مفتی شبیر احمد صاحب مدرسہ شاہی مرادآباد
جمعہ کے اڈیو خطاب کا مکمل متن
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ نحمدہ ونصلی علی رسولہ الكريم اما بعد!
عن أبي هريرة رضي الله تعالى عنه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أُقْكُلُوا لِي بِسِتٍّ أُكْفُلْ لَكُمُ الْجَنَّةَ: الصَّلَاةَ، وَالزَّكَاةَ، وَالْأَمَانَةَ، وَالْفَرْجَ، وَالْبَطْنَ، وَاللِّسَانَ»، أو كما قال عليه الصلاة والسلام۔
درود پاک عنایت فرمائیں: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ۔ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى سَيِّدِنَا وَنَبِيِّنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَبَارِكْ وَسَلِّمْ۔ يَا رَبِّ صَلِّ وَسَلِّمْ دَائِمًا أَبَدًا عَلَى حَبِيبِكَ خَيْرِ الْخَلْقِ كُلِّهِمِي۔
بھائیو اور بزرگو، نوجوان احباب، مربی حضرات، سفید داڑھی والے معززین حضرات!
میں نے جو حدیثِ شریف پڑھی ہے، حضرت امام طبرانی علیہ الرحمہ نے المعجم الأوسط میں 4489 حدیثیں نقل فرمائی ہیں، ان میں سے 8599 نمبر حدیثِ شریف میں آپ کے سامنے پیش کرنے جا رہا ہوں۔ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «أُقْكُلُوا لِي بِسِتٍّ أُكْفُلْ لَكُمُ الْجَنَّةَ»؛ تم میرے لیے چھ باتوں کی ذمہ داری لے لو، میں تمہارے لیے جنت کی ذمہ داری لیتا ہوں۔ تمہیں چھ کام کرنا ہے، اگر تم نے چھ کام کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے، تو میں تمہارے سامنے جنت کی گارنٹی پیش کرتا ہوں، تمہارے لیے جنت کی ذمہ داری لیتا ہوں۔
انتہائی اہمیت دے کر کے حضرت سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ چھ کام جو تمہیں کرنا ہے، وہ کیا ہیں؟
- نمبر ایک: الصلوٰۃ؛ تم نماز کا پابند بن جاؤ، پانچ نماز کا پابند بن جاؤ، میں تمہارے لیے جنت کی ذمہ داری لیتا ہوں۔ آج کل کے زمانہ میں راتیں چھوٹی ہوتی ہیں، نینْد پوری نہیں ہو پائی ہے، فجر کے وقت میں اٹھا نہیں جاتا ہے، آپ اپنے طبیعت پر زور لگا کر کے فجر کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھ لیا کریں، تو اور زیادہ ثواب ملے گا۔ فجر کی نماز باجماعت پڑھنے کے بعد جو نیند آپ کی باقی ہے، وہ جا کر کے آپ پوری کر لیں، لیکن فجر کی نماز جماعت کے ساتھ پابندی سے پڑھ لیا کریں۔ فجر کا وقت ملائکہ رحمت کے تبادلہ کا وقت ہے، اس لیے حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی زیادہ اہمیت دی ہے کہ فجر کی نماز کا پابند بن جاؤ، عصر کی نماز کا پابند بن جاؤ۔ فجر کی نماز کا وقت رات کے ملائکہ کے آسمانوں میں جا کر کے حاضری پیش کرنے کا وقت ہے، اور آسمانوں سے دن کے ملائکہ کی آمد کا وقت ہے، اور عصر کا وقت دن کے کارنامہ آسمانوں میں جا کر کے پیش کرنے کا وقت ہے، اور رات کے فرشتے عصر کے وقت آتے ہیں، کہ عصر کے وقت میں رات کے فرشتے تشریف لاتے ہیں، ان کی آمد کا وقت ہے۔ اس لیے سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز اور عصر کی نماز کے پابندی کے لیے اہتمام کے ساتھ فرمایا۔ اور جو شخص فجر کی نماز پابندی کے ساتھ جماعت کے ساتھ پڑھ لے گا، بقیہ نمازیں ادا کرنا اس کے لیے آسان ہو جائے گا۔ جس نے فجر کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھ لی ہے، پابندی کے ساتھ، اس کے لیے بقیہ نمازیں پڑھنا آسان ہو جاتا ہے۔ اس لیے آقا نے سب سے پہلے فرمایا: «الصَّلَاۃُ»؛ نمبر ایک، تم نماز کا پابند بن جاؤ، یہ چھ کام کرنا ہے۔ نمبر ایک الصلوٰۃ۔
- نمبر دو: الزکوٰۃ؛ تم تمہیں اگر اللہ نے سرمایہ دار بنایا ہے، تو اپنے سرمایاہ کی زکوٰۃ رتی رتی حساب لگا کر کے، فقراء کو، مستحقین کو ادا کر دو، میں تمہارے لیے جنت کی ذمہ داری لیتا ہوں۔
- تیسرا کام: والامانۃ؛ تمہارے پاس اگر کسی کا حق ہے، کسی کو ادا کرنا ہے، کسی کو پیمنٹ کرنا ہے، وہ لینے کے لیے آئے، تو بلاشبہ ٹال مٹول کے، اس کا حق اسے فوراََ ادا کر دو، میں تمہارے لیے جنت کی ذمہ داری لیتا ہوں۔ حضرت امام طبرانی علیہ الرحمہ نے المعجم الكبير میں 21608 حدیثیں نقل فرمائی ہیں، ان میں سے 10553 نمبر حدیث شریف ہے، حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے، آقاے نامدار علیہ الصلاۃ والسلام نے تین چیزیں ارشاد فرمائی ہیں، تین باتیں: نمبر ایک، «لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُ»؛ سب سے پہلی چیز آقاے نامدار علیہ الصلاۃ والسلام نے بیان فرمائی، کہ وہ شخص ایمان والا نہیں ہے، ایماندار نہیں ہے جو امانت دار نہیں۔ جو آدمی خائن ہوگا، اس کی ایمان پر حضرت سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلی اٹھائی ہے۔ دوسری چیز بیان فرمائی: «وَلَا دِينَ لِمَنْ لَا عَهْدَ لَهُ»؛ وہ شخص دیندار نہیں ہو سکتا ہے، جو وعدہ کر کے منہ کر جائے، وعدہ کا پابند نہ ہو۔ اس کے بعد آقا نے قسم کھا کر کے فرمایا: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَسْتَقِيمُ دِينُ عَبْدٍ حَتَّى يَسْتَقِيمَ لِسَانُهُ وَلَا يَسْتَقِيمُ لِسَانُهُ حَتَّى يَسْتَقِيمَ قَلْبُهُ»؛ فرمایا سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اس ذات کی قسم، جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، کسی بندہ کا دین اس وقت تک کامل نہیں ہو سکتا ہے، کوئی بندہ اس وقت تک دیندار نہیں بن سکتا ہے، جب تک اس کی زبان درست نہ ہو، اور زبان اس وقت تک درست نہیں ہو سکتی، جب تک اس کا دل درست نہ ہو۔ اگر اس کا دل درست ہے، تو زبان وعدہ کرنے کے بعد ایک بات پر قائم رہے، پھر ٹلیں گے نہیں۔ پھر وعدہ کرنے کے بعد اس کا پورا کرنا اس کے لیے آسان ہو جائے گا۔ اور اگر دل میں کھوٹ ہے، تو زبان ایک بات پر قائم نہیں رہ سکتی، زبان میں لڑکھڑاہٹ ہوگی۔ اس کے بعد آقا نے تیسری چیز بیان فرمائی: «وَلَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ»؛ وہ شخص جنتی نہیں بن سکتا، جس کا پڑوسی اس سے مطمئن نہ ہو۔ تمہارے جنتی بننے کے لیے، تمہارے پڑوسی کا تم سے مطمئن ہونا لازم ہے، پڑوسی کو تم سے کوئی خطرہ نہ ہو، تب تم جنتی بن سکتے ہو، اور اگر پڑوسی کو تم سے خطرہ ہے، پتہ نہیں کس وقت یہ شرارت کر بیٹھے، کس وقت یہ فتنے میں مبتلا کر ڈالیں، تو آقا نے فرمایا کہ تمہارے لیے جنت کا داخلہ ممنوع ہو جائے گا۔ تو آقا نے سب سے پہلے چیز امانت کو بیان فرمائی۔ یہ جو چھ چیزیں بیان فرمائی ہیں، اس میں تیسری چیز ہے امانت: «الصَّلاةُ والزَّكَاةُ والْأَمَانَةُ»؛ تم امانت کے محافظ بن جاؤ، میں تمہارے لیے جنت کی ذمہ داری لیتا ہوں۔
- چوتھی چیز آقاے نامدار علیہ الصلاۃ والسلام نے ارشاد فرمائی: «وَالْفَرْجُ»؛ تم اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی ذمہ داری لے لو، میں تمہارے لیے جنت کی ذمہ داری لیتا ہوں۔ تمہاری شرمگاہ ایسی جگہ پر استعمال ہو، جس جگہ پر اللہ تبارک و تعالی نے تمہیں اجازت دے رکھی ہے۔ حضرت امام احمد بن حنبل علیہ الرحمہ نے مسند امام احمد بن حنبل میں 28199 حدیثیں نقل فرمائی ہیں، ان میں سے 23137 نمبر حدیث شریف ہے، حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے، آقاے نامدار علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا: «اُضْمُنُوا لِي بِسِتٍّ أَضْمَنْ لَكُمُ الْجَنَّةَ»؛ تم میرے لیے چھ باتوں کی ذمہ داری لے لو، میں تمہارے لیے جنت کی ذمہ داری لیتا ہوں۔ وہ کیا چھ باتیں کیا ہیں؟
- نمبر ایک: «اصْدُقُوا إِذَا حَدَّثْتُمْ»؛ تم جب بولو تو سچ بولا کرو، تم سچائی کے دامن کو مضبوطی کے پکڑ لو، مضبوطی کے ساتھ پکڑ لو، میں تمہارے لیے جنت کی ذمہ داری لیتا ہوں۔
- نمبر دو: «وَأَدُّوا إِذَا اؤْتُمِنْتُمْ»؛ جب تمہارے پاس کسی کی امانت ہو، وہ لینے کے لیے آ جائے، تو بلا کسی ٹال مٹول کے اس کا حق اسے ادا کر دو، تم امانت دار بن جاؤ، میں تمہارے لیے جنت کی ذمہ داری لیتا ہوں۔
- تیسری چیز: «وَأَوْفُوا إِذَا عَاهَدْتُمْ»؛ جب تم کسی سے وعدہ کرو تو اسے ضرور پورا کر لو، میں تمہارے لیے جنت کی ذمہ داری لیتا ہوں۔
- چوتھا کام: «وَأَحْسُنُوا فُرُوجَكُمْ»؛ تم اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی ذمہ داری لے لو، میں تمہارے لیے جنت کی ذمہ داری لیتا ہوں۔ شرمگاہ کو ایسی جگہ پر استعمال کیا جائے، جس جگہ استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
- پانچواں کام: «وَغُضُّوا أَبْصَارَكُمْ»؛ تم اپنی نگاہوں کی حفاظت کی ذمہ داری لے لو، میں تمہارے لیے جنت کی ذمہ داری لیتا ہوں۔ آج کے زمانہ میں نگاہوں کی حفاظت کرنا ایک مجاہدہ ہے، گھر سے باہر باہر نکلیں تو طرح طرح کی چیزیں نظر آتی ہیں، تو نگاہوں کی حفاظت ایک مجاہدہ ہے۔
- اور چھٹا کام: «وَكُفُّوا أَيْدِيَكُمْ»؛ تم اپنے ہاتھوں کو روکنے کی ذمہ داری لے لو، میں تمہارے لیے جنت کی ذمہ داری لیتا ہوں۔ ہاتھوں کو روکنے کا کیا مطلب ہے؟ تمہارا ہاتھ حرام چیز پر نہ پڑنے پائے، تمہارے ہاتھ میں حرام نہ آنے پائے، تمہارا ہاتھ نامحرم پر نہ پڑنے پائے، تمہارے ہاتھ کے ذریعے سے کسی کو نہ ستایا جائے، تمہارا ہاتھ ظلم کا ہاتھ نہ بننے پائے۔ ایک ہی جملے کے اندر حضرت سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے سارے نہیںّ المنکر کو بیان فرما دیا۔ تم چھ کام کر لو، سچ بولنے والے بن جاؤ، امانت دار بن جاؤ، وعدہ پورا کرنے والے بن جاؤ، اور اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرنے والے بن جاؤ، اور اپنی نگاہوں کی حفاظت کرنے والے بن جاؤ، اور اپنے ہاتھوں کو حرام اور ناجائز اور متباہ چیزوں سے روکنے والے بن جاؤ، میں تمہارے لیے جنت کی ذمہ داری لیتا ہوں۔
وہ جو حدیثِ شریف میں بیان کرنے جا رہا تھا، جس کے تحت میں نے یہ حدیثِ شریف بھی بیان کر دی ہے، اس میں چوتھا کام حضرت سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ تم اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرنے والے بن جاؤ، میں تمہارے لیے جنت کی ذمہ داری لیتا ہوں۔
- پانچواں کام: «والبطن»؛ تم اپنے پیٹ کی حفاظت کرنے والے بن جاؤ، میں تمہارے لیے جنت کی ذمہ داری لیتا ہوں۔ تمہارے پیٹ میں کبھی بھی حرام اور ناجائز ناجائز اور متباہ مال نہ پہنچنے پائے۔ تمہاری کمائی حلال ہو، تمہارا غذا حلال ہو، تمہارے گھر میں حرام نہ آنے پائے، تمہارے گھر میں حلال آئے۔ تم اس بات کی ذمہ داری لے لو، میں تمہارے لیے جنت کی ذمہ داری لیتا ہوں۔ ایک ایک جملے میں اگر کوئی تفسیر کرنے لگے، تشریح کرنے لگے تو گھنٹوں چاہیے۔
چھٹا کام کیا؟ «واللسان»؛ تم اپنی زبان کی حفاظت کرنے والے بن جاؤ، میں تمہارے لیے جنت کی ذمہ داری لیتا ہوں۔ یہی وہ زبان ہے جس زبان کے ذریعے سے آدمی جنتی بن جاتا ہے، اور یہی وہ زبان ہے جس زبان کے ذریعے سے آدمی جہنمی بن جاتا ہے۔ اس زبان کے ذریعے سے آدمی دوسروں کی غیبت کرتا ہے، دوسروں پر تہمت لگاتا ہے، اور اسی زبان سے آدمی جھوٹ بولتا ہے، اور اسی زبان سے آدمی دوسروں کو گالیاں بکتا ہے، جہنمی بن جاتا ہے۔ اسی زبان سے وعدہ کر کے وعدہ خلافی کرتا ہے، آدمی جہنمی بن جاتا ہے۔ اور یہی وہ زبان ہے جس زبان کے ذریعے سے آدمی جنتی بن جاتا ہے، اسی زبان سے قرآن کی تلاوت کی جاتی ہے، اسی زبان سے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے، اللہ کو یاد کیا جاتا ہے، اسی زبان کے ذریعے سے امر بالمعروف نہیں عن المنکر کیا جاتا ہے، آدمی جنتی بن جاتا ہے۔ تو حضرت سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنی زبان کی حفاظت کرنے والے بن جاؤ، میں تمہارے لیے جنت کی ذمہ داری لیتا ہوں۔
انگلیوں میں گن لو حضرت سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات:
- نمبر ایک: نماز کا پابند بن جاؤ۔
- نمبر دو: زکوٰۃ دینے کا اہتمام کرو۔
- نمبر تین: امانت کی ادائیگی کا اہتمام کرو، امانت کے محافظ، امانت کی حفاظت کرنے والے بن جاؤ۔
- نمبر چار: اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرنے والے بن جاؤ۔
- نمبر پانچ: اپنے پیٹ کی حفاظت کرنے والے بن جاؤ۔ پیٹ کی حفاظت کرنے والے بن جاؤ، تو تمہارے روزگار اور کمائی کا سارا تعلق تمہارے پیٹ سے ہے، اس کی حفاظت کرنے والے بن جاؤ۔
- اور نمبر چھ: اپنے زبان کی حفاظت کرنے والے بن جاؤ، تو میں تمہارے لیے جنت کی ذمہ داری لیتا ہوں۔





















