پریس رپورٹ
بلاک بسنت رائے کی فعال ملی و دینی تنظیم، جمعیت علمائے بسنت رائے کی اراکینِ منتظمہ کا ایک نہایت اہم، فکری اور مشاورتی اجلاس24؍ مئی 2026 بروز اتوار ، جھارکھنڈ کے ضلع گڈا کی بستی جہاز قطعہ میں واقع جامعۃ الہدیٰ جہاز قطعہ کیمپس میں نہایت شاندار اور منظم انداز میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں علماء، ائمہ، دانشوران، سماجی کارکنان اور مختلف بستیوں کے ذمہ داران نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
پروگرام کا آغاز جامعۃ الہدیٰ کے طالب علم مرغوب الرحمن کی پُرسوز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جب کہ صفات اللہ سلمہ، متعلمِ جامعہ نے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں نعتِ رسولِ مقبول پیش کر کے سامعین کے دلوں کو منور کیا۔بعد ازاں حسبِ روایت صدر جمعیت علمائے بسنت رائے مفتی محمد نظام الدین قاسمی کے ہاتھوں پرچم کشائی کی رسم ادا کی گئی، جب کہ ترانۂ جمعیت مولانا محمد شمیم صاحب قاسمی، مہتمم مدرسہ فخر الاسلام کوریانہ نے نہایت ولولہ انگیز انداز میں پیش کیا۔
اس کے بعد صدر جمعیت علمائے بلاک بسنت رائے مفتی محمد نظام الدین قاسمی نے ’’جمعیت علمائے ہند ہی کیوں؟‘‘ کے عنوان سے نہایت فکر انگیز اور جامع پریزنٹیشن پیش کی۔ اپنے خطاب میں انہوں نے موجودہ حالات کے تناظر میں جمعیت علمائے ہند سے وابستگی کی دینی و دنیوی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ جمعیت علمائے ہند محض ایک تنظیم نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کی اجتماعی قوت، دینی تحفظ، ملی بیداری، خدمتِ خلق اور اجتماعی حکمت کا سب سے بڑا پلیٹ فارم ہے۔ انہوں نے قرآن کریم کی آیت:وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ…اور احادیثِ مبارکہ:علیکم بالجماعۃید اللہ مع الجماعۃکی روشنی میں جماعتی نظم، اجتماعی قوت اور ملی اتحاد کی اہمیت اجاگر کی۔انہوں نے کہا کہ جمعیت علمائے ہند مختلف مسالک و مکاتبِ فکر کے علماء کا مشترکہ پلیٹ فارم ہے، اس لیے اس کے فیصلے انفرادی رائے کے مقابلہ میں زیادہ متوازن، مضبوط اور امت کے وسیع تر مفاد پر مبنی ہوتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ جمعیت سے وابستگی انسان کو خدمتِ خلق، دینی تعلیم، مدارس کے تحفظ، اوقاف کی نگرانی، سماجی اصلاح اور ملی اداروں کی تقویت جیسے عظیم کاموں میں شریک کر دیتی ہے۔
بعد ازاں مولانا محمد یاسین جہازی نے ’’جمعیت علمائے ہند کی فکری و دستوری تربیت‘‘ کے عنوان سے اپنی مفصل PPT پیش کی۔ انہوں نے بیسویں صدی کے دوسرے عشرے کے عالمی و ملکی حالات کے تناظر میں جمعیت علمائے ہند کے قیام، اس کی تاریخی ضرورت، اس کی فکری اساس اور موجودہ دور میں اس کی معنویت و افادیت پر مدلل گفتگو کی۔ انہوں نے دستورِ جمعیت کی دفعہ 19 کا حوالہ دیتے ہوئے مقامی جمعیت کے فرائض و ذمہ داریوں کو تفصیل سے بیان کیا، جن میں تعلیمی ترقی، سماجی اصلاح، اقتصادی بہبود، سہ ماہی رپورٹنگ اور دینی جدوجہد کے تعمیری پروگرام شامل ہیں۔انہوں نے دفعہ 7 کی روشنی میں ترجمۂ قرآن، درسِ حدیث، سیرت النبی ﷺ، اخلاقیات، تاریخِ اسلام اور مذہبی و اصلاحی لٹریچر کی اشاعت جیسے پروگراموں کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ مقامی جمعیت دراصل ملت کی دینی اشاعت، معاشرتی اصلاح اور اجتماعی فلاح کا فعال مرکز ہے۔
اس موقع پر ناظمِ جمعیت علمائے بسنت رائے مفتی محمد زاہد امان قاسمی نے مقامی یونٹ کی سابقہ کارروائی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ پوری یونٹ میں 3515 بنیادی ممبران بنائے گئے، 46 اراکینِ منتظمہ منتخب کیے گئے، 10 عہدے داران کا انتخاب عمل میں آیا اور 14 افراد کو اراکینِ معاملہ مقرر کیا گیا۔بعد ازاں سابقہ کارروائی کی باضابطہ توثیق کی گئی اور موجودہ اجلاس کا ایجنڈا پیش کیا گیا، جس میں:1۔ سابقہ کارروائی کا جائزہ2۔ حالاتِ حاضرہ اور درپیش چیلنجز پر غور3۔ دیگر امور (حسبِ مشورہ) شامل تھے۔
حالاتِ حاضرہ پر غور و فکر کے لیے شرکاء کو پانچ پانچ افراد کے گروپوں میں تقسیم کیا گیا اور ہر گروپ میں ایک لیڈر مقرر کیا گیا۔ تقریباً ایک گھنٹہ تک جاری اس مشاورتی نشست میں مختلف سماجی، تعلیمی، دینی اور معاشرتی مسائل پر سنجیدہ غور و خوض کیا گیا، بعد ازاں ہر گروپ لیڈر نے اپنے گروپ کی تجاویز اور نتائج اجلاس کے سامنے پیش کیے۔اسی دوران شرکاء کے لیے ناشتے کا بھی بہترین انتظام کیا گیا۔
مولانا مجیب الحق قاسمی امام جھپنیاں مسجد نے اپنے خطاب میں علاقے کے کوچنگ سنٹروں میں رائج مخلوط نظامِ تعلیم پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور اسے اخلاقی زوال کا سبب قرار دیا۔ انہوں نے اس جانب توجہ دلانے اور کوچنگ سنٹرز کے ذمہ داران سے درخواست کرنے کی ضرورت پر زور دیا کہ اس نظام کے بجائے علیحدہ تعلیمی نظم قائم کیا جائے۔ نیز انہوں نے مکاتب کے نظام کو منظم کرنے اور یکساں نصاب نافذ کرنے کی بھی اہمیت اجاگر کی۔
مفتی سجاد صاحب امام موکل چک نے معاشرے میں شراب نوشی کے عام ہوتے رجحان کو ایک سنگین چیلنج قرار دیتے ہوئے اس کے تدارک کے لیے والدین اور افراد کی ذاتی تربیت کو بنیادی حیثیت دی۔
ڈاکٹر نسیم صاحب پچوا قطعہ نے معاشرتی اصلاح کے حوالے سے نہایت فکر انگیز نکات پیش کیے۔ انہوں نے کہا کہ بظاہر تعلیم یافتہ افراد کی کمی نہیں، لیکن حقیقی تعلیم اور شعور کی کمی نمایاں ہے۔ اس کے لیے منظم فکری و اصلاحی محنت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے خواتین کے تعلق سے بھی متعدد اصلاحی پہلوؤں کی نشاندہی کی۔ مزید برآں انہوں نے ہائی اسکولوں میں داخلے کے حوالے سے پیش آنے والی رکاوٹوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اکثر ادارے “سیٹیں بھر جانے” کا عذر پیش کر کے طلبہ کو داخلہ دینے سے گریز کرتے ہیں۔ اس مسئلے کے حل کے لیے انہوں نے جمعیت علماء کے تحت ایک نگرانی کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز پیش کی جو اسکولوں کے داخلہ نظام پر نظر رکھے اور طلبہ کے لیے آسانیاں پیدا کرے۔
مولانا سرفراز قاسمی بڑی سانکھی نے نوجوانوں کی بے راہ روی کو موجودہ دور کا سب سے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے اس پر فوری اور منظم کام کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے خواتین میں اصلاحی سرگرمیوں کے اپنے تجربات بیان کیے اور ہفتہ وار پروگراموں کے انعقاد کی تجویز دی۔ نیز انہوں نے جہیز جیسی سماجی برائی کے خلاف سخت موقف اختیار کیا۔
قاری ارشاد صاحب کدمہ نے ہر گاؤں میں نوجوانوں کو جمعیت علماء سے جوڑنے اور تنظیم کو فعال بنانے پر زور دیا۔مولانا آصف صاحب قاسمی امام میدنی چک مسجد نے خواتین میں رائج چھوٹی بچت (کمیٹی) کے نظام، خصوصاً سودی بنیادوں پر چلنے والے طریقوں، کی اصلاح کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے قبرستان کی مرمت کے لیے سرکاری فنڈ کے استعمال کے موجودہ طریقۂ کار پر بھی سوال اٹھایا اور اس پر سنجیدہ غور کی ضرورت بیان کی۔ مزید برآں انہوں نے دینی اداروں سے وابستہ افراد کی کم تنخواہوں کو ایک اہم مسئلہ قرار دیتے ہوئے اس کے حل کے لیے اجتماعی لائحۂ عمل بنانے کی اپیل کی۔
مفتی محمد زاہد امان قاسمی ناظم جمعیت علمائے بسنت رائے نے کہا کہ معاشرے میں تربیت کی شدید کمی ہے اور افراد ایک دوسرے کی خامیاں تلاش کرنے میں مصروف ہیں، جس سے اجتماعی قوت ضائع ہو رہی ہے۔ انہوں نے مثبت رویہ اپنانے اور تعمیری سوچ کے فروغ پر زور دیا۔
سینیئرصحافی مولانا سجاد ندوی صاحب نے باہمی رابطے اور مؤثر کمیونیکیشن کی کمی کو ایک بڑا مسئلہ قرار دیا اور اس کے تدارک کے لیے باہم مل بیٹھ کر مسائل حل کرنے کے جذبے کو فروغ دینے کی تلقین کی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ محض تنقید کے بجائے عملی نمونہ پیش کرنا چاہیے، یعنی اندھیرے کو کوسنے کے بجائے ایک چراغ جلانا چاہیے۔
مولانا شمس تبریز صاحب امام کیتھپورہ مسجد نے مدارس کے طلبہ کی عملی زندگی میں تربیتی کمزوریوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ تعطیلات میں گھروں کو لوٹنے والے بعض طلبہ نماز جیسی بنیادی عبادات میں بھی سستی برتتے ہیں۔ انہوں نے اس حوالے سے مدارس اور معاشرے کے علماء کو مشترکہ طور پر خصوصی توجہ دینے کی اپیل کی، اور سیاسی شخصیات کی دینی تربیت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
مولانا ابرار الحق (فاؤنڈر ترکیش میڈیا، نیا نگر) نے کہا کہ حکومت کی جانب سے اقلیتوں کے لیے متعدد اسکیمیں موجود ہیں، لیکن معلومات کی کمی کے باعث عوام ان سے فائدہ نہیں اٹھا پاتے۔ انہوں نے تجویز دی کہ جمعیت علماء کے تحت ایک ٹیم تشکیل دی جائے جو ان اسکیموں کی معلومات عوام تک پہنچائے اور ان سے استفادہ میں مدد کرے۔ انہوں نے سُودی قرضوں (خاص طور پر سمو لون) میں پھنسنے والی خواتین کی سنگین صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کی اور اس سے نجات کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ مزید برآں انہوں نے کم تنخواہوں، فرقہ وارانہ الزامات اور جھوٹے مقدمات جیسے مسائل کی بھی نشاندہی کی۔
اختتامی کلمات میں ضلع پریشد جناب ارشد وہاب صاحب نے باہمی تعاون اور مثبت طرزِ عمل اپنانے کی تلقین کی اور کہا کہ الزام تراشی کے بجائے ایک دوسرے کے مددگار بننا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے جمعیت علماء کو مضبوط کرنے پر زور دیا۔ مزید انہوں نے جھارکھنڈ میں شروع ہونے والے SIR (Special Intensive Revision) عمل کے حوالے سے آگاہ کیا، جو 20 جون 2026 سے شروع ہو کر ستمبر2026 تک جاری رہے گا، اور اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی جائز ووٹر اپنے حقِ رائے دہی سے محروم نہ رہے۔ انہوں نے ویریفکیشن کے طریقۂ کار کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ محض دو ضروری دستاویزات کے ذریعے یہ عمل مکمل کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کرپشن کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عملی تجربے سے معلوم ہوا کہ کرپشن صرف لیڈروں تک محدود نہیں بلکہ عوام بھی اس میں ملوث ہے، کیونکہ لوگ جلدی کام کروانے کے لیے خود رشوت کی پیشکش کرتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جب عوام خود کرپشن کے خلاف کھڑی ہو جائے گی تو ملک سے اس کا خاتمہ ممکن ہوگا۔ضلع پریشد نے اس پروگرام کی نوعیت اور پیشکش کے منفرد انداز کو دیکھتے ہوئے کہا کہ جامعۃ الہدیٰ کے پروگرام میں جب بھی آتا ہوں، تو کچھ نیا سیکھنے کو ملتا ہے۔ اس کے لیے انھوں نے سبھوں کو مبارک باد بھی پیش کی۔
بعد ازاں مفتی محمد نظام الدین قاسمی صاحب نے تمام آراء کا جامع خلاصہ پیش کیا اور گروپ لیڈروں کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کے تسلی بخش جوابات دیے۔
تیسرے ایجنڈے کے تحت یہ طے پایا کہ بلاک بسنت رائے کی تقریباً 55 مسلم آبادی والی بستیوں میں بیداری پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔ اس مقصد کے لیے مختلف گروپ تشکیل دیے گئے اور پروگراموں کا شیڈول مرتب کیا گیا۔
اس موقع پر ’’تربیتی خاکہ اور بیداری پروگرام‘‘ بھی پیش کیا گیا، جس میں نوجوانوں کی فکری و عملی تربیت کے لیے چار بنیادی اصول بیان کیے گئے:• وقت کی قدر و قیمت • واضح مشن • مضبوط وژن • مسلسل محنت و جدوجہد اسی مناسبت سے ’’ریل سے ریل تک‘‘ کے عنوان سے ایک منفرد پاور پوائنٹ پریزنٹیشن پیش کی گئی، جس میں نوجوانوں کو فرضی دنیا سے نکل کر حقیقی زندگی اختیار کرنے اور عملی میدان میں اترنے کی دعوت دی گئی۔مزید برآں “تذکیرِ کلمہ” اور “سات بنیادی عقائد” کو بیداری مہم کے لیول ون نصاب کے طور پر شامل کرنے پر اتفاق کیا گیا، اور فیصلہ ہوا کہ گاؤں گاؤں جدید سہولیات مثلاً پروجیکٹر وغیرہ کے ذریعے اسی طرز پر تربیتی و اصلاحی پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔
پروگرام کے اختتام پر مولانا شمیم صاحب قاسمی نے استقبالیہ نظم پیش کی، جس کے بعد شرکاء کے لیے پرتکلف ظہرانے کا اہتمام کیا گیا۔مہمانوں کے استقبال، ضیافت، خاطر داری اور ظہرانے کے تمام انتظامات قاری کلیم الدین صاحب اور مولانا بلال قاسمی صاحب نے نہایت حسنِ انتظام اور خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دیے۔اس طرح یہ عظیم فکری، تربیتی اور تنظیمی اجلاس نہایت خوشگوار، بامقصد اور کامیاب انداز میں اختتام پذیر ہوا۔
نظامت کے فرائض مشرکہ طور پر مفتی محمد نظام الدین اور مفتی محمد ظاہر صاحبان صاحبان نے انجام دیے
(رپورٹ: سجاد ندوی سینئر صحافی)




















