جمعرات, اگست 6, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    بھارت کی موجودہ حکومت،ایسٹ انڈیا کمپنی کی راہ پر!

    محمد یاسین جہازی

    تدریس کے 35 جدید طریقے

    ایجوکیشن کمیشن اور مدارسِ اسلامیہ

    ایجوکیشن کمیشن اور مدارسِ اسلامیہ

    نسلِ جدید

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    حضرت العلامہ معین الدین اجمیری رحمۃ اللہ علیہ

    سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا  سے جہازی مکالمات

    جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    اصلاح معاشرہ کانفرنس لوگائیں گڈا (22مئی 2009ء)کی ایک رپورٹ

    محمد یاسین جہازی

    پاکستان اور ہندستانی مسلمان

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    عوامی و فرقہ وارانہ اتحاد، توڑنے کی مہم

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں

    وندے ماترم کو قانونی لزوم دینا مذہبی و آئینی آزادی پر حملہ ہےآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کا ایک سہ روزہ سمر کیمپ کا افتتاحی پروگرام

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کا ایک سہ روزہ سمر کیمپ کا افتتاحی پروگرام

    مہاراشٹر میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی مخالفت کی جائے گی: مولانا حلیم اللہ قاسمی

    مہاراشٹر میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی مخالفت کی جائے گی: مولانا حلیم اللہ قاسمی

    بسنت رائے میں ” گلوبل ٹریول” حج و عمرہ دفتر کا شاندار افتتاح

    بسنت رائے میں ” گلوبل ٹریول” حج و عمرہ دفتر کا شاندار افتتاح

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    فرقہ پرستوں کا ایک اہم اعتراض اور اس کا جواب

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    ہماری مساجد کی تعمیر ہماری ذمہ داری

    عورت کا وقار، قانون کی تعبیر اور انصاف کا امتحان

    عورت کا وقار، قانون کی تعبیر اور انصاف کا امتحان

    ایس آئی آر کے تعلق سے بیداررہنے کی ضرورت، غفلت نہ برتی جائے

    ایس آئی آر کے تعلق سے بیداررہنے کی ضرورت، غفلت نہ برتی جائے

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    عوامی و فرقہ وارانہ اتحاد، توڑنے کی مہم

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    بھارت کی موجودہ حکومت،ایسٹ انڈیا کمپنی کی راہ پر!

    محمد یاسین جہازی

    تدریس کے 35 جدید طریقے

    ایجوکیشن کمیشن اور مدارسِ اسلامیہ

    ایجوکیشن کمیشن اور مدارسِ اسلامیہ

    نسلِ جدید

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    حضرت العلامہ معین الدین اجمیری رحمۃ اللہ علیہ

    سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا  سے جہازی مکالمات

    جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    اصلاح معاشرہ کانفرنس لوگائیں گڈا (22مئی 2009ء)کی ایک رپورٹ

    محمد یاسین جہازی

    پاکستان اور ہندستانی مسلمان

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    عوامی و فرقہ وارانہ اتحاد، توڑنے کی مہم

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں

    وندے ماترم کو قانونی لزوم دینا مذہبی و آئینی آزادی پر حملہ ہےآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کا ایک سہ روزہ سمر کیمپ کا افتتاحی پروگرام

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کا ایک سہ روزہ سمر کیمپ کا افتتاحی پروگرام

    مہاراشٹر میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی مخالفت کی جائے گی: مولانا حلیم اللہ قاسمی

    مہاراشٹر میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی مخالفت کی جائے گی: مولانا حلیم اللہ قاسمی

    بسنت رائے میں ” گلوبل ٹریول” حج و عمرہ دفتر کا شاندار افتتاح

    بسنت رائے میں ” گلوبل ٹریول” حج و عمرہ دفتر کا شاندار افتتاح

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    فرقہ پرستوں کا ایک اہم اعتراض اور اس کا جواب

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    ہماری مساجد کی تعمیر ہماری ذمہ داری

    عورت کا وقار، قانون کی تعبیر اور انصاف کا امتحان

    عورت کا وقار، قانون کی تعبیر اور انصاف کا امتحان

    ایس آئی آر کے تعلق سے بیداررہنے کی ضرورت، غفلت نہ برتی جائے

    ایس آئی آر کے تعلق سے بیداررہنے کی ضرورت، غفلت نہ برتی جائے

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    عوامی و فرقہ وارانہ اتحاد، توڑنے کی مہم

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
No Result
View All Result
Home اسلامیات

تعدد ازدواج كو روكنے كا قانون

by Admin
اگست 6, 2026
in اسلامیات
0
اسلام کی بنیاد دوچیزوں پر قائم ہے،عقیدہ توحید،اور نبوت ورسالت:مولاناخالدسیف اللہ رحمانی
0
SHARES
4
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

بسم الله الرحمٰن الرحیم

شمع فروزاں2026.08.07

مولانا خالد سیف الله رحمانی

جمہوریت کا بنیادی اصول محض اکثریت کی حکمرانی نہیں، بلکہ تمام شہریوں، بالخصوص مذہبی اور ثقافتی اقلیتوں کے حقوق کا یکساں تحفظ ہے۔ ایک حقیقی جمہوری حکومت اپنی اقلیتوں کو ان کے مذہب، تہذیب، ثقافت، زبان اور شخصی قوانین کے ساتھ باوقار زندگی گزارنے کا پورا حق دیتی ہے، نہ کہ اکثریت کے مذہبی یا سماجی تصورات ان پر مسلط کرتی ہے،ایک مضبوط جمہوریت کی پہچان یہ ہے کہ وہ اکثریت کی عددی برتری کو اقلیتوں کے آئینی حقوق پر غالب نہ آنے دے، بلکہ انصاف، رواداری اور تکثیری اقدار کی بنیاد پر ہر شہری کو اس یقین کے ساتھ جینے کا حق دے کہ اس کا مذہب، اس کی تہذیب اور اس کی شناخت ریاست کے لیے یکساں قابلِ احترام ہیں۔بھارت کا آئین مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے اور مختلف مذہبی برادریوں کو اپنے شخصی قوانین کے مطابق عائلی معاملات چلانے کا حق دیتا ہے،مسلم پرسنل لاء بھی اسی آئینی اور قانونی نظام کا حصہ ہے، جس کے تحت نکاح، طلاق، وراثت اور تعددِ ازدواج جیسے مسائل کا فیصلہ کیا جاتا ہے، ایسے میں اگر حکومت بار بار ان هی امور کو سیاسی اور انتظامی مداخلت کا موضوع بنائے تو اس سے یہ تاثر پیدا ہونا فطری ہے کہ مسلمانوں كو اور مسلم پرسنل لاء کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔حالیہ خبر، جس میں ’تعددِ ازدواج سے متاثرہ مسلم خواتین‘‘سے درخواستیں طلب کرنے کی بات کی گئی ہے، اسی سلسلے کی ایک کڑی معلوم ہوتی ہے،گزشتہ چند برسوں میں بھی ایسے متعدد اقدامات سامنے آئے جنہیں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نے اپنے مذہبی تشخص اور شخصی قوانین میں مداخلت کے طور پر دیکھاہے، طلاقِ ثلاثہ کو جرم قرار دینے والا قانون، بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستوں میں بتدریج یکساں سول کوڈ کا نفاذ، مذہبی مقامات اور وقف سے متعلق قوانین میں تبدیلیاں، اور دیگر اقدامات نے اس احساس کو مزید تقویت دی هے کہ موجودہ حکومت کی زبان پر بھلے ہی سب کے وکاس اوروشواس کی بات ہو؛ لیکن اس کا طرز عمل اور برتائو جمہوریت کے نام پر اکثریت کے جبر کو اقلیت پر مسلط کرناہے،برسراقتدار پارٹی ان اقدامات کو اصلاحات قرار دیتی ہے، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ انتخابی سیاست، اکثریت کے جذبات کی تسکین کا ذریعہ اورسنگھ پریوار کے ایجنڈہ کو نافذ کرنے کے مرحلہ وار اقدامات ہیں۔گھریلو تشدد، جہیز، ازدواجی استحصال، ترکِ زوجیت اور دیگر مسائل ہر مذہب میں پائے جاتے ہیں، اگر حکومت واقعی خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے سنجیدہ ہے تو اسے تمام طبقات کی خواتین کے لیے یکساں اور غیر امتیازی اقدامات کرنے چاہیے، نہ کہ صرف ایک مذہبی برادری کے شخصی قوانین کو بار بار موضوع بنایا جائے۔حقیقت یہ ہے کہ تعددِ ازدواج کا مسئلہ کئی پہلوؤں سے قابل غور ہے : مذہبی ، سماجی اوراخلاقی ،مذہبی اعتبار سے یہ ایک حقیقت ہے کہ تقریباً دنیا کے تمام مذاہب میں تعدد ازدواج کو جائز قرار دیا گیا ہے ، ڈاکٹر مالک رام نے رگ وید ( ۱۰۸۱۰-۱۰۵) کے حوالہ سے لکھا ہے کہ ایک مرد کے لئے بیک وقت ایک سے زیادہ نکاح کرنا درست ہے اور بیویوں کی کوئی تحدید نہیں ہے ۔یہودی مذہب میں بھی تعدد ازدواج کی گنجائش ہے ؛ چنانچہ خود حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دو بیویاں تھیں ، ایک حضرت صفورہ ، جو حضرت شعیب علیہ السلام کی صاحبزادی تھیں ، (خروج:۲؍۲۱۔) آپ کا دوسرا نکاح ایک کوشی خاتون سے ہوا تھا ، (گنتی:۱؍۱۲۔) خود بائبل میں حضرت داؤد علیہ السلام کی چھ بیویوںکا ذکر آیا ہے ۔ (گنتی : ۲۷؍۸۔)حضرت سلیمان علیہ السلام کے بارے میں تورات کا کہنا ہے کہ ان کی سات سو بیویاں اور تین سو حرمیں تھیں ، (سلاطین: ۱؍۱۱۔) عیسائی مذہب چوںکہ اپنی اصل کے اعتبار سے تورات ہی کی شریعت پر ہے اس لئے سمجھنا چاہئے کہ اصلاً عیسائی مذہب میں بھی تعدد ازدواج کی اجازت ہے ؛ چنانچہ شیخ محمود عقاد نے لکھا ہے کہ سترہویں صدی تک خود اہل کلیسا نے تعدد ازدواج کی حمایت کی ہے ، فرماتے ہیں : مختلف انسانی نظام ازدواج کی تاریخ کا مستند عالم وسٹر مارک (Vister Marc) نے بیان کیا ہے کہ کلیسا اور حکومت دونوں ہی سترہویں صدی کے نصف تک تعدد ازدواج کو مباح قرار دیتے تھے اور ان کے یہاں بکثرت اس کا رواج تھا ۔ (الفلسفۃ القرآنیہ: ۵۴۔)غرض دنیا کے مشہور مذاہب میں شاید ہی کوئی مذہب ہو، جس نے تعدد ازدواج کو جائز نہ رکھا ہو ، اسلام نے بھی تعدد ازدواج کی اجازت دی ہے ؛ لیکن اس کے لئے بنیادی طور پر دوباتوں کی تحدید رکھی ہے ، اول : یہ کہ ایک وقت میں زیادہ سے زیادہ چار تک ہی تعدد ازدواج کی اجازت ہے ، دوسرے : یہ اجازت عدل کے ساتھ مشروط ہے ، یعنی جو شخص ایک سے زیادہ بیویوں کے درمیان حقوق کی ادائیگی اور سلوک و برتاؤ میں برابری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو ، اسی کے لئے ایک سے زیادہ نکاح کی اجازت ہے ، پس اسلام نے ایک طرف سماجی ضرورت کی رعایت بھی کی ہے اور دوسری طرف ان حدود و قیود کے ذریعہ اس اجازت کو متوازن بنانے کی کوشش بھی کی ہے ۔دوسرا پہلو سماجی ضرورت کا ہے ، عام طور پر لڑکوں اور لڑکیوں کی شرح پیدائش (Rate of Linth) میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہوتا ؛ لیکن شرح اموات (Rate of death) میں مردوں کی تعداد زیادہ ہو جاتی ہے ؛ کیوںکہ زیادہ تر حادثات میں مردوں کی جانیں کام آتی ہیں ، مثلاً : پہلی جنگ ِعظیم جو ۱۹۱۴ء سے ۱۹۱۸ ء تک جاری رہی ، میں اسّی لاکھ صرف فوجی مارے گئے ، شہریوں کی تعداد اس کے علاوہ ہے ، ظاہر ہے کہ یہ فوجی مرد تھے ، دوسری جنگ ِعظیم ۱۹۳۹ء تا ۱۹۴۵ء جاری رہی ، جس میں کل ساڑھے چھ کڑور آدمی یا تو ہلاک ہو گئے یا معذور ، ان مہلوکین اور معذورین میں غالب ترین اکثریت مردوں کی تھی ، اس جنگ ِعظیم میں برباد ہونے والا قائد ملک جرمنی تھا ، ۱۹۲۰ء سے ۱۹۴۰ء تک جرمنی میں یہ کیفیت تھی کہ ہر مرد کے مقابلہ شادی کی عمر کو پہنچی ہوئی تین عورتیں ہوتی تھیں ، فرانس میں ۱۹۰۰ء کی مردم شماری کے اعتبار سے عورتوں کی تعداد مردوں سے چار لاکھ ،تئیس ہزار ، سات سو نوسے زیادہ تھی اور آسٹریلیا میں ۱۸۹۰ء میں چھ لاکھ ، چوالیس ہزار ، سات سو ، چھیانوے عورتیں مردوں سے زیادہ تھیں ، عراق ایران جنگ (۱۹۸۸ء – ۱۹۷۹ء) میں عراق کی ایک لاکھ اور ایران کی بیاسی ہزار عورتیں بیوہ ہو گئیں ۔ جنگوں کے علاوہ جو دوسرے ٹریفک یا صنعتی حادثات پیش آتے ہیں اور جو لوگ غنڈہ گردی کا نشانہ بنتے ہیں ، وہ بھی عام طور پر مرد ہی ہوتے ہیں ، پھر اگر جیلوں میں طویل المدت قیدیوں کا جائزہ لیا جائے تو ان میں نوے فیصد (۹۰) سے زیادہ تعداد مردوں کی ہوتی ہے؛ کیوں کہ طویل قید بھیانک جرائم پر ہوتی ہے اور اپنی نفسیاتی کمزوری کی بنا پر مجرم ذہن کی عورتیں بھی بھیانک قسم کے جرائم کا حوصلہ نہیں پاتیں ، ان اسباب کی بناء پر عام طور پر ایک مرد کے مقابلہ ایک سے زیادہ عورتوں کا تناسب پایا جاتا ہے ، امریکہ جیسے ملک میں جس میں حادثات سے حفاظت کا زیادہ ترقی یافتہ نظام قائم ہے اور دفاعی ٹکنالوجی میں ترقی اور بالادستی کی وجہ سے حریف ملکوں کے مقابلہ اس کی فوجیوں کی ہلاکت کاتناسب بہت کم ہوتا ہے ، ایک رپورٹ کے مطابق ۱۹۸۷ء میں وہاں عو رتوں کی آبادی بمقابلہ مردوں کے تقریباً اسی لاکھ زیادہ تھی ۔اگر تعدد ازدواج کی اجازت نہ دی جائے تو اس کا مطلب یہی ہوگا کہ خواتین کی ایک بڑی تعداد تجرد اور محرومی کی زندگی گذارے ، اس لئے تعدد ازدواج مردوں کی ہوس اور نفسانی طمع کی تکمیل نہیں ؛ بلکہ ایک سماجی ضرورت ہے ۔ تعددِ ازدواج کے مسئلہ میں سب سے اہم پہلو اخلاقی ہے ، عفت و عصمت انسانیت کا بنیادی جوہر ہے ، گائے اور بیل ، گھوڑے، گدھے اور ان کی مادہ کے درمیان کیا کبھی نکاح ہوا ہے ؟ ظاہر ہے اس کا جواب نفی میں ہے ، نرو مادہ کی تقسیم اور جنسی خواش انسان میں بھی ہے اوردوسرے حیوانات میں بھی ؛ لیکن یہ انسانی سماج کا امتیاز ہے کہ نکاح کے ذریعہ ایک مرد اورعورت رشتۂ ازدواج میں بندھ جاتے ہیں اور ان کی وفاداریاں ایک دوسرے کے لئے محدود و مخصوص ہو جاتی ہیں ، دوسری مخلوقات اس وفاداری سے ناآشنا ہے ، اسی وفاداری کا نام ’’عفت و عصمت ‘‘ ہے ، عفت و عصمت انسان کی فطرت میں ہے اور ہر سلیم الفطرت شخص اس کا ادراک کر سکتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ انسان اپنی ماں ، بہن ، بیوی اور بیٹی کے بارے میں برائی کی نسبت کو برداشت نہیں کرسکتا ، تعدد ازدواج اس جوہر عفت کی حفاظت کا بہت بڑا ذریعہ ہے ، دنیا کی تاریخ میں جب کبھی بھی قانونی تعدد ازدواج پر روک لگائی گئی ہے وہاں غیر قانونی تعدد ازدواج نے ضرور راہ پائی ہے ، قدیم تہذیبوں میں یونانی اور رومی تہذیب تعدد ازدواج کی مخالف تھی ، ایڈور ڈہارٹ پول لیکی (۱۸۳۸ء – ۱۹۰۳ء) نے یونانی تہذیب کے بارے میں لکھا ہے کہ مرد کے لئے ایک سے زیادہ نکاح کی اجازت نہ تھی ؛ لیکن غیر قانونی داشتاؤں پر کوئی روک ٹوک نہیں تھی ۔ (تاریخ اخلاق یورپ : ۲۴۰ ’’ ترجمہ دریابادی‘‘۔)چنانچہ منصف مزاج غیر مسلم دانشوروں نے بھی اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے ، علم تمدن کے معروف عالم ڈاکٹر گستا ؤلی بان لکھتے ہیں :مغرب میں بھی … ایک ہی شادی کی رسم کا وجود صرف کتابوں ہی میں ہے اور میں خیال کرتا ہوں کہ کوئی شخص انکار نہ کرے گا کہ یہ رسم ہماری واقعی معاشرت میں نہیں پائی جاتی ہے ، میں نہیں جانتا کہ مشرقیوں کا جائز تعدد کسی امر میں مغربیوں کی ناجائز تعدد ازدواج سے کمتر سمجھا جاتا ہے ؟ بلکہ میں یہ کہوں گا کہ اول کو ہر طرح دوسرے پر ترجیح ہے ۔ (تمدن عرب : ۳۶۶۔)جناب مالک رام ، ملک کے حقیقت پسند اصحابِ دانش میں تھے ، ان کا یہ اقتباس پڑھنے کے لائق ہے : تعدد ِازدواج کی تائید میں متعددد لائل پیش کئے جاسکتے ہیں ، مثلاً یہ کہ عام حالت میں دنیا میں عورتوں کی تعداد مردوں سے کہیں زیادہ ہے ، اگر ایک مرد ، ایک عورت کے اُصول پر عمل کیا جائے تو ان زائد عورتوں کا کیا بنے گا؟کیا ہم ان پر نکاح کا راستہ بند کر کے ان کی اور ان کے ساتھ شادی شدہ مردوں کی بھی گمراہی کا سامان تو پیدا نہیں کر رہے ہیں … اگر آپ ان عورتوں کو نکاح کرنے کا موقع نہیں دیتے تو گویا انھیں قعر مذلت میں ڈھکیل رہے ہیں اور انھیںمجبور کر رہے ہیں کہ وہ گناہ کی زندگی بسر کریں ؛ کیوں کہ یہ جذبہ فطری ہے ، اگر عورت سماج کی اجازت سے اس کی تسکین نہیں کرسکے گی توسماج کو دھتا بتائے گی اور گھونگھٹ کی اوٹ میں شکار کھیلے گی اس صورت میں آپ کو کسی اور حرام اولاد کا وجود قانوناً تسلیم کرنا پڑے گا ، حق انتخاب آپ کو حاصل ہے ، ایک طرف آپ اس عورت کو قابل عزت بیوی اور گھر کی مالکہ اور محترم ماں بنانے پر قادر ہیں ، دوسری صورت میں وہ قابل نفرت داشتہ یا کسی خانماں برباد اور اپنے اور تمام سماج کے لئے کلینک کا ٹیکابننے پر مجبور ہے ۔ (اسلامیات : ۱۶۲- ۱۶۱۔)پس حقیقت یہ ہے کہ تعدد ازدواج کی گنجائش ایک عفیف و پاک د امن سماج کے لئے ضرورت کے درجہ میں ہے اور یہ کوئی نظری فلسفہ نہیں ؛ بلکہ مغرب کا عصمت باختہ سماج اس کی عملی مثال ہے ۔تعددِ ازدواج میں ایک پہلو عورت کے ساتھ رحمدلی کا بھی ہے ، اگر ایک عورت دائم المریض ہو اور کسی مناسب یا نامناسب وجہ سے مرد دوسرے نکاح پر مصر ہو تو اگر تعدد ازدواج کی گنجائش نہ رکھی جائے تو یا تو وہ اسے طلاق دے دے گا ، جس کا مذموم ہونا ظاہر ہے یا وہ غیرقانونی تعدد ازدواج کا راستہ اختیار کرے گا اور غیر قانونی بیوی قانونی بیوی سے زیادہ نقصان دہ ہوتی ہے ؛ کیوں کہ وہ مرد کو زیادہ بلیک میل کر سکتی ہے اور اپنے خنجر ناز سے قانونی بیوی کو گھائل کرنے کی زیادہ صلاحیت رکھتی ہے ، ایسی صورتوں میں تعدد ازدواج رحمت ثابت ہوتی ہے نہ کہ زحمت ، مطلقہ اور بیوہ خواتین کے مسائل کا حل اکثر یہی تعدد ازدواج بنتا ہے اوریہ تعدد ازدواج بھی دوسری بیوی کی رضامندی اور خوشنودی ہی سے وجود میںآتا ہے ؛ کیوں کہ کسی عورت کو دوسری بیوی بننے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا ۔خود عورتوں کو بھی اس بات کو سمجھنا چاہئے کہ جب عورتوں کی شرح آبادی مجموعی طور پر مردوں سے زیادہ ہے تو وہ بحیثیت عورت اپنی ان بہنوں کے لئے قانونی طور پر رشتۂ نکاح میں منسلک ہونا پسند کریں گی یا یہ بات کہ وہ وقتاً فوقتاً مختلف مردوں کی غیر قانونی بیوی بنتی رہیں ؟ اوران حقوق و فوائد سے بھی محروم رہیں جو ایک بیوی کو اپنے شوہر سے حاصل ہونے چاہئیں ؟ تعددِ ازدواج کے مسئلہ میں ایک سے زیادہ نکاح کرنے والوں کا رویہ بھی قابل توجہ ہے ، کہ ایک طرف وہ قرآن مجید کی اجازت سے فائدہ اُٹھاکر دوسرا نکاح کرتے ہیں اور دوسری طرف قرآن ہی کی لگائی ہوئی عدل و انصاف کی شرط کو پس پشت ڈال دیتے ہیں ، تعدد ازدواج ایک سنجیدہ فیصلہ ہے نہ کہ پہلی بیوی سے انتقام کا طریقہ، عوام تو عوام ، خواص اور اہل علم بھی جب دوسرا نکاح کرتے ہیں تو کھلے ہوئے ظلم و جور سے اپنا دامن آلودہ کر لیتے ہیں اور زیادہ تر پہلی بیوی کو اور بعض واقعات میں دوسری بیوی کو ’’ معلقہ ‘‘ بنا کر رکھ دیتے ہیں، یہ صریحاً ظلم اور گناہ ِ عظیم ہے اور اللہ کی شریعت سے کھلواڑ کرنے کے مترادف ہے ، جو شخص عدل پر قادر نہ ہو (جیسا کہ مذکور ہو) اس کے لئے ایک ہی بیوی پر قناعت کرنا واجب ہے ، ایک سے زیادہ بیویاں رکھنا درست نہیں ؛ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اگر تمہیں اندیشہ ہوکہ ایک سے زیادہ بیویوں کے درمیان عدل نہیں کر سکوگے تو تمہیں ایک ہی بیوی پر اکتفا کرنا چاہئے : فَاِنْ خِفْتُمْ اَ لَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَۃً ( النساء : ۳۔)اس لئے حقیقت یہ ہے کہ تعدد ازدواج کی اجازت ایک سماجی وعمرانی ضرورت اورعفت وپاک دامنی کی حفاظت کا ذریعہ ہے اور اپنے نتائج واثرات کے اعتبار سے خود عورتوں کے لئے بعض حالات میں باعث ِرحمت ہے ؛ البتہ یہ بات ضروری ہے کہ تعدد ازدواج کے لئے شریعت نے جو حدود وقیود مقرر کی ہیں ، ان کا لحاظ رکھا جائے ؛ ورنہ یہ قانون حکمِشریعت کا استعمال نہیں؛ بلکہ ’’ استحصال‘‘ ہوگا ۔= = =

_________Khalid Saifullah RahmaniGen.Secretary : Islamic Fiqh Academy,India Director : Al Mahadul A’ali Al Islami Hyderabad.E-mail :ksrahmani@yahoo.comWebsite: www.khalidrahmani.in

Admin

Admin

Next Post
اکیسویں صدی سے دیار حبیب صلی اللہ علیہ وسلم (سعودی عرب) سے ہندستانی مسلمانوں کے روابط

اکیسویں صدی سے دیار حبیب صلی اللہ علیہ وسلم (سعودی عرب) سے ہندستانی مسلمانوں کے روابط

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

گنگا کے پار دو دلوں کا ملاپ — ایک یادگار علمی، فکری اور دعوتی سفر کی داستان

گنگا کے پار دو دلوں کا ملاپ — ایک یادگار علمی، فکری اور دعوتی سفر کی داستان

1 مہینہ ago
نشہ کی حقیقت اور اس کا علاج اسلامی تعلیمات کی روشنی میں

مسلمان اور معاشی دشواریوں کا حل

10 مہینے ago

مقبول

  • کھیل کے ذریعے تعلیم

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • اکیسویں صدی سے دیار حبیب صلی اللہ علیہ وسلم (سعودی عرب) سے ہندستانی مسلمانوں کے روابط

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • تعدد ازدواج كو روكنے كا قانون

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • بھارت کی موجودہ حکومت،ایسٹ انڈیا کمپنی کی راہ پر!

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • اکیسویں صدی سے دیار حبیب صلی اللہ علیہ وسلم (سعودی عرب) اور ہندستانی مسلمانوں کے روابط

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیت علمائے ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • متفرق مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.