دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی معاشرے، ملک یا دور میں ظلم نے سر اٹھایا، تو ایسا لگا جیسے اب کبھی انصاف کا سورج نہیں نکلے گا۔ ظالم اپنی ظاہری طاقت، دولت اور وسائل کے نشے میں چور ہو کر ہمیشہ یہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ اس کا اقتدار اور دبدبہ سدا قائم رہے گا۔ ظلم کی عمر جتنی بھی طویل دکھائی دے، اس کا انجام مٹ جانا اور عبرت بننا ہی ہوتا ہے کیونکہ کائنات کا پورا وجود انصاف اور توازن کی بنیاد پر قائم ہے، اور فطرت کبھی بھی اپنے توازن کو مستقل طور پر بگڑنے نہیں دیتی۔ اسی حقیقت کی ترجمانی احقر نے اس شعر میں کی ہے:
رہا دنیا میں کب جاہ و جلالِ فرعون و نمرود مٹا کر ہی رہا ظلم و ستم کو وقت کا محمود**سرِ تسلیم خم کرنا پڑا ہر ایک جابر کو**ہوا ثابت کہ حق ہی دائمی ہے، حق ہی ہے موجود* (فضیل اختر) اگر ہم تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو بڑے بڑے جابر حکمران، فرعون صفت طاقتیں اور ناقابلِ شکست سمجھی جانے والی سلطنتیں خاک میں ملتی دکھائی دیتی ہیں۔ اپنے وقت میں خدائی کا دعویٰ کرنے والے فرعون اور نمرود ہوں، یا دنیا کو اپنے گھوڑوں کے ٹاپوں سے ہلا دینے والے چنگیز خان اور ہلاکو خان جیسے جابر، ان سب کی قائم کردہ خوف کی سلطنتیں بالآخر چند ہی دہائیوں میں بکھر گئیں اور آج ان کا نام صرف برائی کی علامت کے طور پر لیا جاتا ہے۔ جدید تاریخ میں ہٹلر کا فاشزم، جنوبی افریقہ کا نسل پرستانہ نظام اور نوآبادیاتی استعمار اپنے وقت میں فولادی دیواروں کی طرح مضبوط لگتے تھے، لیکن حق کی طاقت اور عوامی بیداری کے سامنے انہیں گھٹنے ٹیکنے ہی پڑے۔ قرآنِ کریم ظالموں کے اسی انجامِ کار کی منظر کشی کرتے ہوئے فرماتا ہے:*وَسَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا اَیَّ مُنْقَلَبٍ یَّنْقَلِبُوْنَ*ترجمہ: "اور ظلم کرنے والوں کو عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ وہ کس کروٹ پلٹتے ہیں (ان کا انجام کیا ہوتا ہے)۔” (سورہ الشعراء) ظلم کے دائمی نہ ہونے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ظلم کی تمام تر طاقت صرف *”خوف”* پر ٹکی ہوتی ہے۔ ظالم جب ظلم کی انتہا کر دیتا ہے، تو مظلوم کے دل سے کھونے کا اور موت کا خوف ہی ختم ہو جاتا ہے، اور یہی وہ نقطہ ہوتا ہے جہاں سے بڑے بڑے انقلابات جنم لیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی مکافاتِ عمل کا قانون بھی حرکت میں آتا ہے، جس کے تحت انسان جو بوتا ہے وہی کاٹتا ہے؛ ظالم جو نفرت اور درد معاشرے میں پھیلاتا ہے، وہی ایک دن بغاوت کی شکل میں اس کی اپنی تباہی کا سبب بن جاتا ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ظالم کو ملنے والی اس عارضی ڈھیل اور پھر اچانک پکڑ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
إِنَّ اللَّهَ لَيُمْلِي لِلظَّالِمِ حَتَّى إِذَا أَخَذَهُ لَمْ يُفْلِتْهُ
رجمہ: "بیشک اللہ ظالم کو مہلت دیتا رہتا ہے، یہاں تک کہ جب اسے پکڑتا ہے تو پھر اسے نہیں چھوڑتا۔” (صحیح بخاری)
ظلم کی مثال دراصل ایک کالی اندھیری رات جیسی ہوتی ہے، جو جتنی بھی گہری، طویل اور بھیانک ہو جائے، وہ صبح کے سورج کو طلوع ہونے سے نہیں روک سکتی۔ رات کا اپنے عروج پر پہنچنا ہی اس بات کی دلیل ہوتا ہے کہ اب سپیدہ سحر نمودار ہونے والا ہے۔ اسی طرح جب ظلم اپنی حد سے بڑھتا ہے تو وہ خود اپنے مٹنے کا سامان پیدا کر لیتا ہے۔
ظلم کی ٹہنی کبھی پھلتی نہیں
ناؤ کاغذ کی کبھی چلتی نہیں
خلاصہ یہ ہے کہ ظلم کی چمک دمک اور اس کا دبدبہ صرف عارضی اور سراب ہوتا ہے، فتح ہمیشہ حق، سچ اور انصاف کی ہی ہوتی ہے کیونکہ تاریخ کا سب سے بڑا اور سچا سبق یہی ہے کہ ظلم پھر ظلم ہے، جب بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔
خامہ بکف: فضیل اختر قاسمی بھیروی خادم التدریس دارالعلوم رحیمیہ پیلیر آندھراپردیش 8 جولائی 2026ء بروز بدھ























