آڈیو ریکارڈنگ (جس میں مولانا حکیم الدین صاحب کا بیان ہے) کا مکمل اردو متن درج ذیل ہے: یہ خطاب مولانا نے 11جولائی 2025 کو کیا تھا۔
اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم، بسم اللہ الرحمن الرحیم۔> إذا جاء نصر اللہ والفتح، ورایت الناس یدخلون فی دین اللہ افواجا، فسبح بحمد ربک واستغفره، إنه کان توابا.> میرے بزرگورو اور بھائیو! آج جمعہ ہے، ہم سب لوگ نماز جمعہ کے لیے جمع ہوئے ہیں۔ اللہ رب العزت اس جمعہ کو قبول فرمائے۔ جمعہ کے دنوں میں کچھ انبیان ایسے ہیں، اللہ رب العزت آپ کی جو بھی درخواست اور عرضی یا سوال ہوگا، پروردگار اس کو قبول فرمائے۔> آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں تشریف لائے، تیرسٹھ (63) سال آپ کی زندگی، جن میں نبوت سے پہلے چالیس سال اور نبوت کے بعد تئیس سال، مکی اور مدنی دونوں ملا کر۔ مکی زندگی میں چھاسی سورتیں نازل ہوئیں اور بہت تھوڑے لوگوں نے ایمان لائے۔ بہت تھوڑے سے، جنتیوں کو گنا جا سکتا ہے، جنہوں نے مختصر لوگوں نے ایمان لائے۔ لیکن بے پناہ آزمائشیں، بہت تکلیف، بہت ہی اذیت، اور بڑی دشواریوں کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مقصد میں لگے رہے۔ پھر انہی مقاصد میں سے یہ فیصلہ فرمایا کہ طائف کا سفر کرنا چاہیے، اور اس کی وجہ یہ ہوئی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں خجور کے باغات دکھائے گئے کہ آپ اس جگہ پر ہجرت فرمائیں گے۔ آپ نے سمجھا کہ مکہ مکرمہ سے قریب ترین شہر، سرزمین طائف ہے، شاید یہ کوئی شہر ہوگا جہاں مجھے ہجرت کا حکم ہوگا۔> تو اس خواب کی وجہ سے اپنے دو ساتھیوں کو، اپنے خادم اور پالنے والے بولے بیٹے، ان دونوں کو لے کر کے آپ طائف کی سرزمین تشریف لے گئے، اور طائف میں جو کچھ ہوا، جو واقعات پیش آئے، لوگوں نے سن کے نکال دیا، عوام شمع کو لگا دیا، اور جتنی سخت اذیت دے سکتے تھے وہ انہوں نے دی۔ پھر کسی طرح سے شام ہوئی، رات کو آپ ایک انگور کے باغ میں پناہ لیے، اور بہت تفصیل ہے، تھوڑے سے وقت میں اس وقت گفتگو کرنا مشکل ہے۔ اسی جگہ پر آپ تلاوت فرما رہے تھے، صبح کی فجر کی نماز میں سورہ جن، تو جنات کا جو ذکر آتا ہے قرآن مجید میں، جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں تشریف لائے، تو جنات کا آسمان پر جانا بند ہو گیا، ورنہ اس سے پہلے اجنہ آسمان پر جایا کرتے تھے۔ تو تمام دنیا کے اجنہ پانی میں جمع ہوئے، سمندر کے گرد اپنا تخت لگایا اور وہاں جمع ہوئے، اور اس کی تحقیق کے لیے کہ ہمیں آسمان پر جانے سے کیوں روکا جا رہا ہے، کیا وجہ ہے؟ چنانچہ الگ الگ گروپ بنائے گئے کہ سروے کرو، تحقیق کرو۔ سروے کا نظام بنایا گیا اور دنیا میں اجنہ پھیل گئے تحقیق کے لیے۔> جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم طائف کے اس انگور کے باغ میں فجر کی نماز میں سورہ جن کی تلاوت فرما رہے تھے، تو اجنہ کی یہ جماعت وہاں سے گذری، اور وہ اسی کام پہ لگے ہوئے تھے جو تحقیق کر رہے تھے۔ جب سورہ جن کو سنا، تیسرے بارے میں ہے: قل أوحي إلي أنه استمع نفر من الجن فقالوا إنا سمعنا قرآنا عجبا تو رک گئے، اور رکنے کے بعد سننے لگے۔ ابھی خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی کچھ احساس نہیں ہوا کہ کوئی اور مخلوق پیچھے سن رہی ہے، تین ہی آدمی تھے، آپ امامت فرما رہے تھے۔ تو وہ سنتے رہے، اور انہوں نے کہا کہ یہ عجیب چیز ہے جو سنی جا رہی ہے، یہ کلام تو دنیا کا نہیں ہے۔ چنانچہ انہوں نے سننے کے بعد وہ وہاں سے نکل گئے اور یہ رپورٹ تیار کی کہ ایک ایسا کلام اس وقت نازل کیا گیا ہے جو دنیا میں پڑھا جا رہا ہے، اس کے آنے کے بعد ہمارا آسمان پر جانا بند ہو گیا تو وہ پیغمبر علیہ السلام کے بارے میں انہوں نے، ان کی تحقیقاتی کمیٹی جو عالمی شوریٰ تھی اجنہ کی، انہوں نے تحقیق کی، سروے کیا، بالآخر ڈالا کہ اس پورے پوری صورت کے اندر ان واقعات کا پیغمبر علیہ السلام کے حوالے سے تذکرہ فرمایا۔> بہرحال پھر طائف کی سرزمین، وہاں سے روضہ مکرمہ، وہاں آپ تشریف لائے تو مکے میں داخل ہونے کی پوزیشن نہیں تھی۔ آپ نے ایک سردار عدی کو اطلاع کرائی کہ میں آیا ہوں اور میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ میری ضمانت لیں۔ اور اپنی پناہ میں مجھے مکے میں داخل کرائیے، انہوں نے کہا اجائیے، میں پناہ لے لیتا ہوں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ نہیں ایسے نہیں، آپ کو اسلحہ کے ساتھ، ہتھیار بند طریقے سے آنا پڑے گا اور ضمانت کا اعلان کرنا پڑے گا۔ تو وہ اپنے غالباً آٹھ بیٹے جو اچھے تھے، سب تیار ہوئے اور اس کے ساتھ وہ باہر آئے اور پیغمبر علیہ السلام کو انہوں نے ریسیو کیا اور نے یہ اعلان کیا کہ میں نے ضمانت دے دی۔> اچھے غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا اچھا رشتہ ہونا چاہیے، پیغمبر علیہ السلام نے جس طرح سے طائف سے واپسی کے بعد آپ کا معاہدہ ہوا اور ضمانت لی اور اس کو، آپ نے بالکل ان کی ضمانت میں کام شروع کیا جب تک کہ ہجرت کا حکم نہیں ہوا تھا۔ بہرحال ہجرت کا حکم ہو گیا، ہجرت کے حکم پر بھی آپ نے جو راستے کو سمجھنے والے شخص تھے عبداللہ تھے، وہ بھی غیر مسلم تھے، ان سے آپ نے فرمایا کہ جو جغرافیائی اعتبار سے مکے سے مدینے کے راستے کو جانتے تھے، واقف تھے۔ پیغمبر علیہ السلام نے ان سے فرمایا کہ آپ تیاری کیجیے اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کو بھی ارشاد کروایا، چنانچہ انہوں نے دو اونٹنیوں کو تیار کر رکھا تھا اور وہ اس کی خدمت کرتے تھے۔ چنانچہ عبداللہ نے آپ کو مکے معظمیہ سے وہ راستوں سے واقف، واقف تھے، جغرافیہ سے واقف تھے، وہ پیغمبر علیہ السلام کے ساتھ نکلے اور آپ علیہ السلام کا سفر انہوں نے پورا کیا۔> تو اتنی اذیتوں اور تکلیفوں کے بعد آپ علیہ السلام مدینہ طیبہ تشریف لائے۔ مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد اصل یہی ایک چیز جہاں کے بارے میں جو خواب آپ کو دکھایا گیا تھا، کھجور کے باغات، آپ نے طائف کو سمجھا کہ شاید طائف ہے، لیکن وہ مدینہ منورہ تھا، جہاں آپ کو سفر کر کے آنا تھا۔ جب آپ مدینہ طیبہ تشریف لائے تو دس سال کی قلیل مدت میں آپ علیہ السلام جزیرۃ العرب میں آپ کی جدوجہد کی کوشش سے اسلام پھیل گیا۔ تھوڑے سے عرصے میں، کہاں تو مکہ مکرمہ کی اتنی کوششیں، اتنی تکالیف سے گزرنا اور اتنی صحبتیں، اور سخت اذیتیں، اتنی اذیت سے آپ کو گزرنا پڑا کہ آپ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: "اگر آپ کو کوئی تکلیف ہو تو آپ میری تکلیف کا تصور کیجیے اور احساس کیجیے کہ میں کن تکلیفوں سے مجھے گزرنا پڑا۔” چنانچہ مدینہ طیبہ میں آپ تشریف لائے اور تھوڑے سے عرصے میں جزیرۃ العرب میں اسلام داخل ہو گیا۔> اُمّی ہونا ایک عیب ہے، لیکن آپ کا اُمّی ہونا فخر کی چیز تھی، ان پڑھ ہونا، ناخواندہ ہونا۔ اُمّی ہونا ایک عیب ہے، لیکن پیغمبر علیہ السلام کے زمانے میں بہت سے لوگ پڑھنا لکھنا جانتے تھے، اور بہت سے لوگ پڑھنا لکھنا نہیں بھی جانتے تھے۔ تو اُمّی ہونا پیغمبر علیہ السلام کی خوبی اور خصوصیات میں شامل کر دیا گیا کہ آپ اُمّی ہیں اور اُمّی دین میں آپ تشریف لائے۔ بہت قران مجید میں اس کا تفصیلی ذکر کیا گیا ہے، جو آپ کے صحابہ اور اس کے بعد اور وہ سلسلہ چلتا رہا۔> چنانچہ جب یہ سورت نازل ہوئی: إذا جاء نصر اللہ جو میں نے ابھی تلاوت کی ہے، تو صحابہ کو بڑی خوشی ہوئی۔ بہت خوشی ہوئی۔ ظاہر ہے بڑی صحبتیں اور تکلیفیں، بڑی آزمائش اور خود پیغمبر علیہ السلام کا جسم اطہر، روح حان، آپ کا، آپ کی جوتیاں، میں اس وقت تو نہیں کہے گا، ابھی بیٹھ جائیے۔ کوئی صحابی سن رہے تھے اذان ہو گی، اطمینان سے سنت پڑھیے تو خطبہ ہوگا۔> چنانچہ پیغمبر علیہ السلام خود کتنی تکلیفوں سے گزرے تھے، صحابہ کرام نے دیکھا کہ فتح کے دروازے کھولے گئے، لوگ جماعتوں کی شکل میں بڑی تعداد میں اسلام میں داخل ہو رہے ہیں۔ اب جب یہ سورت نازل ہوئی تو صحابہ کو ظاہر ہے خوشی تھی، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت، ایک روایت میں آتا ہے کہ عباس رضی اللہ تعالی عنہ، ان دو حضرات نے، یا سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے جانشیں نے، رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم، پیغمبر علیہ السلام کے جانشیں نے، اپنی بیماری میں، آپ نے ارشاد فرمایا تھا کہ ابوبکر سے کہو میرے مصلی پہ نماز پڑھائیں۔> آپ کی حیات طیبہ میں پیغمبر علیہ السلام کی زندگی میں سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے غالباً سترہ نمازیں پڑھائیں۔ تو انہوں نے، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک مرتبہ صحابہ کرام سے پوچھا کہ بھئی اس سورت کے نزول کا مقصد کیا ہے؟ کیوں نازل ہوئی یہ سورت؟ تو کسی نے کچھ، کسی نے کچھ، بڑے بڑے صحابہ موجود تھے، حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے ارشاد فرمایا کہ اس سورت کے نازل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر علیہ السلام کے جانے کو پورا ہو گیا، اب آپ اس دنیا سے تشریف لے گئے۔ اب آپ اس دنیا میں نہیں رہیں گے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے بھی تائید فرمائی، اس سے یہ فرما رہے، میں نے بھی سمجھا ہے کہ اس سورت کے نزول کے نازل ہو جانے کے بعد اب آپ دنیا میں رہے، دنیا سے آپ رخصت فرما جائیں گے اور آپ تشریف لے جائیں گے، چنانچہ آپ ایک فتیا کہ آپ دنیا سے پردہ فرما گئے۔> لیکن آپ کا دنیا سے پردہ فرما جانا کتنا سخت مرحلہ تھا! کتنی بڑی آزمائش تھی! اور جھوٹے نبی نبوت کے دعوی کرنے والے کذاب کھڑے ہو گئے۔ اجتماعی نظام کے تحت جو زکوۃ کا نظام تھا، منکرین زکوۃ کھڑے ہو گئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں زکوۃ کا اجتماعی نظام تھا، اب آپ چلے گئے تو اب زکوۃ بند کر دیں گے۔ مسلمہ کذاب پہلے ہی کہتا تھا کہ پہاڑوں پر میری نبوت ہے، اور جو زمینی سطح، ہموار زمین ہے اس پر آپ کی نبوت ہے، آپ وہاں کام کیجیے، یہاں کام کرو۔ یہ مسلمہ کذاب کا دعوی تھا پہلے سے۔ جب آپ علیہ السلام نے پردہ فرما لیا تو اس میں اور طاقت پیدا ہو گئی، اور بہت سے دشمن باغی جو مخالف تھے وہ بھی کھڑے ہو گئے، ادھر جہاں رسول اللہ تعالی علیہ وسلم تو دنیا سے تشریف لے گئے، ادھر نبوت کے دعویدار ادھر منکرین زکوۃ، اور ادھر حضرت اسامہ کی قیادت میں آپ علیہ السلام نے ایک لشکر بھی، شمار لشکر بھی سے لڑنے کے لیے آپ نے روانہ فرمایا۔> چنانچہ، سب صحابہ جمع ہوئے۔ حضرت ابوبکر صدیق بھی اس لشکر میں تھے اور حضرت عمر بھی اس لشکر میں تھے، جس کو پیغمبر علیہ السلام نے ترتیب دی تھی۔ جب آپ نے دنیا سے پردہ فرما لیا تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ امیرالمومنین، خلیفہ المسلمین، جانشیں رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم، ان کو ظاہر ہے جب امیرالمومنین بنا دیے گئے تو مدینہ طیبہ میں ان کو رہنا پڑا، حضرت اسامہ نے حضرت ابوبکر صدیق سے فرمایا کہ حضرت عمر کو بھی روک لو، انہیں بھی روک دیا جائے۔ اور سب کی یہ رائے ہو گئی کہ منکرین زکوۃ سے نہیں لڑنا ہے، اور مسلمہ کذاب سے لڑا جائے، یہ (آواز صاف نہیں ہے) یہاں، یہاں، یہاں رکھیے۔ مولانا صاحب، یہاں آ جائیے۔ سب کی یہ رائے ہوئی کہ صرف مدعی نبوت جو ہے مسلمہ کذاب اس سے لڑا جائے، اور منکرین زکوۃ کا بھی ابھی روک دیا جائے چونکہ اسلام کا تازہ تازہ ماننا ہے، اور حضرت اسامہ کے لشکر کو بھی روک دیا جائے۔ لیکن واہ! قربان جائیے، ثانی اسنین دو ماہ کے بعد إذ هما في الغار إذ يقول لصاحبه لا تحزن إن الله معنا پیغمبر علیہ السلام کے ساتھ غار میں ہیں، اور آپ علیہ السلام کو ہجرت کی رات میں کہ آپ جائیں، آپ نے فرمایا کہ نہیں نہیں، ابوبکر زندہ رہے اور اسلام پر کوئی آنچ آئے، یہ تو ہو سکتا ہے کہ مجھے لوگ مدینے میں لومڑیاں مجھے نوچ کھائیں، یہ مجھے گوارا ہے، لیکن یہ گوارا نہیں ہے کہ میں اسلام کے کسی ایک حرف پر آنچ آنے دوں۔ چنانچہ اللہ تعالی نے تینوں اعتبار سے فتح نصیب فرمائی۔> یہ تو چونکہ وقت ہو گیا ہے، ایک اہم ضروری بات عرض کرنا چاہتا ہوں۔ آج کل ہمارے بہت سے جوان، یہاں پھر مولانا یاسین صاحب، یہ بھی مجھ سے کہا بیٹھ کے، آئندہ یہ گفتگو کریں گے یا فلم پر ہوگی تو میں بات کر لوں گا یہاں سے۔ بہت سے نوجوان ہمارے بال کٹاتے ہیں، بال کی کٹنگ۔ بال کو بھی اللہ تعالی کے رسول اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی حدیں متعین کی ہیں، شریعت کی روشنی میں۔ پیغمبر علیہ السلام بال کا جو سنت طریقہ بتا رہے ہیں ہمیں اس پر رکھنا چاہیے۔ سنت طریقہ کیا ہے؟ سر کے بال ایک جیسا ہو۔ یہاں سنت طریقہ کان کے نیچے تک اگر آپ کٹتا رکھنا چاہتے ہیں تو جس میں زلفیں نکلی ہوئی ہوتی ہیں وہ سنت طریقہ ہے۔ آگے نکل گیا تو بھی خراب ہے سنت ہے، اس کی کٹنگ ہو جانی چاہیے، لیکن یہودیوں اور عیسائیوں کی دیکھا دیکھی ہمارے نوجوان کیا کرتے ہیں کہ ہم تین طرف سے بال کو کاٹ کے بیچ میں ایک عمارت سی کھڑی کر دیتے ہیں۔ درست نہیں ہے، بالکل جائز نہیں، ناجائز ہے۔ اسلام نے ہر چیز کی حدیں بتائی ہیں، آپ حضرات سے میری گزارش ہے کہ اپنے بچوں کا خود ہم سب لوگ اپنا اس کا خیال رکھیں کہ بال خلاف سنت نہ کٹنے والے، جو طریقہ پیغمبر علیہ السلام نے بال کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے، اسی کی روشنی میں ہمارے بال ہونے چاہیے، کسی اور کی کی شکل و صورت کو ہمیں اختیار نہیں کرنا چاہیے، لباس کا، شکل و صورت کا جسم پر بہت اثر پڑتا ہے، بہت زیادہ۔ تو ان چیزوں کا ہمیں خیال کرنا چاہیے، لباس کا بھی خیال کرنا چاہیے، شکل و صورت کا بھی خیال کرنا چاہیے، داڑھی بھی اسی طرح سے جو سنت ہے پیغمبر علیہ السلام کی، وہ ایک مشت ہے۔ نہ ایک مشت سے زائد ہے نہ ایک مشت کم ہے۔ اگر ایک مشت سے زائد ہو گئی کسی وجہ سے تو اسے درست کر لے، لیکن ایک مشت سے کم ہے تو اسے درست کر لے، وہ بھی خلاف سنت ہے، وہ بھی جاتی نہیں، وہ کسی اور کا طریقہ ہے، ہمارا طریقہ نہیں۔ تو میری آپ حضرات سے یہ بار بار عاجزانہ درخواست ہے کہ ہم سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمیں محبت ہے، پیغمبر علیہ السلام کی امت میں ہم پیدا کیے گئے ہیں، کل میدان محشر میں حوض کوثر کی ہماری آپ کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاضری ہوگی، ملاقات ہوگی، تو اس سنت کے ان کی زندگی کے مطابق ہماری زندگی ہونی چاہیے، اللہ رب العزت ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ اذان ہو رہی ہے، اذان کے بعد اذان کی دعا سے پڑھنا چاہیے، پھر سنتیں پڑھنی چاہیے، اور نماز کے بعد سنتیں پڑھ کے جانا چاہیے، اس لیے کہ جب آپ یہاں سے چلے جائیں گے تو سنتیں پڑھیں گے کہاں؟ یہاں دفتر میں جو لوگ ہیں چلو تو اپنے کمرے میں جا کے پڑھ لیں، لیکن جو لوگ باہر سے آنے والے ہیں وہ کہاں پڑھیں گے؟ تو سنت کو باقاعدہ مسجد میں پڑھ کر کے جائیں، ہاں اگر کسی کے پاس گنجائش ہے کہ وہ کہیں اور جا کر پڑھ لے گا تو اس کے لیے تو ظاہر ہے اجازت ہے، کوئی رکاوٹ نہیں، لیکن سنتوں کو چھوڑنا نہیں ہے، اس پر ہمیں عمل کرنا ہے۔>





















