ملاحظات
مولانا عبدالحمید نعمانی صاحب
مودی جی کی مرکز سرکار بننے کے بعد گزشتہ کچھ عرصہ سے تسلسل کے ساتھ نئے بھارت کا نعرہ لگا کر ایک ایسا ملک بنانے کے مختلف سطحوں پر جتن کیے جا رہے ہیں، جس میں جمہوریت، سیکولر ازم، انصاف و انسانیت پر ہندوتو وادی فرقہ پرستی حاوی ہو ، ہندو اکثریتی سماج کے ایک بڑے حصے کے نوجوانوں، مختلف پارٹیوں کے لیڈروں، ترجمانوں اور زیادہ تر مبینہ نیشنل ٹی وی چینلز کے اینکروں کے اندر مختلف قسم کی ترفع پسندی اور من گھڑت کہانیوں کی بنیاد پر شجاعت و فخر کا اظہار اور دیگر کو کم تر، مکروہ و ملعون باور کرانے کے رجحانات بڑی تیزی سے پروان چڑھ رہے ہیں، شنکر آچاریہ اور دیگر بہت سے مبینہ دھرم گرو بھی سادھو، سنت کے بھیس میں سماج میں نفرت و تقسیم کو بڑھاوا دینے کے ساتھ ہندوؤں میں اشتعال پیدا کر کے ان کو قتل و جارحیت پر ابھارنے کا کام کرتے نظر آتے ہیں، جس کے نتیجے میں ہندو وادی سماج، بڑی تیزی سے جارحیت و جہالت کی طرف بڑھ رہا ہے، بڑے بڑے سیاسی لیڈر اور مبینہ دھرم گرو بھی اسلام کی موٹی موٹی باتوں اور مسلمانوں متعلق صحیح جانکاری نہیں رکھتے ہیں، سارا کاروبار حیات، من گھڑت کہانیوں اور افواہوں پر چل رہا ہے، نکاح، طلاق، اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو برہنہ گالیاں دیتے ہوئے مسلمانوں کو چلینج کرتے نظر آتے ہیں، بہت سے مسلمانوں کا بھیس اختیار کر کے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہیں، کئی سارے جاہل مرتدین کو ایکس مسلم کے نام پر پیش کر کے اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرائی جاتی ہے، یہ زیادہ تر سہارنپور، مظفر نگر، میرٹھ اور مغربی یوپی سے تعلق رکھتے ہیں، جہاں دینی مدارس کی بڑی تعداد ہے، لیکن افسوس کہ دلائل و شواہد سے بے نقاب کرنے کی کوشش کرتا کوئی نظر نہیں آتا ہے، حالاں کہ اس پر توجہ ضروری ہے، ٹی وی چینلز ہر کسی کو بھی اسلامی و مسلم اسکالر بنا کر پیش کیا جاتا ہے، اس سے بھی سماج میں غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں، کئ سارے مسائل کو لے کر ملک میں عجیب قسم کی صورت حال پیدا ہو گئی ہے، انصاف کی فراہمی کا سسٹم، بھیڑ کے دباؤ میں نظر آتا ہے، واضح طور پر قوانین کے نفاذ میں دوہرے معیار نظر آتے ہیں، عمر خالد وغیرہ کے معاملے کی برسوں سے شنوائی بھی شروع نہیں ہوئی ہے مگر یتی نرسنہا نند اور دیگر بہت سے برہنہ گفتار ،فرقہ پرست افراد ضمانت پر آزاد ہو کر ہندو مسلم، اسلام اور سناتن دھرم کے نام پر خانہ جنگی اور اسلام اور مسلمانوں کو ختم کرنے کے علاوہ ہندو سماج کو آئی ایس آئی کی طرح خود کش دستہ بنانے کی کھلے عام ترغیب دی جا رہی ہے گرچہ تلواریں تقسیم کرنے والوں میں سے 10/افراد گرفتار کیے گئے ہیں، لیکن سرغنہ پنکی چوہدری گرفت سے باہر ہے، جس کی یتی نرسنہا نند حمایت کر رہا ہے، اس گرفتاری کا کوئی خاص اثر ہوتا نظر نہیں آتا ہے، گرفتاریاں، عموما کمزور دفعات کے تحت ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے کچھ دنوں میں فسادی و تخریب کار رہا ہو جاتے ہیں یا ضمانت پر جیلوں سے باہر آ کر از سر نو فرقہ وارانہ اور اشتعال انگیز سرگرمیوں میں لگ جاتے ہیں، ڈھیلے اقدامات کا فسادی و شر پسند عناصر فائدہ اٹھا کر سماج کو تباہی کی طرف لے جا رہے ہیں، ان کے نزدیک سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس کا معنی و مطلب بالکل الگ ہے، اس کو بی جے پی اقتدار والی ریاستی سرکاریں اور ان کی پولیس بھی الگ طرح سے سمجھانے کا کام کرتی ہے، وہاں اقلیتوں خصوصا مسلم، عیسائی اقلیت کے لیے خوف و دہشت کا ماحول بنانے کی مختلف طریقوں سے کوششیں جاری ہیں، کسی بھی بات کو بآسانی فرقہ وارانہ رنگ دے دیا جاتا ہے، یہ کسی ایک طبقے کی بات نہیں ہے بلکہ مختلف طبقات کے مسلم نام والے، ہندوتو کے جارحانہ حملے و اقدامات کی زد میں ہیں، اس میں فلمی دنیا کے مسلم نام والے کے ساتھ، جاوید اختر، شبانہ اعظمی تک شامل ہیں، ملک کے کئی حصوں میں مکان زمین خریدنے اور کرایہ پر لینے میں ہندوتو وادی فرقہ پرستی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، حتی کہ کھیل تک میں فرقہ پرستی بری طرح داخل ہو گئی ہے، کھلاڑیوں کی نیلامی میں کئی ادارے اور شخصیات شامل ہوتی ہیں، بنگلہ دیشی کھلاڑی مستفیض الرحمن کو لینے میں کئی سارے شامل تھے لیکن نام صرف شاہ رخ خان کا لے کر ہند بنگلہ دیش کے تعلقات کو ایک الگ ہی راستے پر ڈال دیا گیا، رام بھدر چاریہ، دیوکی نندن ٹھاکر، دھریندر شاستری وغیرہم مبینہ دھرم گرو، سارا دھیان، گیان چھوڑ کر فرقہ پرستی کا کھیل کھیلنے کے لیے میدان میں کود پڑے، بی جے پی لیڈر سنگت سوم اور کئی دیگر نے تو شاہ رخ خان کو غدار تک قرار دے دیا، مطلب مسلمانوں کو غدار قرار دینے کے لیے کسی قانون و معیار کی کوئی ضرورت نہیں ہے، بی سی سی آئی جس کے صدر، وزیر داخلہ امت ساہ کے بیٹے ہیں نے پہلے تو خاموشی اختیار کیے رکھی، پھر کہا کہ بنگلہ دیش، دشمن ملک نہیں ہے، اس پر بی جے پی، شیو سینا اور مبینہ دھرم گروؤں کوئی تنقید نہیں کی ہے، اب بنگلہ دیشی کھلاڑی کو آزاد کر دیا گیا ہے، اس کا واضح مطلب ہے کہ شدت پسندی اور فرقہ پرستی، سمجھ داری پر اس قدر حاوی ہو گئی ہے کہ بھارت موافق لوگوں کو بھی ملک کے مفاد میں ساتھ لینے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی جا رہی ہے، حالاں کہ بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم خالدہ ضیاء کے انتقال پر وزیر خارجہ جے شنکر تعزیت کے لیے بنگلہ دیش اور وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ، بھارت میں واقع بنگلہ دیش ایمبیسی گئے، لیکن بھارت میں بنگلہ دیش کے حالات کے سہارے، بہانے سے ہندستانی مسلمانوں کے ساتھ اسلام کے خلاف، انتہائی جارحانہ اشتعال انگیز زبان کا استعمال کر کے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو درہم برہم کرنے میں کوئی کور کسر نہیں چھوڑی جا رہی ہے، ایک طرف ہندو مذہب و روایت کو سناتن و قدیم بتا کر اس کے تحت بھارت کے تمام باشندوں کو لانے کی جارحانہ کوشش اور زور زبردستی کی جاتی ہے تو دوسری طرف مسجدوں، درگاہوں اور چرچوں کے سامنے ہنومان چالیسا کا پاٹھ کیا جاتا ہے حالاں کہ اول تو ہنومان چالیسا پاٹھ کا قدیم سناتن روایت سے کوئی تعلق نہیں ہے، مسجد، درگاہ، چرچ کے سامنے ہنومان چالیسا پاٹھ بالکل نیا ظاہرہ و فیشن ہے، ہنومان چالیسا سولہ ویں صدی تقریبا 1580 ’85 میں لکھی گئی ہے، پاٹھ کب سے شروع ہوا، یقین سے کچھ کہنا مشکل ہے اگر 1580’85 سے ہی مان لیا جائے تو اسے سناتن روایت کا حصہ بنانے کا معاملہ بہت کچھ کہتا ہے، اس کے باوجود نماز، عبادت اور مسجد، درگاہ، مزار کے سامنے ہنومان چالیسا پاٹھ ،ہندوتو وادی ذہنیت کو بہت اچھی طرح اجاگر کر دیتا ہے، برہمن وادی ہندو اساطیر میں ہنومان کا کردار مسائل و مشکلات حل کرنے کے طور پر متعارف ہے لیکن گزشتہ کچھ عرصے سے اس کے نام پر مختلف قسم کے غلط کام، دنگے فسادات اور فرقہ وارانہ سرگرمیاں انجام دی جا رہی ہیں، جب کہ ہنومان کے کردار و کہانیوں میں فرقہ پرستی کا پہلو و نمونہ موجود نہیں ہے، وہ ایک آدی واسی اور بہ قول یوگی آدتیہ ناتھ دلت کردار ہے، حیرت و افسوس ناک معاملہ ہے کہ ایک مسائل حل کرنے والے کردار کا استعمال مسائل و مشکلات پیدا کرنے اور بڑھانے کے لیے کیا جا رہا ہے اور غلط طور پر اسی کے نام پر، آر ایس ایس کی نگرانی میں بجرنگ دل کے نام سے ایک فسادی تخریب کار تنظیم بھی بنا کر ملک کے مختلف حصوں میں اس کی قیادت میں قتل و فساد، مار پیٹ، توڑ پھوڑ اور حملے کیے جاتے ہیں، ابھی گزشتہ دنوں اس سے وابستہ ویر یودھاؤں نے ملک کے مختلف حصوں میں چرچوں پر حملے اور تقریبات کو درہم برہم کر دیا تھا چھتیس گڑھ کی راجدھانی، رائے پور میں چرچوں میں توڑ پھوڑ اور حملے میں ملوث ہونے کے الزام میں کئی افراد گرفتار کیے گئے تھے لیکن نئے سال کے آغاز میں، نئے بھارت میں، ضمانت پر جیل سے باہر آ گئے، اس موقع پر جیل سے باہر بجرنگیوں کا زبردست استقبال کے ساتھ ان کی آرتی اتاری گئی، کچھ دنوں پہلے جھار کھنڈ میں ہجومی تشدد و قتل میں ملوث ہونے کے ملزم کے جیل سے باہر آنے پر بی جے پی لیڈر نے شال اڑھا کر عزت افزائی و استقبال کیا تھا، ایسے واقعات آئے دن رونما ہو رہے ہیں، اگر ایسے واقعات سے عمر خالد وغیرہ کے معاملے کو ملا کر دیکھا جائے تو نئے بھارت کی بڑی بھیانک اور دہشت زدہ کرنے والی تصویریں سماج کے سامنے آتی ہیں، اس سلسلے میں تحفظ انسانی حقوق کے لیے سرگرم ملکی، غیر ملکی ادارے بھی بھارت کے فرقہ وارانہ حالات اور انصاف کی فراہمی میں برتی جانے والی غفلت و جانب داری و کوتاہی پر جس طرح کے تبصرے و سوالات اٹھا رہے ہیں ان سے بھارت کی شبیہ بہت زیادہ خراب ہو رہی ہے، اس سمت میں بغیر کسی موثر اقدام کے، محض ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت پر تنقید سے بگڑتی شبیہ کو بہتر نہیں بنایا جا سکتا ہے بدلتے سماجی و عالمی حالات میں، دنیا کے گھر آنگن بن جانے کی صورت میں، انصاف و انسانیت اور انسانی حقوق کے تحفظ و بقا۶ کے مد نظر ، اندرونی معاملات میں مداخلت کی ممانعت کی تھیوری میں کوئی زیادہ دم نظر نہیں آتا ہے، بھارت سمیت کئی سارے ممالک، کئی دیگر ممالک میں انسانیت وانصاف اور انسانی حقوق کی خلاف و پامالی پر تنقید اور روک تھام کے مطالبات و اقدامات کرتے رہتے ہیں، ابھی حال ہی میں ایران میں مظاہرین کے خلاف حکومت کی طرف تادیبی کارروائی پر امریکہ نے مظاہرین کی حمایت کرتے ہوئے ان کی مدد کرنے کا عندیہ دیا ہے، ایسی حالت میں کسی ایک ملک کا، دوسرے ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کو غلط بتانے کی تھیوری میں کوئی زیادہ معنویت و مضبوطی نظر نہیں آتی ہے، اسے بنگلہ دیش میں ہندو اقلیت پر حملے کے تناظر میں دیکھا اور سمجھا جا سکتا ہے، انصاف و انسانیت کے معاملے میں بھارت نے بارہا سرحد پار بھی اپنا کردار ادا کیا ہے، اسے کسی بھی طرح سے غلط قرار نہیں دیا جا سکتا ہے، ہر محب وطن ہندستانی بھارت کو ترقی یافتہ اور مضبوط و مستحکم اور محفوظ دیکھنا چاہتا ہے لیکن افسوس کہ اسے ہندوتو وادی عناصر اپنے ماسوا دیگر باشندوں اور مذہبی و سماجی اکائیوں کو مین اسٹریم سے الگ اور بھارت کو صرف ہندوؤں کا ملک قرار دے کر کمزور کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں، رہی سہی کسر ہندو راشٹر بنانے کی شر انگیز سرگرمیاں اور نعرے پوری کر رہے ہیں، حالاں کہ جاوید اختر سے بات کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری باجپائی نے کہا تھا کہ بھارت ہمیشہ سیکولر ملک رہا ہے وہ کبھی ہندو راشٹر نہیں بن سکتا، لیکن ہندوتو وادی عناصر نئے بھارت میں بہ یک وقت مختلف محاذوں سے، دلتوں، عیسائیوں اور مسلمانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں خاص طور سے مسلمانوں، ملاؤں کو ختم اور کچل دینے کی کھلے عام دھمکیاں دی جارہی ہیں، یوگی، دھامی کے یوپی، اتر کھنڈ سے لے کر عاپ کے پنجاب اور کانگریس کے ہماچل، کرناٹک تک میں زہرافشانیاں اور ہنومان چالیسا مراکز قائم کرنے کے علاوہ بہار کی لڑکیوں کی قیمتیں لگائی جا رہی ہیں، نئے بھارت میں ہندوتو وادی عناصر سمیت بی جے پی لیڈروں نے برہنہ گفتاری کر کے زبان کی سطح کو اس قدر پست تر کر دیا ہے کہ اس سے زیادہ گراوٹ کا تصور نہیں کیا جا سکتا ہے، ایسی حالت میں محب وطن ہندستانیوں خصوصا مسلمانوں اور ان کی قیادت کی، تعمیری کردار کے حوالے سے ذمہ داریاں سوا ہو گئی ہیں،





















