تحریر: محمد یاسین جہازی
اعتراض کا خلاصہ
فرقہ پرست عناصر کی جانب سے اکثر یہ شوشہ چھوڑا جاتا ہے کہ:”1945-46ء کے عمومی انتخابات میں مسلم لیگ نے پاکستان کے نام پر تمام مسلم نشستیں جیت لی تھیں اور یوں تقسیمِ ہند کے ذریعے مسلمانوں نے اپنا حصہ (پاکستان) حاصل کر لیا تھا؛ لہٰذا اب ہندوستان میں مسلمانوں کا کوئی قانونی یا اخلاقی حق اور حصہ باقی نہیں رہا۔
"یہ اعتراض نہ صرف تاریخ مسخ کرنے کی کوشش ہے بلکہ جمہوری اصولوں سے ناواقفیت پر مبنی ہے۔ ذیل میں اعداد و شمار اور تاریخی سیاق و سباق کی روشنی میں اس کا مدلل جواب درج ہے:
اس اعتراض کا جائزہ لینے سے قبل اُس دور کے انتخابی نظام اور جمہوری دائرہ کار کو سمجھنا ضروری ہے:
1. 1945-46ء کے انتخابات: ایک محدود انتخابی عمل (Restricted Franchise)
یہ تاثر سراسر غلط ہے کہ 1945-46ء کے انتخابات میں پوری مسلم قوم نے حصہ لیا تھا۔یہ انتخابات گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935ء کے تحت منعقد ہوئے تھے، جو جدید جمہوری نظام کی طرح "ایک فرد، ایک ووٹ” (Universal Adult Suffrage) کے اصول پر مبنی نہیں تھے۔ووٹ ڈالنے کا حق صرف اُن افراد کو حاصل تھا جو سخت معاشی و تعلیمی شرائط پر پورا اترتے تھے، مثلاً:
1. جائیداد کی مخصوص ملکیت
2. ایک مقررہ حد تک سالانہ ٹیکس کی ادائیگی
3. تعلیم کی کم از کم سطح
4. مخصوص حدِ آمدنی
ان کڑی شرائط کے باعث ووٹنگ کا حق صرف زمینداروں، جاگیرداروں، وکیلوں، اعلیٰ سرکاری ملازمین اور شہری اعلیٰ و متوسط طبقے تک محدود رہا۔ عام کسان، مزدور، کاریگر اور خواتین کی بہت بڑی اکثریت اس انتخابی عمل سے سرے سے محروم تھی۔
2. اعداد و شمار کے تناظر میں بات کی جائے،یعنی اگر اس وقت کی کل مسلم آبادی اور ووٹرز کا موازنہ کیا جائے تو حقائق درج ذیل ہیں:
کل مسلم آبادی (برصغیر) تقریباً 9 کروڑ۔
قانونی طور پر اہل مسلم ووٹرز تقریباً 90 لاکھ (10 فیصد)
بالفعل ووٹ کاسٹ کرنے والے مسلمان تقریباً 60 لاکھ (6.6 فیصد)۔
90 فیصد محروم آبادی:
9 کروڑ میں سے صرف 90 لاکھ افراد کو ووٹ کا قانونی حق حاصل تھا، یعنی 90 فیصد مسلم آبادی عمر، جنس، ناداری یا عدمِ تعلیم کی بنا پر انتخابی عمل سے پہلے ہی باہر کر دی گئی تھی۔
ٹرن آؤٹ (Turnout): اہل ووٹرز (90 لاکھ) میں سے بھی صرف 60 لاکھ لوگوں نے ووٹ ڈالے (تقریباً 66 فیصد ٹرن آؤٹ)۔
حتمی تناسب: اگر 60 لاکھ ووٹ ڈالنے والوں کا موازنہ 9 کروڑ کی کل مسلم آبادی سے کریں، تو یہ کل آبادی کا محض 6 سے 7 فیصد بنتا ہے۔
حاصلِ کلام: تقریباً 93 سے 94 فیصد مسلمانوں کا اس انتخابی عمل میں کوئی دخل تھا ہی نہیں۔ اس لیے محض 6 سے 7 فیصد طبقے کی رائے کو پورے 9 کروڑ مسلمانوں کا حتمی استصوابِ رائے (Plebiscite) یا اجتماعی فیصلہ قرار دینا تاریخی اور ریاضیاتی اعتبار سے سراسر باطل ہے۔
3. مسلم لیگ کی کامیابی کا محدود دائرہ
بے شک مسلم لیگ نے ان مخصوص اور محدود نشستوں پر کامیابی حاصل کی اور وہ اُس وقت کی ایک منضبط سیاسی قوت بن کر ابھری، لیکن اس فتح کا دائرہ اسی 6 سے 7 فیصد مخصوص طبقے تک محدود تھا۔ اسے ہندوستان کے کروڑوں عام مسلمانوں، غریب کسانوں اور مزدوروں کا فیصلہ نہیں کہا جا سکتا۔
4. جدید جمہوری آئین اور شہری حقوق
اگر آج کے تناظر میں بات کی جائے:جدید جمہوری ریاستوں میں شہریوں کے حقوق کی بنیاد آئینِ ہند، قانون کی حکمرانی اور مساوات کے عالمی اصولوں پر ہوتی ہے، نہ کہ 80 سال پرانے کسی غیر مساوی انتخابی عمل پر۔کسی بھی ہندوستانی شہری کے حقوق کو ماضی کے کسی ایسے انتخاب سے مشروط کرنا، جس میں اس کے آباؤ اجداد کی اکثریت کو ووٹ کا حق ہی حاصل نہیں تھا، نہ جمہوری اخلاقیات کے مطابق ہے اور نہ ہی آئینی اعتبار سے درست۔
خلاصہ1945-46ء کا انتخاب نہ تو عوامی استصوابِ رائے تھا اور نہ ہی اس میں عام مسلمانوں کی شمولیت تھی۔ اس لیے اس کی بنیاد پر آج کے ہندوستانی مسلمانوں کے وطن پر حق اور ان کے آئینی حقوق پر سوال اٹھانا تاریخی بددیانتی ہے۔
(اس اعتراض کا دوسرا اور مزید مدلل جواب اگلی قسط میں ملاحظہ فرمائیں۔)(محمد یاسین جہازی)





















