جمعہ, فروری 6, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    شعبان

    شودروں کے زمرے میں، مسلمانوں کو ڈالنے کی مہم

    باب اول در بیان انجام مداہنت

    جامعۃ الہدیٰ جہاز قطعہ کی تاریخ

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    توہین رسالت کے مجرمین کے  خلاف کرنے کےضروری کام

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    زمانہ بدل گیا

    نشہ کی حقیقت اور اس کا علاج اسلامی تعلیمات کی روشنی میں

    لمحہ مسرت میں افسردگی

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    رحم مادرمیں بیٹی کے نام ماں کا خط

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    قیام اسرائیل اور قرآن (ایک شرعی تجزیہ)

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    قصہ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہم

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بدلتے بھارت میں، بدلہ لینے کا پروان چڑھتا ذہن

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    آؤ نسل کو سنواریں، مستقبل بنائیں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا کردار: سیمینار اختتام پذیر

    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    بہار کا فیصلہ — کانگریس کیلئے سخت پیغام

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے 34ویں فقہی سمینار کی روداد

    مولانا محمود مدنی کو ملا صدارت کا چارج۔ٹرم  2024-2027 کا ہوا آج سے آغاز، 29 اکتوبر 2027ء تک کے لیے صدر منتخب

    مولانا محمود مدنی کو ملا صدارت کا چارج۔ٹرم 2024-2027 کا ہوا آج سے آغاز، 29 اکتوبر 2027ء تک کے لیے صدر منتخب

    وقف ایکٹ کے خلاف جدو جہد جاری رہے گی

    وقف ایکٹ کے خلاف جدو جہد جاری رہے گی

    16 نومبر 2025 کو مسلم پرسنل لاء بورڈ کا عظیم الشان اجلاس ہوگا

    16 نومبر 2025 کو مسلم پرسنل لاء بورڈ کا عظیم الشان اجلاس ہوگا

    جنگل کا قانون

    جنگل کا قانون

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    شعبان

    شودروں کے زمرے میں، مسلمانوں کو ڈالنے کی مہم

    باب اول در بیان انجام مداہنت

    جامعۃ الہدیٰ جہاز قطعہ کی تاریخ

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    توہین رسالت کے مجرمین کے  خلاف کرنے کےضروری کام

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    زمانہ بدل گیا

    نشہ کی حقیقت اور اس کا علاج اسلامی تعلیمات کی روشنی میں

    لمحہ مسرت میں افسردگی

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    رحم مادرمیں بیٹی کے نام ماں کا خط

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    قیام اسرائیل اور قرآن (ایک شرعی تجزیہ)

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    قصہ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہم

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بدلتے بھارت میں، بدلہ لینے کا پروان چڑھتا ذہن

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    آؤ نسل کو سنواریں، مستقبل بنائیں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا کردار: سیمینار اختتام پذیر

    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    بہار کا فیصلہ — کانگریس کیلئے سخت پیغام

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے 34ویں فقہی سمینار کی روداد

    مولانا محمود مدنی کو ملا صدارت کا چارج۔ٹرم  2024-2027 کا ہوا آج سے آغاز، 29 اکتوبر 2027ء تک کے لیے صدر منتخب

    مولانا محمود مدنی کو ملا صدارت کا چارج۔ٹرم 2024-2027 کا ہوا آج سے آغاز، 29 اکتوبر 2027ء تک کے لیے صدر منتخب

    وقف ایکٹ کے خلاف جدو جہد جاری رہے گی

    وقف ایکٹ کے خلاف جدو جہد جاری رہے گی

    16 نومبر 2025 کو مسلم پرسنل لاء بورڈ کا عظیم الشان اجلاس ہوگا

    16 نومبر 2025 کو مسلم پرسنل لاء بورڈ کا عظیم الشان اجلاس ہوگا

    جنگل کا قانون

    جنگل کا قانون

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
No Result
View All Result
Home اسلامیات

خدا كا وجود اور كائنات كی شهادت

by Md Yasin Jahazi
جنوری 1, 2026
in اسلامیات
0
الیکشن میں مسلمانوں کے لئے ترجیحات
0
SHARES
4
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

بسم الله الرحمٰن الرحیم

شمع فروزاں2026.01.02

مولانا خالد سیف الله رحمانی

گزشته دنوں ملك میں ایك اهم موضوع پر اهل علم كے درمیان مذاكره هوا، اور وه هے خدا كا وجود، جس كا مذهب سے گهرا تعلق هے، دنیا میں جو مذاهب پائے جاتے هیں، ان میں خدا كے وجود كا مشترك تصور هے، خدا كا یقین هی انسان كو ایك غیبی طاقت كا مطیع وفرمانبردار بناتا اور اس كے اندر جواب دهی كا یقین پیدا كرتا هے، اور یه بات اس كو خیروصلاح اور عدل وانصاف پر قائم ركھتی هے؛ مگر اس وقت مغربی تهذیب كی بنیادی دعوت خدا پرستی كے بجائے شهوت پرستی كی هے، اور اس فلسفه میں سب سے بڑی ركاوٹ خدا كا یقین هے، بدقسمتی سے مختلف صورتوں میں الحاد هماری نئی نسلوں میں بڑھتا جا رها هے؛ اسی لئے ضروری هے كه مسلمان اپنے بال بچوں كی تربیت میں اس پهلو كو ملحوظ ركھیں۔الله تعالیٰ كے وجود كو ماننے سے یه یقین ركھنا مراد ہے کہ اگرچہ ہم اللہ کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھتے ہیں ؛ لیکن وہ موجود ہے ، اسی نے پوری کائنات کو پیدا کیا ہے اور اسی کے حکم سے اس کا نظام جاری وساری ہے؛ اس لئے همیں اس كی اطاعت وفرماں برداری كرنی چاهئے۔غور كریں تو اس کائنات کا ذرہ ذرہ اللہ کے وجود کی دلیل ہے ؛ لیکن چند اہم دلیلیں یہ ہیں :(الف) ہم دن و رات اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ کوئی چیز بنانے والے کے بغیر وجود میں نہیں آتی ، سوئی سے لے کر جہاز تک ہر چیز کسی صانع کے ذریعہ وجود میں آتی ہے ، اگر کوئی شخص کسی مکان کے بارے میں دعویٰ کرے کہ یہ از خود بن کر کھڑا ہوگیا ہے تو لوگ اسے پاگل سمجھیںگے ، تو یہ وسیع وعریض کائنات کسی خالق کے بغیر کیسے وجود میں آسکتی ہے ؟ قرآن مجید میں بار بار اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ، جیسے ارشاد ہے :اَفِی اللّٰهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ۔ (ابراہیم: ۱۰)كیا آسمان وزمین كے پیدا كرنے والے خدا كے بارے میں كوئی شك هے؟(ب) کائنات میں ہر لمحہ تغیر کا عمل جاری ہے ، ہر دن کے بعد رات آتی ہے ، اور رات کے بعد دن آتا ہے ، انسان بیمار پڑتا ہے ، پھر صحت حاصل ہوتی ہے ، بچہ بڑھ کر جوان اور پھر بوڑھا ہوتا ہے ، مختلف مخلوقات پیدا ہوتی ہیں ، پھر موت اور فنا سے دوچار بھی ہوتی ہیں ، تبدیلی اور ترقی کسی محرک اور عامل کی محتاج ہوتی ہے ، ایسا نہیں ہے کہ لکڑی کے تختے رکھ دیئے جائیں ، وہ خود بخود ٹکڑے بن جائیں اور یہ ٹکڑے جڑ کر کرسی اور پلنگ کی صورت اختیار کرلیں ، ہر تبدیلی کے پیچھے کاریگر کا عمل ہوتا ہے ، یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ کائنات جو مسلسل تغیر ، حرکت وسکون اور ترقی کی منزل سے گزر رہی ہے ، اس کے پیچھے ایک طاقت کار فرما ہے اور اسی طاقت کا نام اللہ ہے ؛ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ ۔ (آل عمران: ۱۹۰)بے شك آسمان وزمین كی بناوٹ اور رات دن كے آنے جانے میں عقل والوں كے لئے بڑی نشانیاں هیںاس میں اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر’ اختلاف اللیل والنہار‘ (شب وروز كی تبدیلی) کا ذکر فرمایا ہے ۔(ج) کائنات میں جو چیزیں پائی جاتی ہیں ، وہ اپنے مقررہ کام میں مشغول ہیں ، ان کے درمیان ایک خاص قسم کا توازن وارتباط ہے ، جیسے : فضا میں ہزاروں سیارے گردش کررہے ہیں ، انسان جن گاڑیوں کو چلاتا ہے ، آئے دن ان میں ایکسیڈنٹ ہوتا رہتا ہے ؛ لیکن کبھی سورج اور چاند میں کوئی تصادم نہیں ہوا اور نہ فضا میں تیرتے ہوئے ہزاروں ستاروں کے درمیان ایکسیڈنٹ کی نوبت آئی ، جب تک کوئی ایسی ذات موجود نہ ہوجو حکمت کے ساتھ کائنات کی تمام مخلوقات کو کنٹرول میں رکھتے ہوئے ان سے کام لے ، اس وقت تک یہ نظام برقرار نہیں رہ سکتا ، خدا کے بغیر کائنات کے اس نظام کے چلتے رہنے کا دعویٰ کرنا ایسا ہی ہے ، جیسا کوئی شخص کہے کہ جہاز اور ٹرین بغیر کسی کپتان اور ڈرائیور کے یا الیکٹرونک کنٹرول کے خود بخود چل رہے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اس کی طرف اشارہ فرمایا ہے ، جیسے فرمایا گیا := اَلشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ ۔ (سورہ رحمٰن: ۵)سورج اور چاند ایك حساب كے پابند هیں۔= اِنَّا كُلَّ شَیْءٍ خَلَقْنٰهُ بِقَدَرٍ ۔ (قمر: ۴۹)بے شك هم نے هر چیز كو ایك اندازے سے پیدا كیا هے۔(د) انسان کا وجود بجائے خود اللہ تعالیٰ کے وجود کی دلیل ہے ، ایک ہی ماں باپ سے کئی بچے پیدا ہوتے ہیں ، ان کی شکل وصورت میں فرق ہوتا ہے ، آواز میں فرق ہوتا ہے ، مزاج اور رویہ میں فرق ہوتا ہے ، ایک ہی مادہ اشتقاق سے تعلق رکھنے کے باوجود ان کے درمیان فرق کا پایا جانا کسی قادر مطلق اور حکیم ودانا منتظم و مدبر کے بغیر نہیں ہوسکتا ، اگر لکڑی سرخی مائل ہو تو اس سے جو چیز بنے گی ، وہ اسی رنگ کی ہوگی ، سونے سے جو چیز بھی بنائی جائے گی ، وہ زرد ہوگی ؛ لیکن انسان کی ذات میں غیر معمولی تنوع پایا جاتا ہے ، یہ کسی حکم حاکم کے بغیر نہیں ہوسکتا ؛ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :اور آسمانوں كا اور زمین كا پیدا كرنا اور تمهاری زبانوں اور رنگوں كا الگ الگ هونا بھی اس كی نشانیوں میں سے هے، یقیناََ اس میں سمجھ دار لوگوں كے لئے دلیلیں هیں۔( ہ) انسانی فطرت تقاضا کرتی ہے کہ وہ اس کائنات کے پیچھے خالق ومالک کے وجود کو تسلیم کرے ؛ اسی لئے انسانی تاریخ میں ہمیشہ انسان کی غالب ترین اکثریت نے کسی نہ کسی صورت میں خدا کے وجود کو تسلیم کیا ہے ، اگرچہ بہت سی قوموں نے اس کی ذات وصفات کی معرفت میں ٹھوکر کھائی ہے ؛ چنانچہ تاریخ میں ہمیشہ خدا کا انکار کرنے والے بہت کم رہے ہیں ، تمام مذہبی صحائف کے مطالعہ سے یہی بات معلوم ہوتی ہے اور آج بھی دنیا میں خدا کا انکار کرنے والوں کی تعداد بہت کم ہے ۔جو لوگ خدا کے وجود کو نہیں مانتے ، ان کے پاس اپنے دعوی پر کوئی دلیل نہیں ہے ، یہ سمجھنا کہ چوںکہ خدا نظر نہیں آتا ؛ اس لئے اس کا وجود نہیں ہے ، ایسی بات ہے جس کو عقل سلیم قبول نہیں کرسکتی ، دنیا میں کتنی ایسی چیزیں ہیں ، جو نظر نہیں آتی ہیں ، یا جن کو حواس خمسہ ظاہرہ سے محسوس نہیں کیا جاسکتا ہے ؛ لیکن ہر شخص اس کے وجود کو تسلیم کرتا ہے ، انسان کے اندر روح اور زندگی کا ہونا اور موت کے وقت اس کا نکل جانا سب کو تسلیم ہے ؛ لیکن انسانی آنکھیں اس کا مشاہدہ نہیں کرسکتیں ، فضا ہر وقت ’ہوا ‘سے معمور رہتی ہے ؛ لیکن ہم اسے دیکھ نہیں سکتے اور جب تک اس کی حرکت بڑھ نہ جائے ، اس وقت تک ہم اپنے حواس سے بھی محسوس نہیں کرسکتے ، اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل وفہم کی دولت عطا فرمائی ہے ، ہم انسان کے رویہ کو دیکھ کر اس کے اندر عقل کو تسلیم کرتے ہیں ؛ لیکن ہم ہاتھ پاؤں کی طرح نہ اس کا ادراک کرسکتے ہیں اور نہ کسی پیمانے سے اس کی مقدار کو جانچ سکتے ہیں ؛ اس لئے کسی چیز کا نظر نہ آنا یا حواس ظاہرہ کے ذریعہ اس کا ادراک نہ ہونا اس کے موجودنہ ہونے کی دلیل نہیں ہوسکتی ۔ملحدین اور خدا کے منکرین کائنات میں جاری حرکت وسکون کی توجیہ کرتے ہیں کہ یہ چیز اس کی فطرت میں رکھ دی گئی ہے اور فطرت کی بنا پر مسلسل ایسا ہورہا ہے ؛ لیکن یہ بھی ایک ایسا دعویٰ ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ہے ، اگر کسی چیز کو فعال رکھنے کے لئے فطرت کافی ہوتی تو ان کے درمیان یکسانیت ہونی چاہئے تھی ، ہر پودا جو ایک طرح کی زمین میں لگایا جائے ، اس کی نشو ونما ایک ہی طرح پر ہوتی ، ہر سیب کے سائز اور مٹھاس میں یکسانیت ہوتی ، ہرشوہر و بیوی جن میں ماں باپ بننے کی صلاحیت ہے ، ضرور ہی ماں باپ بنتے ، انسان کے وجود میں جو اجزاء شامل ہیں ، جیسے : لوہا ، پتھر ، چونا ، پانی وغیرہ ، اگر انسان ان سب کو ملا کر ایک پُتلا بنا دیتا تو اس میں انسان ہی کی طرح بولنے ، سننے ، اور لکھنے پڑھنے کی صلاحیت پیدا ہوجاتی ؛ لیکن ایسا نہیں ہے ، اس سے معلوم ہوا کہ مادّہ از خود کسی چیز کی تخلیق یا تشکیل نہیں کرتا ؛ بلکہ کوئی ذات ہے جس کے حکم سے چیزیں وجود میں آتی ہیں اور وہ مختلف شکلیں اختیار کرتی ہیں ، وہی حاکم خدا کی ذات ہے ۔۰ ۰ ۰_________Khalid Saifullah RahmaniGen.Secretary : Islamic Fiqh Academy,India Director : Al Mahadul A’ali Al Islami Hyderabad.E-mail :ksrahmani@yahoo.comWebsite: www.khalidrahmani.in

Md Yasin Jahazi

Md Yasin Jahazi

Next Post
تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

نئے بھارت کی بھیانک تصویر

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

جمعیت علمائے ہند کے 106سال مکمل، تاسیس کی مستند کہانی

جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم: چھٹا سال: 1924ء

2 ہفتے ago
تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

کیا مسلمانوں کے اندر اتحاد کی گنجائش ہے؟

3 ہفتے ago

مقبول

  • الیکشن میں مسلمانوں کے لئے ترجیحات

    اهل مدارس كی خدمت میں چند گزارشات

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • شعبان

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • شودروں کے زمرے میں، مسلمانوں کو ڈالنے کی مہم

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • جامعۃ الہدیٰ جہاز قطعہ کی تاریخ

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • توہین رسالت کے مجرمین کے  خلاف کرنے کےضروری کام

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیۃ علماء ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.