حضرت رفاعہ قرظی رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی تمیمہ بنت وہب رضی اللہ عنہا کو طلاق دے دی، تو انہوں نے عبدالرحمن بن زبیر قرظی رضی اللہ عنہ سے نکاح کر لیا۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ وہ تمیمہ ایک سبز رنگ کی اوڑھنی اوڑھے ہوئے آئیں اور انہوں نے اپنے نئے شوہر کی مار پیٹ کی شکایت کی اور حضرت عائشہ کو اپنی جلد پر پڑنے والے نیلے یا سبز نشانات دکھائے۔ چنانچہ جب رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور عورتیں ایسے معاملات میں ایک دوسرے کی مدد کرتی ہی ہیں تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: میں نے کبھی ایسا ظلم نہیں دیکھا جیسا مومن عورتوں پر ہوتا ہے! ان کی جلد ان کے سبز کپڑے سے بھی زیادہ ہری یعنی نیلی ہو رہی ہے۔اور وہ خاتون رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں، اتنے میں ان کے شوہر عبدالرحمن بھی آ گئے اور ان کے ساتھ ان کے دو بیٹے بھی تھے جو دوسری بیوی سے تھے۔ خاتون نے عرض کیا: اللہ کی قسم! میرا ان سے کوئی عناد یا قصور نہیں ہے، بات صرف اتنی ہے کہ جو کچھ ان کے پاس ہے، وہ مجھے اس کپڑے کے پلو کے دھاگے جتنی بھی تسکین نہیں دے سکتا اور انہوں نے اپنے کپڑے کا پلو پکڑ کر دکھایا یعنی وہ مردانہ صلاحیت سے محروم ہیں۔اس پر عبدالرحمن نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ کی قسم یہ جھوٹ بولتی ہے، میں تو اسے اس طرح جھٹک دیتا ہوں جیسے چمڑے کو جھٹکا جاتا ہے یعنی میں پوری مردانہ طاقت رکھتا ہوں، لیکن یہ نافرمان ہو رہی ہے اور اپنے پہلے شوہر رفاعہ کے پاس واپس جانا چاہتی ہے۔رسول اللہ ﷺ نے اس عورت سے فرمایا: اگر یہ بات ہے تو تم اپنے پہلے شوہر رفاعہ کے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہو سکتی جب تک کہ یہ عبدالرحمن تمہارا شہد نہ چکھ لے یعنی تمہارے درمیان شرعی طریقے سے جسمانی تعلق قائم نہ ہو جائے۔ پھر آپ ﷺ نے عبدالرحمن کے ساتھ ان کے دونوں بیٹوں کو دیکھا تو پوچھا: کیا یہ تمہارے بیٹے ہیں؟ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے عورت سے فرمایا: تم ان کے بارے میں جو دعویٰ کر رہی ہو وہ غلط ہے، اللہ کی قسم! یہ دونوں اپنے باپ سے اتنے مشابہ ہیں جیسے ایک کوا دوسرے کوے کے مشابہ ہوتا ہے یعنی یہ ثابت کرتا ہے کہ تمہارا شوہر نامرد نہیں ہے۔
بَابُ الثِّيَابِ الْخُضْرِحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ رِفَاعَةَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ، فَتَزَوَّجَهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الزَّبِيرِ الْقُرَظِيُّ. قَالَتْ عَائِشَةُ: وَعَلَيْهَا خِمَارٌ أَخْضَرُ، فَشَكَتْ إِلَيْهَا وَأَرَتْهَا خُضْرَةَ جِلْدِهَا، فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ – وَالنِّسَاءُ يَنْصُرُ بَعْضُهُنَّ بَعْضًا – قَالَتْ عَائِشَةُ: مَا رَأَيْتُ مِثْلَ مَا يَلْقَى الْمُؤْمِنَاتُ! لَجِلْدُهَا أَشَدُّ خُضْرَةً مِنْ ثَوْبِهَا.وَأَنَّهَا قَدْ أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ، فَجَاءَ وَمَعَهُ ابْنَانِ لَهُ مِنْ غَيْرِهَا، قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا لِي إِلَيْهِ مِنْ ذَنْبٍ، إِلَّا أَنَّ مَا مَعَهُ لَيْسَ بِأَغْنَى عَنِّي مِنْ هَذِهِ، وَأَخَذَتْ هُدْبَةً مِنْ ثَوْبِهَا. فَقَالَ: كَذَبَتْ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي لَأَنْفُضُهَا نَفْضَ الْأَدِيمِ، وَلَكِنَّهَا نَاشِزٌ تُرِيدُ رِفَاعَةَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: فَإِنْ كَانَ ذَلِكِ لَمْ تَحِلِّي لَهُ – أَوْ: لَمْ تَصْلُحِي لَهُ – حَتَّى يَذُوقَ مِنْ عُسَيْلَتِكِ. قَالَ: وَأَبْصَرَ مَعَهُ ابْنَيْنِ لَهُ، فَقَالَ: بَنُوكَ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: هَذَا الَّذِي تَزْعُمِينَ مَا تَزْعُمِينَ! فَوَاللَّهِ لَهُمْ أَشْبَهُ بِهِ مِنَ الْغُرَابِ بِالْغُرَابِ.
[ صحیح البخاری، کتاب اللباس، باب الثياب الخضر، حدیث نمبر 5825]
مطالعہ بخاری محمد یاسین جہازی






















