راشٹر واد(10)
محمد یاسین جہازی
الزام غداری اور وفاداری کا مطالبہ
جیسا کہ "راشٹرواد کا ہندو ورژن” میں آپ نے مطالعہ کرلیا کہ ساورکر اور گولوالکر کی ہندو راشٹر کی تعریف اور اس کے قیام کی کوششوں نے مسلمانوں کو ہندو قومی شناخت سے باہر قرار دے کر ان کی حب الوطنی کو مشکوک بنانے کی فکری بنیاد فراہم کی، جس کے نتیجے میں پاکستان بننے کے بعد ہندستانی مسلمانوں کی وفاداری پر سوال اٹھائے جانے لگے، ان سے حب الوطنی کے ثبوت اور وفاداری کا مطالبہ کیا جانے لگا اور انھیں مسلسل شک کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا، جس کا سلسلہ تاہنوز جاری ہے۔
اس حوالے سے سب سے پہلا سوال یہی ہوتا ہے کہ وفاداری کا سوال کس سے ہے؟ ملک اور دستور سے، یا حکومت اور حکمرانوں سے؟ جمعیت علمائے ہند کی تاریخ میں اس سوال کا جواب ابتدا ہی سے دوٹوک انداز میں دیا گیا ہے کہ وفاداری ملک اور دستور سے ہوتی ہے، کسی فرد، جماعت یا وقتی حکومت سے نہیں۔ اس موقف کی تاریخی تسلسل درج ذیل ہے:
- مولانا سید انور شاہ کشمیری — صدرِ اجلاس — 2 تا 5 دسمبر 1927، صدارتی خطبہ: مولانا انور شاہ کشمیری نے قرآن کریم کی آیات ’’إِلَّا الَّذِينَ عَاهَدْتُمْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ‘‘ اور ’’فَمَا اسْتَقَامُوا لَكُمْ فَاسْتَقِيمُوا لَهُمْ‘‘ سے استدلال کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر برادرانِ وطن مسلمانوں سے منصفانہ معاہدہ کرلیں، تو مسلمان انھیں پورے وفادار ملیں گے۔
- حضرت مولانا محمد حفظ الرحمان — جمعیت علمائے ہند کے ناظمِ عمومی — 27، 28 دسمبر 1947، آزاد کانفرنس: فرمایا کہ ہم اس ملک کے باشندے اور وفادار ہیں، اگر پاکستان بھی حملہ کرے گا تو مسلمان سب سے پہلے اس ملک کا دفاع کریں گے۔ بعض حکام مسلمانوں کو ’’پانچواں کالم‘‘ کہتے ہیں، یہ غلط ہے؛ ہم اس ملک کو اسی طرح اپنا وطن سمجھتے ہیں، جس طرح ہندو۔ وفاداری کا مطالبہ تو غیر ملکی سے کیا جاتا ہے۔
- شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی — صدر جمعیت علمائے ہند — تقسیم کے بعد، دیوبند کی جامع مسجد: فرمایا کہ اس ملک کو تم نے اپنے خون سے سینچا ہے، آئندہ بھی سینچنے کا عزم رکھو، یہی حقیقی وفاداری ہے۔ وزراء کو یہ ثابت کرنا چاہیے کہ وہ عوام کے وفادار ہیں، عوام کو ان سے بازپرس کا حق ہے؛ پھر مسلمانوں سے اس غلامانہ انداز میں وفاداری کا اظہار کیوں کرایا جائے؟ انھوں نے بہار، گڑھ مکتسر، یوپی، دہلی، مشرقی پنجاب، کلکتہ، نواکھالی اور مغربی پنجاب کے واقعات کا حوالہ دے کر سوال کیا کہ ان مصائب کو کس غداری یا بے وفائی کا نتیجہ قرار دیا جا سکتا ہے؟
- مولانا احمد سعید — صدر جمعیت علمائے ہند — 26، 27، 28 اپریل 1948، پندرھواں اجلاسِ عام: فرمایا کہ جو لوگ اس ملک کو اپنا ملک نہیں سمجھتے وہ چلے جائیں، بحری، بری اور ہوائی راستے کھلے ہیں۔ میں جان بوجھ کر ’’وفاداری‘‘ کا لفظ استعمال نہیں کر رہا، کیوں کہ جب یہ اپنا ملک ہے تو ثبوت کس کے سامنے پیش کیا جائے؟
- مولانا محمد حفظ الرحمان — ناظمِ عمومی جمعیت علمائے ہند — 26، 27، 28 اپریل 1948، پندرھواں اجلاسِ عام: فرمایا کہ بلا شبہ جو لوگ پاکستان کی طرف تکتے ہیں وہ چلے جائیں، لیکن چار کروڑ مسلمان غدار نہیں۔ لیگ کے حامی عوام کو معاف کیا جا سکتا ہے، جیسے جرمن عوام کو ہٹلر ازم کی قیادت کی خطا کی بنیاد پر مٹا نہیں دیا گیا۔ وفاداری ڈرانے سے نہیں بلکہ پریم اور محبت سے پیدا ہوتی ہے۔
- جناب مقصود بن منصور مرادآبادی — صدرِ استقبالیہ — 27 تا 29 اپریل 1951، سترھواں اجلاسِ عام: فرمایا کہ وفاداری کا سوال ملک اور دستور سے ہوتا ہے۔ میں اعلان کرتا ہوں کہ ہم اپنے ملک اور دستور کے وفادار ہیں اور ہر اس حکومت کے وفادار رہیں گے جو دستور پر پورا عمل کرے۔ مسلمانوں کو حجاز، ایران اور شام سے ہمدردی ہے تو کیا اس کا مطلب غداری ہے؟ خود حکومتِ ہند کو پاکستان سے ہمدردی ہے اور وفود بھی جاتے ہیں، تو کیا وہ غدار ہے؟
- مولانا محمد حفظ الرحمان — ناظمِ عمومی جمعیت علمائے ہند — 27 تا 29 اپریل 1951، سترھواں اجلاسِ عام: فرمایا کہ غداری افراد میں ہو سکتی ہے، جماعت غدار نہیں ہو سکتی۔ پاکستان کی طرف نظر اٹھانا اگر غداری ہے تو مہاتما گاندھی کے سینے میں گولی مارنا بھی کیا غداری نہیں ہے؟
- مولانا محمد حفظ الرحمان — ناظمِ عمومی جمعیت علمائے ہند — 9، 10، 11 دسمبر 1960، بیسواں اجلاسِ عام: فرمایا کہ اگر کسی کو پنڈت نہرو سے وفاداری کا مطالبہ کرنے کا حق نہیں تو حفظ الرحمان سے بھی نہیں ہے۔ ہندو، مسلم، سکھ سب ہندستان کے جسم کے ٹکڑے ہیں؛ ناخن میں تکلیف ہو تو پورے جسم کو تکلیف ہوتی ہے۔
- مولانا سید فخرالدین احمد — صدر جمعیت علمائے ہند — 15 تا 17 اپریل 1966، بائیسواں اجلاسِ عام: فرمایا کہ حفاظتِ وطن کے دعوے دار پریشان تھے کہ چھ کروڑ مسلمانوں کا کردار کیا ہوگا، لیکن بریگیڈیئر عبدالحمید اور ان کے ساتھیوں نے اپنے عمل سے جواب دے دیا۔ اب بھی مسلمانوں سے وفاداری کا مطالبہ دستور کے احترام کو پامال کرنا ہے۔
- مولانا شاہد فاخری — رکنِ جمعیت علمائے ہند — 15 تا 17 اپریل 1966، بائیسواں اجلاسِ عام: فرمایا کہ ہماری وفاداری زمین اور ملک سے ہے، پارٹی سے نہیں؛ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں۔
- جناب محمد امین انصاری — وزیر اوقاف، اترپردیش — 14، 15 جنوری 1983، مجلسِ منتظمہ: فرمایا کہ حب الوطنی ہمارا ایمان ہے۔
- جناب عبدالرحمان انتولے — سابق وزیر اعلیٰ مہاراشٹر — 14، 15 جنوری 1983، مجلسِ منتظمہ: فرمایا کہ مسلمانوں کی وفاداری پر شیطان بھی شک نہیں کر سکتا۔
- جناب فاروق عبداللہ — سابق وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر — 25، 26 جنوری 1991، کل ہند اجتماع: فرمایا کہ مسلمان کسی سے وفاداری کا سرٹیفکیٹ نہ لیں۔
- جسٹس سردار علی خان — 29 اکتوبر 1995، پچیسواں اجلاس: فرمایا کہ اس ہندستان پر مسلمانوں کا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا کسی اور کا۔
- سیتا رام کیسری — مرکزی وزیر فلاح و بہبود — 29 اکتوبر 1995، پچیسواں اجلاس: فرمایا کہ کروڑوں مسلمانوں نے موت کے سائے میں ہندستان میں رہنا پسند کیا؛ اگر ان کی وفاداری پر شک ہے تو شک کرنے والوں کی وفاداری پر مجھے شک ہے۔
- مولانا ارشد مدنی — رکن عاملہ جمعیت علمائے ہند — 6 جون 1999، اقلیتی کنونشن: فرمایا کہ مسلمان ایک ہزار سال سے یہاں رہ رہے ہیں، حاکم بھی رہے اور محکوم بھی، لیکن ہمیشہ مکمل وفاداری کا ثبوت دیا۔
- مولانا اسعد مدنی — صدر جمعیت علمائے ہند — 25 مارچ 2000، بیان: آر ایس ایس سربراہ کے ایس سدرشن کے اس بیان پر کہ مسلمان ہندستان کو اپنا ملک سمجھیں، فرمایا کہ یہ کھلی شرارت ہے۔
- مولانا اسعد مدنی — صدر جمعیت علمائے ہند — 17 اکتوبر 2000، آر ایس ایس کی راشٹریہ سرکشا مہاشور کے بعد بیان: فرمایا کہ آر ایس ایس کو اقلیتوں سے وفاداری کا مطالبہ کرنے کا کوئی حق نہیں؛ اسے بتایا جائے کہ وہ خود جس ’’قومی دھارے‘‘ کی بات کرتی ہے، وہ کہاں بہہ رہا ہے۔
- مولانا اسعد مدنی — صدر جمعیت علمائے ہند — 21 جون 2002، مشاورتی میٹنگ کا میمورنڈم: کہا گیا کہ مذہب کی بنیاد پر وفاداری پر انگلی اٹھانا قومی عداوت کے مترادف ہے۔
- مولانا اسعد مدنی — صدر جمعیت علمائے ہند — 9 مارچ 2003، ستائیسواں اجلاس، صدارتی خطبہ: گولوالکر کے اس الزام کا جواب دیتے ہوئے کہ مسلمانوں کی وفاداریاں باہر ہیں اور ان کی آبادی 11 سے 22 فی صد ہوگئی ہے، فرمایا کہ سرکاری رپورٹ میں آج بھی مسلمانوں کی آبادی تقریباً 12 فی صد ہے؛ یہ دعویٰ اقلیتوں کے خلاف ماحول بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
- کے رحمان — ڈپٹی چیئرمین راجیہ سبھا — 20، 21 اگست 2006، علماء کانفرنس: فرمایا کہ وطن سے محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔
- مولانا محمود مدنی — ناظمِ عمومی جمعیت علمائے ہند — 15 ستمبر 2006، پریس کانفرنس: فرمایا کہ وندے ماترم کو وفاداری سے جوڑنا ملک کو برباد کرنے کی سازش ہے۔ ملک ہمارے لیے پیارا ہے، قابلِ عبادت نہیں؛ جس چیز کی دستوری حیثیت نہیں، اسے وفاداری کا ثبوت نہیں بنایا جا سکتا۔
- مولانا محمود مدنی — ناظمِ عمومی جمعیت علمائے ہند — 10 ستمبر 2007، بیان: فرمایا کہ دہشت گردی کے کسی واقعے کے بعد بلا تحقیق مسلمانوں پر انگلی اٹھانا بند ہونا چاہیے۔
- پرم جیت سنگھ سرنا — صدر دہلی سکھ گردوارہ مینجمنٹ کمیٹی — 31 مئی 2008، دہشت گردی مخالف امن کانفرنس: فرمایا کہ ہم خود 1984 کے دور سے گزر چکے ہیں؛ ہمیں یہ صفائی دینے کی ضرورت نہیں کہ ہم وفادار ہیں۔ بدعنوانی دوسرے کریں اور صفائی ہم دیں، یہ درست نہیں۔
- مولانا محمود مدنی — ناظمِ عمومی جمعیت علمائے ہند — 9 نومبر 2008، انتیسواں اجلاسِ عام: فرمایا کہ ہم اس ملک میں کرایہ دار نہیں ہیں؛ ہمیں کسی کا احسان نہیں چاہیے بلکہ وسائل میں ہمارا حق دیا جائے۔
- مولانا محمود مدنی — ناظمِ عمومی جمعیت علمائے ہند — 14 فروری 2009، امن کانفرنس: فرمایا کہ مسلمان اس ملک کے معمار ہیں، اس ملک کے مالک ہیں، کرایہ دار نہیں۔
- مولانا محمود مدنی — ناظمِ عمومی جمعیت علمائے ہند — 3 نومبر 2009، تیسواں اجلاسِ عام: فرمایا کہ یاد رکھو، تم اس ملک کے حصہ دار ہو، کرایہ دار نہیں۔ جب میں دنیا کے کسی حصے سے ہندستان کی سرزمین پر قدم رکھتا ہوں تو لمبی سانس لیتا ہوں؛ جو خوشبو یہاں ملتی ہے وہ کہیں نہیں ملتی۔
- سوامی اگنی ویش — سماجی و مذہبی رہنما — 3 نومبر 2009، تیسواں اجلاسِ عام: فرمایا کہ مسلمانوں کو کسی وفاداری کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں؛ جمعیت کی قربانی خود ایک سرٹیفکیٹ ہے۔
- مولانا محمود مدنی — ناظمِ عمومی جمعیت علمائے ہند — 27 نومبر 2015، ریڈف انٹرویو: فرمایا کہ ’’ہم بائی چانس انڈین نہیں، بائی چوائس انڈین ہیں۔‘‘ انھوں نے وضاحت کی کہ ہمارے آباؤ اجداد کے پاس ایک ایسی ریاست میں جانے کا موقع تھا جو اسلامی تھی، لیکن انھوں نے اس ریاست میں رہنے کا انتخاب کیا جو اسلامی نہیں تھی؛ اس لیے ہندستان ہمارا ملک ہے اور ہم اس کے حصہ دار ہیں۔
- مولانا محمود مدنی — ناظمِ عمومی جمعیت علمائے ہند — 14 فروری 2016، میرٹھ، حصولِ انصاف کانفرنس: فرمایا کہ ’’مسلمان بائی چانس انڈین نہیں بلکہ بائی چوائس انڈین ہیں‘‘؛ وطن سے محبت ہی کی وجہ سے وہ تقسیم کے بعد بھی ہندستان میں رکے۔
- مولانا محمود مدنی — ناظمِ عمومی جمعیت علمائے ہند — 16 اپریل 2017، احمد آباد، جمعیت علمائے ہند کا کنونشن: فرمایا کہ ’’ہم بائی چوائس انڈین ہیں، بائی چانس نہیں‘‘؛ مسلمانوں نے ایک اسلامی ریاست کے بجائے ہندستان کو ترجیح دی اور انھیں اپنے اس انتخاب پر کوئی افسوس نہیں۔
- مولانا محمود مدنی — ناظمِ عمومی جمعیت علمائے ہند — 15 فروری 2019، بنارس، مولانا حبیب الرحمان اعظمی کی خدمات پر سیمینار: فرمایا کہ ہم ان لوگوں کے نام لیوا ہیں جنھوں نے مذہب کے نام پر تقسیم کی مخالفت کی اور اپنی مرضی سے اس ملک میں رہنا پسند کیا۔ ہمیں کسی سے سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں، مگر بدقسمتی سے ہماری قوم ستر سال سے صفائی دیتی آ رہی ہے۔
- پروفیسر اخترالواسع — معروف مسلم دانش ور و ماہرِ تعلیم — 25 ستمبر 2022، دھرم سنسد: فرمایا کہ مجھے فخر ہے کہ ہندستان میری ماتر بھومی بھی ہے اور پتر بھومی بھی، کیوں کہ ابوالبشر آدمؑ پر پیغامِ حق سب سے پہلے اسی سرزمین پر نازل ہوا۔
- مولانا محمود مدنی — صدر جمعیت علمائے ہند — 12 فروری 2023، چونتیسواں اجلاسِ عام، صدارتی خطبہ ’’بھارت ہمارا وطن‘‘: فرمایا کہ بھارت ہمارا وطن ہے، جتنا مودی اور بھاگوت کا ہے اتنا ہی محمود کا ہے؛ نہ محمود ایک انچ آگے ہے نہ وہ ایک انچ پیچھے۔ یہ دھرتی اسلام کی جائے پیدائش اور مسلمانوں کا پہلا وطن ہے، اس لیے اسلام کو باہر سے آیا ہوا کہنا تاریخی طور پر بے بنیاد ہے۔ انھوں نے کہا کہ بھارت ہندی مسلمانوں کے لیے وطنی اور دینی دونوں حیثیتوں سے اہم ہے، تاہم اس کے لیے آئین، جمہوریت، انسانی حقوق اور مقننہ، انتظامیہ، عدلیہ اور میڈیا کا درست طور پر کام کرنا ضروری ہے۔
- مولانا محمد سلمان بجنوری — نائب صدر جمعیت علمائے ہند — 29 نومبر 2025، بھوپال، مجلسِ منتظمہ: فرمایا کہ ہم مدارس اور تمام مسلمانوں کی طرف سے واضح طور پر کہتے ہیں کہ ملک سے غداری کرنے والوں کے ساتھ کبھی نہیں ہوں گے۔ ملک سے وفاداری اور معاہدوں کی پابندی ہمارے مذہب کا حکم ہے۔ تاہم حکومت سے مطالبہ ہے کہ جس طرح ایک مسلمان کے مشتبہ ہونے پر کارروائی کی جاتی ہے، اسی طرح اپنے ہم مذہب بھائی کے معاملے میں بھی تحقیق کی جائے اور مجرم کو قرار واقعی سزا دی جائے۔
لمحوں کی خطا کیا تھی؟ صدیوں کی سزا کیا ہوگی؟
جاری۔۔۔۔۔


















