ایسی ہوتی ہے مزاج شناس بیوی
مشہور اسلامی اہلِ قلم، ادیبِ عصر حضرت مولانا نور عالم خلیل امینیؒ، سابق استاد دارالعلوم دیوبند فرمایا کرتے تھے کہ کسی بھی انقلابی کام کے لیے تین چیزیں نہایت ضروری ہیں، جن میں سے ایک مزاج شناس بیوی بھی ہے۔
درحقیقت ایک سمجھ دار اور حالات کو پہچاننے والی بیوی نہ صرف گھریلو زندگی کو خوشگوار بناتی ہے بلکہ شوہر کے ذہنی سکون میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔
اس حقیقت کی ایک روشن مثال حدیثِ نبوی میں ملتی ہے۔ حضرت ابو طلحہؓ کی اہلیہ محترمہ حضرت امّ سلیمؓ نے اپنے بچے کی وفات جیسے عظیم صدمے کے باوجود جس صبر، حکمت اور نفسیاتی بصیرت کا مظاہرہ کیا، وہ حیرت انگیز ہے۔ انہوں نے سفر سے واپس آنے والے اپنے شوہر کو فوراً اس سانحے سے آگاہ کرنے کے بجائے پہلے ان کے آرام و سکون کا خیال رکھا، ان کی دلجوئی کی، اور نہایت حکیمانہ انداز میں انہیں اس صدمے کے لیے تیار کیا۔
یہ طرزِ عمل اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ایک بیوی اگر شوہر کے مزاج، حالات اور نفسیات کو سمجھنے والی ہو تو وہ نہایت مشکل حالات کو بھی آسان بنا سکتی ہے۔
واقعۂ امّ سلیمؓ تمام خواتین کے لیے ایک بہترین نمونہ ہے کہ صبر، حکمت اور دانائی کے ساتھ گھریلو زندگی کو کس طرح سنوارا جا سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایسی سمجھ دار، صابر اور مزاج شناس بیویاں عطا فرمائے، آمین۔
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں:
ابو طلحہؓ کا ایک بیٹا بیمار تھا۔ ابو طلحہؓ گھر سے باہر گئے ہوئے تھے، اسی دوران بچہ انتقال کر گیا۔
جب ابو طلحہؓ واپس آئے تو پوچھا: میرا بیٹا کیسا ہے؟
امّ سلیمؓ نے کہا: وہ پہلے سے زیادہ پرسکون ہے۔
پھر انہوں نے کھانا پیش کیا، ابو طلحہؓ نے کھانا کھایا، پھر اپنی بیوی کے پاس گئے۔ جب وہ فارغ ہوئے تو امّ سلیمؓ نے کہا: اب بچے کو دفن کر دو۔
صبح ہوئی تو ابو طلحہؓ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا واقعہ بیان کیا۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
"کیا تم نے رات (ازدواجی تعلق) قائم کیا؟”
انہوں نے عرض کیا: جی ہاں۔
آپ ﷺ نے دعا فرمائی:
"اے اللہ! ان دونوں کے لیے برکت عطا فرما۔”
چنانچہ ان کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا۔
ابو طلحہؓ نے کہا: اس بچے کو میرے پاس محفوظ رکھو یہاں تک کہ تم اسے نبی کریم ﷺ کے پاس لے جاؤ۔
پھر وہ بچے کو نبی ﷺ کے پاس لائے اور ساتھ کچھ کھجوریں بھی بھیجیں۔
نبی ﷺ نے کھجوریں لیں، انہیں چبایا، پھر اپنے منہ سے نکال کر بچے کے منہ میں ڈالا (تحنیک کی) اور اس کا نام عبد اللہ رکھا۔
٠ – حَدَّثَنَا مَطَرُ بْنُ الْفَضْلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضي الله عنه قَالَ:
كَانَ ابْنٌ لِأَبِي طَلْحَةَ يَشْتَكِي، فَخَرَجَ أَبُو طَلْحَةَ، فَقُبِضَ الصَّبِيُّ، فَلَمَّا رَجَعَ أَبُو طَلْحَةَ قَالَ: مَا فَعَلَ ابْنِي؟
قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: هُوَ أَسْكَنُ مَا كَانَ.
فَقَرَّبَتْ إِلَيْهِ الْعَشَاءَ فَتَعَشَّى، ثُمَّ أَصَابَ مِنْهَا، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَتْ: وَارُوا الصَّبِيَّ.
فَلَمَّا أَصْبَحَ أَبُو طَلْحَةَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ: «أَعَرَّسْتُمُ اللَّيْلَةَ؟» قَالَ: نَعَمْ.
قَالَ: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمَا».
فَوَلَدَتْ غُلَامًا، فَقَالَ لِي أَبُو طَلْحَةَ: احْفَظْهُ حَتَّى تَأْتِيَ بِهِ النَّبِيَّ ﷺ.
فَأَتَى بِهِ النَّبِيَّ ﷺ، وَأَرْسَلَتْ مَعَهُ تَمَرَاتٍ، فَأَخَذَهُ النَّبِيُّ ﷺ، فَقَالَ: «أَمَعَهُ شَيْءٌ؟» قَالُوا: نَعَمْ، تَمَرَاتٌ.
فَأَخَذَهَا النَّبِيُّ ﷺ فَمَضَغَهَا، ثُمَّ أَخَذَ مِنْ فِيهِ فَجَعَلَهُ فِي فِي الصَّبِيِّ، وَحَنَّكَهُ بِهِ، وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ.
(بخاری شریف،کتاب العقیقہ،باب: تحنیک المولود عند ولادته)
مطالعہ بخاری
محمد یاسین جہازی



















