راشٹرواد (9)
محمد یاسین جہازی
کیا پاکستان ہندستانی مسلمانوں کے راشٹرواد پر ایک سوالیہ نشان ہے؟
تقسیم ہند کے بعد 14 اگست 1947ء کو پاکستان کے قیام کے ساتھ مسلم لیگی نظریات کے حامی بعض علما نے ہندستان سے پاکستان کی طرف ہجرت کو فرض قرار دیا، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر انسانی نقل مکانی ہوئی۔ اور تباہی کے شکار ہوئے۔ لیکن جمعیت علمائے ہند کا موقف اس سے بالکل مختلف تھا۔ فخر المحدثین حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ نے جمعیت علمائے ہند کے آٹھویں اجلاس عام 2 تا 5 دسمبر 1927ء میں انگریزی دور ہی میں ہندستان کو دارالامان قرار دے دیا تھا، اس لیے آزادی کے بعد تو بدرجۂ اولیٰ ہندستان دارالامان تھا، اس لیے جمعیت علمائے ہند کے نزدیک ہجرت کا شرعی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ علاوہ ازیں سید الملت حضرت مولانا محمد میاں دیوبندیؒ کے مطابق جن لوگوں کے سامنے نہ جان کا حقیقی خطرہ تھا اور نہ ارتداد کا، بلکہ روزگار، عزت، بچوں کے مستقبل یا خوف کی وجہ سے انھوں نے وطن چھوڑا، ان کا یہ ترکِ وطن شرعی ہجرت نہیں بلکہ صرف طلبِ دنیا تھا۔ اسی طرح امام الہند مولانا ابوالکلام آزادؒ نے 24 اکتوبر 1947ء کو جامع مسجد دہلی سے خطاب کرتے ہوئے ہجرت کرنے والوں سے کہا کہ جس فرار کو تم نے ہجرت کا مقدس نام دیا ہے، اس پر غور کرو؛ دہلی کی تاریخ اور اس کی سرزمین تم سے سوال کر رہی ہے کہ تم نے اپنی تاریخ کہاں گم کردی۔
تقسیم کے بعد فرقہ پرست عناصر ہندستانی مسلمانوں کے شہری حقوق کے خلاف یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ 1945-46ء کے انتخابات میں مسلمانوں نے پاکستان کے حق میں فیصلہ دے دیا تھا۔ دسمبر 1945ء کے مرکزی انتخابات میں 102 نشستوں میں 30 مسلم نشستیں مخصوص تھیں اور مسلم لیگ نے تمام 30 جیتیں؛ جب کہ 1946ء کے صوبائی انتخابات میں 1585 نشستوں میں 492 مسلم نشستیں تھیں، جن میں مسلم لیگ نے 425 نشستیں حاصل کر لیں۔ اسی طرح جولائی 1946ء کی آئین ساز اسمبلی میں 73 نشستیں حاصل کرلیں ، اور یوں تقسیم ہند کے ذریعے مسلمانوں نے اپنا حصہ (پاکستان) حاصل کر لیا تھا؛ لہٰذا اب ہندستان میں مسلمانوں کا کوئی قانونی، یا اخلاقی حق اور حصہ باقی نہیں رہا۔
فرقہ پرستوں کایہ اعتراض تاریخی و ریاضیاتی حقائق کے رو سے مندرجہ ذیل وجوہات کی بنیاد پر درست نہیں ہے:
1۔ یہ انتخابات گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935ء کے تحت سخت شرائط (جائیداد کی ملکیت، ٹیکس اور تعلیمی معیار) پر منعقد ہوئے تھے ، نہ کہ بالغ رائے دہی پر۔
2۔ برصغیر کے تقریباً 9/کروڑ مسلمانوں میں سے صرف 10/فی صد( 90 /لاکھ) کو ووٹ کا حق حاصل تھا، اور عملاً صرف 60 /لاکھ( 6 سے 7/فی صد) نے ووٹ ڈالا۔ تقریباً 93 سے 94 /فی صد عام مسلمان، کسان اور مزدور رائے شماری سے محروم رہے۔ چند فی صد مراعات یافتہ طبقے کی رائے کو پوری مسلم قوم کا حتمی فیصلہ قرار دینا صریح بددیانتی ہے۔
اس کا ایک جواب تو یہ تھا اور دوسرا جواب یہ ہے کہ جمعیت علمائے ہند کا تاریخی موقف ابتدا ہی سے واضح تھا ۔ جمعیت نے 30 مارچ 1919 سے شروع ہونے والی عدم تعاون تحریک سے لے کر 3 نومبر 1919 کو مولانا عبدالباری فرنگی محلی کے ترک موالات کے فتوے تک، جس میں غیر مسلموں سے نہیں بلکہ انگریز حکومت سے بائیکاٹ کا کہا گیا تھا، ہمیشہ متحدہ قومیت کو بنیاد بنایا۔ 23 نومبر 1919 کو قیام سے لے کر آج تک وہ اسی پر قائم ہے جب کہ ٹو نیشن تھیوری کی اس نے کبھی تائید نہیں کی، اس نظریے پر مبنی تشکیل پاکستان اور اس کے نتیجے میں ہونے والی تقسیم ہند کی شدت کے ساتھ مخالفت کی ۔
اس لیے 1945-46ء کے انتخابی نتائج کو ہندستانی مسلمانوں کی ابدی سیاسی شناخت قرار دینا، یا پاکستان کے قیام کو ہندستان میں رہ جانے والے مسلمانوں کے شہری حقوق سے محرومی کی دلیل بنانا، جمعیت کے تاریخی موقف سے مطابقت نہیں رکھتا۔ جمعیت کے نزدیک ہندستانی مسلمان اس ملک کے برابر کے شہری تھے، ہیں اور اپنے شہری حقوق کے اسی اصول کے تحت مطالبہ کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے۔
الزام غداری اور وفاداری کا مطالبہ
جاری۔۔۔



















