محمد یاسین جہازی
شب قدر: مسائل، فضائل اور اسراروحکم
شریعت اسلامی میں تین چیزیں ہیں: (۱) مسائل: یعنی عمل و عبادت کا طریقہ۔ (۲) فضائل: یعنی اس کے کرنے کا اخروی فائدہ اور ثواب ۔ (۳) اسراروحکم: یعنی فطرت انسانی کے تقاضے کے مطابق ملحوظ حکمتیں اور کسی قدر دنیاوی فائدے۔
مسائل کی حیثیت بنیادی ہے، ان کا جاننا سب سے زیادہ اہم ہے۔ کیوں کہ ان کے بغیر انسان کوئی عمل اورعبادت نہیں کرسکتا۔ فضائل ثانوی چیز ہیں، ان کے جاننے سے عبادت کرنے کا ذوق و شوق پیدا ہوتا ہے ۔اور اسراروحکم معلوم ہوجانے سے ذوق و شوق میں اضافہ اورثواب کی امید یقین میں تبدیل ہوجاتی ہے۔
شریعت اسلامیہ کے ہر حکم اور ہر عمل میں یہ تینوں امتیازات وخصوصیات پائی جاتی ہیں۔ موضوع کی مناسبت سے آئیے دیکھتے ہیں کہ شب قدر میںیہ تینوں خصوصیات کس طرح پائی جاتی ہیں۔
شب قدر کے مسائل
اس رات کوتلاش کرنا، رات بھر ذکرو اذکار میں مشغول رہنا،بتائے گئے امکانی اوقات : رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میںاسے ڈھونڈھنا؛ شب قدر کے مسائل کی باتیں ہیں۔ اس رات کے لیے کوئی مخصوص عمل نہیں ہے، اپنے ذوق وشوق کے پیش نظر ، نفلی نمازیں، تلاوت کلام پاک اور تسبیحات وغیرہ میں سے جو آپ پڑھنا چاہیں، وہ پڑھ سکتے ہیں۔
شب قدر کے فضائل
اس کی فضیلت کلام پاک کی آیتوں اور احادیث مبارکہ دونوں سے ثابت ہیں۔ کلام پاک میں ایک جگہ تیسویں پارہ میںمکمل ایک سورت :سورہ القدر موجود ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ رات ہزار مہینے سے بہتر ہے ۔ حضرت جبرئیل فرشتوں کی جماعت کے جلو میں دنیا میں تشریف لاتے ہیں ۔ اس رات کو فرشتے ہر امر خیر کو لے کر زمین پر آتے ہیں ۔ یہ رات سراپا سلامتی ہوتی ہے ، اس میں شیطان کوئی شرارت نہیں کرپاتا۔ اور پوری رات خیروسلامتی کا سلسلہ برقرار رہتا ہے۔ دوسری جگہ پچیسویں پارہ میں سورہ الدخان کی چوتھی آیت ہے۔اس میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اس رات میں ہر حکمت والا معاملہ طے کیا جاتا ہے ۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اس رات سے اگلے سال کی اس رات تک جتنے بھی معاملات ہیں، ان تمام کا فیصلہ اسی رات کو کیا جاتا ہے ۔ کون مرے گا، کس کی موت نہیں آئے گی ، کس کی شادی ہوگی ، کس کے یہاں اولاد ہوگی ، کس کو کتنا رزق ملے گااور ان جیسے تمام تقدیرات کے فیصلے کی یہ رات ہوتی ہے۔ المختصرفضیلت میں قرآن کریم کا اترنا، فرشتوں کا نزول، حضرت جبرئیل کی آمد ، عبادت گذار کے لیے دعائے رحمت، پوری رات خیرو سلامتی کا برقرار رہنااورہر انسان کے پورے سال کی تمام چیزوں کا فیصلہ ہونا شامل ہیں۔
متعدد احادیث میں اس کی رات کی فضلیتیں بیان گئی ہیں۔ ایک روایت میں ہے:
من قام لیلۃ القدر ایمانا و احتسابا، غفرلہ ما تقدم من ذنبہ (بخاری، باب فضل من قام رمضان)
ترجمہ: جو شخص لیلۃ القدر میں ایمان کے ساتھ یعنی ثواب کا یقین کرتے ہوئے اور احتساب یعنی ریا وغیرہ کسی بد نیتی کے بغیر عبادت کرے گا، تو اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔
ایک دوسری روایت میں آیا ہے:
عن انس ؓ قال دخل رمضان، فقال رسول اللہ ﷺ ان ھذا الشھر قد حضرکم و فیہ لیلۃ خیر من الف شھر ، من حرمھا ، فقد حرم الخیر کلہ، ولا یحرم خیرھا الا محروم (سنن ابن ماجہ، باب ماجاء فی فضل شھر رمضان)
حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ رمضان المبارک کا مہینہ آیا ، تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ تمھارے اوپر ایک مہینہ آیا ہے، جس میں ایک رات ہے ، جو ہزار مہینوں سے افضل ہے۔ جو شخص اس رات سے محروم رہ گیا، گویا سارے ہی خیر سے محروم رہ گیا۔ اور اس کی بھلائی سے محروم نہیں رہتا ؛مگر وہ شخص جو حقیقۃ محروم ہی ہے۔
ان کے علاوہ بھی کئی ایک حدیثیں ہیں ، جن میں اس رات کی فضیلت کا تذکرہ کیا گیا ہے۔
شب قدر کے اسرار و وحکم
اس رات کے اسرار وحکم میں کئی باتیںشامل ہیں : ایک تو یہ کہ یہ رات دیگر راتوں سے الگ کیوں ہے۔ دوسری یہ کہ ایک ہی رات میں تراسی سال چارہ ماہ سے بھی زیادہ عبادت کا ثواب کیوں مل جاتا ہے اور تیسری بات یہ ہے کہ شب قدر کی ضرورت کیا تھی؟۔ ان باتوں کی وضاحت کے لیے پہلے ہمیںیہ جاننا ضروری ہے کہ اللہ کے مقررکردہ بارہ مہینے میں سے رمضان میں کچھ ایسی تبدیلیاں کردی جاتی ہیں ، جو غیر رمضان میں نہیں ہوتیں۔ وہ تبدیلیاں تین طرح کی ہوتی ہیں:(۱) تکوینی نظام میں تبدیلی۔ (۲) اعمال کے ثواب میں اضافہ۔ (۳) روزہ مرہ کے معمولات اور عبادات میں تبدیلیاں۔ ان تینوں حوالے سے سابقہ مضمون میں تفصیلات آچکی ہیں۔ (اس کتاب میں شامل مضمون: رمضان اور تکوینی نظام میں تبدیلیاں ‘‘ کا مطالعہ کریں)
فضائل کی باتوں کو پیش نظر رکھیں ، تو یہ بات خود بخود واضح ہوجائے گی کہ یہ رات دیگر راتوں سے الگ کیوں ہے ؛ کیوں کہ جس رات میں قرآن کریم کا نزول اجلال ہواہو، جس رات میں فرشتے جوق در جوق زمین پر اتریں ، جو رات سراپا خیرو سلامتی والی ہواور جس رات میں انسان کی تمام تقدیرات کے فیصلے کیے جائیں، اگر وہ رات ایک خاص رات ہوتی ہے ، تو یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے ۔ ایسا ہونا خود انسانی فطرت کے مقتضیات میں سے ہے ؛ کیوں کہ اس کی فطرت میں یہ چیز شامل ہے کہ جب اس کی زندگی کی کوئی تقریب ہوتی ہے تو وہ اس وقت کو خاص بنانے اور اس کو سلیبریٹ کرنے کے لیے عام دنوں سے کچھ الگ کرنا چاہتا ہے، تو بھلا بتائیے جس رات میں انسان کے ایک سال کی زندگی کا فیصلہ ہورہا ہو تو کیا اس رات کو دیگر راتوں سے بالکل الگ اور خاص نہیں ہوناچاہیے۔ اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کو اور راتوں سے ممتاز اور الگ رات بنائی ہے۔ اور جہاں تک یہ بات ہے کہ اس ایک رات کی عبادت سے تراسی سال چارہ ماہ سے بھی زیادہ عبادت کرنے کا ثواب کیوں مل جاتا ہے ۔ تواس حوالے سے پہلی بات تو یہ ہے کہ رمضان اور شب قدر کی رات میں تکوینی نظام میں جو تبدیلیاں کی جاتی ہیں ، ان کا لازمی تقاضا ہے کہ ان لمحات میں کیے جانے اعمال کے اثرات اور نتیجے بھی الگ ہوں ؛ ورنہ تکوینات میں تبدیلی بے معنی ہوجائے گی ، اس لیے صرف اس ایک رات کی عبادتوں کا ثواب ہزار مہینے سے متجاوز ہوجاتا ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کو یہ انعام اس لیے مرحمت فرمایا ؛ کیوں کہ یا تو (الف) سابقہ امتوں کی عمریں بہت لمبی ہوتی تھیں اور امت محمدیہ کی بہت تھوڑی ، اس لیے ان کے بدلے امت مسلمہ کو یہ فضیلت بھری رات عطا کی گئی۔یا پھر (ب)ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ نے بنی اسرائیل کے چار افراد : حضرت ایوب، حضرت زکریا، حضرت حزقیل اور حضرت یوشع علیہم السلام کے اسی اسی سال تک عبادت کرنے اور پل جھپکنے کے برابر بھی نافرنانی نہ کرنے کا تذکرہ کیا ، تو صحابہ کوحیرت ہوئی ، اس پر اللہ نے یہ رات عنایت فرمائی۔یا پھر اس وجہ سے کہ (ج)بنی اسرائیل کا ایک شخص ایک ہزار مہینے تک اللہ کے راستے میں جہاد کرتا رہا ، اس تذکرہ سے صحابہ کو رشک آیا اور یہ رات عطا ہوئی۔المختصر سبب جو بھی ہو، اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ اس بے نہایت انعام کی قدر کرنی چاہیے ۔ بڑا ہی خوش نصیب ہے وہ شخص جس کو اس رات کی عبادت نصیب ہوجائے ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو شب قدر پالینے اور عبادت کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے ، آمین۔

















