جمعہ, اکتوبر 9, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری کے اچھے دن!

    طریقہ تعلیم پر اہل حدیث عالم کا نظریہ

    متحدہ قومیت پر اہل حدیث عالم مولانا عبد الوہاب آروی کا نظریہ

    اجلاس اور تجاویز

    محمد یاسین جہازی

    مسئلہ آسام اور جمعیت علمائے ہند

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    بھارت میں فرقہ وارانہ اتحاد و انتشار کی راہ

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (15)۔ جہازی فارمولے

    گاندھی جی اور جمعیت علمائے ہند

    گاندھی جی اور جمعیت علمائے ہند

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    آپ کس سمت سے نکلیں گے بچاکے دامن

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں

    وہی تنظیم قائم رہتی ہے، جو وقت کے ساتھ ہم آہنگ ہوتی ہے

    تو ہم کہہ دیں گے کہ یہ ملک ہندو اسٹیٹ بن گیا ہے

    تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کے خلاصے سے اہم اقتباسات

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (14)۔ ملک دو راہے پر آگے کا راستہ کیا؟

    شیخ محمد محسن تِرہُتی رح اور ان کی تصنیف الیانع الجنى فی اسانید الشیخ عبد الغنی (تاریخ، تعارف اور تجزیہ)

    شیخ محمد محسن تِرہُتی رح اور ان کی تصنیف الیانع الجنى فی اسانید الشیخ عبد الغنی (تاریخ، تعارف اور تجزیہ)

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(13) قیام پاکستان کی مخالفت کیو ں کی گئی؟

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    بھارت میں ہندو تہذیب وثقافت کی بالادستی کی جنگ 

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(11)۔لمحوں کی خطا کیا تھی؟—صدیوں کی سزا کیا ہوگی؟

    حکیم الاسلام کے حکیمانہ جوابات کی رسمِ اجراعلمی و فکری حلقوں میں کتاب کی پذیرائی

    حکیم الاسلام کے حکیمانہ جوابات کی رسمِ اجراعلمی و فکری حلقوں میں کتاب کی پذیرائی

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری کے اچھے دن!

    طریقہ تعلیم پر اہل حدیث عالم کا نظریہ

    متحدہ قومیت پر اہل حدیث عالم مولانا عبد الوہاب آروی کا نظریہ

    اجلاس اور تجاویز

    محمد یاسین جہازی

    مسئلہ آسام اور جمعیت علمائے ہند

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    بھارت میں فرقہ وارانہ اتحاد و انتشار کی راہ

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (15)۔ جہازی فارمولے

    گاندھی جی اور جمعیت علمائے ہند

    گاندھی جی اور جمعیت علمائے ہند

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    آپ کس سمت سے نکلیں گے بچاکے دامن

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں

    وہی تنظیم قائم رہتی ہے، جو وقت کے ساتھ ہم آہنگ ہوتی ہے

    تو ہم کہہ دیں گے کہ یہ ملک ہندو اسٹیٹ بن گیا ہے

    تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کے خلاصے سے اہم اقتباسات

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (14)۔ ملک دو راہے پر آگے کا راستہ کیا؟

    شیخ محمد محسن تِرہُتی رح اور ان کی تصنیف الیانع الجنى فی اسانید الشیخ عبد الغنی (تاریخ، تعارف اور تجزیہ)

    شیخ محمد محسن تِرہُتی رح اور ان کی تصنیف الیانع الجنى فی اسانید الشیخ عبد الغنی (تاریخ، تعارف اور تجزیہ)

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(13) قیام پاکستان کی مخالفت کیو ں کی گئی؟

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    بھارت میں ہندو تہذیب وثقافت کی بالادستی کی جنگ 

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(11)۔لمحوں کی خطا کیا تھی؟—صدیوں کی سزا کیا ہوگی؟

    حکیم الاسلام کے حکیمانہ جوابات کی رسمِ اجراعلمی و فکری حلقوں میں کتاب کی پذیرائی

    حکیم الاسلام کے حکیمانہ جوابات کی رسمِ اجراعلمی و فکری حلقوں میں کتاب کی پذیرائی

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
No Result
View All Result
Home قومی و بین الاقوامی

کیا پاکستان ہندستانی مسلمانوں کے راشٹرواد پر ایک سوالیہ نشان ہے

by Admin
ستمبر 24, 2026
in قومی و بین الاقوامی
0
نوجوانوں کی اصلاح اور بیداری وقت کی اہم ضرورت: مفتی محمد نظام الدین قاسمی
0
SHARES
58
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

راشٹرواد (9)

محمد یاسین جہازی

کیا پاکستان ہندستانی مسلمانوں کے راشٹرواد پر ایک سوالیہ نشان ہے؟

تقسیم ہند کے بعد 14 اگست 1947ء کو پاکستان کے قیام کے ساتھ مسلم لیگی نظریات کے حامی بعض علما نے ہندستان سے پاکستان کی طرف ہجرت کو فرض قرار دیا، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر انسانی نقل مکانی ہوئی۔ اور تباہی کے شکار ہوئے۔ لیکن جمعیت علمائے ہند کا موقف اس سے بالکل مختلف تھا۔ فخر المحدثین حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ نے جمعیت علمائے ہند کے آٹھویں اجلاس عام 2 تا 5 دسمبر 1927ء میں انگریزی دور ہی میں ہندستان کو دارالامان قرار دے دیا تھا، اس لیے آزادی کے بعد تو بدرجۂ اولیٰ ہندستان دارالامان تھا، اس لیے جمعیت علمائے ہند کے نزدیک ہجرت کا شرعی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ علاوہ ازیں سید الملت حضرت مولانا محمد میاں دیوبندیؒ کے مطابق جن لوگوں کے سامنے نہ جان کا حقیقی خطرہ تھا اور نہ ارتداد کا، بلکہ روزگار، عزت، بچوں کے مستقبل یا خوف کی وجہ سے انھوں نے وطن چھوڑا، ان کا یہ ترکِ وطن شرعی ہجرت نہیں بلکہ صرف طلبِ دنیا تھا۔ اسی طرح امام الہند مولانا ابوالکلام آزادؒ نے 24 اکتوبر 1947ء کو جامع مسجد دہلی سے خطاب کرتے ہوئے ہجرت کرنے والوں سے کہا کہ جس فرار کو تم نے ہجرت کا مقدس نام دیا ہے، اس پر غور کرو؛ دہلی کی تاریخ اور اس کی سرزمین تم سے سوال کر رہی ہے کہ تم نے اپنی تاریخ کہاں گم کردی۔

تقسیم کے بعد فرقہ پرست عناصر ہندستانی مسلمانوں کے شہری حقوق کے خلاف یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ 1945-46ء کے انتخابات میں مسلمانوں نے پاکستان کے حق میں فیصلہ دے دیا تھا۔ دسمبر 1945ء کے مرکزی انتخابات میں 102 نشستوں میں 30 مسلم نشستیں مخصوص تھیں اور مسلم لیگ نے تمام 30 جیتیں؛ جب کہ 1946ء کے صوبائی انتخابات میں 1585 نشستوں میں 492 مسلم نشستیں تھیں، جن میں مسلم لیگ نے 425 نشستیں حاصل کر لیں۔ اسی طرح جولائی 1946ء کی آئین ساز اسمبلی میں 73 نشستیں حاصل کرلیں ، اور یوں تقسیم ہند کے ذریعے مسلمانوں نے اپنا حصہ (پاکستان) حاصل کر لیا تھا؛ لہٰذا اب ہندستان میں مسلمانوں کا کوئی قانونی، یا اخلاقی حق اور حصہ باقی نہیں رہا۔

فرقہ پرستوں کایہ اعتراض تاریخی و ریاضیاتی حقائق کے رو سے مندرجہ ذیل وجوہات کی بنیاد پر درست نہیں ہے:

1۔ یہ انتخابات گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935ء کے تحت سخت شرائط (جائیداد کی ملکیت، ٹیکس اور تعلیمی معیار) پر منعقد ہوئے تھے ، نہ کہ بالغ رائے دہی پر۔

2۔ برصغیر کے تقریباً 9/کروڑ مسلمانوں میں سے صرف 10/فی صد( 90 /لاکھ) کو ووٹ کا حق حاصل تھا، اور عملاً صرف 60 /لاکھ( 6 سے 7/فی صد) نے ووٹ ڈالا۔ تقریباً 93 سے 94 /فی صد عام مسلمان، کسان اور مزدور رائے شماری سے محروم رہے۔ چند فی صد مراعات یافتہ طبقے کی رائے کو پوری مسلم قوم کا حتمی فیصلہ قرار دینا صریح بددیانتی ہے۔
اس کا ایک جواب تو یہ تھا اور دوسرا جواب یہ ہے کہ جمعیت علمائے ہند کا تاریخی موقف ابتدا ہی سے واضح تھا ۔ جمعیت نے 30 مارچ 1919 سے شروع ہونے والی عدم تعاون تحریک سے لے کر 3 نومبر 1919 کو مولانا عبدالباری فرنگی محلی کے ترک موالات کے فتوے تک، جس میں غیر مسلموں سے نہیں بلکہ انگریز حکومت سے بائیکاٹ کا کہا گیا تھا، ہمیشہ متحدہ قومیت کو بنیاد بنایا۔ 23 نومبر 1919 کو قیام سے لے کر آج تک وہ اسی پر قائم ہے جب کہ ٹو نیشن تھیوری کی اس نے کبھی تائید نہیں کی، اس نظریے پر مبنی تشکیل پاکستان اور اس کے نتیجے میں ہونے والی تقسیم ہند کی شدت کے ساتھ مخالفت کی ۔
اس لیے 1945-46ء کے انتخابی نتائج کو ہندستانی مسلمانوں کی ابدی سیاسی شناخت قرار دینا، یا پاکستان کے قیام کو ہندستان میں رہ جانے والے مسلمانوں کے شہری حقوق سے محرومی کی دلیل بنانا، جمعیت کے تاریخی موقف سے مطابقت نہیں رکھتا۔ جمعیت کے نزدیک ہندستانی مسلمان اس ملک کے برابر کے شہری تھے، ہیں اور اپنے شہری حقوق کے اسی اصول کے تحت مطالبہ کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے۔

الزام غداری اور وفاداری کا مطالبہ
جاری۔۔۔

Admin

Admin

Next Post
اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

بھارت میں ہندو تہذیب وثقافت کی بالادستی کی جنگ

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

ویسٹ یا انویسٹ

ویسٹ یا انویسٹ

12 مہینے ago
گاندھی جینتی یا یوم عدم تشدد

گاندھی جینتی یا یوم عدم تشدد

1 سال ago

مقبول

  • درس گاہوں کا نفسیاتی ماحول

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • کال سنٹر کی ملازمت  !

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری کے اچھے دن!

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • وہی تنظیم قائم رہتی ہے، جو وقت کے ساتھ ہم آہنگ ہوتی ہے

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • تو ہم کہہ دیں گے کہ یہ ملک ہندو اسٹیٹ بن گیا ہے

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیت علمائے ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • متفرق مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.