان کے مشن پر چلے گا، جو شیطان کو دوست رکھے گا، جو شیطان کے راستے کو اپنائے گا، ان سب کے لئے جہنم تیار ہے، اور یہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ جو اس میں جائے گا کفر کے ساتھ، شرک کے ساتھ، وہ کبھی نکل نہیں پائے گا۔تو اس آیت کی روشنی میں ہمیں اپنے کردار کا جائزہ لینا چاہئے کہ ہماری زندگی روشن ہے یا تاریکی کی طرف جا رہی ہے؟تاریکی سے بچ کر روشنی کی طرف آئیں گے، تو گویا ہم اللہ تعالیٰ کے مشن پر چلنے والے اور اس کے دین کو زندہ کرنے والے ہیں؛ اور اگر ہم اس کے برعکس جا رہے ہیں، تو چاہے ہم دعویٰ کچھ بھی کریں، ہمارا معاملہ اللہ کے نزدیک اچھا اور پسندیدہ نہیں ہو سکتا، شیطان کو ضرور پسند آ سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہر طرح کی اندھیریوں سے، ظلمات سے بچا کر ہر خیر اور روشنی سے مالامال فرمائے۔ (آمین)ہر طرح کی غلطیوں سے حفاظت فرمائے۔ (آمین)ایمان پر زندگی، ایمان ہی پر موت عطا فرمائے۔ (آمین)وَصَلَّى اللّٰهُ تَعَالٰى عَلٰى خَيْرِ خَلْقِهٖ مُحَمَّدٍ وَّاٰلِهٖ وَصَحْبِهٖ اَجْمَعِيْنَ، بِرَحْمَتِكَ يَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ۔





















