اکیسویں صدی سے دیار حبیب صلی اللہ علیہ وسلم (سعودی عرب) سے ہندستانی مسلمانوں کے روابط
تیسری قسط
محمد یاسین جہازی
آل سعود کی حکومت کا قیام اور ہندستانی مسلمانوں کے تاثرات
معاہدہسیورے کے بعد حجاز میں شریف حسین کی حکومت مسلسل کمزور ہوتی گئی۔ امیرِ نجد عبدالعزیز بن عبدالرحمن آل سعود نے حجاز کی مہم کا آغاز کیا اور 5/ستمبر 1924 کو طائف پر قبضہ کرلیا۔ اس کے بعد 3/اکتوبر 1924 کو شریف حسین مکہ چھوڑ کر جدہ چلا گیا اور اقتدار اپنے بیٹے علی بن حسین کے سپرد کردیا، جب کہ 13/اکتوبر 1924 کو ابن سعود کی افواج مکہ مکرمہ میں داخل ہوگئیں۔ بالآخر 24/دسمبر 1925 کو جدہ بھی ان کے قبضے میں آگیا اور سلطنتِ حجاز کا خاتمہ ہوگیا، جس کے بعد 23/ستمبر 1932 کو مملکتِ سعودی عرب کے قیام کا اعلان کیا گیا۔اسی پس منظر میں جمعیت علمائے ہند کا چھٹا اجلاسِ عام 11 تا 16/جنوری 1925، مولانا محمد سجادؒ کی صدارت میں منعقد ہوا۔ صدارتی خطاب میں جزیرہ عرب کو ہمیشہ غیر مسلم اقتدار سے پاک رکھنے، حرمین شریفین کے تحفظ اور رسول اکرم ﷺ کی آخری وصیت کی پاسداری کو مسلمانوں کا بنیادی دینی فرض قرار دیا گیا۔ شریف حسین کی برطانوی حمایت، خلافتِ عثمانیہ سے بغاوت، حجاج پر مظالم اور حجاز میں بدامنی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا، جب کہ طائف اور مکہ پر امیرِ نجد کے قبضے کو شریف حسین کے مظالم کے خاتمے کا سبب قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا گیا کہ جزیرہعرب کی آزادی کا مقصد صرف اقتدار کی تبدیلی نہیں بلکہ غیر مسلم مداخلت کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا گیا کہ حرمین شریفین کا نظم اہلِ حل و عقد کے باہمی انتخاب سے قائم ہونا چاہیے اور مسلمانوں کو باہمی فقہی اختلافات سے بچ کر حرمین کے تحفظ پر توجہ دینی چاہیے۔ استقبالیہ خطبے اور منظور شدہ قرارداد میں بھی امیر ابن سعود کے اس اعلان کی تائید کی گئی کہ حجاز کے مستقبل کا فیصلہ مسلمانانِ عالم کے مشورے سے ہو، جب کہ جزیرہ عرب میں کسی بھی غیر مسلم طاقت کی مداخلت کو ناقابلِ قبول قرار دیا گیا۔مکہ معظمہ کی آئندہ حکومت کے تعین کے لیے اسلامی موتمر کے سلسلے میں 19/جنوری 1925 کو شیخ ابو الفضل، امام مسجد الازہر، نے صدر جمعیت مفتی محمد کفایت اللہؒ کو اجلاس ایک سال موخر کرنے کا تار بھیجا، مگر 22/جنوری 1925 کو حضرت مولانا مفتی کفایت اللہؒ صاحب نے جواب دیا کہ موتمر کا فوری انعقاد ہی عرب تنازعات کے حل کا بہترین ذریعہ ہے۔جمعیت علمائے ہند کی مجلسِ عاملہ نے 26/جنوری 1925 کے اجلاس میں فیصلہ کیا کہ جب تک واپسی اور سفری انتظامات مکمل نہ ہوں، مسلمانوں کو سفرِ حج کا ارادہ نہیں کرنا چاہیے۔ اسی فیصلے کے مطابق صدر جمعیت نے اعلان جاری کیا، جو 22/فروری 1925ئ کے سہ روزہ ’’الجمعیۃ‘‘ میں شائع ہوا، جس میں حجاز کی غیر یقینی صورتِ حال کے باعث عازمینِ حج کو احتیاط کی تلقین کی گئی۔بعد ازاں یکم مئی 1925 کو مکہ مکرمہ کے اکیاون سے زائد علما نے مفتی محمد کفایت اللہؒ صاحب کے نام ایک مفصل مکتوب بھیجا، جس میں حجاز کے شدید معاشی بحران کا ذکر کرتے ہوئے مسلمانانِ ہند سے مالی تعاون کی اپیل کی گئی اور ابن سعود کے دور میں امن و امان کی بحالی کا بھی ذکر کیا گیا۔ جب حکومتِ ہند نے حجاج کی روانگی کی اجازت دی تو 18/مئی 1925 کو مفتی محمد کفایت اللہؒ صاحب نے سلطان عبدالعزیز ابن سعود کے نام تار بھیج کر رابغ بندرگاہ، مکہ مکرمہ اور راستے میں حجاج کے قیام، خوراک اور حفاظت کے مکمل انتظامات کی درخواست کی۔ اسی روز ایک عوامی اعلان بھی جاری کیا گیا، جس میں بتایا گیا کہ پہلا جہاز 22/مئی 1925 کو روانہ ہوگا، اس لیے عازمینِ حج 17 اور 18/مئی 1925 تک بمبئی پہنچ جائیں اور خلافت کمیٹیوں کے ذریعے اپنی اطلاع فراہم کریں، نیز ہر صوبے سے ایک ذمہ دار نمائندہ حجاج کی خدمت کے لیے روانہ کیا جائے۔ (جاری۔۔۔۔۔)@all





















