24/ستمبر 2026 کو مسجد عبدالنبی دفتر جمعیت علمائے ہند کی درس قرآن مجلس سے حصرت مولانا مفتی محمد سلمان منصورپوری صاحب کا خطاب
صَلَّى اللَّهُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ> صَلَّى اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَذُرِّيَّاتِهِ أَجْمَعِينَ> أَمَّا بَعْدُ فَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ> مَّا اتَّخَذَ اللَّهُ مِن وَلَدٍ وَمَا كَانَ مَعَهُ مِنْ إِلَٰهٍ ۚ إِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ إِلَٰهٍ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ ۚ سُبْحَانَ اللَّهِ عَمَّا يَصِفُونَ ۞ عَالِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَتَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ
ہر روز قرآن کریم کا مختصر درس کا معمول بنایا گیا ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ ہم جو تلاوت کرتے ہیں قرآن کریم کی اس میں اللہ تعالی کیا فرما رہے ہیں یہ بھی ہمارے ذہنوں میں رہنا چاہیے کیوں کہ یہ قرآن کریم صرف کتاب تلاوت نہیں ہے بلکہ کتاب ہدایت بھی ہے اور مسل مشہور ہے کہ کان میں پڑی ہوئی بات کبھی نہ کبھی کام دیتی ہے اب جو باتیں کانوں سے ٹکراتی ہیں ان میں سب سے اچھی اور سب سے سچی بات اللہ کا کلام اس لیے ہمیں اگر موقع ہو اور کوئی اور مصروفیت نہ ہو تو اس درس میں شرکت کرنی چاہیے بلکہ کہیں بھی اگر ایسا موقع ہو تو استفادہ کرنا چاہیے دس پندرہ منٹ کی بات ہے ادھر ادھر کے مشاغل میں ہم لگا دیتے ہیں اگر اس مبارک مشغلے میں لگیں تو خیر ہی خیر ہو جو آیت اس وقت پڑھی گئی ہے اس کا تعلق عقیدہ توحید سے ہے اور عقیدہ توحید پر ہی اسلام کی پوری عمارت قائم ہے ہمارا کلمہ یہیں سے شروع ہوتا ہے لا الہ الا اللہ تو قران کریم کے جو کئی اہم موضوعات ہیں اس میں ایک اہم ترین موضوع توحید کا اثبات اور شرک کا انکار ہے شرک کو جڑ سے مٹا کر کے ختم کرنا یہ اسلام کا ایک اہم مشن ہے اس لیے تو جو مشرکین ہیں ادھر ادھر کے معبودوں کے سامنے سر جھکاتے ہیں ان سے مرادیں مانگتے ہیں اور بعض وہ ہیں جو اللہ تعالی کے ساتھ اس طرح شرک کرتے ہیں کہ اللہ کی اولاد کسی کو زبردستی بنا دیتے ہیں جیسے عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بنا دیا یہودیوں کے بعض فرقوں نے حضرت عزیر علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا بنا دیا اور یہ جو مکہ کے مشرکین تھے یہ یہ کہتے تھے کہ یہ جتنے بھی فرشتے ہیں سب اللہ کی بیٹیاں ہیں تو اللہ تعالی نے جگہ جگہ فرمایا کہ عجیب بات ہے اپنے لیے تو بیٹے پسند کرتے ہو اور اللہ کے لیے بیٹیاں ہی بیٹیاں تو ان باتوں کی تردید اس آیت میں کی گئی ہے کہ ما اتخذ اللہ من ولدی اللہ تعالی نے تو کوئی اولاد بنائی ہی نہیں اللہ کو ضرورت بھی نہیں ہے اور اللہ تعالی کی شان کے لائق نہیں ہے کہ اللہ کی کوئی اولاد ہو کیونکہ اولاد تو ہم جنس ہوتی ہے اور اللہ کا جب کوئی جنس ہی نہیں ہے تو اولاد کا کیا سوال> ولا يكون له ولد ولم تكن له صاحبة> اللہ کی کوئی جب بیوی نہیں ہو سکتی تو اولاد کہاں سے ہو جائے گی سوال ہی نہیں ہوتا ما اتخذ اللہ من ولدی پھر فرمایا وما كان معه من إله اور اللہ تعالی کے ساتھ تعاون کرنے والا کوئی معبود بھی نہیں ہے کہ کوئی یہ سمجھے کہ جی اتنا بڑا تمام اسمان ہیں زمین ہے کائنات ہے اکیلا کیسے چلائے گا تو کابینہ بنا دو وزارت بنا دو فلاں کا کام یہ فلاں کا کام وہ معاونین بنا دو جیسے دنیا کے بادشاہوں پر ہوتے ہیں تو اللہ تعالی نے اس کی بھی نفی فرما دی کہ یہ بھی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اس کا پھر ایک ایسی دلیل پیش فرمائی کہ جو دل کو لگتی ہے اور جو مشاہدے اور تجربے سے ثابت ہے اور وہ دلیل یہ ہے کہ اگر اللہ کے ساتھ اللہ تعالی کے اختیارات کے برابر کوئی اور ذات ہوتی بالفرض تو لذهب كل إله بما خلق تو ہر خالق اپنی مخلوقات کو لے کر الگ چلا جاتا آپس میں اٹھا پٹک ہو جاتی کیونکہ یہ تو ممکن ہی نہیں ہے کہ ہر معاملے میں ہر آدمی پوری طرح دوسرے سے متفق ہو خاص طور پر جو بااختيار ہیں ضرور کہیں نہ کہیں جا کے رائے میں اختلاف ہوگا جب اختلاف ہوتا تو کیا نتیجہ نکلتا سورج کا خالق سورج کو لے کر الگ چلا جاتا کہ جلاؤ دیکھو دنیا کیسے روشن ہوتی ہے میں نے پکڑ لیا اسے چاند کا خالق کہتا میں چاند کو لیے جا رہا ہوں پانی والا کہتا کہ میں پانی کو ضبط کر لوں گا ہوا کہتا تم چلا کے دکھاؤ بس سارا نظام کائنات اتر بتر ہو جاتا لذهب كل إله بما خلق اور اگر آپس میں چھینا جھپٹی ہوتی تو جنگ ہو جاتی ولا علا بعضهم على بعض اور جب خداؤں میں جنگ ہوتی تو بتائیے کیا نتیجہ نکلتا اس دنیا میں سورج نکلنا چاہتا دوسرا کہتا نکال کے دکھاؤ ہوا چلنی چاہتی وہ کہتی چلا کے دکھاؤ اب اسی پہ اٹھا پٹک رہتی یہ جو سارا نظام صحیح چل رہا ہے سورج اپنے وقت پر نکلتا ہے چاند اپنے مدار پر گھومتا ہے موسم اپنے وقت پر آتے ہیں پیداوار اپنے اعتبار سے صحیح صحیح پیدا ہوتی ہیں بارش اپنے وقت پر ہوتی ہیں اتنا صحیح اور درست جو نظام چل رہا ہے یہ دلیل ہے کہ چلانے والا ایک ہے اور مکمل با اختیار ہے اس کا نہ ساچی ہے نہ شریک نہ کوئی دباؤ بنانے والا نہ اس کو کوئی روکنے والا نہ اس کے کام میں خلل ڈالنے والا جبھی یہ نظام صحیح چل رہا ہے فرمایا فتعالی اللہ سبحان اللہ عما یصفون اللہ تعالی کی ذات ہر اس بات سے پاک ہے جو یہ لوگ اللہ کی طرف نسبت کرتے ہیں پھر فرمایا عالم الغیب والشہادت> اس کا علم اتنا عظیم الشان ہے کہ ہر چھپی ہوئی بات کو بھی وہ جانتا ہے اور کھلی ہوئی بات کو بھی جانتا ہے دنیا میں کوئی بھی حکومت اتنی معلومات حاصل نہیں کر سکتی تمام تر انتظامات کے باوجود جو اللہ تعالی کو حاصل ہے عالم الغیب والشہادت اندھیرے کی باتیں بھی جانتا ہے اجالے کی باتیں بھی جانتا ہے پردوں کے پیچھے بھی جانتا ہے پردوں کے باہر بھی جانتا ہے عالم الغیب والشہادت فرمایا فتعالی عما یشرکون جن چیزوں کو وہ اللہ کے شریک قرار دیتے ہیں اس سے اللہ تعالی بہت بلند ہے اس کی ذات بہت بلند ہے سوال ہی نہیں ہوتا کہ اس کے کسی بھی کام میں کوئی شریک ہو جائے آج کل کیونکہ ہر طرف شرک کا ماحول ہے ضرورت ہے کہ معاشرے میں توحید کا سبب بار بار دہرایا جائے بچوں بچوں کے ذہن و دماغ میں بات بٹھائی جائے ان کو صحیح تعلیم توحید کی دی جائے اس کو تحریک بنا کر کے عام کیا جائے اور خاص کر ایسی آیات جو قران کریم میں توحید سے متعلق ہیں ان کو عوامی مجامع میں اچھے سے اچھے انداز میں بیان کیا جائے اس اور پر کہ جو دیگر ہمارے برادران وطن کے معبود ہیں ان کے اوپر کوئی ایسی ایسا تبصرہ نہ کیا جائے جو ان کو ناگوار گزرے مثبت انداز میں کہا جائے ایسا نہ ہو کہ چڑ کا دور ہو کوئی فتنہ پیدا ہو کوئی بات پکڑ میں آئے یہ قران کریم کی تعلیم ہے کہ ولا تسبوا الذین یدعون من دون اللہ دوسروں کے معبودوں کو برا بھلا مت کو اپنی بات کہو اپنی دلیلیں پیش کرو قران میں جو فرمایا اس کو اچھے انداز میں عوام تک پہنچایا جائے یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے اللہ تعالی ہم سب کو توحید عطا فرمائے آمین ثم آمین ۔



















