بسنترائے، 24 مئی 2026:
جمعیت علمائے بسنترائے کی مجلسِ منتظمہ کے اہم اجلاس میں کیے گئے فیصلے کے مطابق بلاک کی مسلم آبادی والی بستیوں میں “گاؤں گاؤں بیداری پروگرام” کا عملی آغاز کر دیا گیا۔ اس سلسلے کی پہلی نشست کیتھ پورا بستی میں منعقد ہوئی، جہاں عشاء کی نماز کے بعد تلاوتِ قرآن کریم سے پروگرام کا باضابطہ افتتاح ہوا۔اس موقع پر مولانا محمد یاسین جہازی قاسمی نے اپنے خطاب میں گاؤں سطح پر مسلمانوں کو درپیش دینی، تعلیمی اور سماجی چیلنجز کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اگر مسلمان اپنے ایمان و عقیدہ کی حفاظت نہیں کریں گے تو ان کا دینی وجود کمزور پڑ جائے گا اور اس کے ساتھ ان کی سماجی و سیاسی حیثیت بھی متاثر ہوگی۔انہوں نے کیتھ پورا گاؤں کی موجودہ صورتِ حال کو پاور پوائنٹ (PPT) کے ذریعے اعداد و شمار کے ساتھ پیش کیا، جس میں بتایا گیا کہ تقریباً 3000 مسلم آبادی والے اس گاؤں میں صرف 3 مساجد اور ایک ہی مکتب موجود ہے۔ اگر ہر مسجد میں اوسطاً 100 نمازی شمار کیے جائیں تو مجموعی طور پر صرف 300 افراد نماز کے پابند نظر آتے ہیں، جب کہ باقی بڑی تعداد نماز سے دور ہے۔ اسی طرح پورے گاؤں میں صرف ایک مکتب ہے، جس میں تقریباً ڈیڑھ سو بچے زیر تعلیم ہیں، جب کہ باقی سینکڑوں بلکہ ہزاروں بچے نہ دینی تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور نہ ہی معیاری عصری تعلیم سے وابستہ ہیں۔ یہ صورتحال مستقبل میں ایک سنگین خطرہ پیدا کر سکتی ہے، جہاں نئی نسل نہ دینی بنیادوں سے واقف ہوگی اور نہ ہی تعلیمی میدان میں مضبوطی حاصل کر سکے گی۔پروگرام کے عملی پہلو کے تحت پہلے مرحلے میں تقریباً 20 منٹ تک تذکیرِ کلمہ کرایا گیا، جس میں مفتی محمد نظام الدین قاسمی (صدر جمعیت) کی قیادت میں علماء کی ٹیم نے عوام کو کلمہ طیبہ کی درست ادائیگی اور اعراب کے ساتھ پڑھنے کی مشق کرائی۔ اس دوران ایک اہم انکشاف یہ سامنے آیا کہ بڑی عمر کے افراد (70 تا 75 سال) بھی کلمہ کو درست تلفظ کے ساتھ ادا نہیں کر پاتے، جس سے بنیادی دینی تعلیم کی کمی واضح ہوتی ہے۔ اس کے بعد سات بنیادی عقائد کا اجمالی تعارف پیش کیا گیا اور حاضرین سے بار بار دہرا کر انہیں یاد کرانے کی کوشش کی گئی۔پروگرام کے اختتام پر مسجد کے امام مولانا محمد شمس تبریز قاسمی نے اپنے خطاب میں اس طرح کے بیداری پروگراموں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایک دن یا ایک نشست سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوں گے، بلکہ اس کے لیے مستقل مزاجی کے ساتھ روزانہ حلقہ تذکیر قائم کرنا ہوگا۔ چنانچہ متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ تمام نمازی حضرات روزانہ 15 تا 20 منٹ کا حلقہ بنا کر کلمہ کی تصحیح اور بنیادی عقائد کی تعلیم حاصل کریں گے، جس کی نگرانی امام مسجد کریں گے۔مجلسِ منتظمہ کے مطابق یہ بیداری پروگرام مرحلہ وار (Levels) ترتیب دیا گیا ہے، جس میں پہلے مرحلے میں کلمہ، بنیادی عقائد اور ابتدائی دینی تربیت پر توجہ دی جائے گی، جب کہ آئندہ مراحل میں نوجوانوں کی فکری تربیت کو جدید انداز میں PPT اور پروجیکٹر کے ذریعے منظم کیا جائے گا۔ اگرچہ اجلاس اور پروگرام ایک ہی دن ہونے کی وجہ سے مکمل تنظیمی تیاری کے ساتھ اس کا نفاذ نہ ہو سکا، تاہم جلد ہی نوجوانوں کے الگ گروپ تشکیل دے کر مزید منظم اور مؤثر پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔پروگرام کے اختتام پر شرکاء نے اس بیداری مہم کو وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیتے ہوئے نہایت مثبت تاثرات کا اظہار کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اس سلسلے کو جاری رکھنے میں بھرپور تعاون کریں گے۔پروجیکٹر اور تکنیکی امور میں مولانا محمد بلال قاسمی جہازی نے معاونت کی۔




















