اتوار, جولائی 5, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    اقوام متحدہ کی فلسطین رپورٹ میں لرزہ خیز انکشافات

    اقوام متحدہ کی فلسطین رپورٹ میں لرزہ خیز انکشافات

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    دھرمستھلا، کراس ووٹنگ اور قیادت کا بحرانکرناٹک کی سیاست آخر کس سمت بڑھ رہی ہے؟

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بنگلہ دیش اور جمعیت علمائے ہند کا تاریخی کردار

    اہلِ مدارس کے لیے تعلیمی ایجوکیشن پالیسیز میں اہم فارمولے

    احوال و کوائف اور تعارف حضرت مولانا مفتی محمد شوکت علی صاحب بھاگلپوری دامت برکاتہم شیخ الحدیث : دار العلوم سعادتِ دارین ستپون ، ضلع : بھروچ ، گجرات

    بھارت فرقہ پرستی اور تعصب کی تباہی کے دہانے پر

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    بے نقاب ہوتا ہندوتو کا چہرہ

    جنود ربانی کے مقاصد اور مناصب

    تحریکِ ریشمی رومال: معاونین و ہمدردان کی ایک تاریخی فہرست

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    اقتدار کی منتقلی سے حکمرانی کے امتحان تککرناٹک میں نئی قیادت کے سامنے سیاسی استحکام اور سماجی توازن کا چیلنج

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    گنگا کے پار دو دلوں کا ملاپ — ایک یادگار علمی، فکری اور دعوتی سفر کی داستان

    گنگا کے پار دو دلوں کا ملاپ — ایک یادگار علمی، فکری اور دعوتی سفر کی داستان

    دھپرا بستی میں جمعیت علمائے بسنترائے کے زیر اہتمام “گاؤں گاؤں بیداری پروگرام” میں ایس آئی آر پر رہنمائی

    دھپرا بستی میں جمعیت علمائے بسنترائے کے زیر اہتمام “گاؤں گاؤں بیداری پروگرام” میں ایس آئی آر پر رہنمائی

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ہندستانی جیل خانوں کے بڑھتے مسائل،توجہ کی ضرورت!

    نوجوانوں کی اصلاح اور بیداری وقت کی اہم ضرورت: مفتی محمد نظام الدین قاسمی

    ہماری نسل نو کے ایمان و تعلیم کے لیے فرشتے نہیں،رسول نہیں ،دہلی مُمبئی کے علما نہیں ، بلکہ ہمیں خود آنا ہوگا

    گاؤں گاؤں بیداری پروگرام سے جنرل سکریٹری جمعیت علمائے گڈا کا حیات افروز پیغام

    گاؤں گاؤں بیداری پروگرام سے جنرل سکریٹری جمعیت علمائے گڈا کا حیات افروز پیغام

    بجٹ، بیانیہ اور حقیقت کرناٹک میں اقلیتوں کے نام پر سیاست یا حقائق کی تحریف؟

    جمعیت علمائے بسنت رائے کا بارھواں ’عوامی بیداری پروگرام‘ سمری میں کامیابی کے ساتھ منعقد؛ نوجوانوں کی فکری و تعلیمی تربیت پر زور

    گیارھواں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام میں مدنی مسجد ہوئی نورانی

    گیارھواں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام میں مدنی مسجد ہوئی نورانی

    نوجوانوں نے لیا ریل کے بجائے ری یل زندگی گزارنے کا عہد

    نوجوانوں نے لیا ریل کے بجائے ری یل زندگی گزارنے کا عہد

    جمعیت علمائے بسنت رائے کا نواں ”گاؤں گاؤں نوجوانوں اور عوامی بیداری پروگرام“ جمنی کولہ میں کامیابی کے ساتھ منعقد

    جمعیت علمائے بسنت رائے کا نواں ”گاؤں گاؤں نوجوانوں اور عوامی بیداری پروگرام“ جمنی کولہ میں کامیابی کے ساتھ منعقد

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    اقوام متحدہ کی فلسطین رپورٹ میں لرزہ خیز انکشافات

    اقوام متحدہ کی فلسطین رپورٹ میں لرزہ خیز انکشافات

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    دھرمستھلا، کراس ووٹنگ اور قیادت کا بحرانکرناٹک کی سیاست آخر کس سمت بڑھ رہی ہے؟

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بنگلہ دیش اور جمعیت علمائے ہند کا تاریخی کردار

    اہلِ مدارس کے لیے تعلیمی ایجوکیشن پالیسیز میں اہم فارمولے

    احوال و کوائف اور تعارف حضرت مولانا مفتی محمد شوکت علی صاحب بھاگلپوری دامت برکاتہم شیخ الحدیث : دار العلوم سعادتِ دارین ستپون ، ضلع : بھروچ ، گجرات

    بھارت فرقہ پرستی اور تعصب کی تباہی کے دہانے پر

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    بے نقاب ہوتا ہندوتو کا چہرہ

    جنود ربانی کے مقاصد اور مناصب

    تحریکِ ریشمی رومال: معاونین و ہمدردان کی ایک تاریخی فہرست

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    اقتدار کی منتقلی سے حکمرانی کے امتحان تککرناٹک میں نئی قیادت کے سامنے سیاسی استحکام اور سماجی توازن کا چیلنج

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    گنگا کے پار دو دلوں کا ملاپ — ایک یادگار علمی، فکری اور دعوتی سفر کی داستان

    گنگا کے پار دو دلوں کا ملاپ — ایک یادگار علمی، فکری اور دعوتی سفر کی داستان

    دھپرا بستی میں جمعیت علمائے بسنترائے کے زیر اہتمام “گاؤں گاؤں بیداری پروگرام” میں ایس آئی آر پر رہنمائی

    دھپرا بستی میں جمعیت علمائے بسنترائے کے زیر اہتمام “گاؤں گاؤں بیداری پروگرام” میں ایس آئی آر پر رہنمائی

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ہندستانی جیل خانوں کے بڑھتے مسائل،توجہ کی ضرورت!

    نوجوانوں کی اصلاح اور بیداری وقت کی اہم ضرورت: مفتی محمد نظام الدین قاسمی

    ہماری نسل نو کے ایمان و تعلیم کے لیے فرشتے نہیں،رسول نہیں ،دہلی مُمبئی کے علما نہیں ، بلکہ ہمیں خود آنا ہوگا

    گاؤں گاؤں بیداری پروگرام سے جنرل سکریٹری جمعیت علمائے گڈا کا حیات افروز پیغام

    گاؤں گاؤں بیداری پروگرام سے جنرل سکریٹری جمعیت علمائے گڈا کا حیات افروز پیغام

    بجٹ، بیانیہ اور حقیقت کرناٹک میں اقلیتوں کے نام پر سیاست یا حقائق کی تحریف؟

    جمعیت علمائے بسنت رائے کا بارھواں ’عوامی بیداری پروگرام‘ سمری میں کامیابی کے ساتھ منعقد؛ نوجوانوں کی فکری و تعلیمی تربیت پر زور

    گیارھواں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام میں مدنی مسجد ہوئی نورانی

    گیارھواں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام میں مدنی مسجد ہوئی نورانی

    نوجوانوں نے لیا ریل کے بجائے ری یل زندگی گزارنے کا عہد

    نوجوانوں نے لیا ریل کے بجائے ری یل زندگی گزارنے کا عہد

    جمعیت علمائے بسنت رائے کا نواں ”گاؤں گاؤں نوجوانوں اور عوامی بیداری پروگرام“ جمنی کولہ میں کامیابی کے ساتھ منعقد

    جمعیت علمائے بسنت رائے کا نواں ”گاؤں گاؤں نوجوانوں اور عوامی بیداری پروگرام“ جمنی کولہ میں کامیابی کے ساتھ منعقد

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
No Result
View All Result
Home اہم خبریں

گنگا کے پار دو دلوں کا ملاپ — ایک یادگار علمی، فکری اور دعوتی سفر کی داستان

by Admin
جولائی 5, 2026
in اہم خبریں
0
گنگا کے پار دو دلوں کا ملاپ — ایک یادگار علمی، فکری اور دعوتی سفر کی داستان
0
SHARES
2
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

سحر انگیز آغاز: ایک پُرخلوص اور والہانہ بلاوا

کہتے ہیں کہ مخلص دلوں کی پکار میں ایک ایسا مقناطیسی اثر ہوتا ہے جو مسافتوں کو سمیٹ کر دشواریوں کو خاک میں ملا دیتا ہے۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ 3 جولائی 2026 کی ایک سحر انگیز اور پرسکون سہ پہر، جب جمعہ کی نماز کی برکات اور ظہرانہ سے فراغت کے بعد مخمور قیلولے کی کیفیت طاری تھی اور آنکھیں نیند کی آغوش میں جانے ہی والی تھیںکہ اچانک موبائل کی اسکرین پر ایک پُرکشش صدائے توجہ کے ساتھ "مفتی شاکر حسین عابدی قاسمی کٹہاری” کا اسمِ گرامی نمودار ہوا۔ سلام و نیاز اور باہمی احوال پرسی کے روایتی تبادلے کے بعد، اپنے روایتی والہانہ اور شگفتہ انداز میں دلی جذبات کو پیش کرتے ہوئے مفتی موصوف نے ایسا دل پگھلا دینے والا جملہ ارشاد فرمایا جس نے دل کے تار چھیڑ دیے۔ انہوں نے فرمایا:

"یارانِ باصفا سے ملاقات کے لیے ایک بکرا الٹنے کے لیے بے چین ہے، تو کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ کل کا پورا وقت اس بکرے کے نام قربان کیا جائے؟”

اس پُرخلوص جملے میں نام تو بکرے کاتھا جبکہ ان کے محبت بھرے لہجہ و الفاظ کا ایسا جادو تھا کہ انکار کی کوئی گنجائش نہ تھی۔ تاہم سفر طویل تھا اور جائے مدعو یعنی کٹیہار پہنچنے کے لیے بیچ میں وشال کائے اور عظیم الطوال گنگا اپنا منہ کھولے حائل تھی، جس کی لہریں مسافروں کے عزم کا امتحان لیتی ہیں۔ سفر کی ان جغرافیائی دشواریوں کے پیشِ نظر فوری طور پر باہمی مشاورت کے لیے کچھ وقت مانگا گیا۔

تہذیبی خلا کو پاٹنے کا عزم: سفر کا فیصلہ

چنانچہ مدعو یارانِ باصفا میں سے مفتی محمد نظام الدین قاسمی (بانی و مہتمم جامعۃ الہدیٰ، جہاز قطعہ و صدر جمعیت علمائے بسنت رائے) اور مفتی محمد زاہد امان قاسمی (مہتمم جامعہ خدیجۃ الکبریٰ، بسنترائے و ناظم جمعیت علمائے بسنترائے) سے تفصیلی اور گہرا تبادلہ خیال ہوا۔ اس باہمی مشورے کے دوران ایک انتہائی اہم اور بصیرت افروز نکتہ سامنے آیا۔ اگرچہ کٹیہار اور سیمانچل کے علاقے اور ادھر سنتھال پرگنہ (گڈا جھاڑکھنڈ) کے خطے کے درمیان زمینی فاصلہ دیکھا جائے تو 150 یا 200 کلومیٹر سے زیادہ نہیں ہے، لیکن بیچ میں بہنے والی عظیم العرض گنگا کی وجہ سے ان دونوں قریبی علاقوں کے مابین ایک طویل عرصے سے تہذیبی, تعلیمی، لسانی اور ثقافتی فاصلوں نے جنم لے لیا ہے۔ دونوں خطے ایک دوسرے کے قریب ہو کر بھی دور ہیں۔
چنانچہ یہ طے پایا کہ یہ سفر محض ایک روایتی ضیافت کا حق ادا کرنا نہیں ہے، بلکہ ان مصنوعی فاصلوں کو مٹانے اور دونوں علاقوں کے تہذیب و تمدن، تعلیم و تربیت اور فکری ورثے کے تبادلے کی ایک مخلصانہ اور تاریخی کوشش ثابت ہوگا۔ اس متفقہ اور مخلصانہ رائے کے بعد، اگلے ہی دن یعنی 4 جولائی 2026 کو یہ قافلہ عزم و شوق کا زادِ راہ لیے عازمِ سفر ہوا اور تپتی دھوپ اور بپھری گنگا کو پار کرتے ہوئے، حضرت مولانا مفتی شاکر حسین عابدی قاسمی دامت برکاتہم کے نو تشکیل شدہ اور پُرعزم ادارے جامعہ اسلامیہ دارالعلوم کٹیہار (جعفر گنج کٹیہار ) کے آنگن میں پہنچ گیا۔

بزمِ یاراں کا انعقاد: اکابرین کا سنگم

جامعہ کے احاطے میں پہنچنے کے کچھ دیر کے بعد بہار کے طول و طویل علاقوں سے آئے ہوئے چمنستانِ علم و فن کے دیگر یارانِ باصفا اور گل ہائے سرسبد تشریف لائے۔ اس روح پرور اور تاریخی بزمِ یاراں کو رونق بخشنے کے لیے امارتِ شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ سے مولانا احمد حسین محرم (معاون سکریٹری امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ)، مظفرپور کی دھرتی سے صاحبِ طرز عالم مولانا احسن اللہ احسن قاسمی (بانی و مہتمم مدرسہ معین الإسلام مادھوپور،مظفرپور ) اور دربھنگہ کے افق سے مفکرِ تعلیم مولانا مفتی آفتاب غازی قاسمی (بانی و مہتمم معہد الطیبات کرم گنج دربھنگہ ) تشریف لائے۔ جب کہ گنگا پار کے خطے سے مفتی محمد نظام الدین قاسمی، مفتی محمد زاہد امان قاسمی اور راقم محمد یاسین جہازی (شعبہ تصنیف، مرکزِ دعوت اسلام، جمعیت علمائے ہند، نئی دہلی) پہلے ہی سے شریکِ بزم تھے۔ سچی بات یہ ہے کہ یہ محفل محض ایک ملاقات نہ تھی، بلکہ یہ تو روحوں کا اتصال، فکر کی شادابی اور ملتِ بیضا کے مستقبل کو سنوارنے کے لیے ایک سنجیدہ فکری مشاورت کا سنگم تھا۔

پہلا دور: یادِ رفتہ اور دارالعلوم دیوبند کے سنہرے دن

پرتعیش اور شاہانہ ضیافت سے فراغت کے بعد، محفل کا پہلا دور ماضی کی حسین یادوں کے نام رہا۔ ازہرِ ہند دارالعلوم دیوبند کے احاطے میں بیتے ہوئے وہ سنہرے ایام، وہ معصومانہ شرارتیں، علمی بیداری کا وہ بے مثال ماحول، اساتذہ کی شفقتیں اور آپس کے کھٹے میٹھے پُرکشش لمحات کا تذکرہ اس قدر دل نشیں اور سحر انگیز انداز میں ہوا کہ ہر شخص چند لمحوں کے لیے اپنے ماضی کی وادیوں میں کھو گیا۔ یوں محسوس ہوتا تھا گویا وقت کی رفتار تھم گئی ہو، صدیاں سمٹ کر حال کی اس رفتار میں رقص کرنے لگی ہوں اور پرانی صبح و شام مجسم ہو کر دوبارہ لوٹ آئی ہوں۔ اس سحر انگیز ماحول کو دیکھ کر یوں لگتا تھا جیسے علامہ اقبال کی یہ تمنا حقیقت بن کر اتر آئی ہو:

ہاں دکھا دے اے تصور پھر وہ صبح و شام تو
لوٹ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایام تو!

دوسرا دور: فکری مشاورت اور عصرِ حاضر کے چیلنجز

نمازِ عصر کی ادائیگی کے بعد، اس دوستانہ نشست نے ایک تجویز کے تحت نہایت سنجیدہ، فکری اور تعمیری رخ اختیار کر لیا۔ محفل میں یہ احساس شدت سے ابھرا کہ ہم میں سے ہر شخص اپنی اپنی جگہ ایک ذات، ایک انجمن اور ایک مستقل ادارہ ہے، اور اپنی اپنی خدا داد صلاحیتوں اور خصوصیات کی وجہ سے امت و ملت کے کاموں میں منہمک ہے۔ لہذا اجتماع کے مقاسد کے تحت موجودہ ملکی و ملی مسائل اور سنگین چیلنجز پر کھل کر گفتگو کا آغاز ہوا، تاکہ کسی ایسے متفقہ لائحہ عمل اور فارمولے پر پہنچا جا سکے جو تمام علاقوں کے درمیان ایک مضبوط ربط اور پل کا کام کرے، اور ہر ایک شخص دوسرے کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا کر امت کے لیے مزید نفع بخش کام کر سکے۔
اس فکری اور حساس موضوع پر گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے مولانا احمد حسین محرم نے فرمایا کہ یہ وقت کا سب سے زیادہ اہم اور ضروری موضوع ہے، اور ہمیں موجودہ پرآشوب حالات میں انفرادی اور منتشر کوششوں کے بجائے انتہائی حساس اور باشعور ہو کر ایک منظم، مربوط اور متحدہ حکمتِ عملی اپنانی چاہیے، تاکہ ہماری علمی و ملی خدمات کو زیادہ مؤثر بنایا جا سکے۔
اس فکری سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے، راقم مولانا محمد یاسین جہازی نے تعلیمی میدان کی نزاکتوں اور بدلتے ہوئے عصری منظر نامے پر اپنے ذاتی اور تنظیمی تجربات کی روشنی میں نہایت تفصیل اور گہرائی سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے شرکاء کو متوجہ کرتے ہوئے کہاکہ:
حکومت ہر کچھ سالوں کے بعد ایک نیا تعلیمی کمیشن اور نئی تعلیمی پالیسی جاری کرتی ہے، جو پوری دنیا کے جدید تعلیمی نظام، جدید تحقیقات اور بچوں کی نفسیات پر گہری ریسرچ کے بعد تیار کی جاتی ہے۔

تعلیمی میدان سے جڑے ہوئے افراد اور بالخصوص مدارس کے ذمہ داران کے لیے اپنے نظامِ تعلیم کو مؤثر، جامع اور عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کے لیے ان حکومتی فارمولوں اور گائیڈ لائنز کو پڑھنا، انہیں باریک بینی سے سمجھنا اور اپنے اداروں میں برتنا ازحد ضروری ہے۔

اگر ہم وقت کی نبض کو نہیں پہچانیں گے اور ان جدید طریقوں سے ناآشنا رہیں گے، تو نہ صرف ہم تعلیم اور اپنے معصوم طلبہ کے روشن مستقبل کے ساتھ ناانصافی کریں گے، بلکہ اپنے مایہ ناز اداروں کو بھی حکومت کی بدنیتی اور قانونی کارروائیوں سے محفوظ نہیں رکھ پائیں گے۔

اس کے فوراً بعد، مفتی محمد زاہد امان قاسمی نے میزبانِ محفل مفتی شاکر حسین صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے عوامی رابطے کا ایک بہترین اور عملی فارمولا پیش کیا۔ انہوں نے تجویز دی کہ اگر اس نوخیز ادارے کو علاقے سے مربوط کرنا ہے اور اہل علاقہ کے دلوں کو اس سے جوڑنا ہے، تو جامعہ کے آس پاس کی ابادیوں میں واقع مساجد میں اساتذہ کے باقاعدہ خطابات کے سلسلے کو شروع کرنا ہوگا، اور ہر ایک جمعہ کو الگ الگ بستیوں کی مسجدوں میں جا کر عوام الناس سے براہِ راست مخلصانہ رابطہ قائم کرنا ہوگا۔

مفتی محمد نظام الدین قاسمی نے اس رائے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے ایک تاریخی حقیقت سے پردہ اٹھایا۔ انہوں نے فرمایا کہ یہی بات میں نے آج سے 10 سال پہلے مفتی زاہد امان صاحب کو کہی تھی، اور اسی پر عمل کرتے ہوئے انہوں نے اپنے علاقے میں ایسی مضبوط شناخت بنائی ہے کہ اب یہ شناخت اہل علاقہ کے ملی کاموں کے لیے ایک ناگزیر ضرورت بن گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس عوامی ربط کی برکت سے اگر ادارے کے کچھ مخالفین ہوں بھی تو وہ مخالفت کی ہمت و جرات نہیں کر پائیں گے اور لوگ خود بخود آپ کے ہمنوا بنتے چلے جائیں گے۔
ادھر مولانا آفتاب غازی قاسمی نے، جو لڑکیوں کے کئی کامیاب اداروں کے نگران و ذمہ دار ہیں، کاموں کے پھیلاؤ اور ترجیحات کے درست تعین پر خاص زور دیا۔ انہوں نے اپنے گراں قدر تجربات شیئر کرتے ہوئے فرمایا:
موجودہ دور میں امت کے سینکڑوں کام منہ کھولے کھڑے ہیں اور یہ تمام کام علماء کی ہی ذمہ داری ہیں۔ لیکن چونکہ ہمارے پاس وسائل انتہائی محدود اور کم ہیں، اس لیے ہمیں کاموں کی ترجیحات طے کرنی ہوں گی اور سب سے پہلے سب سے ضروری کام کو ہاتھ میں لینا ہوگا۔
چونکہ یہ ادارہ ابھی بالکل نیا ہے، اس لیے ہماری اولین اور بنیادی توجہ اس ادارے کی اندرونی تعمیر و تعلیمی ترقی پر ہونی چاہیے، اس کے بعد ملت کے دوسرے کاموں کو پیشِ نظر رکھ کر دائرے کو آہستہ آہستہ وسیع کرنا چاہیے۔
مولانا غازی صاحب نے خواتین اور مسلم بچیوں کے اندر کام کرنے کے اپنے انقلابی تجربات کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اپنے ادارے سے باہر بھی بچیوں کی کونسلنگ کرتے ہیں تاکہ انہیں ارتداد اور فکری گمراہی سے بچا کر ان کے دین و ایمان کا تحفظ کیا جا سکے۔ انہوں نے اپنے طریقہ کار کے بارے میں بتایا:
ہم مخلص اور تربیت یافتہ بچیوں کی ٹیمیں لے کر مختلف بستیوں میں جاتے ہیں۔ وہاں خواتین کے مجمع میں، خواتین کے ذریعے ہی گفتگو کرائی جاتی ہے۔
صرف ایک سے ڈیڑھ گھنٹے کے اندر ایک جامع ٹریننگ جیسا پروگرام منعقد کر کے ان کے اندر بنیادی عقائد، فرائض، اور بالخصوص خواتین کے مخصوص اور عائلی مسائل کی ضروری معلومات فراہم کر دی جاتی ہیں۔
الحمدللہ، اس خاموش تحریک کے نتیجے میں علاقے کی بے شمار ایسی بچیاں، جو فکری یا معاشرتی زیادتی کا شکار ہونے والی تھیں اور اپنے ایمان سے ہاتھ دھونے کے دہانے پر تھیں، وہ ان پروگراموں سے ہدایت حاصل کر کے تائب ہوئیں اور اپنی خوشگوار دینی زندگی کی شروعات کی۔
اس گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے مولانا احمد حسین محرم نے جامعہ کی فوری عملی اور حفاظتی ضروریات کی طرف شرکاء کو متوجہ کیا۔ انہوں نے دردمندی سے فرمایا کہ چونکہ یہ نوخیز ادارہ ہے اس لیے یہ ہم میں سے ہر شخص کی مشترکہ ملی ذمہ داری ہے۔ ہم سب اس ادارے کی نصرت کے لیے ہر اعتبار سے اپنا تعاون اور کردار پیش کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔
کشن گنج کی دھرتی سے تشریف لائے مولانا شاداب صاحب نے بھی اس عزم کی تائید کی اور کہا کہ ادارے کے ہر ممکن تعلیمی و مالی تعاون کے لیے وہ ہر وقت تیار ہیں۔
مظفرپور کے مولانا احسن اللہ احسن نے تمام آراء کا مخلصانہ تجزیہ پیش کرتے ہوئے ایک بنیادی نکتہ رکھا۔ انہوں نے فرمایا کہ ہر چھوٹے بڑے ادارے میں مکتب کا ہونا ضروری ہے ہے۔ اس جامعہ میں بھی مکتب کا نظام ضرور قائم کیا جائے، چاہے ابتدا میں صرف 2 بچے ہی کیوں نہ ہوں؛ کیونکہ مکتب کا یہی بنیادی نظام ادارے کو علاقے سے، اہل علاقہ سے اور ان کی نسل سے جوڑنے میں سب سے اہم کردار ادا کرتا ہے۔
میزبانِ محفل مولانا شاکر عابدی صاحب نے تمام اکابرین کے قیمتی مشوروں کو دل سے قبول کرتے ہوئے اپنے پُرعزم ارادے کا اظہار کیا اور فرمایا کہ ان تمام مفید اور بصیرت افروز مشوروں پر ان شاء اللہ عمل کرنے کی کوشش کی جائے گی، اور آپ حضرات کی فکری و عملی رہنمائی میں جامعہ کی ترقی کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

قانونی دستاویزات اور گائیڈ لائنز کی اہمیت

نشست کے دوران مولانا احمد حسین محرم نے ایک اور انتہائی ضروری اور قانونی مشورہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق، ادارے کے پورے نظام کو سرکاری دستاویزات کے عین مطابق چلانا ضروری ہے۔ بالخصوص بچوں کی تعلیمی شناخت کے لیے جو ایک سرکاری آئی ڈی آتی ہے، اسے محکمہ تعلیم سے فوری طور پر حاصل کر لیا جائے اور اس نظام کو اپنے یہاں لاگو کیا جائے۔
راقم محمد یاسین جہازی نے اس بات کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا کہ یہ موجودہ دور کا سب سے ناگزیر تقاضا ہے؛ ادارے کو حکومتی گائیڈ لائنز کے مطابق چلانا ضروری ہے، ورنہ مستقبل میں ذرا سی انتظامی لاپروائی کی وجہ سے ہماری سالوں کی محنتوں پر پانی پھر سکتا ہے۔ اس موقع پر مولانا جہازی نے فاصلاتی تعلیم اور ریگولر بیسز پر ادارے کو حکومتی سطح پر کیسے رجسٹرڈ اور ریکگنائز کرایا جا سکتا ہے، اس پر کئی اہم اور ضروری اشارات پیش کیے۔

اختتامِ نشست اور رقت آمیز الوداع

ابھی گفتگو کا یہ علمی سلسلہ جاری ہی تھا کہ مغرب کی اذان کی پرکشش آواز گونج اٹھی۔ تمام احباب نمازِ مغرب کی ادائیگی کے لیے جامعہ کی عمارت میں داخل ہو گئے۔ نماز کے بعد ایک مختصر عمومی مگر پُرأثر اور روحانی نشست منعقد ہوئی، جس میں جامعہ کے ایک ہونہار طالب علم نے اپنی سوز و گداز سے بھری آواز میں تلاوتِ کلامِ پاک اور نعتِ رسولِ مقبول پیش کر کے پوری فضا کو معطر کر دیا۔
اس کے بعد تمام حاضرین اور وفود کی طرف سے ترجمانی کرتے ہوئے
مولانا احمد حسین محرم نےمختصر وقت میں ایک جامع، فکری اور ولولہ انگیز خطاب فرمایا۔ انہوں نے مفتی شاکر عابدی صاحب کو اس منفرد اور تاریخی اجتماع کے انعقاد پر، اور بہار و جھارکھنڈ کے دور دراز علاقوں سے پرانے مخلص ساتھیوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے تمام حضرات کی طرف سے جامعہ کے لیے نیک خواہشات کا گلدستہ پیش کرتے ہوئے اس کی تعمیر و ترقی میں ہر ممکن تعاون کا اعلان کیا۔ یہ مبارک اور یادگار نشست مفتی آفتاب غازی قاسمی کی رقت آمیز دعا پر اختتام پذیر ہوئی. اس موقع پر مقامی طور پر حضرت مولانا قاضی عبد الحق قاسمی (نائب قاضی امارت شرعیہ کٹیہار ) اور دیگر علماء تشریف فرما تھے
چونکہ سنتھال پرگنہ کے وفد کو مسافت طویل ہونے کی وجہ سے اسی وقت واپس لوٹنا تھا، اس لیے سب سے پہلے انہیں عشاء کا لذیذ کھانا (عشائیہ) پیش کیا گیا۔ کھانے سے فراغت کے بعد، تمام یارانِ باصفا سے نم آکھوں کے ساتھ مصافحہ کرتے ہوئے، نہ چاہتے ہوئے بھی رخصت کی گھڑی آ پہنچی۔ مفتی شاکر حسین عابدی صاحب نے پرنم آنکھوں اور بھاری دل کے ساتھ اپنے تمام مہمانوں کو الوداع کہا۔ اس ضیافت میں مولانا ممتاز صاحب استاد جامعہ ہذا نے بھی مکمل اور دل کش کردار ادا کیا ۔

نیا سفر, نئی منزل: پورنیہ میں نئے دفتر کا افتتاح
کٹیہار سے واپسی پر، سنتھال پرگنہ کا یہ وفد مولانا شاداب صاحب کی مخلصانہ دعوت پر وہاں سے تقریباً 30 سے 40 کلومیٹر دور، پورنیہ میں واقع ان کے نئے اور جدید آفس پہنچا۔ وہاں ایک مختصر دعائیہ نشست منعقد ہوئی جس میں کئی ضروری دعوتی اور کاروباری امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ واضح رہے کہ مولانا شاداب صاحب نے "گلوبل ٹریول کمپنی” کے زیرِ اہتمام حج و عمرہ اور ورلڈ ٹور کا ایک وسیع کام شروع کیا ہے، جس کے تحت وہ مختلف شہروں میں اپنے نیٹ ورک کو پھیلا رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں انہوں نے کچھ ہی دنوں پہلے پورنیہ میں اپنے اس نئے آفس کا افتتاح کیا تھا۔ وفد نے جب دفتر کا دورہ کیا، تو وہاں کی خوبصورت ڈیکوریشن، کارپوریٹ سیٹ اپ اور پرکشش لک کو دیکھ کر سبھی بہت متاثر ہوئے اور کام کی برکت کے لیے کچھ ضروری اور مفید مشورے بھی دیے گئے۔

حاصلِ سفر: اتحاد اور یکجہتی کا لافانی پیغام

پورنیہ کے اس دفتر سے نکل کر یہ وفد رات کے اندھیرے میں سنتھال پرگنہ کے لیے روانہ ہوا اور سفر کی صعوبتوں کو طے کرتا ہوا رات کے تقریباً 1 بجے اپنے اپنے گھروں پر بخیریت پہنچ گیا۔ اس طرح یہ ایک انتہائی یادگار، فکری اور تاریخی سفر اپنے اختتام کو پہنچا۔
واپسی کے پورے راستے میں سنتھال پرگنہ کے وفد کے مابین اس پورے سفر کا علمی اور تنقیدی تجزیہ ہوتا رہا کہ اس مخلصانہ سفر سے مستقبل میں کیا مثبت نتائج نکل سکتے ہیں۔ طویل گفتگو کے بعد یہ قافلہ اس حتمی اور خوبصورت نتیجے پر پہنچا کہ:

یہ جو بیچ میں بہنے والی لمبی چوڑی اور عریض گنگا ہے، جس نے دو بالکل قریب اور ہمسایہ علاقوں کے درمیان ہر اعتبار سے دوری اور خلا پیدا کر رکھا ہے، اس خلا کو پاٹنے کے لیے دونوں طرف کے علماء، دانشوروں اور مخلصین کے درمیان ایسے اسفار اور باہمی ملاقاتوں کا سلسلہ مسلسل جاری رہنا چاہیے۔ تاکہ دونوں طرف کے اربابِ علم ایک دوسرے کے تجربات، صلاحیتوں، علمی و تہذیبی ورثے اور مشوروں سے فائدہ اٹھا کر ملتِ اسلامیہ کی کشتی کو ساحلِ مراد تک پہنچانے میں اپنا مؤثر اور انقلابی کردار ادا کر سکیں۔

، 4 جولائی 2026 کا یہ تحریکی سفر محض ایک سفر نہیں تھا، بلکہ یہ ایک زندہ جاوید تحریک کا پیش خیمہ تھا—رابطے کی تحریک، بیداری کی تحریک، اور مشترکہ فکری جدوجہد کی ایک نئی روشن صبح!

شریک بزم محمد یاسین جہازی
5 جولائی 2026

Admin

Admin

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

نیا سال 2025

نیا سال 2025

9 مہینے ago
اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

ملک معاشی ایمرجنسی کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے؟

2 مہینے ago

مقبول

  • گنگا کے پار دو دلوں کا ملاپ — ایک یادگار علمی، فکری اور دعوتی سفر کی داستان

    گنگا کے پار دو دلوں کا ملاپ — ایک یادگار علمی، فکری اور دعوتی سفر کی داستان

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • دھپرا بستی میں جمعیت علمائے بسنترائے کے زیر اہتمام “گاؤں گاؤں بیداری پروگرام” میں ایس آئی آر پر رہنمائی

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • ہندستانی جیل خانوں کے بڑھتے مسائل،توجہ کی ضرورت!

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • اقوام متحدہ کی فلسطین رپورٹ میں لرزہ خیز انکشافات

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • تعلیمی پالیسی اور مدارسِ اسلامیہ: تحفظ اور اصلاح کا متوازن راستہ

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیۃ علماء ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.