ہفتہ, اکتوبر 24, 2026
  • Login
  • Register
No Result
View All Result
NEWSLETTER
جہازی میڈیا۔۔۔ نظریوں کا نیٹ ورک
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
     آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

     آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

    قاضی سید کمال الدین ثانی رح: جن کی نسبت سے صاحب پور کمال آباد ہے

    قاضی سید کمال الدین ثانی رح: جن کی نسبت سے صاحب پور کمال آباد ہے

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری کے اچھے دن!

    طریقہ تعلیم پر اہل حدیث عالم کا نظریہ

    متحدہ قومیت پر اہل حدیث عالم مولانا عبد الوہاب آروی کا نظریہ

    اجلاس اور تجاویز

    محمد یاسین جہازی

    مسئلہ آسام اور جمعیت علمائے ہند

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    بھارت میں فرقہ وارانہ اتحاد و انتشار کی راہ

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (15)۔ جہازی فارمولے

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
     آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

    ریس کورس مسجد کو انہدامی نوٹس غیر قانونی اور غیر دستوری ہے: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈبی جے پی حکومتوں کے دور میں مساجد اور مدارس کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں انتہائی تشویشناک ہیں

    آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

    وہی تنظیم قائم رہتی ہے، جو وقت کے ساتھ ہم آہنگ ہوتی ہے

    تو ہم کہہ دیں گے کہ یہ ملک ہندو اسٹیٹ بن گیا ہے

    تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کے خلاصے سے اہم اقتباسات

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (14)۔ ملک دو راہے پر آگے کا راستہ کیا؟

    شیخ محمد محسن تِرہُتی رح اور ان کی تصنیف الیانع الجنى فی اسانید الشیخ عبد الغنی (تاریخ، تعارف اور تجزیہ)

    شیخ محمد محسن تِرہُتی رح اور ان کی تصنیف الیانع الجنى فی اسانید الشیخ عبد الغنی (تاریخ، تعارف اور تجزیہ)

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(13) قیام پاکستان کی مخالفت کیو ں کی گئی؟

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    بھارت میں ہندو تہذیب وثقافت کی بالادستی کی جنگ 

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم

    تھورنا ڈائک(Edward Thorndike)  کا قانون تعلیم

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
     آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

     آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

    قاضی سید کمال الدین ثانی رح: جن کی نسبت سے صاحب پور کمال آباد ہے

    قاضی سید کمال الدین ثانی رح: جن کی نسبت سے صاحب پور کمال آباد ہے

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری کے اچھے دن!

    طریقہ تعلیم پر اہل حدیث عالم کا نظریہ

    متحدہ قومیت پر اہل حدیث عالم مولانا عبد الوہاب آروی کا نظریہ

    اجلاس اور تجاویز

    محمد یاسین جہازی

    مسئلہ آسام اور جمعیت علمائے ہند

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    بھارت میں فرقہ وارانہ اتحاد و انتشار کی راہ

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (15)۔ جہازی فارمولے

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
     آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

    ریس کورس مسجد کو انہدامی نوٹس غیر قانونی اور غیر دستوری ہے: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈبی جے پی حکومتوں کے دور میں مساجد اور مدارس کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں انتہائی تشویشناک ہیں

    آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

    وہی تنظیم قائم رہتی ہے، جو وقت کے ساتھ ہم آہنگ ہوتی ہے

    تو ہم کہہ دیں گے کہ یہ ملک ہندو اسٹیٹ بن گیا ہے

    تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کے خلاصے سے اہم اقتباسات

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (14)۔ ملک دو راہے پر آگے کا راستہ کیا؟

    شیخ محمد محسن تِرہُتی رح اور ان کی تصنیف الیانع الجنى فی اسانید الشیخ عبد الغنی (تاریخ، تعارف اور تجزیہ)

    شیخ محمد محسن تِرہُتی رح اور ان کی تصنیف الیانع الجنى فی اسانید الشیخ عبد الغنی (تاریخ، تعارف اور تجزیہ)

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(13) قیام پاکستان کی مخالفت کیو ں کی گئی؟

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    بھارت میں ہندو تہذیب وثقافت کی بالادستی کی جنگ 

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم

    تھورنا ڈائک(Edward Thorndike)  کا قانون تعلیم

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
جہازی میڈیا۔۔۔ نظریوں کا نیٹ ورک
No Result
View All Result
Home اسلامیات

مردم شماری میں حصہ لینا قومی ومذهبی فریضه

by Admin
جون 7, 2026
in اسلامیات
0
الیکشن میں مسلمانوں کے لئے ترجیحات
0
SHARES
2
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

بسم الله الرحمٰن الرحیم

شمع فروزاں2026.06.05

مولانا خالد سیف الله رحمانی

سیرت نبوی ﷺکے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر عہد میں اسلام کی تائید و تقویت اور مسلمانوں کے ملی وجود کی حفاظت کے لئے تمام اسباب اختیار کرنے چاہئیں ، جو اس زمانہ میں مروج ہوں اور ان میں شریعت کے خلاف کوئی بات نہ ہو، رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ طیبہ میں بہ کثرت اس کی مثالیں موجود ہیں ، آپ ﷺ نے دعوتِ توحید کے لئے پہلی دفعہ صفا کی پہاڑی کا انتخاب کیا اور وہاں جا کر اہل مکہ کو اکٹھا کر کے اپنی بات کہی ، یہ کوئی اتفاقی انتخاب نہ تھا ؛ بلکہ پہلے سے اہل مکہ کا طریقہ چلا آرہا تھا کہ کسی اہم بات کی اطلاع دینے کے لئے اسی مقام پر کھڑے ہو کر لوگوں کو بلاتے تھے ، گویا یہ اس زمانے کا ذریعۂ ابلاغ تھا اور مکہ شہر کی حد تک اس سے زیادہ وسیع الاثر کوئی اور ذریعہ ابلاغ موجود نہیں تھا ، عرب میں دو ایسے اجتماعات ہوتے تھے ، جن میں پورا جزیرۃ العرب اُمڈ آتا تھا ، ایک حج اور دوسرے عکاظ کا تجارتی میلہ ، ان دونوں اجتماعات میں بہت سی منکرات اور فواحش کا ارتکاب کیا جاتا تھا ، حج میں تو بہر حال ایک پہلو عبادت کا بھی تھا ، گو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اصل اُسوہ میں بہت کچھ آمیزشیں کردی گئی تھیں ؛ لیکن عکاظ کے میلے کی نوعیت مذہبی نہیں تھی ، اس کے باوجود آپ ﷺ ’’ کُل عرب سطح‘‘ کے ان دونوں اجتماعات میں جاتے اور لوگوں پر دعوت اسلام پیش فرماتے ؛ کیوںکہ اس وقت اس سے زیادہ موثر ، زود رفتار اور وسیع الاثر کوئی اور میڈیا نہیں تھا ۔ عربوں کاایک قدیم قبائلی نظام تھا ، جس کے مطابق قبیلہ کے ایک شخص کو پورے قبیلہ کی پناہ حاصل ہوتی تھی اور اگر قبیلہ کے ایک شخص کے خلاف بھی کوئی زیادتی کی جاتی تو پورا قبیلہ اسے اپنے آپ پر حملہ تصور کرتا تھا ، آپ ﷺ بنو ہاشم میں تھے اور اس وقت اس قبیلے کی قیادت ابو طالب کے ہاتھ میں تھی ، جو آپ کے چچا تھے ؛ لیکن اولاد سے بڑھ کر آپ سے محبت رکھتے تھے ؛ اس لئے باوجودیکہ بنو ہاشم کی اکثریت ابھی مسلمان نہیں ہوئی تھی اور ابو لہب جیسا بدترین دشمنِ اسلام اسی خاندان سے تعلق رکھتا تھا ؛ لیکن اس کے باوجود ابوطالب کی وجہ سے آپ کو اس خاندان کی ایسی حمایت و حفاظت حاصل رہی کہ شعب ابی طالب جیسے دل گداز اورصبر آزما واقعہ میں بھی بنو ہاشم نے آپ ﷺ کا ساتھ نہ چھوڑا اور عرب کے اس قبائلی پناہ دہی اور پناہ گیری کے نظام سے آپ ﷺنے بھرپور فائدہ اُٹھایا ، اسی طرح آپ ﷺکے سب سے جاں نثار رفیق حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے ابن الدغنّہ کی پناہ حاصل کرنے میں کوئی تکلف نہیں برتا ۔ مدینہ جانے کے بعد آپ ﷺ نے مسلمانوں، یہودیوں اور مشرکین کے درمیان بقاء باہم اور مدینہ کے مشترکہ دفاع کا ایسا معاہدہ کرایا جو اسلام کے سیاسی تصورات کے لئے نشانِ راہ کی حیثیت رکھتا ہے ؛ کیوںکہ اس معاہدہ کے مطابق مدینہ کے غیر مسلم قبائل کو عقیدہ و مذہب کی آزادی دی گئی ، ایک دوسرے کی جان و مال کے احترام کا سبق دیا گیا اور بوقت ضرورت غیر مسلموں کے ساتھ مل کر کسی علاقہ کی حفاظت اور دفاع کو قبول کیا گیا ، اسی طرح فتح مکہ سے پہلے متعدد ایسے مشرک قبائل جو اس وقت تک اسلام قبول کرنے پر آمادہ نہیں تھے ، سے آپ ﷺ نے ناجنگ معاہدہ کیا ؛ بلکہ مشکل وقتوں میں بحیثیت حلیف ایک دوسرے کی مدد کرنے کے معاہدے بھی کئے ، بظاہر اسلام میں ’’ موالات ‘‘ وغیرہ کے سلسلہ میں جو احکام ہیں ، ہو سکتا ہے کہ بادیٔ النظر میں یہ معاہدات اس کے خلاف محسوس ہوں ؛ لیکن در اصل ان سب میں ایک ہی روح کار فرما ہے کہ ہر عہد کی ضرورت ، تقاضہ اور رسم و رواج کے مطابق اسلام کو سر بلند کرنے اور اُمت ِمسلمہ کو تقویت پہنچانے کی کوشش کی جائے ۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے کہا کہ اعداء ِاسلام کے مقابلہ میں قوت بھر تیاری کرو : ’’وَأَعِدُّوْا لَہُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّۃٍ‘‘ ( الانفال : ۶۰) کیا اس کا مطلب صرف اسلحہ اورجنگی طاقت کا فراہم کرنا ہے ؟ غالباً ایسا نہیں ہے ؛ بلکہ ہر طرح کی طاقت اس میں داخل ہے ، کبھی علم کی طاقت ہتھیار کی طاقت پر فائق ہو تی ہے ، جس کی مثال آج جاپان ہے ، کبھی سیاسی طاقت کے ذریعہ قوموں کی تقدیر کے فیصلے ہو تے ہیں ، ہندوستان میں برہمن اِزم اسی کا جیتا جاگتا نمونہ ہے ، کبھی معاشی طاقت کی بنیاد پر انگلیوں پر گنی جانے والی قوم پوری دنیا کو اپنے چشم وابروکا متبع بنا کر رکھتی ہے ؛ جیسا کہ اس وقت صیہونی طاقت کا حال ہے ، غرض کہ ہر عہد میں اس عہد کی ضرورت کے مطابق اپنی طاقت کو بڑھانا اس طاقت کو مذہب وملت کی سربلندی کے لئے استعمال کرنا اور ظالموں کے تسلط سے بچنے کے لئے اس کو ڈھال اور نیام بنانا اُمت کا فریضہ اوررسول اللہ ﷺ کا اُسوہ ہے ۔ آج کی دنیا میں معیار کے ساتھ ساتھ تعداد و مقدار کی بھی بڑی اہمیت ہے ، اس سے کسی قوم کا سیاسی مقام متعین ہوتا ہے ، نظام مملکت کے نقشہ میں اس کی اہمیت محسوس کی جاتی ہے ، جو زبان کسی علاقہ میں بولی جاتی ہو ، اس زبان کی قدر و قیمت بھی بولنے والوں کی تعداد پر منحصر ہے ، اسی پس منظر میں تمام ہی ممالک میں اور خاص کر جمہوری ملکوں میں مردم شماری کو خاص اہمیت حاصل ہے ، ہندوستان میں اس وقت ۹ ؍ فروری سے چھٹی مردم شماری کا آغاز ہو چکا ہے ، جو ۲۸؍فروری تک جاری رہے گی اور یکم مارچ تک نظر ثانی اور تبدیلی کی مہلت ہوگی ، اس مردم شماری پر ایک ہزار کروڑ روپے خرچ ہوں گے ، اس بار مردم شماری نسبتاً زیادہ تفصیل سے عمل میں آرہی ہے ، جس میں مذہب ، زبان اورمعاشی حالات کے علاوہ معذورین اور ان کے حالات بھی مرکز توجہ ہوں گے اور ان ہی اعداد و شمار کی روشنی میں ملک میں آئندہ سیاسی ، تعلیمی اورمعاشی منصوبہ بندی ہو سکے گی ۔اُردو ہماری مادری زبان ہے اور عربی زبان کے بعد کوئی زبان نہیں ، جس میں علوم اسلامی کا اتنا بڑا سرمایہ موجود ہو ؛ بلکہ بعض موضوعات پر اُردو میں ایسی کتابیں بھی آچکی ہیں ، کہ شاید عربی میں بھی اس جیسی کتاب نہ ہو ، فارسی حالاںکہ صدیوں سے مسلمانوں کی زبان ہے ، اور ایک بہت بڑا ذخیرہ فارسی زبان میں ہے ؛ لیکن اُردو نے صرف ڈیڑھ دو سو سال میں نہ صرف فارسی کی برابری حاصل کر لی ؛ بلکہ اسلامی فکر و عقیدہ ، علم و عمل اور تہذیب و ثقافت کی نمائندگی میں غالباً فارسی سے بہت آگے جا چکی ہے ، بد قسمتی سے آزادی کے بعد سے مسلسل اُردو لکھنے پڑھنے والوں کی تعداد گھٹتی جارہی ہے اوراس لئے حکومت کوبھی اُردو کی طرف سے دانستہ تغافل کا بہانہ ہاتھ آرہا ہے ، مردم شماری میں اگر ہم اہتمام کے ساتھ مادری زبان کی حیثیت سے اُردو کا نام لکھائیں اور اعداد و شمار اس بات کو واضح کر دیں کہ اُردو بولنے ، سمجھنے ، لکھنے اورپڑھنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے ، تو اس سے ہمیں اپنی زبان کی حفاظت میں سہولت بہم پہنچے گی اور ہماری اگلی نسلوں کو اپنے سلف کے اتنے عظیم الشان علمی اور دینی سرمایہ سے محروم نہیں کیا جاسکے گا ۔ اس لئے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ حالات میں مردم شماری میں حصہ لینا مسلمانوں کا ایک اہم ترین فریضہ ہے اور یہ اپنے حقوق کی حفاظت اور حق تلفی کی مدافعت کی بے جا کوششوں کی ایک آئینی تدبیر ہے ، اگر ہم نے اس موقع پر غفلت کی اور کوتاہی سے کام لیا تو خاص کر موجودہ حالات میں یہ بہت ہی خسران کی بات ہوگی اور اپنی طاقت کے ضائع کرنے اور اپنی قیمت آپ گرانے کے مترادف ہوگا ۔ یوں مردم شماری کا تصور بہت قدیم ہے ؛ چوںکہ اس سے عوام کے مسائل کو سمجھنے اورخاص کر عوام کے مسائل کا جائزہ لینے میں مدد ملتی ہے ، بائبل میں ہے کہ ’’ پہلی اسم نویسی سوریا کے حاکم رکوِرِنِیسُ کے عہد میں ہوئی اور سب لوگ نام لکھوانے کے لئے اپنے اپنے شہر کو گئے‘‘ (نوما: ۲ ؍۲،۳) یہ واقعہ حضرت مسیح علیہ السلام کی ولادت سے پہلے کا ہے ؛لیکن غالباً اس کا تعلق سلطنت روما یایہودا کی آبادی سے ہے ، مردم شماری تو اس سے پہلے بھی ہوئی ہوگی ؛ کیوںکہ بائبل کے عہد عتیق میں بھی مختلف موقعوں پر مختلف قوموں کے اعداد و شمار مذکور ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے بھی مدینہ میں مردم شماری کرائی تھی اور اس کا ذمہ دار حضرت حذیفہ ؓ کو بنایا تھا ، حضرت حذیفہ ؓ ہی راوی ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : میرے لئے ان تمام لوگوں کے نام لکھو ، جنھوںنے اسلام کا اقرار کیا ہے : ’’اکتبوا لی من تلفظ بالاسلام من الناس‘‘ حضرت حذیفہ ؓ نے شمار کیا تو اس وقت یہ تعداد پندرہ سو نکلی ، (بخاری ، حدیث نمبر : ۳۰۶۰) بظاہر یہ تعداد صلح حدیبیہ کے کچھ آگے یا پیچھے کی ہوگی ، صحابہ ؓ نے فتح مکہ کے مجاہدین کی تعداد بھی بیان فرمائی ہے اور بعض روایتوں میں حجۃ الوداع کے موقع سے شرکاء کی تعداد جو ایک لاکھ سے کچھ اوپر تھی ، مذکور ہوئی ہے ، اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں اعداد وشمار کے اکٹھا کرنے پر نظر رکھی جاتی تھی ، خلافت راشدہ میں خاص کر حضرت عمرؓ کے عہد میں بھی مختلف شہروں کے اعداد و شمار ملتے ہیں ، مدینہ میں آباد لوگوں کے لئے تو آپ نے مستقل رجسٹر ہی مرتب کرا رکھا تھا اور اسی رجسٹر کے مطابق حسب ِمراتب اور حسب ِخدمت مال غنیمت اورباہر سے آنے والی اِعانتیں تقسیم کی جاتی تھیں ، بعد کو بھی مسلمانوں کے دور میں مردم شماری کا سلسلہ رہا ہے ، اسی لئے تاتاریوں کے ہاتھوں بغداد کی تباہی کے پس منظر میں مؤرخین نے لکھا ہے کہ اس وقت اس بہار آفریں شہر کی آبادی ایک لاکھ سے کچھ اوپر تھی ۔ اپنی قوت کا اظہار اسلام کی نگاہ میں کوئی اچھی بات نہیں ہے ، کہ اس سے کبر کی بوآتی ہے ؛ لیکن بعض دفعہ قومی اور ملی مصالح کے تقاضہ کے تحت یہی ناپسندیدہ بات پسندیدہ اورناروابات روا قرار پاتی ہے ، غور کیجئے کہ جب رسول اللہ ﷺ صلح حدیبیہ کے دوسرے سال عمرۃ القضاء کے لئے تشریف لے گئے اور مشرکین — جن کی نظر ایمانی اور روحانی قوت کے بجائے صرف جسمانی قوت پر ہوتی تھی — نے مسلمانوں کے تواضع اور انکسار کو دیکھتے ہوئے ان کے کمزور ہونے کا طعنہ دیا ، تو آپ ﷺ نے مسلمانوں کو کسی قدر اکٹرفوں کے ساتھ طواف کرنے کا حکم فرمایا ، جو آج تک ’’ رمل‘‘ کے نام سے حج کی ایک اہم ترین سنت ہے ، فتح مکہ کے موقع سے اہل مکہ کو مرعوب کرنے اور قائد مشرکین ابو سفیان کو متأثر کرنے کی غرض سے آپ نے ایک خاص ترتیب سے مختلف قبائل کے الگ الگ فوجی دستے مرتب فرمائے اور ایک تنگ وادی سے جوش ایمان سے معمور اور جذبہ جہاد سے بھرپور قافلہ کو گذارا ، نیز حضرت عباس ؓ کے ذریعہ ایسی تدبیرکرائی کہ ابو سفیان کو پھٹی آنکھوں اس لشکر ِجرار اور اس کے ہمت و حوصلہ اورجذبۂ وجوش کو دکھلایا ؛ تاکہ اہل مکہ کو مقابلہ کی ہمت نہ ہو اور وہ کسی مزاحمت کے بغیر اسلام کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیں ، بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ فتح مکہ کی شب خاص طور پر آپ نے مسلمانوں کی فوج کو دُور دُور تک بکھر جانے ، زیادہ سے زیادہ چولھے سلگانے اور کھانے پکانے کا اشارہ بھی دیا ؛ تاکہ جب رات کی تاریکی میں مشرکین مکہ تاحد نگاہ اس لشکر کے چولہوں کو دیکھیں اور عربوں کے طریقہ کے مطابق چولہوں کی تعداد کے مطابق افراد کا اندازہ کریں تو ان کے حوصلے ٹوٹ جائیں اور ان کی ہمتیں شکستہ ہو جائیں ، ان تدبیروں کا مقصد کبر اور اپنی برتری جتانا مقصود نہیں تھا ؛ بلکہ یہ اس وقت کی مصلحت تھی اور اسے اسلام کی تائید و تقویت اورمسلمانوں کی حفاطت کے ایک مؤثروسیلہ کے طور پر استعمال کیا گیا تھا ۔ پس ہر دور میں اپنی قوت بڑھانے ، اپنی طاقت کا اظہار کرنے اور اپنے حقوق کی حفاطت اور اپنے قومی وجود کا دفاع کرنے کے الگ الگ ذرائع ہوتے ہیں ، اس دور میں ان ہی ذرائع کو اختیار کرنا حکمت ، فراست ِایمانی اور اُسوۂ نبوی کا تقاضا ہے ۔= = =

Admin

Admin

Next Post

تحریکِ ریشمی رومال: معاونین و ہمدردان کی ایک تاریخی فہرست

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

الیکشن میں مسلمانوں کے لئے ترجیحات

خدا كا وجود اور كائنات كی شهادت

10 مہینے ago
نوجوانوں کی اصلاح اور بیداری وقت کی اہم ضرورت: مفتی محمد نظام الدین قاسمی

جمعیت علمائے بسنت رائے کے زیر اہتمام “گاؤں گاؤں بیداری پروگرام” کے لیے افراد سازی کے مقصد سے تربیتی نشست کا انعقاد

5 مہینے ago

مقبول

  • ارشاد انصاری: میرے محسن، میرے استاد اور اردو کے خاموش خادم

    جدید دور میں اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی: خود مختار اور بنیادی سطح سے بااختیار بنانے کا ماڈل

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • عربی زبان سیکھنے کی اہمیت اور مسلمانوں کی غیر عربی زبانوں کو لاطینی حروف میں لکھنے کے خطرات

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • تدریس کے اصول یا کلیات” (Maxims of Teaching)

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • 360ڈگری تشخیص کیا ہے

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • چھ سات سال کے بچوں کو زبان سکھانے کا طریقہ

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • رجسٹر
  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیت علمائے ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • متفرق مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.