جمعرات, مارچ 26, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    ایرانی  قیادت کے استحکام کا راز ہے —موزیک سسٹم

    ایرانی  قیادت کے استحکام کا راز ہے —موزیک سسٹم

    فرقہ پرست ہندو استھان میں بدلتا بھارت

    عید کی رات آئیے کچھ خاص کرتے ہیں

    عید کی رات آئیے کچھ خاص کرتے ہیں

    ایران اسرائیل امریکہ جنگ میں کس کو کس کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے

    ایران اسرائیل امریکہ جنگ میں کس کو کس کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    بھارت کی فرقہ وارانہ تقسیم کی مہم

    بجٹ، بیانیہ اور حقیقت کرناٹک میں اقلیتوں کے نام پر سیاست یا حقائق کی تحریف؟

    بجٹ، بیانیہ اور حقیقت کرناٹک میں اقلیتوں کے نام پر سیاست یا حقائق کی تحریف؟

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    ہندوتو کی سمت اور رفتار

    نتیش کمار کا راجیہ سبھا کا رخ: اقتدار سے فاصلہ یا نئی حکمت عملی!

    نتیش کمار کا راجیہ سبھا کا رخ: اقتدار سے فاصلہ یا نئی حکمت عملی!

    فلسطین کی غلامی سے اسرائیل کے ناپاک وجود تک ہندستانی مسلمانوں کی جدوجہد

    فلسطین کی غلامی سے اسرائیل کے ناپاک وجود تک ہندستانی مسلمانوں کی جدوجہد

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    اولیاء اللہ کے مشن: حاجی نور الحسن مرحوم کی یاد میں

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    مبارک پور کی ایک پرنور شب: اہلِ دل کی صحبت میں

    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا  سے جہازی مکالمات

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    آؤ نسل کو سنواریں، مستقبل بنائیں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا کردار: سیمینار اختتام پذیر

    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    بہار کا فیصلہ — کانگریس کیلئے سخت پیغام

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے 34ویں فقہی سمینار کی روداد

    مولانا محمود مدنی کو ملا صدارت کا چارج۔ٹرم  2024-2027 کا ہوا آج سے آغاز، 29 اکتوبر 2027ء تک کے لیے صدر منتخب

    مولانا محمود مدنی کو ملا صدارت کا چارج۔ٹرم 2024-2027 کا ہوا آج سے آغاز، 29 اکتوبر 2027ء تک کے لیے صدر منتخب

    وقف ایکٹ کے خلاف جدو جہد جاری رہے گی

    وقف ایکٹ کے خلاف جدو جہد جاری رہے گی

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    ایرانی  قیادت کے استحکام کا راز ہے —موزیک سسٹم

    ایرانی  قیادت کے استحکام کا راز ہے —موزیک سسٹم

    فرقہ پرست ہندو استھان میں بدلتا بھارت

    عید کی رات آئیے کچھ خاص کرتے ہیں

    عید کی رات آئیے کچھ خاص کرتے ہیں

    ایران اسرائیل امریکہ جنگ میں کس کو کس کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے

    ایران اسرائیل امریکہ جنگ میں کس کو کس کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    بھارت کی فرقہ وارانہ تقسیم کی مہم

    بجٹ، بیانیہ اور حقیقت کرناٹک میں اقلیتوں کے نام پر سیاست یا حقائق کی تحریف؟

    بجٹ، بیانیہ اور حقیقت کرناٹک میں اقلیتوں کے نام پر سیاست یا حقائق کی تحریف؟

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    ہندوتو کی سمت اور رفتار

    نتیش کمار کا راجیہ سبھا کا رخ: اقتدار سے فاصلہ یا نئی حکمت عملی!

    نتیش کمار کا راجیہ سبھا کا رخ: اقتدار سے فاصلہ یا نئی حکمت عملی!

    فلسطین کی غلامی سے اسرائیل کے ناپاک وجود تک ہندستانی مسلمانوں کی جدوجہد

    فلسطین کی غلامی سے اسرائیل کے ناپاک وجود تک ہندستانی مسلمانوں کی جدوجہد

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    اولیاء اللہ کے مشن: حاجی نور الحسن مرحوم کی یاد میں

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    مبارک پور کی ایک پرنور شب: اہلِ دل کی صحبت میں

    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا  سے جہازی مکالمات

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    آؤ نسل کو سنواریں، مستقبل بنائیں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا کردار: سیمینار اختتام پذیر

    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    بہار کا فیصلہ — کانگریس کیلئے سخت پیغام

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے 34ویں فقہی سمینار کی روداد

    مولانا محمود مدنی کو ملا صدارت کا چارج۔ٹرم  2024-2027 کا ہوا آج سے آغاز، 29 اکتوبر 2027ء تک کے لیے صدر منتخب

    مولانا محمود مدنی کو ملا صدارت کا چارج۔ٹرم 2024-2027 کا ہوا آج سے آغاز، 29 اکتوبر 2027ء تک کے لیے صدر منتخب

    وقف ایکٹ کے خلاف جدو جہد جاری رہے گی

    وقف ایکٹ کے خلاف جدو جہد جاری رہے گی

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
No Result
View All Result
Home اسلامیات

عقیدهٔ توحید اور توهم پرستی

by Admin
اکتوبر 3, 2025
in اسلامیات, مولانا خالد سیف الله رحمانی
0
عقیدهٔ توحید اور توهم پرستی
0
SHARES
5
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

مولانا خالد سیف الله رحمانی

اسلام کا بنیادی عقیدہ ’’ توحید ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کو ایک ماننا ہے ، اللہ تعالیٰ کو ایک ماننے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات کے اعتبار سے بھی یکتا ہے ، خدا کا کوئی کنبہ اور خاندان نہیں اور نہ اس کے لئے اولاد اور اعزہ و اقارب ہیں ، اور خدا اپنی صفات اور اختیارات کے اعتبار سے بھی یکتا و بے مثال ہے ، حیات و موت کی کلید اس نے اپنے ہاتھ میں رکھی ہے ، وہی رزق دیتا ہے ، رزق میں وسعت اور تنگی بڑھاتا ہے اور رزق سے محروم کرتا ہے ، وہی نفع پہنچاتا ہے اور وہی نقصان سے دوچار کر تا ہے ، کامیابی و ناکامی اور فتح و شکست اسی کے حکم سے وابستہ ہے ، توحید کا یہ تصور دردر سر جھکانے سے انسان کو بچا تا ہے ، اور بہت سی غلامیوں سے نجات عطا کرتا ہے ، ان ہی میں ایک توہمات کی غلامی ہے ۔

اوہام پرستی بھی ایک طرح کی غلامی ہے کہ آدمی اپنے پاؤں کی ٹھوکروں میں رہنے والی چیزوں سے بھی ڈر نے اور خوف کھانے لگے اوراس سے اپنے نفع و نقصان کو وابستہ کرلے ، اگر سامنے سے کوئی جانور نکل جائے تو آدمی سمجھے کہ یہ سفر ناکام ہوگا ، گھر پر کوئی پرندہ بیٹھ جائے تو اس کو اپنے لئے مصیبتوں کا پیش خیمہ سمجھنے لگے ، کسی خاص پتھر کی انگوٹھی سے کامیابی اور نفع کی امید رکھے ، کسی مہینہ ، دن اور گھڑی کو نامبارک ، منحوس اور ’’ اشبھ ‘‘ تصور کرنے لگے ، یہ سب توہمات کی غلامی ہے ، جو شخص عقیدۂ توحید سے محروم ہو اور خدا پر اس کا یقین کامل نہ ہو ، مشکل ہے کہ وہ اس غلامی سے آزاد ہو سکے ، یہی وجہ ہے ایسے ترقی یافتہ ممالک جہاں صد فیصد تعلیم یافتہ لوگ پائے جاتے ہیں وہاں بھی لوگ بعض اعداد کو منحوس سمجھتے ہیں ، ہوٹلوں میں اس نمبر کے روم نہیں رکھے جاتے ۔ 

جو شخص توحید پر جتنا یقین رکھتا ہے اور اللہ پر جس کا جتنا زیادہ ایمان ہو ، وہ اوہام پر ستی کی اس مصیبت سے آزاد اور توہمات کا اسیر بننے سے محفوظ رہے گا ، اسلام کی آمد سے پہلے عربوں میں اس طرح کے توہمات پائے جاتے تھے ، لوگ سفر کے لئے نکلتے ، پرندے کو اُڑایا جاتا ، اگر وہ دائیں جانب اُڑتا ، تو اسے نیک فال تصور کرتے اور سفر کرتے ، اور اگر بائیں طرف سے اُڑتا تو بد فالی لیتے اور سفر سے گریز کرتے ، اسی طرح اُلو کو منحوس پرندہ خیال کرتے ، کسی کے گھر پر بیٹھ جاتا تو سمجھتے کہ یہ گھر اجڑ جائے گا ، صفر کے مہینہ کو نامبارک سمجھتے ، سمجھتے کہ اس ماہ میں جو کاروبار ہوگا نقصان سے دو چار ہوگا ، جو سفر ہوگا وہ نامراد ہوگا ، جو شادی ہوگی وہ ناکام ہوگی ، رسول اللہ ﷺنے ان تصورات کی تردید فرمائی اور ارشاد فرمایا : ان چیزوں کی کوئی حقیقت نہیں ۔ ( بخاری : باب الجذام )

دوسرے کو بیماری لگنے ، پرندہ سے بد فالی ، اُلُّواور ماہ صفر کو منحوس سمجھنے کی کوئی حقیقت نہیں ، عربوں میں اور ایک خیال یہ تھا کہ صحراء میں کچھ شیاطین ہوتے ہیں ، جو رنگ بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور راہ گیروں کو راستہ سے بھٹکا نے کا کام کرتے ہیں ، عرب انھیں ’’غول ‘‘ کہا کرتے تھے ، رسول اللہ ﷺ نے اس تصور کی بھی نفی فرمائی ، (فتح الباری : ۱ ؍ ۱۶۷ ) — عرب شوال کے مہینے کو بھی نامبارک اور شادی بیاہ کے لئے نا موزںتصور کرتے تھے ، رسول اللہ ﷺ نے اُم المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے شوال میں نکاح فرمایا اور شوال ہی میں رُخصتی بھی ہوئی ؛ چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس خام خیالی کی تردید کرتے ہوئے فرماتی تھیں کہ میرے نکاح سے زیادہ با برکت نکاح کونسا ہو سکتا ہے ؟ 

حقیقت یہ ہے کہ اللہ پر جس قدر ایمان ہو گا ، اوہام پرستی سے انسان اسی قدر دور رہے گا ، اسلام نے توحید کے عقیدہ کو لوگوں کے ذہن میں ایسا راسخ کردیا تھا کہ وہ اس قسم کے تصور کو اپنے قریب بھی پھٹکنے نہیں دیتے تھے ، حضرت زنیرہ رضی اللہ عنہا ایک صحابیہ ہیں ، ایمان لائیں ، لوگوں نے اتنا ظلم کیا کہ آنکھ کی بینائی جاتی رہی ، لوگ کہنے لگے کہ دیویوں ، دیوتاؤں کو برا بھلا کہنے اور ان کا انکار کرنے کی وجہ سے بینائی سے محروم ہو گئی ہے ، ہمارے زمانہ میں عورتیں تو کیا مرد بھی اور جاہل وأن پڑھ تو کیا پڑھے لکھے بھی ایسے موقعوں پر گرفتار اوہام ہو جاتے ہیں ؛ لیکن حضرت زنیرہ رضی اللہ عنہا کی فکر میں ذرا بھی تزلزل نہیں آیا کہ ان کی صرف بصارت اللہ نے لی تھی ، وہ ایمان اور ایمانی بصیرت سے محروم نہیں ہوئی تھیں ، حضرت زنیرہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ یہ سب اللہ کے فیصلہ اور اس کے حکم سے ہے ، رسول اللہ ﷺ ان کی استقامت اور ثابت قدمی سے بہت خوش ہوئے اور ان کے لئے دُعا فرمائی ؛ چنانچہ پھر ان کی بصارت لوٹ آئی ۔ 

حضرت عمر ؓ کے زمانہ میں جب مصر کا علاقہ فتح ہوا ، مصر کی معیشت کا مدار دریائے نیل پر تھا ، یہاں معمول تھا کہ یہ دریا جب خشک ہو جاتا تو ایک کنواری لڑکی کو دلہن بنا کر دریا کے بیچ میں ڈال دیا جاتا ، دریا کی بلا خیز موجیں اُٹھتیں اور اسے موت کی نیند سلانے کے بعد جاری ہو جاتیں ، جب مصر کے خلافت اسلامیہ کے زیر نگیں آنے کے بعد دریا خشک ہوا اور گورنر مصر حضرت عمر و بن عاص  ؓ کو اس واقعہ کی اطلاع ملی تو انھوں نے اولا تو انکار کیا ، پھر لوگوں کے اصرار پر مشورہ کے لئے خلیفہ راشد حضرت عمر  ؓ کو خط لکھا ، حضرت عمر  ؓ نے اپنے جواب کے ساتھ ایک اور تحریر دریائے نیل کے نام لکھا اور ہدایت دی کہ اس تحریر کو دریائے نیل میں ڈال دیا جائے ، حضرت عمر  ؓ نے اپنی اس تحریر میں دریا کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا تھا کہ اگر تو اللہ کے حکم سے جاری ہے تو میں دُعا کرتاہوں کہ تو جاری ہو جائے اور اگر اللہ کے حکم سے جاری نہیں ہے تو ہمیں تیری ضرورت نہیں ، حسب ِہدایت یہ تحریر دریا میں ڈال دی گئی اور دریائے نیل اس شان سے جاری ہوا کہ دوسرے دن ( جو ہفتہ کا دن تھا ) سولہ ہاتھ پانی ہو گیا ، (البدایہ و النہایہ : ۷ ؍ ۱۰۰ )اور پھر آج تک کبھی نہیں تھما ۔ 

اسی طرح کا ایک واقعہ ہندوستان کے ساحلی علاقہ میں پیش آیا ، جس کا تذکرہ ابن بطوطہ نے اپنے سفر نامہ میں کیا ہے کہ یہاں کے لوگ کافر تھے ، یہاں ہر ماہ ایک شیطان سمندر کے کنارے ظاہر ہوتا ، لوگوں نے سمندر کے کنارے ایک بت خانہ بنا دیا تھا ، جو ’’ بد خانہ ‘‘ کہلاتا تھا ، جو دن شیطان کی آمد کا ہوتا ، لوگ اس دن ایک کنواری لڑکی کو سنوار کر اس بد خانہ میں بیٹھا دیتے ، رات میں وہیں چھوڑ دیتے ، جب صبح کو آتے تو اسے اس حال میں پاتے کہ وہ مردہ ہوتی اور کنواری نہ ہوتی ، اتفاق سے یہاں ایک مغربی تاجر ابو البرکات بربری جو حافظ قرآن تھے ، آئے ہوئے تھے ، وہ ایک بوڑھی خاتون کے مہمان تھے ، ایک دن جب اپنے میزبان کے ہاں پہنچے تو دیکھا کہ خلافِ معمول وہ بوڑھی خاتون بہت سی عورتوں کے ساتھ مصروفِ گریۂ و بکا ہے ، ایک ترجمان کے واسطہ سے صورتِ حال دریافت کی تو معلوم ہوا کہ شیطان سے بچاؤ کے لئے اس کی اکلوتی بیٹی کے نام قرعۂ فال نکلا ہے ۔ 

شیخ ابو البرکات کو داڑھی نہ تھی ، انھوں نے پیشکش کی کہ آج اس لڑکی کی جگہ وہ جائیں گے ؛ چنانچہ وہ بدخانہ میں بیٹھ گئے اور قرآن کی تلاوت کا سلسلہ جاری رکھا ، اسی طرح پوری رات گذری ، جب معمول کے مطابق لوگ صبح میں تحقیق حال کے لئے پہنچے تو دیکھا کہ وہ زندہ وسلامت ہیں ، اور تلاوت میں مصروف ہیں ، یہ خبر شدہ شدہ پورے علاقہ میں پھیل گئی اورعلاقے کے راجہ تک اطلاع پہنچی ، ابن بطوطہ نے اس کا نام ’’ شنوازہ ‘‘ لکھا ہے ، عجب نہیں کہ یہ ’’وشنوراجہ ‘‘ کی بدلی ہوئی صورت ہو ، شیخ نے راجہ پر بھی اسلام پیش کیا ، اس نے کہا کہ آئندہ ماہ تک میرے پاس رہو ، اگر آئندہ مہینہ میں بھی تم یہی عمل کر کے دکھاؤ اور ہم لوگوں کو اس شیطان کی ابتلاء سے بچا سکو ، تب ہم ایمان لے آئیں گے ۔ 

اگلے ماہ بھی یہی واقعہ پیش آیا ؛ چنانچہ راجہ مسلمان ہو گیااور راجہ کے ساتھ رعایا کے اکثر لوگ بھی مسلمان ہو گئے ۔ (رحلۃ ابن بطوطہ : ۱ ؍ ۹۰ – ۵۸۹ )

اگر ایمان قوی ہو اور اللہ سے نفع و نقصان کا سچا یقین ہو تو ایک جاہل اوراَن پڑھ شخص بھی ایسے اوہام و خرافات میں مبتلا نہیں ہو سکتا ، تیمور لنگ کوئی عالم و فاضل حکمراں نہیں تھا ؛ لیکن جب اس نے دریائے جمنا کو عبور رکرنا چاہا تو جیو تشیوں نے منع کیا اور کہا کہ یہ منحوس گھڑی ہے ، تیمور نے اس کو کوئی اہمیت نہیں دی اور کہا کہ ہم ارباب تنزیہ و توحید ایسی باتوں پر یقین نہیں رکھتے ، یہ تو مشرکین اور تثلیث پر ایمان رکھنے والوں کا عقیدہ ہے اور اگر ایمان میں نا پختگی اوریقین میں کمزوری ہو تو اچھے خاصے پڑھے لوگ بھی ایسی چیزوں کا شکار ہو سکتے ہیں ۔

اس ملک میں رہتے ہوئے جہاں ہم نے برادرانِ وطن سے زندگی کے دوسرے شعبوں اور سماجی رسوم و روایات میں ہندو معاشرت کا اثر قبول کیا ، وہیں فکر و عقیدہ کے باب میں بھی ان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے ، ان ہی میں سے ایک اوہام پرستی کا مزاج و مذاق ہے ، آج مسلمان بھی سمجھتے ہیں کہ بلی راستہ کاٹ دے تو سفر ملتوی کر دینا چاہئے ، الو کا بیٹھنا نحس کی علامت ہے ، اگر کسی بہو کے گھر میں آنے کے بعد سسرال میں کسی کا انتقال ہو جائے تو اس کو منحوس تصور کیا جاتا ہے ، گھر کی تعمیر شروع ہو تو ناریل پھوڑے جاتے ہیں ، گاڑی خریدی جائے تو چند لیموں لٹکائے جاتے ہیں ، اور اب ایک نئی بات گھر کی تعمیر میں ’’ واستو‘‘ کی شروع ہوئی ہے ، پنڈت بتاتا ہے کہ گھر کو کس ڈیزائن کا ہونا چاہئے ، خیال کیا جاتا ہے کہ اس کی خلاف ورزی میں بے برکتی ہو گی اور نقصان اُٹھانا پڑے گا ؛ حالاں کہ شرعاً ایک مسلمان کے لئے صرف یہ رعایت ضروری ہے کہ بیت الخلاء کی نشست میں رُخ کا دھیان رکھے ، اس کے علاوہ انجینئر سے مشورہ کرنا چاہئے کہ مکان کس طرح کا ہو ، کہ ہوا اور روشنی پوری طرح بہم پہنچے ؛ لیکن اس کا مشورہ بھی پنڈتوں سے کیا جاتا ہے ، جو محض چند پیسوں کے لئے لوگوں کو اوہام میں گرفتار رکھنا چاہتے ہیں ، یہ تمام باتیں محض ایمان کی کمزوری اور ضعف ِعقیدہ کا نتیجہ ہیں ، حد یہ ہے کہ اب بعض مسلمان بھی عقد ِنکاح کے وقت اور شادی کے جوڑ کے سلسلہ میں عاملین سے مشورہ لیتے ہیں ، گویا جس غلامی سے اسلام نے اسے آزاد کیا تھا ، خود ہی اپنے آپ اس میں مبتلا ہوتے ہیں ۔ 

اس سے بڑھ کر بد قسمتی اور کیا ہوگی کہ آپ ﷺ نے کھلے الفاظ میں ’’ صفر ‘‘ کے منحوس ہونے کی تردید فرمائی ، یہ تردید نہایت ہی صحیح اور مستند روایتوں سے ثابت ہے ، اس کے باوجود  صفر کی ۱۳ ؍ تاریخ اور آخری چہار شنبہ کو منحوس دن تصور کیا جاتا ہے ، کچھ لوگ چھلے فروخت کرنے اور اپنے روزگار کا مسئلہ حل کرنے کی غرض سے باور کراتے ہیں کہ اس دن ڈھیر ساری بلائیں نازل ہوتی ہیں اور وہ ان کا علاج کرسکتے ہیں ؛ حالاں کہ اسلام کی نگاہ میں کوئی وقت منحوس نہیں ، آپ ﷺنے بعض مہینوں ، راتوں اور گھڑیوں کو مبارک ضرور قرار دیا ؛ لیکن کوئی وقت اورگھڑی نا مبارک نہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر نحس ہوتا تو تین چیزوں میں ہوتا : عورت ، گھر اور سواری ، اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی چیز میں نحس ہے ہی نہیں ، یہ مشرکانہ تصور ہے کہ انسان اللہ کے بجائے ایسی چیزوں سے نفع و نقصان کو متعلق سمجھے ، اس سے بھی زیادہ بد قسمتی کچھ اور ہو سکتی ہے کہ کوئی قوم علم رکھنے کے باوجود انجانوں جیسا کام کرے اور خدا نے جس کی پیشانی چوکھٹوں کے داغِ مذلت سے آزاد کیا ہو، وہ خود ہی جبینِ شرافت کو داغ دار اور رسوا و خوار کرے ۔ 

Tags: اسلاماللہ تعالیٰاوہام پرستیمولانا خالد سیف الله رحمانی
Admin

Admin

Next Post
اورنگ زیب عالمگیرؒ سچائی اور پروپیگنڈه

اورنگ زیب عالمگیرؒ سچائی اور پروپیگنڈه

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

سماوی، انسانی، شیطانی آفات اور تحفظ کے فطری طریقے

3 ہفتے ago
باب اول در بیان انجام مداہنت

واپسی

2 مہینے ago

مقبول

  • ایرانی  قیادت کے استحکام کا راز ہے —موزیک سسٹم

    ایرانی  قیادت کے استحکام کا راز ہے —موزیک سسٹم

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • فرقہ پرست ہندو استھان میں بدلتا بھارت

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • سرور کائنات ﷺ کی عید

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • عید کی رات آئیے کچھ خاص کرتے ہیں

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • مبارک پور کی ایک پرنور شب: اہلِ دل کی صحبت میں

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیۃ علماء ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.