ہر سال دنیا کی با اثر شخصیات کی فہرست شائع ہوتی ہے اور جس طبقے اور حلقے کے کسی آدمی کا نام آجاتا ہے، اس کے لیے وہ سندی درجہ دے کر تشہیر کرتے ہیں،آئیے سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اثر ترین شخصیت ہونے کا پیمانہ اور معیار سمجھتے ہیں ۔انسانی معاشرے میں “بڑا” اور “بااثر” ہونے کے مختلف پیمانے قائم کر لیے گئے ہیں؛ کوئی دولت کو معیار سمجھتا ہے، کوئی عہدہ و منصب کو، اور کوئی شہرت کو۔ مگر اسلام نے عظمت کا جو معیار متعین کیا ہے، وہ نہایت واضح اور عملی ہے: انسان کی بڑائی کا اندازہ اس کے ماتحت اور کمزور طبقات کے ساتھ اس کے برتاؤ سے لگایا جائے۔اسی حقیقت کو نبی کریم ﷺ کی سیرتِ طیبہ ایک روشن مثال کی صورت میں ہمارے سامنے پیش کرتی ہے۔ حضرت انس بن مالکؓ روایت کرتے ہیں:عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: إِنْ كَانَتِ الْأَمَةُ مِنْ إِمَاءِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَتَأْخُذُ بِيَدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَتَنْطَلِقُ بِهِ حَيْثُ شَاءَتْ۔“مدینے کی باندیوں میں سے کوئی باندی بھی رسول اللہ ﷺ کا ہاتھ پکڑ لیتی، اور جہاں چاہتی آپ کو لے جاتی، اور آپ بلا تامل اس کے ساتھ چلے جاتے تھے۔”(صحیح البخاری، کتاب الأدب، باب الکبر، حدیث: 6072)یہ واقعہ محض ایک سادہ سا طرزِ عمل نہیں، بلکہ انسانی عظمت کا اعلیٰ ترین معیار ہے۔ ایک طرف کائنات کے سب سے بڑے انسان، اللہ کے رسول ﷺ، اور دوسری طرف معاشرے کا کمزور ترین طبقہ—ایک باندی—مگر تعلق ایسا کہ وہ بلا جھجک ہاتھ پکڑ لے اور آپ ﷺ اس کی ضرورت پوری کرنے کے لیے فوراً تیار ہو جائیں۔ اس سے بڑھ کر عاجزی، شفقت اور انسانیت کی کیا مثال ہو سکتی ہے؟اسی طرح سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دس سال گزارنے والی شخصیت حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیں:عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: خَدَمْتُ النَّبِيَّ ﷺ عَشْرَ سِنِينَ، فَمَا قَالَ لِي أُفٍّ قَطُّ، وَمَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ فَعَلْتُهُ: لِمَ فَعَلْتَهُ؟ وَلَا لِشَيْءٍ لَمْ أَفْعَلْهُ: أَلَا فَعَلْتَهُ؟“میں نے دس سال رسول اللہ ﷺ کی خدمت کی، آپ نے کبھی مجھے ‘اف’ تک نہیں کہا، اور نہ کبھی کسی کام پر یہ فرمایا کہ تم نے ایسا کیوں کیا، یا ایسا کیوں نہ کیا۔”( صحیح البخاری، کتاب الأدب باب حسن الخلق، حدیث نمبر: 6038)یہ الفاظ دراصل اس بات کی گواہی ہیں کہ نبی کریم ﷺ کا حسنِ اخلاق محض ظاہری یا رسمی نہیں تھا، بلکہ گھریلو زندگی، ذاتی معاملات اور ماتحتوں کے ساتھ برتاؤ میں بھی اپنی انتہا کو پہنچا ہوا تھا۔اگر آج ہم اپنے معاشرے پر نظر ڈالیں تو صورتِ حال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ جو لوگ خود کو “بڑا” سمجھتے ہیں، ان کی پہچان اکثر ان کے ماتحت ملازمین کے ساتھ سختی، تحقیر اور تکبر سے ہوتی ہے۔ چھوٹے ملازمین، ڈرائیور، چوکیدار یا گھریلو خادم—ان کے ساتھ ایسا برتاؤ کیا جاتا ہے گویا وہ انسان ہی نہ ہوں۔ معمولی سی غلطی پر ڈانٹ، ذلت اور بعض اوقات ظلم و زیادتی تک کی نوبت آ جاتی ہے۔ یہ رویہ دراصل ایک نئی “فرعونیت” ہے، جو انسان کے دل میں تکبر اور غرور کی صورت میں پل رہی ہوتی ہے۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کی روشنی میں اصل عظمت یہ ہے کہ انسان جتنا بڑا ہو، اتنا ہی زیادہ متواضع، نرم دل اور دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرنے والا ہو۔ اگر کسی کی بڑائی دیکھنی ہو تو اس کے “فورتھ کلاس” ملازم سے پوچھو—اگر وہ اس کے اخلاق کی تعریف کرے، تو سمجھ لو کہ وہ شخص واقعی عظیم ہے۔اور اگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔یعنی جو شخص اپنے ملازم، خادم یا کمزور فرد کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتا، تو وہ حقیقی معنوں میں بڑا اور بااثر انسان ہو ہی نہیں سکتا، خواہ ریکنگ میں اس کا نمبر ون ہی کیوں نہ ہو، فافہم و تدبرمطالعہ بخاری محمد یاسین جہازی



















